علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں/ ڈاکٹر الیاس الاعظمی- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷-۱۹۱۴)کی علمی وادبی خدمات پر سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مسلسل لکھا جارہا ہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ادھر پچھلے چند برسوں میں جس طرح سے ان کے کاموں کا جائزہ لیا گیا ہے، اور وہ چیزوں جو عام قارئین کی نگاہ سے دور تھیں، ان سب کو قارئین کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں ڈاکٹر خالد ندیم(سرگودھا، یونیورسٹی، پاکستان)کی ایک کتاب ’شبلی شکنی کی روایت اور دوسرے مضامین‘کے عنوان سے منظر عام پر آئی۔ اس سے پہلے انھوں نے ’شبلی کی آپ بیتی‘خطوط شبلی کی مدد سے ترتیب دی۔ ڈاکٹر عمیر منظر نے ’شبلی، مکاتیب شبلی اور ندوۃ العلماء‘کے عنوان سے شبلی نعمانی کے خطوط سے ندوۃ العلما کے تعلق سے شبلی کے جو خطوط تھے، ان کو الگ سے مرتب کر دیا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بے شمار کام ہوئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی کی علمی وادبی خدمات پر جتنا کچھ لکھا جانا تھا، اس کا حق ابھی ادا نہیں ہو سکا ہے۔ باو جود اس کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شبلی اور شبلی کی علمی ودادبی خدمات سے لوگوں کو جو محبت ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ شبلی شناسی کی روایت کو ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے مزید مستحکم کیا، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے شبلی کے تعلق سے تنہا جتنا کام کیا ہے، اتنا شاید کائی ادارہ ہی کر سکتا تھا۔ اس لیے بجا طور پر ان کا شبلی کے حوالے سے جو کام ہے، اسے ’ادارہ جاتی ‘کہا جا سکتا ہے۔شبلی کے متعلق ان کی درجن بھر سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، اس سلسلے کی ان کی کتاب’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘ ابھی حالیہ دنوں میں منظر عام پر آئی۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو فکشن: تفہیم، تعبیر اور تنقید/ ڈاکٹر شہناز رحمن -ڈاکٹر نوشاد منظر )
زیر نظر کتاب’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘میں ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے شبلی نعمانی کی ان مختصر تحریروں کو یکجا کیا ہے، جس کا تعلق تعزیت سے ہے۔ شبلی نعمانی کی یہ تحریریں کچھ الگ سے چھپی ہیں تو کچھ ان کے مختلف خطوط میں شامل تھیں۔ یقینا یہ کام کسی طور بھی آسان نہیں تھا، لیکن مبارکباد کے مستحق ہیں ڈاکٹر الیاس الاعظمی جنھوں نے شبلی اور متعلقات شبلی کو تواتر کے ساتھ نئی دریافت کے ساتھ قارئین کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔ اس سلسلے کا ان کاکام حوالے کا درجہ رکھتا ہے۔ شبلی نعمانی کا ذکر صاحب کتاب کے نام کے بغیر اب مکمل نہیں مانا جا سکتا۔ اس کتاب میں کل ۲۶ تعزیتی تحریروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض تحریریںقارئین کے پیش نظر اس لیے تھیںکہ وہ خطوط شبلی کا حصہ ہیں، لیکن بعض وہ تحریریں جو الندوہ میں شائع ہوئی تھیں، وہ یقینا لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل تھیں، جسے ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے بڑی دیدہ ریزی سے یکجا کیا ہے۔
پیش نظر کتاب’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘ میں صرف علامہ شبلی نعمانی کی تعزیتی تحریروں کو یکجا ہی نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے جس طرح تعلیقات و حواشی کا اہتمام کیا ہے، اس سے اس کتاب کی افادیت مزید دو بالا ہوگئی ہے۔ شبلی نعمانی کی ان بکھری ہوئی تحریروں کو صاحب کتاب نے زمانی اور تاریخی ترتیب کے مطابق مرتب کیا ہے۔ مذکورہ کتاب میں شبلی نعمانی نے جن کے مرثیے کہے تھے، موضوع کی مناسبت سے انھیں بھی شامل کتاب کیا گیا ہے۔ اس طرح سے کہا جا سکتا ہے، کہ نثر و نظم کا ایک بہترین گلدستہ تیار ہو گیا ہے۔
زیر تبصرہ ’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘کتاب میں علامہ شبلی نعمانی کی مختلف انداز کی تعزیتی تحریروں کے مطالعے سے شبلی نعمانی کے اس نقطۂ نظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، جو وہ اپنے معاصرین اور متعلقین کے بارے میں سوچتے اور سمجھتے تھے۔ شبلی شناسی کی روایت کا سلسلہ بھی ایک صدی سے زائد عرصے کو محیط ہے۔
مذکورہ کتاب میں شامل بعض تحریروں کو بقول مرتب’علامہ شبلی پر لکھنے والوں کو پیش نظر کم ہی رہی ہیں‘۔ اس اعتبار سے بھی یہ بہت اہم کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔ جو تحریریں پردۂ خفا میں تھیں، وہ کتابی صورت میں اب عام قارئین کے پیش نظر ہے۔کتاب کی اشاعت سے قبل مصنف/مرتب/مدون کو کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے، بعض ھالات میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں الیاس الاعظمی کی وہ کتابیں جن کا تعلق براہ راست شبلی اور کارنامۂ شبلی کے متعلق ہے، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک علمی محبت کو سمجھنے اور سمجھانے میں عمر بیت گئی۔ جس طرح سے شبلی نعمانی’ہیروز آف اسلام‘کے متعلق عام معلومات لوگوں کو پہنچاتے پہنچاتے اس دنیا سے چلے گئے، باوجود اس کے ان کا یہ کام مکمل نہیں ہو سکا تھا، بعد کے لوگوں نے شبلی نعمانی کے کاموں کسی طور پورا کیا۔ لیکن جس نہج پر وہ کام کر رہے تھے، وہ انھیں کے ساتھ ختم ہو گیا۔ شبلی نعمانی کے کام کرنے کی اتنی جہتیں تھیں، جہاں محققین و ناقدین کو بیک وقت بہت سے علوم سے واقفیت درکار ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ شبلی نعمانی جس طرح سے کام کرتے تھے، ان پر کام کرنے والے ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے اسی طرح سے محتاط ہو کر شبلی کے افکار و نظریات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔
’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘کی اشاعت یقینا ایک تاریخی عمل ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے شبلی نعمانی کے ایک اورپہلو سے قارئین مستفید ہو سکیں گے۔ کتاب میں شامل پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کا پیش لفظ مذکورہ کتاب کا بہترین تعارف ہے۔ صاحب کتاب کی تحریریں وہ قارئین کے علم میں مزید اضافہ کریں گی۔مذکورہ کتاب میں شامل شبلی نعمانی کی بالکل نئی تصویر شائع کی گئی ہے۔ اس سے قبل اس تصویر کہیں اور نہیں دیکھا گیا تو اس اعتبار سے بھی یہ کتاب شبلی کی ایک اور تصویر پیش کرتی ہے۔یہ تصویر اپنے دونوں معنی میں ہے۔ کتاب کو دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ سے آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ مذکورہ کتاب کے مطالعے سے قارئین کو یقینا فائدہ پہنچے گا۔ کتاب کی اشاعت پر صاحب کتاب کو مبارکباد۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ انھیں صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ آمین۔


1 comment
[…] کتاب کی بات […]