Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

نقد شعر اور چکبست – ڈاکٹر عمیر منظر

by adbimiras نومبر 24, 2020
by adbimiras نومبر 24, 2020 0 comment

 

پنڈت برج نرائن چکبست (1882۔1926)کا شمار اردو کے اہم ادیبوں اور شاعروں میں کیا جاتا ہے ۔ان کی غزلیں اور نظمیں آج بھی اپنی معنویت کا جواز رکھتی ہیں ۔غزلوں، نظموں اور مراثی سے نہ صرف اردو شاعری کے دامن کو وسیع کیا بلکہ اپنی تہذیبی اور ادبی روایت کو جلا بھی بخشی۔شعری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ چکبست کا اہم کارنامہ ان کی نثری خدمات ہیں۔ انھوں نے ادبی صحافت کو وقار بخشا نیز اپنے عہد کے بہت سے مخلص اور بے لوث ادبی شخصیات کی سوانح اور ان کے کارناموں پر’’کشمیر درپن‘‘میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا ۔ان میں سے بیشتر کا تعلق کشمیر سے تھا مگر چکبست کی یہ تحریریں آج ان ادیبوں اور شاعروں کو جاننے کا ایک اہم مآخذ ہیں ۔اس کے علاوہ چکبست نے بعض مشہور ادیبوں اور شاعروں کے ادبی کارناموں سے نہ صرف ادبی دنیا کو واقف کرایا بلکہ ان مضامین کے توسط سے چکسبت کے ادبی اور تنقیدی نظریات سامنے آئے ۔

معرکۂ شرر وچکبست کو ہم چاہے جس نظر سے دیکھیں مگر چکبست کی ادب فہمی اور اپنے دفاع میں اساتدہ سخن کی مثالیں پیش کرنے کا ہنر بہت کچھ ثابت کرتا ہے ۔ تنقید نگار تخلیق کو کس طرح ادبی حیثیت سے مستحکم کرتا ہے نیزگلزار نسیم کی ادبی حیثیت کو مستحکم کرنے میں چکبست کے اس مقدمے کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جو انھوں نے 1905 میں گلزار نسیم کے ایک خوب صورت ایڈیشن کی اشاعت کے لیے لکھا تھا ۔جس کے بارے میں رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ ’’بعض مقامات پر انداز بیان نے یہ صورت پیدا کردی تھی کہ سخن فہمی پر طرف داری کا رنگ غالب آگیا تھا ‘‘۔(گلزار نسیم مرتب رشید حسن خاں ص:124)ایک صدی پہلے کی لکھی ہوئی ان تحریروں سے چکبست کے تنقیدی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔  ( یہ بھی پڑھیں مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات – ڈاکٹر عمیر منظر )

چکبست کے تنقیدی مضامین کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے ۔ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فن پاروں کے جمالیاتی حسن کے قائل ہیں، تہذیبی اور سماجی اقدار پر توجہ دیتے ہیں ،زبان و بیان اور دیگر فنی خوبیاں ان کے پیش نظر رہتی ہیں ۔معرکہ شررو چکبست میں چکبست نے جس طرح گلزار نسیم کی فنی اور تخلیقی جہات کو روشن کیا ہے ،تنقید شعر کا وہ ایک اہم پہلو ہے ۔اس باب میں وہ حالی سے بھی الجھ گئے اور یہاں تک کہہ گئے کہ ’’مولانا موصوف اصول شاعری سے بے خبر ہیں ‘‘(مضامین چک بست ، ص 26)۔

چکبست نے ’’اردو شاعری  مذاق سخن کی اصلاح‘‘ کے عنوان سے 1918میں ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے بتایا کہ شاعری کے دوپہلو ہیں ۔ایک کا خیالات سے اور دوسرے کا زبان سے تعلق ہے ۔اس کے بعد انھوں نے لکھا کہ :

