Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

ہومی کے بھابھا اور مابعد نوآبادیاتی اصطلاحات- محمد عامر سہیل

by adbimiras جنوری 17, 2021
by adbimiras جنوری 17, 2021 1 comment

مابعد نوآبادیاتی مطالعہ، ثقافتی مطالعات کا حصہ ہے۔ باقاعدہ نظریہ سازی کے بعد اس رحجان نے الگ شکل اختیار کر لی ہے۔ مابعد نوآبادیاتی تنقید میں استعمار کار اور استعمار زدہ کے درمیان ہر قسم کے معاشی، ثقافتی، بشریاتی، نفسیاتی،

سیاسی، تہذیبی، مذہبی اور تعلیمی رشتے کا مطالعہ ادبی متن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ادبی متن کا یہ جائزہ مزاحمت، مفاہمت، معاونت اور دو جذبیت کی صورتوں میں لیا جاتا ہے۔ اس مطالعہ میں استعمار کار اور استعمار زدہ کا رشتہ کن صورتوں اور کن نوعیتوں میں ظاہر ہوتا ہے یا سمجھا جاتا ہے کی وضاحت مختلف ناقدین نے کی، ان ناقدین میں ہومی کے بھابھا وہ نقاد ہے جنھوں نے اس رشتے کو سمجھنے کے لیے اصطلاحات وضع کیں۔

بھابھا یکم نومبر 1949 ء کو ممبئی (انڈیا) کے معاشی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مرے سکول ممبئی سے حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری انفنسٹون کالج ممبئی سے حاصل کی، جو اس وقت ممبئی یونی ورسٹی سے ملحق تھا۔ انگریزی میں ایم اے کی ڈگری کرسچیئن چرچ اوکسفرڈ یونی ورسٹی سے حاصل کے بعد ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری وہیں سے حاصل کی۔ بھابھا نے عملی زندگی آغاز شعبہ انگریزی یونی ورسٹی آف سوسیکس Sussex سے بطور استاد کیا۔ وہ پرنسٹن، پنسلوانیا اور ہارورڈ یونی ورسٹیوں میں بھی بطور پروفیسر پڑھاتے رہے ہی۔ 1997 ء سے 2001 ء تک شکاگو یونی ورسٹی میں رہے۔ ایک سال کے لئے 2002 ء تک یونی ورسٹی کالج لندن میں بطور مہمان پروفیسر آف انگریزی ادب کے خدمات انجام دیں۔ 2012 ء میں انڈین حکومت کی طرف سے بھابھا کو پدما بھوشاں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بھابھا نے جن مفکرین سے اثرات قبول کیے ان میں ژاک لاکاں، ژاک دریدا، مثل فوکو اور بطور خاص ایڈورڈ سعید شامل ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں -محمد عامر سہیل  )

بھابھا کی اہم تصنیف ”The Location of Culture“ ( 1990 ) ہے۔ ثقافتی مطالعات میں اس کتاب کو بیسیویں صدی کی اہم ترین کتاب کی حیثیت حاصل ہے کہ یہ نظریہ ساز کتاب ہے۔ جس میں بھابھا نے چند اہم مابعد نوآبادیاتی اصطلاحات وضع کر کے آن کی وضاحت کی ہے۔ استعمار شکر اور استعمار زدہ کے رشتے کا تجزیہ کیا تو اسے جن نفسیاتی معاملات سے آگاہی ہوئی، بھابھا نے آن کے لیے باقاعدہ اصطلاحات وضع کیں اور پھر ان کی مابعد نوآبادیاتی تشریح کی۔ ذیل میں بھابھا کے حوالے سے تین اصطلاحات کی وضاحت پیش کی جاتی ہے۔

