جدید یت کا مغنی۔ اسعد بدا یو نی/ ڈاکٹر محمد رضوان خان – پرو فیسر راشد طراز
’’جدیدیت کا مغنی اسعد بدایونی ‘‘نوجوان اسکالر،شاعر و نقاد محمد رضوان خان کا تحقیقی اور تنقیدی مقالہ ہے، جسے انھوں نے اسعد بدایونی کے کلام سے نمائندہ بیس غزلوں کے انتخاب کے اضافے کے ساتھ بڑے ہی جذباتی احساس سے کتابی شکل دی ہے ۔ موصوف اپنے اساتذہ کے تئیںبڑے ہی وفادار اور انصاف پرور ہیں۔ خاص طور پر اپنے پہلے استاد اسعد بدایونی سے تو ان کا قلبی و روحانی لگاؤ اس کتاب کے ہر صفحے سے منعکس ہوتا ہوا ملتا ہے۔ کیا نثری اخراجِ عقیدت ہے ، جس کا اندازہ ان کے بیش قیمت سطور سے لگایا جا سکتا ہے……
’’اسعد بدایونی کی شاعری جدید تر شاعری کا معتبر حوالہ ٹھہرتی ہے لہٰذا مختصر تفہیم اس غرض سے کر دی گئی ہے۔ اس کام کو میں نے بے لوث جذبے کے تحت کیا ہے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس معتبر ذہین ، اور منفردلب و لہجے کے شاعر کو بھلا نہ دیا جائے یا پھر یہ تکیہ کر لیا جائے کہ اردو اکیڈمیاں اس کام کو دیر سویر انجام دیں گی۔ لہٰذا میں نے اپنے مخلص استاد کا قرض جان کر اسی جذبے سے اس کام کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے۔‘‘
واضح رہے جب تنقید میں جذبات کا دخل ہوجاتا ہے تو تنقید تأثراتی بن جاتی ہے لیکن مصنف محمد رضوان خان کا اندازِ نقد اس منزل پر مغلوب جذبات ہونے کے باوجود معروضی اور استدلالی ہے اور تنقید کے منطقی فریضہ کو انجام دینے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کتاب کو دس ابواب میں منقسم کیا گیا ہے جس میں سات ابواب مصنف کے بیش قیمت قلم سے تحریر ہوئے ہیں اور ایک باب بعنوان ’’جدید اردو غزل اور اس کی روایت ‘‘ خود اسعد بدایونی کا تحریر کردہ مضمون ہے جسے محمد رضوان خان نے ڈائجسٹ کیا ہے نیز جو اس کتاب کے بنائے گئے ابواب میں داخلِ بیجا نہیں بلکہ لازمی اور Relevantباب ہے جس سے اسعد بدایونی کے مطالعہ اور تجزیاتی انداز کا علم بھی ہوتا ہے بقیہ دو ابواب میں ، ایک اسعد بدایونی پر منظوم خراج عقیدت پر مشتمل ہے اور آخری باب اسعد کے کلام سے نمائندہ غزلوں کے انتخاب پر مبنی ہے۔ مذکورہ کتاب میں جہاں جہاں شاعر کی حیات و شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے وہ یقینا جذباتی اور تأثراتی ہے جس سے قطع نظر اس کے تین چار ابواب بڑے ہی اہم ہیں۔ ’’جیسے اسعد بادایونی اور جدید تر غزل ہم عصر شعرا کے حوالے سے ‘‘ ’’اسعد بدایونی اور تصور انا‘‘’’اسعد بدایونی اور تصور عشق‘‘ ’’اسعد بدایونی کی غزلوں میں شعری صنعت کا التزام‘‘ ’’ اسعد بدایونی کی شاعری میں عصری معنویت کی تلاش‘‘ وغیرہ ۔ مصنف محمد رضوان خان نے اسعد بدایونی کی غزلوں کی تفہیم میں انہیں ۱۹۸۰ ء کے بعد کے شعرا ء میں گردانا ہے جو غلط ہے۔ کیوں کہ اسعد بدایونی کی غزلوں کی پہلی اشاعت مشہور زمانہ رسالہ’’ شب خون‘‘ کے ۱۹۷۷ ء کے اواخر کے شمارے میں ہو چکی تھی جس شمارے میں انہیں متعارف کرتے ہوتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی صاحب نے ان کو نوجوان اردو اسکالر بتایا تھا۔ بہر کیف ۱۹۸۰ء کے بعد ان کی شاعری جسے مصنف مذکور ’’جدید تر شاعری‘‘کی اصطلاح کی خصوصیت کے ساتھ پیش کرتے ہیں ، واقعی صحیح شمار و تجزیہ ہے۔
مصنف ِمذکور جدید تر شاعری کی اصطلاح خود سے قائم کرتے ہیںاور جدید اردو غزل کو جدید تر اردو غزل ثابت کرنے میں بڑی محنت و تکرار بھی انہوں نے کی ہے۔ جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جدید اردو غزل اپنے آپ میں وسیع اصطلاح ہے اس کے دائرہ کار میں ۱۹۸۰ء کے بعد کی بھی اردو غزل شمار ہو سکتی ہے یا ہو تی رہی ہے۔ ۱۹۸۰ء کے بعد کی غزل کو جس طرح نو کلاسیکی غزل قرار دیا گیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے ۔ کلاسِک کی بازیافت کے لئے یوں تو تخلیقی کاوش ۸۰ء سے پہلے بھی کی گئی ہے لیکن اسے نشانِ امتیاز و اقعتا۸۰ء کے بعد ہی ملا ۔ نئی غزل نے جس طرح اپنی روایت کی جڑوں میں محفوظ کلاسیکی لفظیات و استعاروں کو نیا معنیاتی نظام فراہم کیا وہ سب سے اہم نکتہ ہے اس بحث میں جس کا ذکر مصنفِ مذکور نہیں کر پائے ہیں، تاہم نئے تجربات کا منبع جس طرح انہوں نے ماضی کو قرار دیا ہے وہ درست اور بر محل ہے…… اس کتاب کے دو اہم ابواب ’’اسعد بدایونی اور تصور انا‘‘ اور’’ اسعد بدایونی اور تصور عشق‘‘ پر خاصی محنت سے کام لیا گیا ہے۔ رضوان خان ،اسعد بدایونی کے کلام میں عشق کے تصور کو پوری طرح واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسعد کے تصور عشق میں عشقِ مجازی اور حقیقی دونوں کو ثابت کرنے پر بضد ہوئے ہیں جب کہ اسعد کا کلام عارفانہ نہیں بلکہ خالصتاً مجازی ہے جس میں وہ بہت بے باک بھی دکھائی پڑے ہیں جیسے ان کے کلام کا وہ حصہ دیکھا جائے جہاں انہوں نے داستانی غزلوں کا تجربہ کیا ہے۔ یہاں ان کے کلام میں ’’ازار کھول دیا‘‘ کی جیسی زمین اور ایسی کئی زمینوں میں عریاں نگاری کا بھی ارتکاب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن مصنف نے ان کی داستانی غزلوں کے تجربہ کو بحث میں نہیں لایا ہے۔ خیر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کچھ اشعار کو چھوڑکر اسعد بدایونی کا عشق عارفانہ نہ ہو کر مجازی ہی ثابت ہوا ہے……… دوسرا اہم باب ’’اسعد بدایونی اور تصور انا ‘‘ ہے جہاں ’’انا‘‘ کو ’’خودی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ بحث خاصی متنازع فیہ ہے جس سے اتفاق کرنا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ انا ایک منفی صفت ہے اور خودی اتنی مثبت ہے کہ اس کے دائرے میں خود نِگری اور خود احتسابی اور جذبہ ایثار و قربانی بھی آجاتے ہیں۔ اور انا کہیں کہیں پر اتنی منفی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی شدت میں تصادم اور جنگ کو بھی راہ دے سکتی ہے عالمی انسانی تاریخ گواہ ہے کہ’’ تصور انا‘‘ کو کبھی Socio-Political Ligitimacy حاصل نہیں رہی ۔
