Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

متن : ایک معروضی مطالعہ – نثار علی بھٹی

by adbimiras اپریل 19, 2021
by adbimiras اپریل 19, 2021 2 comments

 

متن کیا ہے؟

کسی مٖصنف کی کتاب کو ترتیب دینا،کسی کتاب کو حواشی کے ساتھ نئے سرے سے شائع کرنا،ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخے کی تلاش کے بعد اسے شائع کرنا تا کہ عوام الناس  کو اس سے نفع اور فائدہ پہنچےاس عمل کو تدوین متن کہتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ متن کیا ہے۔اس کا تعین کیسے کیا جائے ۔متن اصل حقیقت ہے اسے بنیاد بنا کے تدوین کے عمل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انگریز ی میں اس کے لیے  ٹیکسٹ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے متن شاعر/مصنف/ادیب وغیرہ کے اصل الفاظ ہیں ۔اصل عبارت ہوتی ہے ۔اگر اس عبارت پر کوئی تبصرہ کیا جاتا ہےیا حواشی دیے جاتے ہیں تو وہ اضافی عبارت ہو گی متن نہیں ہو گی۔متن صرف ان الفاظ اور عبارت کو ہی کہیں گے جو مصنف کی منشا کے مطابق ہوں۔مصنف جو لکھنا چاہتا تھا۔اسٹینڈرڈ انگلش اردو ڈکشنری جو انجمن ترقی اردو  بورڈ کے تحت بابائے اردو مولوی عبدا لحق نے مرتب کااس    میں متن کے معانی کچھ اس طرح دیئے گئے ہیں

"(1)مصنف کے اصل الفاظ ،کتاب کی اصل عبارت (شرح وغیرہ سے قطع نظر کر کے)

(2) کتاب  الہی (انجیل وغیرہ) کی آیات یا آیات جو کسی وعظ یا مقالے کے موضوع یا سند کے طور پر استعمال کی جائیں

(3) متن (کتاب کا مضمون حواشی،تصاویر وغیرہ سے قطع نظر کر کے”(1)

 

"تدوین کے لیے وہ تحریر جسے کوئی ترتیب دینا چاہے” متن کہلائے گی۔(2)القاموس الوحید کے مطابق متن کے معنی  ہیں کمر،پیٹھ،دو ستونوں کے درمیان کا حصہ،کتاب کی اصل عبارت،جس پر حاشیہ چڑھایا جاتا ہے اور اس کی شرح کی جاتی ہے،کمر کو دونوں طرف سے گھیرے ہوئے پٹھے اور گوشت(3)المنجد کے مطابق متن کے معنی ہیں پیٹھ،چیز کا ظاہری حصہ،کتاب کی اصل عبارت بغیر شرح اور حاشیہ کے،دو دروں کے درمیان کا راستہ(4) "فرہنگ عامرہ کے مطابق متن کے معنی ہیں کتاب کے صفحہ کی درمیانی عبارت”(5)علمی اردو لغت کے مطابق متن کے معنی  ہیں "کتاب کی اصل عبارت،کتاب ،کپڑے یاسڑک کے بیچ کا  حصہ،درمیان(6)

گیان چند جین  اپنی کتاب تحقیق کا فن میں لکھتے ہیں

"متن اس تحریر کو کہتے ہیں جسے کوئی محقق ترتیب دینا چاہتا ہے،وہ تحلیق نظم و نثر ہو یا غیر تخلیقی مثلا کوئی تذکرہ یا انشا کی دریائے لطافت یا گلکرسٹ کا رسالہ قواعد "(7)

متن ایس عبارت جسے کو ئی تحقیق کرنے والا ترتیب دیتا ہے چاہے وہ منظوم صورت میں ہو یا نثری صورت میں ۔چاہے تخلیقی ہو یا غیر تخلیقی۔ متن ہم ایسی عبارت کو کہیں گے جو لکھی گئی ہو جس کو پڑھا جا سکے اور جس کو سمجھا جا سکے۔اسی عبارت متن کے زمرے میں شمار نہیں ہو گی جس کی قرات ہی ممکن نہ ہو اور نہ ہی اس کی تفہیم ہو سکتی ہو۔ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے مطابق "متن کسی ایسی عبارت "تحریر” یا نقوش کو کہتے ہیں،جن کی قرات یا معنوی تفہیم ممکن ہو۔” (8)ڈاکٹر محمدخان اشرف کے مطابق "متن کتاب کی اصل عبارت،کتاب کے صفحہ پر حوض کی عبارت،کسی ایسی زبان میں لکھی گئی تحریر یا دستاویز جس سے محقق یا مدون واقف ہے،جسے وہ سمجھتاہے،اور جسے وہ ترتیب دینا یا اس کی تدوین کرنا چاہتا ہے مصنف /شاعر کی اپنی اصل عبارت/تحریر”(9)