* 1 :۔ Mimicry (نقل) *

کسی چیز جیسا بننے یا بنانے کی کوشش کرنا ”نقل“ ہے۔ مشابہت اختیار کرنے کے لیے نقل کی جاتی ہے۔ نقل کرنے کی یہ صلاحیت فطری ہوتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی چیز اچھی لگی، کسی کا لباس اچھا لگا، طرز گفتار اچھا لگا، نشت و برخاست کا طریقہ اچھا لگا یا اسے کے رہن سہن کا سلیقہ بھا گیا تو وہ اس جیسے بننے کی کوشش کرے گا۔ یہ ایک فطری چیز ہے کہ انسان نقل کرتا ہے۔ ہم اسے دیگر معاشرتی حوالوں سے بھی دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ چیز بچوں سے لے کر بڑوں تک شامل ہے۔ نقل کوئی منفی رویہ نہیں بلکہ اسی کے ذریعے آئندہ نسل میں زبان، تہذیب و ثقافت اور آداب کے جملہ طریقے سلیقے شامل ہوتے ہیں۔ نقل صرف انسانوں تک نہیں بلکہ یہ جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے جس کی واضح مثال بندر ہیں۔ نقل کے ذریعے ہی چیزیں آئندہ نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔

مابعد نوآبادیاتی مطالعات میں Mimicry باقاعدہ اصطلاح ہے۔ اس کو اصطلاح کا درجہ اگرچہ بھابھا نے دیا، لیکن اس کے ابتدائی نقوش ہمیں فرانتز فینن کے ہاں ملتے ہیں۔ استعمار کار اور استعمار زدہ کے رشتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے فینن نے کہا تھا کہ مقامی باشندہ، استعماری حکمرانوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ رشک کی نظر مقامی باشندے کو نقل تک لے جاتی ہے۔ فرانتز فینن خود ماہر نفسیات تھا جس نے استعمار کار اور استعمار زدہ کی الگ الگ نفسیات کا مطالعہ کیا اور، ان دونوں کی آپسی نفسیات کے مطالعہ کیا نیز استعمار کار کے استعمار زدہ پر اثرات کا تجزیہ نفسیاتی اصولوں سے کیا۔ فینن سے قبل آکٹو مانونی Octave Mannoni نے نوآبادیات اور مقامی باشندے کی نفسیات پر روشنی ڈالی تھی۔ لیکن وہ کام سرسری نوعیت کا تھا۔ جس کو فینن نے اسے عملی شکل دی۔ اس کے بعد بھابھا نے Of Mimicry Man مضمون لکھ کر ”نقل“ کی باقاعدہ اصطلاح وضع کی۔ نقل کے لیے چند ابتدائی اہم نکات ہیں۔

* نقل اسی کی ہو گئی جسے اچھا، معیاری اور قابل تقلید سمجھا جائے گا۔

* نقل کا مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب نقل کرنے والے میں احساس پیدا ہو کہ وہ کم تر ہے۔

* نقل اسی کی ہو گئی جو طاقت میں ہو گا۔

* نقل ہمیشہ بڑے کی ہو گئی۔ یعنی نقل کرنے والا چھوٹا ہوگا۔

اب متوجہ ہوں، استعمار کار نے جہاں استعماری یلغار کی وہاں کے باشندوں کو یہ باور کرایا کہ استعمار ہر لحاظ سے اعلی اور افضل ہے۔ یورپ نے جس ملک کو Colony بنایا وہاں کے باشندوں کے سامنے ”یورپ کو بطور مرکز“ پیش کیا۔ جس کے مطابق یورپی تہذیب، کلچر، لباس، زبان، ادب، تعلیم، مذہب، قانون، انداز فکر اور اس کی اقدار اور جملہ یورپی مظاہر اعلی اور برتر ہے اور جو غیر یورپ ہے (خصوصاً مقامی باشندے ) وہ سست، کاہل، جاہل اور ارزل ہیں۔

لہذا غیر یورپین/مقامی باشندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یورپ/ استعمار کی تقلید کریں اگر وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ استعمار کے قانون، ان کے طرز حیات اور ان کی تعلیم کو دیکھ کر مقامی باشندے نے ان کے دیے ہوئے تصور کو قبول کر لیا، جس کی بنیاد پر اس میں نقل کرنے کی ڈگری صلاحیت نے زور پکڑا۔ مقامی باشندہ استعمار کی ثقافت Adopt کرنے کوشش کرتا ہے، وہ دراصل استعمار کی نقل ہی ہے۔ استعماری ثقافت کو مقامی باشندہ اپنانے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ ان کے قریب ہو رہا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ” غالبؔ کا مابعدنوآبادیاتی مطالعہ ” :خطوط اوردستنبو کے تناطرمیں- محمد عامر سہیل )