خیالات کا اظہار پاکیزہ اور سلیس نثر میں بھی لطافت کے ساتھ ہوسکتا ہے مگر شاعرکے خیالات ،دلی جذبات کے رنگ میں ڈوبے ہوئے نکلتے ہیں اور زبان میں خاص تاثیر پیدا کردیتے ہیں ۔شاعرانہ خیالات کے پھولوں کی نشوونما محض دماغ کی پھلواری تک محدود نہیں رہتی ہے ۔شاعری کے دلی جذبات کی برقی حرارت ان پھولوں کا عطر کھینچ لیتی ہے اسی کانام شاعرانہ تاثیرو لطافت ہے ۔اس شاعرانہ لطافت و تاثیر کے عام کرنے کا ذریعہ شاعرانہ زبان ہے ۔ (مضامین چکبست مرتبہ حکم چند نیر ص: 228۔اترپردیش اردو اکیڈمی 1984)

چکبست نے گلزار نسیم کے دیباچے میں بھی شاعری کی عام تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’شاعری کی عام تعریف یہ ہے کہ نثر سے زیادہ دلکش اور پر تاثیر ہو ‘‘(مضامین چک بست ص:26)۔ایک اور جگہ انھوں نے گلزارنسیم کی تعریف کرتے ہوئے نسیم کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’نسیم کے اشعار الفاظ کی شستگی اور ترکیب الفاظ کی چستی سے تاثیر کا طلسم بنے ہوئے ہیں ‘‘(مضامین چکبست ص:۹۴) اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چکبست شاعری میں تاثیر کوبہت ضروری قرار دیتے ہیں اوران کے نزدیک اس کی خاص اہمیت ہے ۔اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن شاعری کو محض اسی کے پیمانے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ لکھنو والوں کازبان کی صفائی،محاوروں کی درستی ،صحت اور اس کو ایک خاص معیار کے ساتھ استعمال کرنے کا تصور تھا اوراس پر وہ عمل پیرا بھی تھے ۔اسی کی طرف چکسبت نے اشارہ کیاہے کہ اگر ان چیزوں کی پابندی کی جائے گی تویا زبان شاعرانہ ہوجائے گی، اس لیے کہ شاعرانہ زبان تو وہ ہے کہ زبان کا ایسا استعمال کیا جائے کہ اس سے شاعری پیدا ہوجائے ۔میر یا غالب یا کوئی اور اگر کسی محاورہ کو صحت کے ساتھ نہ لائیں یا محاورہ میں کوئی نیا پن پیدا کردیںاس کے باوجود وہ شعر میں شاعری پیدا کردیتے ہیں اوراگر شعر بن جاتا ہے تو یہی شاعرانہ زبان ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں  عہد غالب میں لکھنؤ کے اشاعتی ادارے -ڈاکٹر عمیر منظر)

درج بالا سطور میں چکبست کے جو اقتباسات دیے گئے ہیں ان میں مستعمل لفظ’’ لطافت اور تاثیر‘‘  سے کوئی متعین معنی برآمد نہیں کیے جاسکتے کیونکہ یہ داخلیت لیے ہوئے الفاظ ہیں ،ان میں معروضیت نہیں ہے ۔چکبست جب تاثیر یا کلام کی لطافت کی بات کرتے ہیںتو وہ بہت مبہم لفظ استعمال کرتے ہیں ۔اور یہ ایسے احساس کو ظاہر کرتے ہیں جس کے بارے میں معروضی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔کیفیت والے اشعار کو تذکرہ نگاروں نے اثر آفرینی ضرور لکھا ہے لیکن معنی آفرینی اور مضمون آفرینی والے اشعار کہ جن پر بہت غور و فکر کے بعد شعر کی خوبی سمجھ میں آتی ہے ،جب اس کی تمام گہرائی اور خوبی آدمی کو محسوس ہوتی ہے تو اس وقت بھی اس کو کچھ لطف اور تاثر ملتا ہے اس کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ اصل بات یہی ہے کہ چکبست کے یہ دونوں لفظ بہت مبہم ہیں اور ایک ایسی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ پوری وضاحت کے ساتھ کچھ نہیں بتا سکتے کہ وہ کیا ہے بس ایک احساس ہے کہ زبان کا ایسا استعمال ہونا چاہیے کہ اس میں لطف ہو ۔یہ بھی ملحوظ رہے کہ خیال بندی اور پیچیدہ مضامین والے اشعار میں اس طرح کی تاثیر اور لطافت نہیں ہوتی جس کا اظہار چک بست کررہے ہیں مگر جن کو ان مضامین سے دلچسپی ہوگی ان کو اسی طرح کے اشعار میں لطافت ملے گی ۔مثلا

ایک کو عالم حسرت میں نہیں ایک سے کام

شمع تصویر سے روشن شب تصویر نہیں

یا

وہی اک موسم سفاک تھا اندر بھی باہر بھی

عجب سازش لہو کی تھی عجب فتنہ ہوا کا تھا

پہلا شعر شاہ نصیر کا ہے اور دوسرا منچندابانی کا ۔ان میں اس طرح کی تاثیر اور لطف نہیں جس کا اظہار گزشتہ سطور میں چکبست کے حوالے سے کیا جاچکا ہے ۔لیکن ان اشعار کی پیچیدگی یا خیال بندی اس نوع کے مضامین سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے دلچسپی کا سامان فراہم کرے گی۔

پنڈت برج نرائن چک بست اردو کی شعری اور ادبی روایات سے واقف تو تھے مگر بعض معاملات خصوصاً شعر فہمی میں انھوں نے جو اصول بنانے کی کوشش کی ہے اس کو پوری طرح قبول نہیں کیا جاسکتا ۔اپنے عہد کے عام اور مروجہ خیالات کو ہی انھوں نے سلیقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ۔اور چونکہ شعر وادب پر گہری نگاہ تھی اور زبان و بیان کی باریکیوں پر نظر رکھتے تھے اس لیے ان کے بہت سے شعری مطالعہ پہلی نظر میں اہمیت کے حامل قرار پاتے ہیں مگر غور کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ چکبست نے محض ادب سے اپنی باخبری اور زبان و بیان کی ادا شناسی کا ثبوت ہی فراہم کیا ہے ۔بڑی اور اہم شاعری کو سمجھنے کے لیے انھوں نے جن چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی روشنی میں شاعری کا مطالعہ نہیں کیا جاسکتا ۔دراصل اس زمانے میں تنقید شعرکا یہی رویہ تھا ۔پرانے تذکروں میں بھی اسی نوع کے خیالات ملتے ہیں۔شمس الرحمن فاروقی کے بقول :

پرانے لوگوں کے نزدیک غزل جذبات کی صرف اکہری سطح کو چھونے والی صنف سخن تھی جس میں حسن و عشق کے ان تجربات کو بیان کیا جاتا تھا جو ہمارے آپ کے روزمرہ کے مشاہدہ میں آتے ہیں اور جن کا اثر قبول کرنے کے لیے تخئیل ،تفکریا تعقل کو متحرک ہونا غیر ضروری بلکہ معیوب ہے ۔(شعر غیر شعر اور نثر ،شمس الرحمن فاروقی ص151 ۔1998)

مضامین چک بست میں ’’داغ‘‘کی شخصیت اور شاعری پر بھی ایک مضمون ہے ۔اس مضمون میں انھوں نے داغ کی شخصیت ،سوانح اور ان کے بعض معاصر شعرا کا مختصراً ذکر کیا ہے اور اس کے بعد داغ کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے ۔چکبست نے داغ کی شاعری کو عیاشانہ شاعری قرار دیا ہے اور کہاکہ داغ کی شاعری سے وہ اعلی جذبات جوش میں نہیں آتے’’ جن کا تعلق حسن وعشق کے اعلی مفہوم سے ہے ‘‘۔چکسبت نے یہاں بھی انصاف سے کام نہیں لیا ۔وہ لکھتے ہیں :

داغ کا کلام انھیں لوگوں میں ضرورت سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے ،جو اعلی درجے کی شاعری سے واقف نہیں ہیں۔مثلاً ارباب نشاط کا فرقہ داغ کو اپنا پیمبر سمجھتا ہے اور ایسا ہونا تعجب کی بات نہیں کیوں کہ عیاشانہ شاعری سے جو جذبات جوش میں آتے ہیں ان کی لذت سے اس طبقہ خاص کے برابر کون واقف ہوسکتا ہے ۔(مضامین چکبست مرتبہ حکم چند نیر ص: 157۔اترپردیش اردو اکیڈمی 1984)

یہ وہ زمانہ تھا جب شعر وادب کے چرچے ہر طرف تھے اور عوامی دلچسپی کی اس سے بڑی کوئی دوسری سرگرمی نہیں تھی ۔ہر شخص شعر وادب کا شیدائی و پرستار تھا ۔ارباب نشاط کا فرقہ اس سے کوئی الگ نہیں تھا ۔ان کی سخن فہمی اور سخن وری کسی سے پوشیدہ نہیں تھی ۔مولانا عبدالباری آسی نے ہندستان اور فارس کی مشہور شاعرات کا ایک تدکرہ ’’تذکرۃ الخواتین ‘‘کے نام سے لکھا تھا ،جو 288 صفحات پر مشتمل تھا۔اسے نول کشور پریس نے شائع کیا تھا ۔ اس تذکرہ میں گھریلو خواتین کے ساتھ ساتھ ارباب نشاط کا کلام ان کے مختصر سوانحی حالات کے ساتھ درج ہے ۔ ایسی صورت میں چکبست کا یہ کہنا کہ داغ کا کلام انھیں لوگوں میں ضرورت سے زیادہ پسند کیا جاتاتھاجو اعلی درجے کی شاعری سے واقف نہیں تھے اور اس میں ارباب نشاط کے فرقہ کی بطور خاص نشاندہی کرنا درست نہیں قرار دیا جاسکتا ۔چکبست نے یہ بھی لکھا ہے کہ :

اکثر شاعر ایسے ہیں جن کو پسند عام کے ساتھ قبول خاص کا شرف بھی حاصل ہے مگر داغ اس شرف سے محروم ہیں ۔ان کا کلام جس قدر عام پسند ہے اس حد تک خاص طبقوں میں مقبول نہیں ۔(حوالہ سابق ص:157)

یہ باتیں داغ کے بارے میں کہی جارہی ہیں،جس سے غالب نے اپنی زمینوں پر شعر کہنے کی فرمائش کی ہو اور جس نے مومن،ذوق اور غالب کا نہ صرف ز مانہ دیکھا بلکہ جو ذوق جیسے استاد فن کا شاگرد رہا ہو۔ در اصل داغ کی عوامی شہرت اور مقبولیت نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پیدا کردی کہ جو شاعر عوام میںمقبول ہو وہ اچھا نہیں ہو سکتا۔غالب کی ایک مشہور غزل ہے ’ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے ‘اس زمین میں داغ کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

اے فلک سامان محشر ہی سہی

اپنی آنکھوں کو تماشا چاہیے

تیرے جلوے کا تو کیا کہنا مگر

دیکھنے والوں کو دیکھا چاہیے

نقوش کے آب بیتی نمبرمیں لکھا ہے کہ مرزا غالب ،داغ کے اس شعر پر تو تڑپ گئے تھے ۔

گو تری نظروں سے کل ہی گر پڑیں

آج تو کوئی ٹھکانہ چاہیے

داغ کی غیر معمولی عوامی شہرت اور مقبولیت ان کے معاصرین کے لیے ایک مسئلہ رہی ہے اور اس طرح کی باتیں کسی جواز کے بغیر بس یونہی کہی جارہی ہیں جس کی تائید نہیں کی جاسکتی ۔اوپر لطف اور تاثیر کی بحث گزر چکی ہے ۔چکبست نے ان الفاظ کے تناظر میں شاعری سے متعلق جو بحث کی ہے اور دیاشنکر نسیم کے کلام کو اس حوالے سے جن خوبیوں کا حامل قرار دیا ہے جب داغ کے کلام کا مطالعہ کیا تو ایک نیا پہلو پیش کردیا ۔چکبست لکھتے ہیں ۔

داغ کے کلام کی تاثیر اس امر کی شاہد ہے کہ اس کے قدرتی طور پر شاعر ہونے میں کلام نہیں ۔اس کے کلام کا اثر حرارت برقی کی طرح سننے والے کے دل میں دوڑ جاتا ہے اور ایک کیفیت پیدا کردیتا ہے ،جس کا نام تاثیر سخن ہے ۔مگر تاثیر تاثیر میں فرق ہے اور شاعر شاعر کے کمال میں امیتاز ہوسکتا ہے ۔(حوالہ سابق ص:148)

چکبست نے یہاں داغ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔کلام داغ میں کیفیت ، روانی اور برجستگی کے ساتھ ساتھ محاورہ بندی کی جو غیر معمولی مثالیں ہیں اس سے کون انکار کرسکتا ہے لیکن چکبست نے یہ کہہ کر کہ تاثیر تاثیر میں فرق ہے اور شاعر شاعر کے کمال میں امتیاز ہوسکتا ہے اچھا نہیں کیا ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چکبست لکھنو اور دلی کے تعصب میں آ کر ایک اچھی شاعری کی داد دینا بھول گئے ۔کوئی بھی شاعری عوام و خواص کی پسند و ناپسند سے معیار ی یا غیر معیاری نہیں قرار دی جاسکتی ۔بلکہ شعری رسوم اور دیگر فنی محاسن کی روشنی میں جانچا اور پرکھا جائے گا ۔واقعہ یہ ہے کہ داغ ہماری شعری روایت کے بڑے شعرا میں تھے اور انھوں نے صرف’’ لطف و تاثیر ‘‘والی شاعری نہیں کی ہے بلکہ ان کے یہاں مضمون آفرینی اور تنوع ہے ۔شمس الرحمن فاروقی کے بقول :

ایک طرح سے داغ کو آپ Poet’s Poet کہہ سکتے ہیں کہ ہرطرح کی شاعری ان کے یہاں موجود ہے۔وہ فارسی آمیز شاعری جو غالب سے منسوب ہے ،وہ جس میں کہ خیالات کی بڑی پیچیدگی ہے ،محاورے کی شاعری،عشق کے تجربات کی شاعری ،گہری شاعری،زمانے کے حالات پر ،انسانی تصورات پر شاعری ۔تو ایسا نہیں کہ داغ کوئی معمولی شاعر تھے۔ (جدیدیت کل اور آج اور دوسرے مضامین ،شمس الرحمن فاروقی ،ص 126۔نئی کتاب پبلشرز ۔نئی دہلی 2007 )

چکبست کا خیال ہے کہ داغ کی شاعری کو عاشقانہ شاعری نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ حسن و عشق کے اعلی مفہوم سے بے خبر ہیں ۔دراصل عشق داغ کے یہاں نفس پرستی کا دوسرا نام ہے اور اسی لیے چک بست نے داغ کی شاعری کو عیاشانہ شاعری قرار دیا ہے ۔چکبست کے بقول:

داغ کی شاعری عیاشانہ شاعری ہے ۔جو عاشقانہ شاعری کے مقابلے میں ادنی درجے کی شاعری ہے ۔داغ کے اشعار سے وہ جذبات عالیہ جو ش میں نہیں آتے ،جن کا تعلق حسن و عشق کے اعلی مفہوم سے ہے ۔بلکہ ان کا کلام ان خواہشات نفسانی کو برانگیختہ کرتاہے جو محض جذبات حیوانی سے وابستہ ہیں ۔(مضامین چکبست مرتبہ حکم چند نیر ص150۔149۔اترپردیش اردو اکیڈمی 1984)

1924 میں حامد حسن قادری نے داغ دہلوی کے دواوین کا ایک انتخاب ’’کمال داغ ‘‘کے نام سے شائع کیا تھا ۔کلام کے انتخاب سے پہلے انھوں نے طویل مقدمہ لکھا جس میں داغ کی شاعری پر بہت تفصیلی تبصرہ کیا۔حامد حسن قادری نے داغ پر لکھی جانے والی بعض نمایاں تنقیدی تحریروں پر بھی کلام داغ کے مطالعہ کے دوارن بحث کی ۔اس موقع پر چکبست کے اس مضمون اور عیاشانہ شاعری والا جملہ بھی ان کے پیش نظر تھا ۔اس پر حامد حسن قادری نے لکھا کہ :