ایس ایم کا ترے کے مطابق

“By a text we understand a document written in a language known, more or less, to the inquirer, and assumed to have a meaning which has been or can be ascertained. Since a text implies a written document the knowledge of writing has to be performed the basis of our study”(10)

متن ایسی تحریر کو کہتے ہیں جو کسی زبان میں لکھی گئی ہو ،جانے والا چاہے اس زبان کو زیادہ جانتا ہے یا کم جانتا ہے اور جو عبارت یا تحریر لکھی گئی ہے اس کا مفہوم و مطلب بھی ہوتا ہے۔جب قاری اس کو پڑھے گا تو کوئی معنی اس  سے اخذ کر ے گا۔چاہے وہ اس کا حقیقی مطلب و معنی ہو یا غیر حقیقی جو اس نے سمجھ لیا ہو گا۔متن کے لیے جو اہم شرط ہے وہ یہی ہے کہ وہ تحریری شکل میں ہونا چاہیے۔اور اس کی قرات اور تفہیم بھی ممکن ہو۔

ڈاکٹر خلیق انجم کے متن کے حوالہ سے اپنی کتاب "اصول تحقیق و ترتیب متن” میں  یوں رقم طراز ہیں

” (1)متن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریر ہو۔

(2)متن ایسی تحریر ہے جو کاغذ پر مطبوعہ یا غیر مطبوعہ ،مختلف دھاتوں کے ٹکڑوں ،مٹی یا لکڑی کی بنائی ہوئی لوحوں،پتوں ،پتھروں،یا چمڑوں یا چٹانوں وغیرہ کسی بھی چیز پر ہو سکتی ہے۔

(3)متن نظم بھی ہو سکتا ہے اور نثر بھی

(4)متن ہزاروں سال قدیم بھی ہو سکتا ہے اور ہمارے عہد کے کسی مصنف کی تحریر بھی۔اس کے لیے زمانے اور وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔

(5)ہزاروں صفحوں پر پھیلی ہوئی ہو یا ایک صفحے کی مختصر سی تحریر،دونوں متن ہو سکتے ہیں۔

(6)متن کےلیے ضروری ہے کہ بامعنی ہواگر سینکڑوں کے عرصے میں نقل در نقل کی وجہ سے متن مسخ ہو گیا ہو  تو اس کے اصل الفاظ کا تعین کیا جاسکے۔

(7)جس مطبوعہ یا غیر مطبوعہ تحریر کو متنی نقاد مرتب  کرنا چاہتا ہے اسے متن کہتے ہیں۔(11)

 

وکی پیڈیا کے مطابق متن کی تعریف یوں ہے

A literary text is a piece of writing, such as a book or poem that has the purpose of telling a story or entertaining, as in a fictional novel. Its primary function as a text is usually aesthetic, but it may also contain political messages or beliefs.(12)

وکی پیڈیا فری انسائکلو پیڈیا کے مطابق متن یہ ہوتا ہے

"In literary theory, a text is any object that can be "read”, whether this object is a work of literature, a street sign, an arrangement of buildings on a city block, or styles of clothing. It is a coherent set of signs that transmits some kind of informative message.This set of signs is considered in terms of the informative message’s content, rather than in terms of its physical form or the medium in which it is represented.

Within the field of literary criticism, "text” also refers to the original information content of a particular piece of writing; that is, the "text” of a work is that primal symbolic arrangement of letters as originally composed, apart from later alterations, deterioration, commentary, translations, pretext, etc. Therefore, when literary criticism is concerned with the determination of a "text”, it is concerned with the distinguishing of the original information content from whatever has been added to or subtracted from that content as it appears in a given textual document (that is, a physical representation of text). "(13)

متن کی ان تعریفوں کی روشنی میں ہم کہ سکتے ہیں کہ متن کی پہلی خاصیت و خوبی یہ ہے کہ وہ لکھا ہوا ہو۔تحریری شکل میں ہونا چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوک گیت ہیں جو عوام میں مقبول عام ہیں۔لوگ گنگناتے بھی ہیں۔ان گیتوں کے بول کی ادائیگی سے لذت و بہجت اور سرور بھی حاصل کرتے ہیں لیکن تحریری شکل میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کو متن میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔متن کس چیز پر لکھا ہونا ضروری ہے ۔کیا صرف کاغذ پہ لکھے کو ہی متن کہا جا ئے گا۔متن کاغذ ،دھات،لکڑی،پتھر،چمڑے،چٹان،چھال یا کپڑے پر لکھی ہوئی کوئی تحریر جس کی قرات اور تفہیم ممکن ہو۔متن میں شمار کی جائے گی۔متن کے لیے کسی خاص صنف ادب کی کوئی قید نہیں ہے۔متن نثر کی شکل میں یا منظورم صورت  ہر دو طرح ہو سکتا ہے۔قدامت او ر جدت بھی متن کے متن ہونے پر اثر انداز نہیں ہوتی۔متن قدیم تحریر بھی ہو سکتا ہے اور جدید بھی۔کربل کتھا،خالق باری،سب رس،قلی قطب شاہ کا دیوان بھی متن ہو گا،مجید امجد  کا کلیات بھی متن ہی ہو گا۔طوالت اور اختصار متن کی صورت  پر اثر  انداز نہیں ہو گی۔متن طویل بھی ہو سکتا ہے اور مختصر بھی۔متن کے لیے با معنی ہونا لازم ہے۔اگر کوئی متن مسخ ہو  کے بے معنی ہو گیا ہو یا کسی پا گل کی تحریر کو متن نہیں کہا جائے گا۔متن کے لیے قابل قرات اور قابل تفہیم ہونا ضروری ہے۔

تحقیق متن کے سلسلے میں  چند ایک بنیادیں باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے

متن کی ہیئت یعنی حدود کا تعین کیا جانا چاہیے

الحاق  اور اضافہ جات کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔تصرفات بھی اسی ذیل میں آئیں گے۔

متن کے گمشدہ سلسلوں کی بازیافت کی جائے

متنی حقائق کی جستجو اور چھان بین بھی کی جانی چاہیے

انسانی ارادے بھی متن میں بعض تبدیلیوں کا باعث ہوتے ہیں۔خط اور املا کا مصنف کے زمانے اور ذہن سے بہت مضبوط رشتہ اور تعلق ہے اور اسی سے بعض تحریروں کے حوالے سے مفید کام کیا جا سکتا ہے۔تالیفی نوعیت کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔بعض متون ایک سےزیادہ زبانوں میں موجود ہوتےہیں اور بعض متون میں مختلف علوم کا بیان ملتا ہے۔ہیئتوں کا بھی فرق ہوتا ہے۔بعض الفاظ کے معانی ایک سے زیادہ جہتیں رکھتے ہیں۔بعض متن ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی توضیع اور تشریح بھی گئی ہوتی ہے۔ایسی عبارات بھی ملتی ہیں۔یہ توضیحات اور تشریحات بعض اوقات خود مصنف کی طرف سے ہوتی ہیں اور کبھی کبھی کاتب یا ناقل بھی اسے اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔استناد متن اور روا یت متن کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اسے ہم اصل متن اور اضافی متن کہ سکتے ہیں۔املائی متن کی صورت بھی غلطیوں کا احتمال ہو سکتا ہے۔سننے والا بعض دفعہ درست سنتا ہے اور لکھتا بھی ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ درست نہ سننے کی وجہ سے وہ غلط سمجھے اور اسے ہی لکھ دے۔سماعی متن کی صورت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ایسا  متن جو لوگوں میں زبانی تو موجود ہو لیکن اسے بہت بعد میں لکھا جائے اس میں بھی غلطی ہو سکتی ہے۔بعض متون کی قلمی یا مطبوعہ صورت میں صرف ایک ہی روایت دستیاب ہوتی ہےبعض کے متعدد قلمی نسخے ملتےہیں۔بعض متون کے قلمی نسخے مختلف رسم الخط میں بھی ملتے ہیں۔

ڈاکٹر خلیق انجم لکھتے ہیں

” متن کی مختلف جہتوں اور نوعی صورتوں کا استحصاءمشکل ہے ہر متن ایک مستقل وجو د رکھتا ہے اور اپنی مختلف روایتوں کی شکل میں اپنے ایک سے زیادہ ذیلی و ظلی وجود رکھتا ہے۔اس طلسم خانے میں اتر کر متون کی صحیح ہیئت  اور حدود و روایت کا تعین ایک نہایت اہم مشکل مگر نتیجہ خیز کام ہے جس کے لیے غیر معمولی سطح پر ذہنی کاوش اور اہتمام تلاش جزئیات ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر حقیقت تک رسائی ممکن نہیں ہے۔”(14)

مصادر،سند اور متنی تبدیلیوں کی بنیاد پر متن کی مختلف اقسام ہیں۔مصادر کے اعتبار سے صرف قلمی نسخہ،مطبوعہ اور قلمی نسخہ دونوں،وحید نسخہ،متعدد نسخے  کی تقسیم کی جاتی ہے۔

سند کے اعتبار سے اساسی متن اور استشہادی متن کی تقسیم کی جاتی ہے۔دستخطی نسخہ جو مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہو اسے اساسی متن تصور کرتے ہیں۔اور دوسرے تمام قلمی نسخے جنہیں مستند قرار دیا گیا ہو انہیں استشہادی متن کے ذیل میں رکھیں گے۔متنی تبدیلیوں کے اعتبار سے ترمیم،تعبیر،تنسیخ،تصحیح،تصحیف ،غلط انتساب،ادبی دیانت کی تقسیم کی گئی ہے۔نا معلوم اسباب کے تحت ہونے والی تبدیلیاں ترمیم،مبہم الٖفاظ کی وضاحت کے لیے بڑھائی گئی عبارت تعبیر،جان بوجھ کر متن یا اجزائے متن کو منسوخ کرنا تنسیخ،صاحب متن کی خواہش کے مطابق متن میں لائی گئی تبدیلی تصحیح،صاحب متن کے علاوہ اگر کسی دوسرے نے دانستہ کوئی تبدیلی کی ہو تو وہ تصحیف ہو گی۔                           غلط انتساب کبھی خواہش اور ارادے کے تحت ہوتا ہے  اور کبھی کاتب اور نقل در نقل کے نتیجہ میں ایسا ہو جاتا ہے۔کبھی کتابو ں یا مصنفین کے ناموں کی مشابہت کی وجہ سے بھی یہ ممکن ہے۔

ادبی دیانت متن کو ترتیب دینے کے لیے اہم ہے۔لیکن آج ک معاشرے میں یہ کم ہوتی جا رہی  ہے۔جس کی وجہ سے بھی متن   میں تبدیلی ممکن ہے۔

متن کو ترتیب دینے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے

1.مدون کو خطی نسخوں کی قدامت کے تعین کے لیے مختلف ادوار کے طرز املا اور تاریخ خط کا علم ہونا ضروری ہے۔

2.کاغذ اور سیاہی کا علم اس بات کےتعین میں معاون ہو گا کہ خطی نسخۃ کتنا پرانا ہے اور سیاہی کس دور کی ہے۔

3.محقق کو مختلف ادوار کے اسالیب سے آشنا ہونا ضروری ہے۔خطی نسخے کے متن کا اسلوب اس کا زمانہ تصنیف متعین کرنے میں معاون ہو گا۔

4.مدون کو مختلف ادوار کی زبان اور ہر دور کے وہ الفاظ جو اس سے پہلے دور میں موجود تھے یا بعد میں متروک ہو گئے کا علم ہونا چاہیے تا کہ کسی تحریر کو کسی دور یا اس دور کے مصنف سے منسوب کرنے کی اہلیت حاصل ہو سکے۔

5.مدون کو ادبی تاریخ کا پورا علم ہونا چاہیے۔تاریخ میں موجود تحریکات و رجحانات کا علم ہونا چاہیے۔

6.سیاسی  اور سماجی تاریخ کا علم متن کے عہد کا تعین کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔

7.مصنف کے حالات زندگی سے واقفیت ہونا چاہیے۔

8.جب سے پریس رائج ہوا ہے اس دور کے شعرا کا کلام مرتب کرتے ہوئے اخبارات و رسائل کا مطالعہ بھی ضروری ہے

متن کو چوں کہ منشائے مصنف کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے اس لیے ان مشکلات کا ذکر بھی ضروری ہے جو ایک مدون کو متن کو ترتیب دیتے یا تصحیح کرتے پیش آتی ہیں۔

1۔مدون کو مطبوعہ اور غیر مطبوعہ ہر دو نسخہ جات تک رسائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔تا کہ اصل عبارت تک پہنا جا سکے۔

2۔مختلف نسخہ جات کی فراہمی کے بعد نسخہ جات میں اختلاف کو مدنظر رکھتے ہوئے اساسی نسخہ کا تعین کیا جاتا ہے

3۔متن کے دیگر ماخذات تک پہنچنا ہوتا ہے تا کہ متن کی حقیقت تک رسائی حاصل ہو

4۔جس مصنف کی کتاب کے متن کو ترتیب دیا جا رہا ہے اس کی اگر اور بھی تحریریں ہوں تو ان تک رسائی ،تا کہ مصنف کے اسلوب اور طرز املا تک درست رسائی ممکن بنائی جا سکے

5۔متن کے متعلق مواد کی فراہمی کے بعد تدوین کے اصولوں کی روشنی میں اس کو ترتیب دینا ہے

6۔متن کو ترتیب دیتے وقت جس زبان کا متن ہے اس سے کلی واقفیت ہونا چاہیے تا کہ مصنف کے املا وغیرہ سے واقفیت حاصل کی جا سکے

7۔متن کو ترتیب دیتے وقت حواشی لگانا پڑتے ہیں،عبارت پر تبصرہ کرنا پڑتا ہے۔بات کی تفہیم کے لیے اس کی وضاحت کرنی پڑتی ہے،متن کے مرتب کو حواشی،تعلیقات اور فرہنگ کے اصولوں سے آگاہی ہونا چاہیے۔

8۔متن کی ترتیب و تصحیح کے  بعد مقدمہ لکھا جاتا ہے،جس  میں کتاب کے حوالہ سے بنیادی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔مرتب اپنے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے،کتاب کو ترتیب  و تصحیح کے وقت جن اصولوں کو پیش نظر رکھا  گیا ،اس سے قاری کو آگہی فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔مقدمہ کیسے لکھا جاتا ہے،اس کے طریق اور اسلوب سے کلی واقفیت ضروری ہے۔

اگر شعری متن کی ترتیب و تصحیح کا کام کیا گیا ہے تو اس کی مشکلات الگ سے ہوں گی۔

مدون کو علم عروض پر بھی عبور ہونا چاہیے۔اگر مدون کو علم عروض سے آگہی ہے تو متن میں سے مشکوک کلام کی پہچان کرنا اس کے لیے بہت آسان ہو گا۔یہ علم اس کی رہنمائی کر ے گا۔

مدون کو شاعر کے عہد کی زبان پر بھی عبور ہونا چاہیے۔زبان سے واقفیت بھی مشکوک متن کے اخراج میں معاونت کرے گی۔صرف وہی کلام مدون مرتب کرے گا جس کی حقیقت سے وہ واقف ہو گا۔مشکوک کو چھانٹ کر الگ کر دے گا اور حواشی میں اس کے اخراج کے وضاحت بھی کر دے گا تا کہ مزید محققین بھی اس کو جانچ پرکھ لیں

مدون کو ان تما ماخذات کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے جن سے شاعر کا کسی نہ کسی طرح تعلق رہا ہو۔جتنا زیادہ ماخذات تک رسائی ہو گی اسی قدر کلام کے ترتیب میں آسانی ہو گی۔شعرا کا کلام مختلف بیاضوں،اخبارات ،رسائل میں بکھر ا ہوتا مل جاتا ہے۔ماخذات تک رسائی اگرچہ دقت طلب کام ہے،لیکن جو حوصلہ رکھے اور محنت کرے وہ مناسب متن کو مدون کر کے پیش کر کے اپنی لیے داد بھی سمیٹے گا۔اور حقیقت تک رسائی کے باعث اس کے کام کو وقیع تصور کیا جائے گا۔

