اردو فکشن: تفہیم، تعبیر اور تنقید/ ڈاکٹر شہناز رحمن -ڈاکٹر نوشاد منظر
اردو میں فکشن کی تنقید کے حوالے سے بہت زیادہ نہیں لکھا گیا، چند کتابوں کو حوالے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے مگر بحیثیت مجموعی اگر دیکھا جائے تو فکشن بالخصوص افسانے کی تنقید پر شاعری کے مقابلے بہت کام ہوا ہے، نئی نسل کے لکھنے والوں نے اس جانب ضرور توجہ دی ہے مگر ابھی اس جانب بہت کچھ کرنا باقی ہے۔پچھلے چند وقت میں فکشن پر کچھ اہم کتابیں ضرور سامنے آئیں ہیں جس سے امید کی کرن زیادہ روشن نظر آتی ہے۔اس ضمن میں شہناز رحمن کی کتاب ’’ اردو فکشن: تفہیم، تعبیر اور تنقید‘‘کافی اہمیت کی حامل ہے۔ شہناز رحمن نئی نسل کی نمائندہ لکھنے والیوں میں سے ہیں، ان کی تحریریں ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں ،وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریسرچ کررہی ہیں۔انہوں نے فکشن کی تنقید پر خاص توجہ دی ہے۔شہناز رحمن کا تعلق نئی نسل کے ان لکھنے والوں سے ہیں جو ادب کا مطالعہ عجلت پسندی میں نہیں کرتی۔
زیر تبصرہ کتاب’’اردو فکشن: تفہیم، تعبیر اور تنقید‘‘ کو شہناز رحمن نے تین خانوں میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں انہوں نے افسانے کی شعریات اور افسانے کی تنقید کے مروجہ طریق کار یعنی افسانہ تنقید کے مسائل،موضوع،کردار نگاری کا مسئلہ، مشترکہ تہذیب کی پیش کش کے ساتھ ہیئت کے تجربات وغیرہ کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے۔کتاب کے دوسرے حصے میں جو مضامین شامل ہیں ان کا تعلق شخصیات سے ہے، انہوں نے کتاب کے اس حصے میں سجاد حیدر یلدرم سے لے کر حامد سراج کے افسانوں کا مطالعہ مختلف حوالے سے کیا ہے۔ کتاب کا تیسرا حصہ ناول کی تنقید سے متعلق ہے، اس میں مصنفہ نے تین ناول’’خدا کی بستی‘‘، جانگلوس کے کردار، اور کمین گاہ کا مطالعہ پیش کیا ہے۔
زیر نظر کتاب کا پہلا مضمون’’ افسانے کی تنقید کے بنیادی مسائل‘‘ہے۔اس مضمون میں مصنفہ نے افسانے کے فنی ڈھانچے کو ناول سے قریب تر بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ناول پر تنقید کرتے ہوئے جن نکات پر زور دیا گیا(قصہ، پلاٹ، کردار اور زمان و مکاں وغیرہ)افسانے پر تنقید لکھنے والوں نے بھی اس نکات کو محور بنایا، حالانکہ ان کا خیال ہے کہ افسانے اور ناول کے درمیان فنی اعتبار سے شناخت میں کچھ فرق بھی ہے، اس ضمن میں انہوں وحدت تاثر کا ذکر اہمیت کے ساتھ کیا ہے ۔ افسانے کے لیے وحدت تاثر کی اہمیت کیا اس پر بھی کافی کچھ لکھا جاچکا ہے، بلکہ وحدت تاثر کو افسانے کے لیے غیر ضروری بھی قرار دینے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔شہناز رحمن نے افسانے کے فن کا جو تجزیہ کیا ہے وہ اہم ضرور ہے مگر انہوں نے افسانے کے جدید مباحث پر توجہ نہیں دی اور جن نکات کو انہوں نے ضروری قرار دیا ہے ، اس میں کئی نکات ایسے ہیں جن کو جدید افسانہ نگار تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وقار عظیم کی جس کتاب کا حوالہ انہوں نے پیش کیا ہے وہ بھی ایک خاص مدت کی تنقید اور ضرورت پر مبنی ہے اس کا اطلاق نئے افسانے پر کرنا دشوار ہی معلوم ہوتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کا ایک مضمون’’ افسانے کی ہیئت میں تجربات کی نوعیت‘‘ ہے۔یہ ایک اچھا مضمون میں ہے ، مصنفہ نے نہایت تفصیل اور حوالے کے ساتھ افسانے کی ہیئت میں آئی تبدیلیوں کو پیش کیا ہے، حالانکہ مصنفہ نے یہ اعتراف ضرور کیا ہے کہ انہوں نے اختصار سے کام لیا ہے مگر اس اختصار میں ایک جامعیت موجود ہے۔شہناز رحمن نے کردار نگاری میں ہوئے تجربات کو بھی اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے۔انہوں نے اپنے مضمون ’’ اردو افسانے میں کردار نگاری کے تجربات‘‘ میں لکھا ہے کہ ابتدا ئی دور کے افسانہ نگار، افسانے کی ابتدا میں ہی کردار کا مختصر تعارف پیش کردیتے تھے جس سے قاری پر کردار کی شخصیت واضح ہو جاتی تھی، اس ضمن میں انہوں نے پریم چند، منٹو، عصمت،بیدی وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب کا ایک اہم مضمون’’ اردو افسانے میں اساطیری عناصر‘‘ ہے۔شہناز رحمن نے ابتدائی دور کے افسانوں سے لے کر عصر حاضر تک کے افسانہ نگاروں کے یہاں موجود اساطیری عناصر کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ اس پر مختصر گفتگو بھی کی ہے۔شہناز رحمن کا ایک مضمون’’ اردو افسانے میں مشترکہ تہذیب‘‘ بھی ہے۔آج جس قسم کی منافرتی سیاست پوری دنیا میں ہورہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ادب کے ساتھ زندگی کے تمام معاملات میں مشترکہ تہذیب کو دکھانا اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔شہناز رحمن نے افسانوں کے حوالے سے اپنا مطالعہ پیش کیا ہے، انہوں نے افسانوں سے حوالے بھی پیش کئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اردو افسانے کا یہ وصف خاص ہے کہ اس میں ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب کی عکاسی ملتی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں شہناز رحمن نے جن افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری کا جائزہ پیش کیا ہے ان میں’’ سجاد حیدر یلدرم کے افسانوں میں ترکی کے اثرات‘‘، ’’کرشن چندر کے ابتدائی افسانوں میں رومانیت‘‘،’’راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں ترقی پسندی‘‘، ’’ عصمت چغتائی کے افسانوں میں بیانیہ کے مسائل‘‘، ’’قرۃ العین حیدر کے افسانوں کی اسطوری جہتیں‘‘ کے علاوہ عصر حاضر کے اہم لکھنے والوں میں شمار کئے جانے والے افسانہ نگار مرزا حامد بیگ، شموئل احمد، ذکیہ مشہدی اور حامد سراج کے فن اور موضوع کا جائزہ مختلف پیرائے میں کیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب’’اردو فکشن: تفہیم، تعبیر اور تنقید‘‘ افسانے کی تنقید میں بیش بہا اضافہ ان معنوں میں ہے کہ شہناز رحمن نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ افسانہ اور افسانہ نگاروں کا مطالعہ کیا ہے، انہوں نے کسی بھی قسم کی جلد بازی سے کام نہیں لیا ہے، مصنفہ کا اسلوب واضح ہے، انہوں نے حتی الامکان اس بتا کی کوشش کی ہے کہ ان کی تحریر گنجلک اور پیچیدہ نہ ہو اور قاری تک ان کی بات باآسانی ترسیل ہوسکے۔کتاب کا سر ورق دیدہ زیب ہے، طباعت اچھی ہے، مگر قیمت اگر کچھ کم رکھی جاتی تو عام قاری تک بھی یہ کتاب پہنچ جاتی۔
(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] کتاب کی بات […]