ڈاکٹر تسلیم عارف اپنے فن کے دریچے میں
(سجاد ظہیر کی شعری جہات اور پگھلا نیلم کے تناظر میں)
مبصر:نسیم اشک
غالب نے کہا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
برسوں دست دعا پر کوئی اشکوں کے نذرانے پیش کرتا ہے برسوں نگاہیں منتظر ہو کر اپنی روشنی نچھاور کرتی ہیں اور امید کے ڈالیں سوکھنے لگتی ہے تب بادل کا کوئی ٹکڑا تپتے ریگزاروں میں آکر برس جاتا ہے اور شادابی کا سماں پیدا ہوتا ہے سجاد ظہیرکی شخصیت بھی ایسی ہی تھی جو مدتوں میں پیدا ہوتی ہے۔سجاد ظہیر جن کی شہرت ترقی پسند تحریک کے بانی کی حیثیت سے مسلم ہے ایک باوقار شخصیت ،ایک قدآور رہنما، ایک نئی آواز اور اپنی ذات میں ایک انقلاب سجاد ظہیر کی شعری جہت سے یقینا اجنبیت تھی اردو ادب کا ایک وسیع حلقہ "انگارے”سے واقف ہے ہرچند”انگارے” میں جو افسانے ہیں ان کی خاطر خواہ پذیرائی نہ ہوئی اور مقبولیت نے ان کے سر پر دست شفقت نہیں رکھا ہاں پر اس مجموعے نے افسانوی دنیا میں ایک طوفان برپا کر دیا اور اس طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی سجاد ظہیر کے افسانے(نیند نہیں آتی،جنت کی بشارت، گرمیوں کی ایک رات،دلاری،پھر یہ ہنگامہ) اور ناول "لندن کی ایک رات” کے متعلق تو زیادہ یا کم باتیں منظر عام پر آئی ہیں مگر بحیثیت شاعر ان کی شاعری جو نثری نظموں کا مجموعہ” پگھلا نیلم "کے نام سے سامنے آئی اس پر قدرے لاتعلقی کا اظہار ملتا ہے قابل تعریف ہے ڈاکٹر تسلیم عارف جنہوں نے نہ صرف ان کی شعری جہتوں کو سامنے لایا بلکہ یوں کہا جائے کہ پردہ ماضی سے سجاد ظہیر کو مع گوشت پوست عہد حاضر میں لا کھڑا کر دیا اور بحیثیت شاعر ان کی تخلیق ” پگھلا نیلم ” پر مفصل معلومات فراہم کی۔ ساتھ ہی ساتھ ایک نظم ایک غزل اور ایک گیت کی بازیافت بھی کی اور ان کو اپنی کتاب” سجاد ظہیر کے شعری جہات اور پگھلا نیلم” میں اصل متن کے ساتھ شامل کرکے شائع کیا ان کی اس کام کی سراہانا ہونی چاہیے ان کی کاوش نے ادبی آنگن میں وہ دیپ روشن کیا جو طاق نسیاں ہو چکا تھا لوگ فیصلے کرتے ہیں فریاد کہاں سنتے ہیں؟ فریاد تو صرف رب سنتا ہے۔
ڈاکٹر تسلیم عارف نے” سجاد ظہیر حیات و خدمات” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے لہذا انہوں نے اپنی کتاب "سجاد ظہیر کے شعری جہات اور پگھلا نیلم” میں سجاد ظہیر کی حیات وخدمات کا بڑے دلکش انداز میں جائزہ لیا ہے اور جائزے کے درمیان انہوں نے معروف ادیبوں اور نقادوں کی آراء کو بھی پیش کیا ہے اور جو لکھا ہے وہ ٹھوک بجا کر لکھا ہے۔ انہوں نے سجاد ظہیر کے گھر کے ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے ان کی عادتیں،خصلتیں نہایت خوبصورتی سے بیان کی ہے۔ کہیں سے کچھ بھی ادھورا نہیں لگتا گویا وہ سجاد ظہیر کے متعلق رقمطراز ہوتے ہوۓ نہیں بلکہ تعارف کراتے ہوۓ نظر آتے ہیں یہ نثر نگاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔سجاد ظہیر کے اندر ایسا دل تھا جو دوسروں کے غم میں آنسو بہاتا تھا باہر مضبوط دکھائی دینے والا شخص دوسرے کے دکھ کو ایک نظر دیکھ کر ٹوٹ جاتا تھا مصنف نے انکا قلمی خاکہ نہایت خوبصورتی سے کھینچا ہے
"سجاد ظہیر ایک متمول گھرانے کے فرد تھے لیکن شان کبریائی،غرور،نخوت،جیسی بدعتیں ان کی طبیعت میں بالکل نہیں تھیں۔انہیں قدرت نے ایک ایسا مزاج بخشا تھا جو غریبوں اور مفلسوں کی حالت زار پر کانپ اٹھتا تھا ان کی شخصیت میں ایک عجیب سا جادو تھا چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ سجی رہتی ان میں اخلاص کا مادہ بہت زیادہ تھا ان کی تقریر اور گفتگو میں ایسا سحر تھا کہ ذرا سی دیر میں لوگ ان کے آس پاس جمع ہو جاتے”.
درج بالا اقتباس کس خوبصورتی اور سادگی سے ایک شخصیت کا احاطہ کرتا ہے یہ ڈاکٹر تسلیم عارف کا کمال ہےآسان اور عام فہم زبان میں بڑی بڑی بات کہہ ڈالتے ہیں تحریر میں کہیں قاری نہیں بھٹکتا اور دھیرے دھیرے وہ ان کی تحریر میں اس شخص کو جھانکتا پاتا ہے جس کا تذکرہ کیا جارہاہو۔
سجاد ظہیر بحیثیت شاعر میں انکی شاعری کا احاطہ کیا گیا ہے بلاشبہ سجاد ظہیر نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے جو وسیلہ پیدا کیا اردو ادب میں وہ ایک نئے باب کا آغاز تھا میں سمجھتا ہوں شاعری ایک آسمان ہے جس میں طیور اپنے انداز سے اڑان بھرتے ہیں مقصد اڑان ہوتا ہے اڑنے کا ڈھب نہیں۔ سجاد ظہیر کی شاعری مقصدیت کی شاعری ہے انہوں نے نثری نظموں میں اپنی کیفیت کا اظہار کیا یہ ان کا اپنا انداز اظہار تھا جس میں کسی طرح کی کوئی قباحت نہیں ہے مصنف نے "پگھلا نیلم” میں شامل ٣٨ نظموں کے علاوہ ایک نظم ایک غزل اور ایک گیت کو شامل کر کے ان کا شعری سرمایہ اکٹھا کیا ہے جس کے لیے انہیں کافی دقتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہوگا انہوں نے تمام کلام کو یکجا کر کے خوبصورت خراج دیا ہے اور آنے والے دنوں میں سجاد ظہیر پرکام کرنے والوں کے لئے راہ آسان کر دی ہے۔
بقول قمر رئیس” پگھلا نیلم "نثری نظموں کا پہلا مجموعہ ہے اور میں اسے قطعی تجربہ نہیں سمجھتا یہ ایک ذریعہ ہے خیال کےاظہار کا۔حیرت کا مقام ہےکہ جنہوں نے اس صنف پر اعتراض جتا یا انہوں نے بھی اس صنف میں اپنا کلام پیش کیا۔ اگر کوئی افسانے کو نہ پسند کرے طنز و مزاح کو حقیر سمجھے غزل کی گردن اڑا دینے کی بات کرے تو کیا ان اصناف سخن کو ادب سے خارج کر دینا چاہیے؟ کوئی بھی صنف ہو جس میں شاعر یا ادیب اپنا خیال پیش کرسکے کر سکتا ہے۔کسی بھی چیز کو پوری طرح قبولیت بھی نہیں ملتی اور نہ ہی پوری طرح رد ہی کیا جاسکتا ہے۔کیا عشق کے اظہار کا بھی کوئی مخصوص طریقہ ہوتا ہے؟ یہ عمل فطری ہے عشق کسی مخصوص رستے پر سفر نہیں کرتا یہ اپنی راہ نکالتا ہے۔جذبات کے اظہار کےلۓکبھی کبھی بنے بناۓ سانچے سے باہر نکلنا پڑتا ہے لہذا میں ذاتی طور پر ادب میں جتنے رائج اصناف ہیں سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
موصوف نے سجاد ظہیر کی شاعری کے مختلف جہتوں سے بحث کی ہے ان کی غزل اور گیت کو پیش کیا ہے اور ایک پابند نظم "پھول ” کا بھی ذکر کیا ہے جس سے سجاد ظہیر کی شاعری کے مختلف اوصاف نظر آتے ہیں غزل کا ایک شعر دیکھیں۔
انقلاب دہر کے قدموں کی آہٹ جو سنے
وہ ہے زندہ ہم اسے دیتے ہیں فرزانے کا نام
مصنف نے سجاد ظہیر کی نظموں کا انتہائی باریکی سے جائزہ لیا ہے ان کے نظموں کی شعریت کو بھی بیان کیا ہے۔ نظم” دریا” کے حوالے سے ڈاکٹر تسلیم عارف رقمطراز ہیں
"دریا”اظہار ایک مختصر سی نظم ہے لیکن معنوی اعتبار سے گہرائی و گیرائی میں کسی رواں دواں دریا سے کم نہیں ہے عنوان کے معاملے میں سجاد ظہیر پوری دیانت داری سے کام لیتے ہیں ساتھ ہی عنوان اور مواد میں مماثلت رکھنے کے فن پر پورا عبور رکھتے ہیں ”
سجاد ظہیر کی نظمیں نیا سال، دریا، ہونٹوں سے کم، پرانا باغ، تمہاری آنکھیں، محبت کی موت ،کالا پھول،کھوئی کھوئی رات کے علاوہ دیگر نظمیں غضب کی تاثیر رکھتی ہیں ان نظموں میں روانی اورنغمی کا بخوبی احساس ہوتا ہے شریعت سے پر نظمیں ذہنی آسودگی تو عطا کرتی ہیں ساتھ ہی ساتھ رگوں کو پھڑکاتی بھی ہیں ایک شاعر جو دنیا میں امن و امان کا متلاشی ہے جو غموں کی وحشت ناک رات میں دلوں کے چراغ جلانے کا حامی ہے اسکی تمام تر جذبات کی جلوہ گری ہمیں” پگھلا نیلم ” میں ملتی ہے انکا بلند لب و لہجہ اور برجستگی کمال کی ہے۔ ان کی نظموں میں اتحاد و محبت کا سبق جابجا ملتا ہے بلاشبہ اس بات کا اعتراف ہوناچاہیے کہ سجاد ظہیر کی شاعری مقصد یت کے ساتھ زندگی کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتی ہیں یادوں کے آنگن میں رومانیت کے طائر زریں بال بھی دانہ چگتے دکھائی دیتے ہیں۔کچھ سیاسی نظمیں بھی شامل ہیں مگر وہ نعروں میں گم نہیں ہوتیں۔یہ نظمیں اردو ادب کا سرمایہ ہیں اور اس ادبی سرمائے کو قاری تک دوبارہ مع اضافہ پہنچانے میں ڈاکٹر تسلیم عارف کا بہت اہم رول ہے ڈاکٹر تسلیم عارف نے سجاد ظہیر کی شخصیت اور شاعری کے تحت جو مضامین تحریر کیا ہے وہ بہت معلوماتی ہیں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو ان کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے،انکی ذاتی زندگی کے حوالے سے، ترقی پسند تحریک کے روح رواں کے حوالے سے، ایک سچا اور حساس شاعر کے حوالے سے جو قابل قدر معلومات فراہم کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ وقت کی گرد جم چکی تصویر کونہ صرف سامنے لایا ہے بلکہ اس کو اور نکھارا ہے اور اسے اس شایان شان سے ادب کی دیوار پر آویزاں کر دیا ہے کہ ہر کسی کی نگاہ اس پر کچھ دیر کے لۓ ہی صحیح مگر ٹھرتی ضرور ہے۔ یہ ادب کی بہت بڑی خدمت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر تسلیم عارف کی نثری جولانیاں اس کتاب میں جابجا ملتی ہیں بیان میں سلاست اور برجستگی بہت متاثر کرتی ہے قاری پڑھتے وقت biopic کا مزہ لیتا ہے اور دھیرے دھیرے انکی تحریروں میں کھوتا چلا جاتاہے ۔بیان کے دوران انکی بے باکی انکو ایک کھرا قلم کار کے طور پر پیش کرتی ہے۔سجاد ظہیر کی نظموں پر انہوں نے طائرانہ نظر ڈالی ہےاور انکی نظموں میں شاعری کی بیکراں روح کو ڈھونڈ نکالا ہے۔شاعری کی فنی لوازمات کو بھی پیش کیا ہے اور انکی مختلف جہتوں سے روشناس کرایا ہے۔کالج میگزین سے اپنی ادبی زندگی کی شروعات کرنے والے ڈاکٹر تسلیم عارف نے پھر دوبارہ مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا اور مسلسل اپنی نگارشات پیش کرتے رہے انکا قلم دوڑتا رہا۔سیمابی صفت ڈاکٹر تسلیم عارف کی نثر کی سب سے بڑی خوبی انکا اسلوب ہے۔نہایت سلیس زبان استعمال کرتے ہیں جو انکی تحریر کو تقویت دیتی ہے۔
ڈاکٹر تسلیم عارف کی کتاب "سجاد ظہیر کی شعری جہات اور پگھلا نیلم ” اردو اداب میں ایک بڑا کام ہے جس کی اہمیت سے انحراف ممکن نہیں۔ کسی کام میں ہمہ تن مشغول ہونا ہی تو جنون ہےجو خالی دل میں ہمت اور توانائی بھرتا ہے اور یہ جنون ڈاکٹر تسلیم عارف کی شخصیت کی خصوصیات میں شامل ہے جو انہیں پا مرد رکھتا ہے۔کتاب کا سرورق خوبصورت ہے۔پختہ جلد، کمپوزنگ،عمدہ کاغز نے اس کتاب کو جاذب نظر بنا دیا ہے جس کے لۓ صاحب کتاب تعریف کے مستحق ہیں۔رحمت تمام سے دعا گو ہوں کہ ڈاکٹر تسلیم عارف کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے۔آمین
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ ۔۔۔۔۔ماشاء اللہ۔