اٹھ جاو بچوں، آنکھیں کھولو -ثنا شمیم

by adbimiras
0 comment

اٹھ جاؤ بچوں، آنکھیں کھولو
آنکھیں کھول کر منھ کو دھولو

دیکھو سورج بھی نکل آیا ہے
اپنی کرنیں ، پھیلانے کو

پرندوں نے بھی شور مچایا ہے
تمہاری نیندیں ، کھلوانے کو

ہر سوں سویرا ، جگمگایا ہے
سارے جگ کے کام بنانے کو

کلیوں نے لی انگڑای ہے
پھولوں نے بھی خوشبو مہکای ہے

شفاف فلق پر، یہ نیلی چادر
دیکھو تو زرا، کسنے بچھای ہے

اٹھ جاؤ بچوں آنکھیں کھولو
آنکھیں کھول کر ، منھ کو دھولو

پیڑ پہ بیٹھی ، چڑیا پیاری
صبح کے گیت ، گنگناتی ہے

تاذہ تاذہ ٹھنڈی ہوایں
صبح بخیر ، کہنا چاہتی ہے

دیکھو ساری قدرت، انداز میں اپنے
حمد خدا کی گاتی ہیں

جس نے رات کو آرام کرایا
اور صبح کو ، پھر سے جگایا

اٹھ کر تم بھی اس کی تعریف کرو نا
جس خالق نے ، تم کو بنایا

اٹھ جاؤ بچوں، آنکھیں کھولو
آنکھیں کھول کر منھ کو دھولو

You may also like

Leave a Comment