متن ایسی عبارت ہے جو تحریری صورت میں ہو تا ہے۔کسی زبان میں لکھا گیا ہوتا ہے۔متن پتھر،چٹانوں،پتوں،کاغذوں،اینٹوں،چمڑے پر لکھا ہو ا ہو سکتاہے۔متن کی قرات اور تفہیم ممکن ہوتی ہے۔ایسی عبارت جو نہ پڑھی جا سکے یا نہ سمجھی جا سکے اس کو متن میں شمار نہیں کیا جا ئے گا۔متن نہایت وقیع ہو تا ہے۔متن کی بنیاد پر تحقیق و تنقید کا عمل  آگے بڑھتا ہے۔ادب آگے بڑھتا ہے۔سوچ و فکر  اور خیال  جمود کا شکار نہیں ہوتا ۔درست بات تک رسائی کی بدولت انسان پہلے سے معلوم حقائق سے آگے کی بات کرتا ہے۔

"تاریخی تحقیق میں سب سے زیادہ اہمیت متن کی ہوتی ہے۔ماضی کے افراد  کے افکار و خیالات جو ہمارے سامنے آتے ہیں ،وہ تحریری شکل میں ہوتے ہیں اور جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ تحریر ہر طرح کے سقم سے پاک ہے ،اس وقت تک ہم یہ نہیں کہ سکتے کی جو کچھ ہمارے سامنے ہے وہ بعینہ فلاں شخص کے افکار و خیالات ہیں اور جب تک کسی کے متعلق متحقق نہ ہو جائے کی یہ اس کے خیالات ہیں ،اس وقت تک دیانتداری سے گفتگو کا آغاز ہی نہیں ہو نہیں ہو سکتا۔”            (15)

حوالہ جات

 

1۔      صفدر علی،پروفیسر،اصول تحقیق و تدون،لاہور،فاروق سنز،،ص 227

2۔        گیان چند جین،ڈاکٹر،تحقیق کا فن،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،طبع سوم 2003،ص568

3۔      مولانا وحید الدین قاسمی کیرانوی،القاموس الوحید،لاہور،کراچی،ادارہ اسلامیات،2001،ص 558

4۔      المنجد،کراچی،دارالاشاعت،1975،ص 325

5۔      محمد عبداللہ خویشگی،فرہنگ عامرہ،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،1989،ص 145

6۔      وارث سر ہندی،علمی اردو لغت (متوسط) ،لاہور،علمی کتاب خانہ،ص309

7۔      گیان چند جین،ڈاکٹر،تحقیق کا فن،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،طبع سوم 2003،ص 397

8۔      تنویر احمد علوی،ڈاکٹر،اصول تحقیق و ترتیب متن،لاہور،سنگت پبلشرز،2003،ص 22

9۔       محمد خان اشرف،ڈاکٹر،اصطلاحات۔تدوین متین،لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز،2017،ص 143

10۔    عظمت رباب،ڈاکٹر،اردو تدوین متن کی روایت،لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز،2017،ص 20

11۔    خلیق انجم،ڈاکٹر،متنی تنقید،کراچی،انجمن ترقی اردو پاکستان،2006،ص20،21

12۔    https://en.wikipedia.org/wiki/Text_types

13۔    https://en.wikipedia.org/wiki/Text_(literary_theory

14۔    خلیق انجم،ڈاکٹر،متنی تنقید،کراچی،انجمن ترقی اردو پاکستان،2006،ص

15۔    سلطانہ بخش،ڈاکٹر،اردو میں اصول تحقیق جلد اول،لاہور،مغربی پاکستان اردو اکیڈمی،2017،ص305

 

نثار علی بھٹی

ایس ایس ای  (اردو)

گورنمنٹ ہائی سکول کوہلیاں(سرگودھا)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

نثار علی بھٹی
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے – سمانی سمیّہ عبدالحی
اگلی پوسٹ
یادوں کے چراغ :مولانا مفتی اعجاز ارشد قاسمی  ہم تجھے بھلا نہ پائیں گے – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

2 comments

فیاض خان اپریل 20, 2021 - 2:24 شام

نثار صاحب عمدہ کاوش ہے💝

Reply
متن، معنی اور نقد  بنیادی مسائل و مباحث - ڈاکٹر شاکر علی صدیقی - Adbi Miras اپریل 25, 2021 - 9:49 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں