نابغۂ روزگار شخصیات کی مختصر سے مختصر فہرست مولا محمد علی جوہر (۱۸۷۸ تا ۱۹۳۱ء) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ اپنی شخصیت کی بو قلمی، شدتِ جذبات، جودتِ طبع اور جولانیِ قلم کی بدولت انھیں جو شرف حاصل ہوا، وہ بہت کم لوگوں کو میسر ہوا ہے۔ مولا محمد علی جوہر کی شخصیت کے امتیازی اوصاف کو دائرہ تحریر میں لانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ وہ بہ یک وقت دانشور، مقرر، تخلیق کار، سیاست داں اور صحافی تھے۔
یہ مولانا کا ہی جوہر تھا کہ انھوں نے ایسے پُرآشوب دور میں جو شکست و ریخت اور ہنگامہ و ہوس سے عبارت تھا، اپنے لیے راہِ عمل کا تعین اس بصیرت اور دور اندیشی سے کیا کہ مذہبی اقدار تشخص کا تحفظ بھی ہوسکے اور اس کی بازیافت بھی۔ وہ جدوجہد آزادی کے نہایت سرگرم مبلغ ، داعی اور مجاہد تھے۔ مگر ان کے پیش نظر یہ نکتۂ عارفانہ بھی تھا کہ جہاد حق گریہ شبانہ کے بغیر عزت و سرفرازی کی منزلیں طے نہیں کرسکتا۔ یہی وہ قوت و طاقت تھی جس نے انھیں جدو جہد آزادی کا بے لوث داعی بنایا اور مصلحت و خوف سے پاک تقریر و تحریر کا ملکہ عطا کیا۔
صحافت ان کی نزدیک پیشے اور مشن سے ماورا ایک طرزِ عبادت تھی جس کا مقصد واقعات اور حالات کی کھتونی کے بجائے زبوں حال ملت اور قوم کی رہنمائی و سربراہی تھی۔ یہ فریضہ اس وقت اور اہم ہوجاتا ہے جب کوئی عہد کشمکش اور انتشار کا شکار اور پورا معاشرہ بے اطمینانی اور اضطراب میں مبتلا ہو۔ اس وقت صحیح رہنمائی سیاست کے ایوان کے بجائے صحافت کے نہاں خانوں سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ محمد علی جوہر جیسا وقت کا نبّاض اور ماحول شناس اس نکتے سے کیسے بے خبر رہ سکتا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کو پوری صحت کے ساتھ درج کرے۔ اسے خیال رکھنا چاہیے کہ واقعاتی صحت کا معیار اتنا بلند ہو کہ مورخ اس کی تحریروں کی بنیاد پر تاریخ کا ڈھانچہ کھڑا کرسکے۔ صحافی رائے عامہ کا ترجمان ہی نہیں، راہ نما بھی ہوتا ہے۔ اسے صرف عوام کے دعادی کی تائید و حمایت نہیں کرنی چاہیے بلکہ صحافتی منبر سے عوام کو درس بھی دینا چاہیے۔‘‘
صحافت کا یہ اصول آج بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے بلکہ صارفیت کے جنونی عہد میں اس کی اہمیت پہلے سے دو چند ہوگئی ہے۔ مولانا کی ذہنی افتاد اور شخصیت کے مطالعے کے دوران یہ راز کھلتا ہے کہ میدانِ صحافت میں ان کے آنے کے کچھ اہم اسباب تھے۔ اولاً یہ کہ ہندستان پر برطانوی استعمار کا شکنجہ کستا جارہا تھا جس کا شکار سب سے زیادہ مسلمان ہورہے تھے۔ ’’کامریڈ‘‘ کے صفحات میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف برملا اظہار سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہمدرد کے ۱۵؍ نومبر ۱۹۲۶ء کے شمارے میں انھوں نے لکھا:
’’میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمان کی اخوت میرے ایمان کا جزو ہے۔ میں مسلمانوں کے دُکھ درد میں شریک ہوں اور نہیں چاہتا کہ انھیں کسی ملت کے ہاتھوں ذرا سا بھی گزند پہنچے۔ خواہ وہ ملت ہنود کی ہو یا نصاریٰ کی۔‘‘
دوسرے یہ کہ اس وقت عالمِ اسلام کو مغربی طاقتوں نے شطرنج کی بساط بنا رکھا تھا۔ اس کی صحیح صورتِ حال سے برصغیر کے مسلمانوں کو با خبر کرنا مولانا کے نزدیک نہایت اہم تھا۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو برصغیر کی آزادی اور خلافت کی بقا مولانا کی صحافت کا مرکزی سروکار تھے۔ ان کی صحافتی زندگی اسی خار زار کی آبلہ پائی میں گزری تھی۔
صحافت کے میدان کا انتخاب مولانا نے جس شعور کے ساتھ کیا تھا اس کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف صحافت کو مقصدی رُخ عطا کیا بلکہ اس سے ایسے نتائج بھی اخذ کیے جو آزادیِ ہند کا نقیب بن گئے۔ اس میدان میں بڑے بڑے شہسوار گزرے ہیں مگر جو مقبولیت مولانا کو حاصل ہوئی وہ صرف انھیں کا حصہ تھی۔
’’کامریڈ‘‘ کے باقاعدہ اجزاء سے قبل مولانا وقتاً فوقتاً حالات حاضرہ پر مضامین لکھتے تھے مگر ایوانِ اقتدار تک مسلمانوں کی آواز اور ان کے حقوق کے تحفظ و بقا اور حالات سے باخبری کے لیے ہفتے وار انگریزی اخبار کا مریڈ کی بنیاد ڈالی۔ اس کا پہلا شمارہ ۱۴؍جنوری ۱۹۱۱ء کو کلکتہ سے شائع ہوا۔ کلکتہ سے دہلی دارالسلطنت منتقل ہوجانے کے بعد کامریڈ بھی دہلی آگیا۔ کلکتہ میں کامریڈ کا آخری شمارہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۲ء کو شائع ہوا۔ اس کے بعد ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء کو دہلی سے کامریڈ کی نشاۃ اثانیہ ہوئی۔ کامریڈ نے ہندستانی مسلمانوں کے سیاسی شعور کی تربیت کے ساتھ ان کے معاملات اور حقوق کی آواز کو بہتر انداز میں ایوانِ اقتدار تک پہنچایا۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں اور اسلام کے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور اعتراضات کا موثر ازالہ بھی کیا۔ ( یہ بھی پڑھیں ادب اور صحافت کا رشتہ- ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی)
کامریڈ کو جو شہرت اور مقبولیت ملی، انگریز زبان کے دوسرے اخبار کو کم ہی مل سکی۔ اس میں مولانا محمد علی جوہر کے اسلوبِ نگارش اور خبروں کے حقیقت پسندانہ تجزیے کا بہت اہم رول تھا۔ اس کے خریداروں میں لیڈی ہارڈنگ، لارڈ ہارڈنگ، میکڈانلڈ (وزیر اعظم برطانیہ) کے علاوہ انگریز حکومت کے دیگر افسران بھی شامل تھے۔ برصغیر سے لے کر انگلستان تک کامریڈ کے خریداروں اور پڑھنے والوں کا ایک وسیع حلقہ موجود تھا۔
محمد علی جوہر امت کا ایک تصور رکھتے تھے اور اسی لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی ریشہ دوانیوں کا دردمحسوس کرتے تھے۔ چاہے وہ دنیا کے کسی خطے میں ہوں۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ نام نہاد مرکزیت بھی اپنے اندر ملت کے لیے بہت سا منافع رکھتی ہے۔ ملت کے جسد واحد میں اگر انتشار سرایت کرگیا تو عقیدے کا اتحاد بھی اس کا تریاق ثابت نہیں ہوسکتا۔ اتحاد بین المسلمین کا قصور ہی خلافت کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جس کا مقصد مسلمانوں کے کھوئے ہوئے سیاسی وقار اور مرکزیت کے تحفظ کے سوا کچھ نہ تھا۔
۱۹۱۴ء میں لندن ٹائمز نے ترکی کی موجودہ حالت پر ایک مضمون شائع کیا جس میں ترکی کو دھمکی دی گئی تھی کہ موجودہ حالت میں حمایت و مخالفت کے بجائے وہ خاموش تماشائی بنے رہیں۔ بصورت دیگر ان کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔
مولانا نے ’’چوائس آف ٹرکس‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا جس میں انھوں نے برطانوی حکومت کی ان زیادتیوں کو اجاگر کیا جو انھوں نے ترکی کے ساتھ کی تھیں۔ اس کی پاداش میں اخبار ضبط کرلیا گیا۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کو قید کرلیا گیا اور نتیجے میں اخبار بند ہوگیا۔ عوامی بیداری اور عام لوگوں تک اپنے جذبات و احساسات کو بہتر انداز میں پہچانے کے لیے یکم جون ۱۹۱۳ء سے روز نامہ ’’ہمدرد‘‘ جاری ہوا۔ روزنامہ ہمدرد یکم جون ۱۹۱۳ء کے ادارتی نوٹ سے اس کے فرضِ منصبی اور حدود کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
’’ہمدرد کا فرض ہوگا کہ سچی خبریں سنائے۔ ان خبروں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے جن معلومات کا مہیا کرنا ضروری ہے وہ مہیا کرے۔ ناظرین کی معلومات میں ہر روز اضافہ کرے تاکہ وہ خود رائے قائم کرسکیں نہ کہ اس کی رائے کے ہمیشہ محتاج رہیں۔ مگر یہ خیال نہ کیجیے کہ ہمدرد مسجد کا ملّا ہوگا۔ تعلیم کا اصول یہی ہے کہ ایک چیز کا اس قدر کبھی مطالعہ نہ کیا جائے کہ طبیعتاکتا جائے۔ ہمدرد ملک و قوم کی ملّاگیری کے علاوہ اپنی رنگینیِ طبع سے احباب کی رونقِ محفل بھی ہوگا۔ سیاسیات کی توتو میں میں کے ساتھ نقدِ سخن کی جھنکار بھی سنائی دے گی۔ اختصار کے ساتھ مزے مزے کے افسانے بھی ہوں گے اور فلسفے کی پھیکی سیٹھی کھچڑی کے لیے لطیفوں کی چٹپٹی چٹنی بھی دستر خوان پر موجود ہوگی۔ ہمدرد آپ سے سیکھے گا اور آپ کو سکھائے گا۔‘‘
موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ یہ پہلا اردو روز نامہ تھا جس نے ایسوسی ایٹیڈ پریس اور رائٹر کی خدمات حاصل کیں۔ نیز لیتھو کے بجائے اردو ٹائپ کی روشن طباعت کا آغاز کیا۔ مولانا نے کامریڈ کی طرح ہمدرد کو بھی ظاہری خوبیوں سے آراستہ کیا۔ موضوعات اور ظاہری حسن و آرایش کے اعتبار سے مولانا محمد علی جوہر نے اردو صحافت کو ایک نئے دور میں داخل کردیا۔ سیاسی مضامین کے علاوہ مختلف النوع مضامین بھی ہمدرد میں اشاعت پذیر ہوئے۔ بقول قاضی عبدالغفار:
’’حالی، اقبال، شبلی کی نظمیں اور پریم چند کے افسانے غالباً پہلی دفعہ اردو روزنامہ میں شائع ہوئے اور مزاح نگاری کا ایک ایسا معیار ہمدرد نے قائم کیا، جس کا اس سے پہلے اردو صحافت میں کوئی وجود نہ تھا۔ بمبوق اور محفوظ علی (دونوں علی گڑھ کے) اس فن کے استاد مانے گئے اور آج بھی جو اچھے مزاح نگار یا طنز نگار ہیں انھوں نے ہمدرد کی روایات سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ یہ سب محمد علی کی شخصیت کا کرشمہ تھا۔(۲)
مولانا محمد جوہر آزادیِ ہند اور اسلام کے ایسے دیوانے اور عاشق تھے کہ مصلحت اور خوف کا لفظ ان کی لغت میں تھا ہی نہیں۔ جرات اور بہادری اور حق گوئی کی پاداش میں سنت یوسفی پر عمل کرنے کے سوا کوئی صورت نہ تھی۔
برطانوی استعمار کو امید تھی کہ جیل کی سلاخیں شاید محمد علی جوہر کو جدوجہد آزادی سے باز رکھ سکتی ہیں۔ مگر ان کی ساری تدبیریں مولانا کے جرات مندانہ اقدامات کے سامنے ریت کا تودہ ثابت ہوئیں۔ انگریزوں کی حیلہ سازی اور لڑاؤ اور حکومت کرو کی سازشی حکمتِ عملی کا ادراک سب سے زیادہ مولانا محمد علی جوہر کو تھا۔ برطانوی حکومت کی پالیسیوں کے اندر چھپے ہوئے شر کو بھانپ لینا اور اس پر فیصلہ کن وار ہی انگریزوں کی پریشانی کا سبب تھا۔ جس کی پاداش میں مولانا کو جیل کی سلاخیں ملیں۔
سائمن کمیشن کی مخالفت مولانا نے یہ کہہ کر کی کہ ہم ہندستانی اپنی تعمیر و ترقی کے ذمے دار خود ہیں۔ کوئی دوسرا اس کا فیصلہ کیسے کرسکتا ہے۔ اسی طرح جب رنگیلا رسول نامی کتاب لکھی گئی تو مولانا کا موقف یہ تھا کہ ایسا قانون وضع کیا جائے جس سے اس طرح کے مجرموں کی رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ بعد میں حرمتِ انبیاء اور بزرگان دین کا قانون حکومت نے منظور کیا۔ اس وقت کے دیگر اخبارات کا موقف اور عوامی جوش و خروش مصنف کو رہائی دینے والے جج کے خلاف تھا۔ عام مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ جج کو برطرف کیا جائے۔
ہمدرد کی آخری اشاعت جون ۱۹۱۵ء کے بعد مولانا محمد علی جوہر قید کرلیے گئے۔ دسمبر ۱۹۱۹ء میں جب رہا ہوئے تو ہر طرف خلافت تحریک کا ہنگامہ بپا تھا، جس نے صحافتی زندگی کے لیے مولانا کو یکسو نہیں ہونے دیا۔ یہ ان کی شخصیت تھی جس نے خلافت تحریک کے لیے ملک میں بیداری کی لہر پیدا کردی۔ ۱۵؍مئی ۱۹۱۶ء کو ہمدرد میں مولانا نے لکھا:
’’اسلام صرف اوامر و نواہی کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسیات عالم شامل ہیں۔ اس کا مقصد ساری دنیا میں اسوۂ حسنہ جاری کرنا ہے لیکن جبر وقوت سے نہیں بلکہ ترغیب، معقول دلائل اور محبت و پیار سے۔ اس نظامِ عالم کا شخصی مرکز خلیفہ یعنی جانشینِ رسول اکرم ؐہوتا ہے اور ارض مرکز جزیرۃ العرب سے بالخصوص حجاز جس میں مکہ اور مدینہ کے حرمین شریفین واقع ہیں۔‘‘
خلافت کی پُر زور تحریک اگرچہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی مگر آزادیِ ہند کا پیش خیمہ ضرور ثابت ہوئی۔ اس وقت مسلم رہنمائوں کے علاوہ غیر مسلم اکابرین بھی اس نکتے سے آگاہ تھے۔ اس تحریک نے ہندستانیوں کو خود اعتمادی اور خودداری کی اس فضا سے ہمکنار کیا جہاں وہ برطانوی استعمار کی رعیت ہونے کے بجائے ہندستانی ہونے پر فخر محسوس کرنے لگے۔ بقول قاضی عدیل عباسی:
’’تحریکِ خلافت ایک مشعل تھی جس نے ہندستانیوں کے ضمیر کو روشن کیا اور اس اجالے میں اس نے اپنے آپ کو دیکھا اور پالیا۔ یہ صحیح ہے کہ تحریکِ خلافت کے روحِ رواں مہاتما گاندھی تھے مگر اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ تحریک خلافت نے ہندستانیوں کو متحد کرنے اور اسے آزادیِ کامل کی جانب گامزن کرنے کا مواد فراہم کیا۔ ‘‘(۳)
خلافت تحریک کی بے پناہ مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا گیا اور مولانا محمد علی جوہر پر مقدمہ چلا۔ اس تاریخی مقدمے میں مولانا نے عدالت کے سامنے اپنا بیان دیتے ہوئے پہلے تو خلافت تحریک کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور اس کے بعد کہا:
’’میں اس وقت تک شاہ جارج کے قانون کی اطاعت کروں گا جب تک یہ قانون مجھے اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ میں خدا کے قانون کی اطاعت کرنا چھوڑ دوں۔‘‘ (۴)
جدوجہد آزادی اور تحریک خلافت جیسے اہم اور نمایاں مسائل کے ساتھ ساتھ مولانا نے اس عہد کے دیگر مسائل کو بھی اپنی صحافت کا موضوع بنایا۔ تحریک خلافت کے نتیجے میں ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے انگریزوں نے مختلف حربوں سے جب فسادات کا سلسلہ شروع کرایا تو مولانا نے فسادات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا:
’’ فساد کی جڑ تعلیم یافتہ خواص جو بڑی بڑی سرکاری ملازمتوں اور سیاسی امتیازات پر ٹوٹے پڑتے ہیں اور اپنے ان حقوق کو ’ملی حقوق‘ کا نام دے کر عوام اور جہلا کو ابھارتے اور اشتعال دیتے رہتے ہیں۔ عوام اور جہلا غریب ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور ذرا سی دیر میں مارنے لگتے ہیں۔ جب سر سے کون نکل جاتا ہے تو ٹھنڈے پڑجاتے ہیں لیکن تعلیم یافتہ اور خواص ایسی لڑائیوں سے جن میں سر پھٹول ہو، دور ہی دور رہتے ہیں اور ان کے ٹھنڈے پڑنے کا کوئی موقع نہیں آتا۔‘‘ (۵)
علامہ اقبال کو وہ اپنا مذہبی استاد تصور کرتے تھے اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ لیکن تحریک خلافت میں اپنا اہم نوا نہ پاکر انھیں صرف اقبال مرحوم ہی نہیں لکھا بلکہ ہمدرد کے متواتر پانچ مضامین میں علامہ اقبال کے شعری افکار و خیالات کا اس وقت کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ کیا اور لکھا:
’’اس وقت میں جو کچھ اپنے استاد (شاعری کے نہیں مذہب اسلام کے استاد) اقبال مرحوم کے متعلق لکھ رہا ہوں۔ میرا دل ان کی محبت کے باعث تڑپ رہا ہے اور میرا دماغ میرے قلم کی مہمیز اور چانک دونوں سے تواضع کررہا ہے۔ اگر قدم ذرا بھی سست پڑا تو کھال ادھیڑ دی جائے گی۔ حق پرستی کے میدان میں قدم کا ذرا بھی سست پڑنا الٹے پاؤں باطل کی طرف لے جانے سے کچھ ہی کم گناہ ہے۔ کاش اقبال ہمارا محبوب و معشوق اقبال، ہم کو اس دورِ ارتداد میں اسلام کی صراط مستقیم دکھانے والا اقبال، ہماری طرح کسی جیل خانے میں ہوتا۔ ‘‘ (۶)
مولانا محمد علی جوہر کی استقامت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انھوں نے جس بات کو صحیح جانا، اس پر ڈٹ گئے اور پھر مخالفتوں کے طوفان بھی ان کے پائے استقامت میں لغزش پیدا نہ کرسکے۔ خواہ وہ قتلِ مرتد کا مسئلہ ہو یا دبابیت اور مدینہ منورہ پر گولہ باری کا۔ اجتہاد کے مسئلے پر علمائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ زندگی کا دروازہ قیامت تک کے لیے کھلا ہے تو آپ اجتہاد کا دروازہ کیسے بند سکتے ہیں، اسلام کوئی جامددین نہیں ہے۔ اگر آپ ان مسائل پر غور وفکر نہیں کریں گے اور کوئی راستہ نہیں نکالیں گے تو کوئی نہ کوئی ضرور نکالے گا۔ یہ الگ بات کہ اس کا علم آپ لوگوں کے مقابلے میں کم ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعدمسلمان جس کسمپرسی کا شکار تھے، جذبہ واحساس سے عادی جس بے کیف زندگی کے وہ عادی ہوچکے تھے، مولانا نے ان کے تن مردہ میں نئی روح پھونکی۔ جذبۂ آزادی اور حریتِ فکر و نظر کی روش پر گامزن کیا اور ساتھ ہی استقامت اور پامردی کی تعلیم دی۔
مولانا محمد علی جوہر کی صحافت کا کمال صرف یہ نہیں تھا کہ تحریکِ خلافت اور آزادی ہند کے حوالے سے انھیں بڑی مقبولیت ملی بلکہ ان کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے مسلمانوں میں مذہبی، سیاسی اور سماجی بیداری کی ایسی جوت جگادی جو آج تک مدھم نہیں پڑی۔ اپنے اخبارات کے ذریعے مسلمانوں کی ذہن سازی اور ان کے مابین اتحاد عمل کی جو کوششیں مولانا نے کی ہیں صحافت کی تاریخ میں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ اپنی تحریروں کے ذریعے مولانا نے مسلمانوں کے دلوں میں امید کی ایسی قندیل روشن کی کہ نا امیدی اور مایوسی کے تاریک بادل چھٹ گئے اور یہ قندیل قوتِ عمل کا نقیب بن گئی۔
حواشی
۱۔ مولانا محمد علی سوانح و خدمات (مجلد علم و آگہی)
مرتبین: ابوسلمان شاہ جہاں پوری، پروفیسر انصار زاہد، پروفیسر فصیح الدین صدیقی
گورنمنٹ نیشنل کالج، کراچی، ص ۱۰۷
۲۔ مولانا محمد علی (مقالہ) علی برادران، قاضی عبدالغفار
مرتب: سید رئیس احمد جعفری، محمد علی اکیڈمی، لاہور، ص ۱۲۴
۳۔ قاضی عدیل عباسی، تحریک خلافت
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، ص ۱۹۰
۴۔ بحوالہ سوانح محمد علی، ص ۷۹
۵۔ روزنامہ ہمدرد، ۸؍مئی ۱۹۲۷ء (فسادات، لاہور)
۶۔ ہمدرد، ۱۳؍اگست ۱۹۲۷ء (میرا استاد اقبال)
شعبۂ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
لکھنؤ کیمپس ۔لکھنؤ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
[…] فکر و عمل […]
[…] فکر و عمل […]
بہت ہی اعلی کارنامہ بہت ہی عمدہ تخلیق ہے