چکبست لکھنوی داغ کی شاعری کو عیاشانہ شاعری کہتے ہیں اور نہایت طویل مضمون میں بہت سے شاعروں سے مقابلہ کرکے داغ کے کلام کو مبتذل ،سوقیانہ ،خلاف تہذیب،فحش ،عریاں ثابت کرتے ہیں ۔ مولانا عبدالسلام ندوی شعر الہند میں لکھتے ہیںکہ داغ تو صرف جلی کٹی کہنے اور ہر موقع پر معشوق کو کھری کھری سنانے کے عادی ہیں ۔ان سب اعتراضات کو تسلیم کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ہزل سرائی و فحش آرائی میں داغ سب سے پہلے گنہ گار ہیں یا اور بھی اس حمام  میں ننگے نظر آتے ہیں ۔دوسرے یہ کہ اس فحش و لغو کے علاوہ داغ نے کیا ،کتنا اور کیسا کہا ہے اور اس میں کوئی بات ایسی ملتی ہے جو داغ کو ممتاز اور قابل قدر بنا سکے ۔(کمال داغ،حامد حسن قادری ص:56۔55۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان 2015)

داغ کو اپنی زبان پر فخر تھا اور یہ کچھ بے جا بھی نہ تھا۔ قلعہ میں ان کی پرورش ہوئی ۔ذوق ،غالب اور مومن کی صحبت اٹھائی تھی ۔داغ سے منسوب یہ واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سید احمد دہلوی کے لغت (فرہنگ آصفیہ )کے بارے میں جب ان سے کسی نے کہا کہ یہ دلی کے محاوروں پر مشتمل ہے تو داغ نے کہا تھا کہ یہ کب سے دلی کے ہوگئے یہ تو عرب سرائے کے ہیں ۔داغ جنھوں نے پورے ملک میں اپنی زبان اور زبان دانی کا لوہا منوایا چکبست ان کی زبان کے بارے میں لکھتے ہیں ۔

داغ کی زبان کی بے تکلفی اور شوخی عیاشانہ مضامین کا حسن دوبالا کردیتی ہے اور یہ شوخی اور بے تکلفی بھی ضرور ایک حد تک قابل تعریف ہے کیونکہ یہ خوبیاں بھی ہرکس و ناکس کے حصے میں نہیں آتیں،لیکن وہ جوہر عالی جو شاعرانہ زبان کی جان ہے ،داغ کی زبان میں موجود نہیں ۔یہ وہ جوہر ہے جو زبان میں الفاظ سے صناعی کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔صناعی سے میری مراد تصنع نہیں ہے (مضامین چکبست مرتبہ حکم چند نیر ص 160۔اترپردیش اردو اکیڈمی 1984)

اس میں کوئی شک نہیں کہ چکبست نے داغ کے مطالعہ میں انصاف سے کام نہیں لیا ۔لیکن چک بست کے حوالے سے یہ بات ضرور لکھنی ہوگی کہ انھوں نے لکھنؤ کے نثر نگاروں اور ان کی فنی خصوصیات پر اس طرح لکھا کہ وہ ہماری تاریخ میں محفوظ ہوگئے ۔یہ بات بھی اہم ہے کہ چک بست کے معاصرین نے تنقید شعر کو اپنا موضوع نہیں بنایا ۔اس وقت تک تنقید کا فن کوئی باقاعدہ نہیں تھا ۔نکتہ چینی اور ذاتی پسند و ناپسند کاعمل دخل زیادہ تھا ۔اس کے باوجود چکسبت نے شاعروں پر لکھا جس میں ان کی ذاتی پسند و ناپسند تو تھی ہی مگر اس کے باوجود چکبست کی ادبی فکر او ر انفرادی سوچ  نمایاں رہی ۔تنقید شعرکی موجود ہ صورت کی ابتدائی شکل مضامین چک بست اور باقیات چکبست کے  آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

 

مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی

   لکھنؤ کیمپس

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ادبی میراثتنقیدچکبستشاعریشاعری کی تنقید
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں