یہ کائنات بسیط جس کی حدوں سے قاصر
نگاہ کوتاہ ابن آدم
غرور اس کائنات کا وہ گداز پیکر
خمیر جس کا اٹھا ہوا ہے
لطافتوں سے، عنایتوں سے
وہ جس کی نازک ہتھیلیوں پہ
مہک اٹھے رنگ تتلیوں کے
جبین روشن پہ جس کے چمکا
خدائے برتر کی صنعتوں کا ظہور مثل طلائی جھومر
حیات نو کی تنفسیں سب
رہین جس کی محبتوں کی
وہ جس کے چاہ ذقن میں فطرت نے جوئے آب حیات رکھا
لبوں کے گوشے سے پھیلتی پرکشش ہنسی پہ
لٹا دیا شاہکار اپنا
بنا دیا زندگی کی تمازتوں کا امین اس کو
فلک کے باشندگان روز ازل سے اب تک
زمردیں پیرہن کو اس کے
حسد کی نظروں سے دیکھتے ہیں
حیات کے ناتواں شجر کو
مقدس آغوش میں پنہ دی لہو سے سینچا
مگر یہ کیا کہ
حیات پرور وہ ہستی بام فلک پہ گونجے ہے شہرہ جس کا
برہنہ تن اور فگار باہوں سمیت اپنے
لہو میں لت پت بدن سنبھالے
سسکتی آنکھوں کی حیرتوں سے
وجود کی بے ردائی دیکھے
حیات بخشی تھی جن زمیں زادگاں کو اس نے
انھوں نے چھینا غرور اس کا، حیات اس کی
دریدہ بدنی کو فرض سمجھا
ستم تو یہ کہ
گرسنگی ان زمین زادوں کی اب بھی تشنہ
نئے جہاں کی تلاش میں ہے
حریص نظریں جمی ہوئی ہیں
وجود مریخ اور زہرہ کی وسعتوں پہ
(نظم میں پیش کردہ آرا نظم نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
अच्छा लिखती हैं। आगे भी ऐसी पोस्ट का इंतेज़ार रहेगा।