ایک بہت اہم باب جو کہ باب آخر بھی ہے وہ ’’اسعد بدایونی کی شاعری میں عصری معنویت کی تلاش ‘‘ ہے۔ اس باب میں محقق و ناقد محمد رضوان خان نے بہت شدت کے ساتھ اسعد بدایونی کے مقام کا تعین کرنا چاہا ہے نیز جو ایک مکمل بحث ہے ۔ ذیل میں ہم ان کے اس بیان کا ابتدائی حصہ نقل کر رہے ہیں ۔ جس سے ان کے تنقیدی تیور کا اندازہ ہو سکتا ہے………۔
’’ کچھ سوالات اور ہیں جنہیں میں تحریر کرنا مناسب جانتا ہوں۔ کیا اسعد بدایونی کی شاعری جدید تر غزل کے تقاضے کو پورا نہیں کرتی؟ کیا آپ کی شاعری میں جدید غزل کی علامتیں موجود نہیں ہیں؟ کیا یہ شاعری پیکر تراشی سے خالی ہے؟ کیا اسعد کی شاعری جدید تر شاعری کی لفظیات سے خالی ہے؟ کیا یہ شاعری نئے دو رمیں فٹ نہیں اترتی ؟ کیا اسعد بدایونی کی شاعری جدید تر شاعری کی بنیادی مباحث سے خالی ہے؟ کیا اسعد بدایونی کی شاعری میں سیاسی اور سماجی شعور کی کمی پائی جاتی ہے؟ کیا اسعد بدایونی کی شاعری میں جدید تر غزل کے اسلامی افکار و اقدار کی بازگشت سنائی نہیں دیتی؟‘‘
محمد رضوان خان نے یہاں بحث کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ انہیں اوصاف کی بدولت انہوںنے اسعد بدایونی کو اس عہد کا سب سے معتبر اور بڑا نام ثابت کرنے پر اصرار کیا ہے۔ اور اپنے تجزیہ میں تنقید کی اس Objectivityکو بروئے کار لانے کی تمام اہل نقد کو تحریک و صلاح دی ہے۔ جو خاصہ غور طلب ہے۔ اپنی اس بحث میں وہ اسعد کے اشعار کو بھی پیش کرتے ہیں اور انہیں Categoricallyاپنے تجزیہ میں بھی لاتے ہیں۔
یہ کتاب اسعد بدایونی کی غزل کے نمائندہ انتخاب کو بھی پیش کرتی ہے جو کہ اضافی ہوتے ہوئے بھی اہم اور کارآمد ہے۔ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ اول فلیپ پر شہنشاہِ جدید غزل ظفر اقبالؔ کا اسعد بدایونی کے کلام پر بے لاگ تاثر ہے جسے اسعد بدایونی پر ہوئی اب تک کی تنقید کا حاصل کہا جا سکتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں/ ڈاکٹر الیاس الاعظمی- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
محمدرضوان خان کی اس کتاب سے جدید اردو غزل کے مزاج و میلان کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ خصوصاً اسعد بدایونی کا جو مضمون اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے اس میں اچھی خاصی بحث جدیداردوغزل کے حوالے سے اس کے میلانات پر کی گئی ہے ۔ دوم یہ کہ ’’اینٹی غزل‘‘ کے حوالے سے ماضی قریب میں ہمارے پیش رؤوں نے جو خام تجربے کیے وہ کس طرح منفی ثابت ہوئے اس کا بھی اندازہ ملتا ہے۔
مختصر یہ کہ اس کتاب کو اسعد بدایونی پر ہوئی تنقید کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے۔ جس کی طباعت اور گیٹ اپ وغیرہ بھی بہت عمدہ ہے۔
پروفیسر راشد طراز
’’عبید منزل ‘‘دلاور پور،
مونگیربہار ۔موبائل نمبر 0993462895


1 comment
[…] کتاب کی بات […]