نقل میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ استعمار کے برابر ہو جائے گا۔ استعمار کہنے کو تو کہتا ہے وہ مقامی کی نجات استعمار کی تقلید میں ہے مگر حقیقت میں استعمار کبھی نہیں چاہتا کہ مقامی باشندہ مکمل طور پر اس سے برابری کرے یا کبھی حاصل کر لے۔ استعمار کی نفسیات میں شامل ہے کہ وہ مقامی سے ایک خاص فاصلہ رکھتا ہے۔ سوال یہ کہ مقامی استعمار کی نقل کیوں کرتا ہے۔ اس کے چند پہلو ہیں۔

* استعمار کے قریب ہونے کے لیے

* عہدہ حاصل کرنے کے لیے

* دیگر مقامیوں میں مقام حاصل کرنے کے لیے کہ ان پہ رعب ڈالا جا سکے

* مہذب ہونے کے لیے

اور جملہ وجوہات جو اسی سے ملتی جلتی ہیں۔ نقل کی کئی شکلیں ہیں جس میں مقامی باشندہ استعمار کی نقل کرتا ہے، اس میں رہن سہن، لباس، طرز رہائش، نشت و برخاست، چلنا، اٹھنا بیٹھنا، انداز گفتگو اور کھانے پینے سے لے کر علوم، زبان، تصورات، نظریات اور زبان، تعلیم، قانون اس سے بڑھ کر مقامیوں میں سے استعمار کا مذہب اختیار کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ لہذا بھی دیکھتے ہیں کہ نقل کا یہ تصور محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت کا انداہ اس کے دائرہ کار سے لگایا جا سکتا ہے۔

نقل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مقامی باشندے اس میں توازن رکھنے کے بجائے انتہا پسندی کا شکار ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت سے دور ہوتا جاتا ہے۔ نا صرف دور بلکہ مقامی باشندہ اپنی اقدار، زبان، لباس، تعلیم اور ثقافتی مظاہر کو استعمار کے مقابلے میں کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں پہنچ کر Mimicry ایک منفی رویہ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اپنی ثقافت سے دوری اور استعمار کی ثقافت سے قربت، دونوں کسی صورت مکمل نہیں ہو پاتیں۔ نتیجتاً وہ ایک ایسے مقام پہ آ کھڑا ہوتا ہے کہ نا تو وہ مکمل ”غیر ثقافت“ میں جا سکتا ہے اور نا ہی وہ ”ذاتی ثقافت“ میں رہ سکتا ہے، اس مقام پر پہنچ کے مقامی باشندہ ”بیگانگی“ Alienation کا شکار ہو جاتا ہے۔ سو اس کی شناخت مسخ ہو جاتی ہے۔

نقل کا فائدہ یہ ہوتا ہے اسی نقل کے ذریعے اگر وہ استعمار کے علوم اور اس کے نظریات و تصورات سے آگاہی حاصل کر لے، تو وہ انھیں بنیادوں پہ استعمار کو چیلنج کر سکتا ہے، اور دیکھنے میں آیا کہ مقامی باشندوں نے استعماری علوم کے حصول کے بعد انھیں چلنج کیا، جس سے ”ردنوآبادیات“ نے جنم لیا۔ لیکن اس بات سے انکار مشکل ہے نقل کے اس رویے سے مقامی باشندے /استعمار زدہ میں ایک مخلوط شناخت ابھر کر سامنے آئی، جس نے مقامی شناخت کو متاثر کیا۔ اور مقامی باشندہ ”مخلوط شناخت“ کا شکار ہو گیا۔ بھابھا نے اس کو بھی اصطلاح کا درجہ دے کر پیش کیا۔

* 2 *:۔ Hybrity (دو غلا پن، مخلوط شناخت) *

بنیادی طور پر یہ اصطلاح بائیولوجی کی ہے۔ جس میں دو مختلف چیزوں (جینز) کو مل کر نئی جینیاتی ساخت تیار کی جاتی ہے، اس عمل کو ”دوغلا“ کہتے ہیں۔ یہ عمل سراسر شعوری ہوتا ہے۔ ثقافتی مطالعات میں اس کی اہمیت مابعد نوآبادیاتی تھیوری کے حوالے سے اہم ہے۔ بھابھا نے یہ اصطلاح اپنی کتاب The Location of Culture میں بیان کی۔ مقامی باشندے نے جو نقل استعمار کی کی اس سے مخلوطیت پیدا ہوئی۔ استعمار نے جب بھی کسی ملک کو اپنی نوآبادی Colony بنایا تو وہاں اپنا کلچر بھی مسلط کرنے کی کوشش کی۔

مسلط کیے گئے استعماری کلچر سے مقامی باشندے کی شناخت مسخ ہونی شروع ہوئی جو مزید بڑھتی گئی۔ مسلط کرنے اور قبول کرنے کا رجحان دونوں جانب ہوتا ہے۔ قبول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ استعماری کلچر کو اعلی اور ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے مقامی تسلیم کر لیتا ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی ملحوظ رہے کہ صرف مقامی ہی استعماری کلچر سے مرعوب ہوتا اور قبول کرتا نہیں بلکہ استعمار کار بھی مقامی کلچر سے متاثر ہوتا ہے، فرق یہ ہے وہ اس طرح سے نہیں اپنایا جس طرح سے مقامی استعمار کا کلچر اپنایا ہے۔

مقامی کی غلطی یہ ہے وہ غیر کلچر اس لیے اپناتا ہے وہ اعلی ہے اور دوسرا وہ اپنے کلچر کو کم تر سمجھتا ہے۔ مقامی باشندے کو اپنی زندگی میں دو ثقافتوں سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ یہی دو ثقافتوں کی گڈمڈ جس کا سامنا استعمار زدہ کو شعوری یا لاشعوری کرنا پڑتا ہے، سے پیدا ہونے والی مخلوطیت کو بھابھا نے ”Hybrity“ کا نام دیا ہے۔

مخلوط شناخت کی حامل نسل تیار کرنے میں لارڈ میکالے کی وہ تعلیمی پولیسی ہم سب جانتے ہیں جس کے مطابق ہندستانیوں کی ایسی نسل کی شعوری تیاری بذریعہ تعلیم تھی، جو نسل کے اعتبار سے ہندوستانی جبکہ مزاج اور سوچنے کے زاویے یورپی رکھتی ہو۔ یہ نئی کلاس جس کا طرز حیات یورپی تھا مخلوط شناخت کی حامل بنی۔ اس میں مفاہمت، معاونت اور دو جذبیت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ مخلوط شناخت نسل تہذیب و ثقافت، زبان، ادب اور علم ہر زاویے سے دو شناختوں میں بٹی ہوئی نبر آتی ہے۔ جو نا تو کامل یورپی ہے اور نا ہی مقامی شناخت کی حامل ہے۔ اس نسل کا کردار دیکھا جا سکتا ہے۔

* 3 * *:۔ Ambivalence (دو جذبیت) *

مابعد نوآبادیاتی مطالعات میں بھابھا کی یہ اصطلاح کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اس کا ترجمہ ”دو جذبیت“ ، فرخ ندیم نے ”دو گونیت“ اور ڈاکٹر اشرف کمال نے ”ابہام“ کیا ہے۔ سادہ لفظوں میں دو جذبوں کا ایک وقت پایا جانا، دو جذبیت ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہمیں کئی چیزوں کے بارے میں انفرادی سطح پر اچھے برے جذبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہی وقت میں کسی شخص، جگہ یا چیز کے بارے میں انفرادی سے اجتماعی سطح تک دو مختلف اور متضاد جذبات کا پایا جانا/پیدا ہونا/محسوس کرنا یا ہونا ”دوجزبیت“ کہلاتا ہے۔ ہم ایک چیز کے بارے میں پسند/اچھے /مثبت یا ناپسند/برے /منفی دونوں جذبات ایک ہی وقت میں اپنی ذات میں محسوس کرتے ہیں، یہ شعوری بھی ہوتے ہیں اور لاشعوری بھی، ایسی کیفیت ”دوجذبی“ کہلاتی ہے۔ اس کی دو چند صورتیں یہ ہیں۔

* جس چیز کے بارے میں اچھے برے جذبات ایک ہی وقت میں پیدا ہوئے ہیں، اس کے بارے میں تسلی ہو کہ مثبت اس لیے اور منفی اس وجہ سے ہیں۔

* جس چیز کے بارے میں اچھے برے جذبات ایک ہی وقت میں پیدا ہوئے ہیں، اس کے بارے میں میں تسلی نا ہو کہ مثبت کیوں ہیں اور منفی کیوں ہیں۔

* کسی چیز کے بارے میں خود بخود اچھے برے جذبات کا پیدا ہونا جانا، یہ صورت شدید تذبذب کی ہوتی ہے، کہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

* کسی چیز کے مثبت پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر اس کے منفی پہلوؤں کو نظر انداز کر دینا۔

* کسی چیز کے منفی پہلوؤں کو مدنظر کر اس کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر دینا۔

مذکورہ تمام صورتوں میں دو جذبیت ہے۔ میں نے اوپر کہا کہ یہ دوجزبیت انفرادی اور اجتماعی دونوں شکلوں میں ہو سکتی کے۔

یعنی کسی گروہ کا گروہ کے بارے میں دو جذبی ہونا یا کسی قوم کا کسی دوسرے قوم کے بارے میں دو جذبی ہونا ہے۔

بھابھا کی تعلیمات کے مطابق نوآبادیاتی عہد اور مابعد نوآبادیاتی عہد دونوں کے ادب میں نوآبادیاتی تمدن/استعماری ثقافت کے بارے میں رد و قبول کے دو متضاد جذبات کا استعمار زدہ میں پایا جانا ”دو جذبیت“ کہلاتا ہے۔ مقامیوں میں غیر کے بارے میں دو متضاد جذبات کا پایا جانا فطری ہے۔ اس لیے کہ ہر چیز اپنے مثبت اور منفی پہلو لیے ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں رد کی جاتی ہے کچھ چیزیں قبول کی جاتی ہے۔ ”دو جذبیت“ اس وقت اپنے کمزور پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے جب مقامی باشندہ استعمار کی جملہ چیزوں کو یا رد کر دے یا قبول کر لے۔ لیکن یاد رہے یہ ایک ہی وقت میں دو جذبات کا پایا جانا ”دو جذبیت“ ہے۔ مقامی باشندے کی یہ نفسیاتی کشمکش کو بیان کرنے، سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بھابھا Ambivalence کی اصطلاح پیش کی ہے۔ یہ دراصل Mixed Feelings ہوتی ہیں۔ اس اصطلاح کی مدد سے مابعد نوآبادیاتی عملی مطالعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔

بھابھا کی مذکورہ بیان کردہ تین اصطلاحات کو اردو ادب پر اطلاق کر کے وہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جو دیگر کسی ذریعے سے اس طرح ممکن نہیں۔ ہومی کے بھابھا کی یہ عطا عالمی تنقیدی تھیوری میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔ اس بنیاد پر ہم بھابھا کو مابعد نوآبادیاتی تنقیدی تھیوری کے بنیاد گزاروں میں شامل کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد عامر سہیل

(جھنگ۔پاکستان)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثتنقیدما بعد جدیدیتنو آبادیات
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اٹھ جاو بچوں، آنکھیں کھولو -ثنا شمیم
اگلی پوسٹ
دبستان بجنور – ڈاکٹر شیخ نگینوی

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

1 comment

اسا جنوری 20, 2021 - 5:20 صبح

ماشاء الله 👏🏻

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں