*دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے امتحان داخلہ کے لئے آئے ہوئے مہمان طلباء کے لیے دل اور جیب کا دسترخوان پھیلادیجئے یہ آپ کے رحمت برکت سعادت اور اخروی نعمتوں کے حصول کا بہترین راستہ ہے*
*دیوبند پہونچنے والے یہ طلباء کوئی عام لوگ نہیں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رمضان المبارک اور عید جیسی خوشیوں کو قربان کرکے والدین اور رشتہ داروں کی محبتوں کو چھوڑ کر خدا و رسول کی معرفت اور علم دین میں اعلیٰ مقام پانے کے لئے دیوبند پہونچے ہوئے ہیں ساری دنیا نے عید کی خوشیاں منالی ہے مگر ان بے کسوں کی اصلی عید اس وقت ہوگی جب دارالعلوم کے بورڈ پر ان کا نام داخل شدہ طلبہ کی لسٹ میں آویزاں کیا جائے گا*
*دیوبند میں داخلے کے خواہشمند طلباء اس لیے بھی بہت اہم ہیں وہ داخلہ تک خدا سے بہت قریب ہوتے ہیں اس لیے کہ داخلہ کی خواہش انھیں شعبان سے عید تک اور عید سے داخلہ تک کوئی لمحہ بغیر دعا اور گریہ و زاری کے نہیں گزرنے نہیں دیتی ان کے دل ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انہیں اسی وقت قرار آتا ہے جب دارالعلوم انھیں اپنے دامن میں پناہ دے دیتا ہے*
*قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں مسکینوں مسافروں یتیموں محتاجوں کو کھانا کھلانے کی بے شمار فضیلت آئی ہے ان طلباء کی اکثریت انھیں لوگوں کی ہوتی ہے اور مسافر تو ہر طالب علم ہوتا ہے ایسی صورت میں ان طلباء کے لیے کھانے کا انتظام کتنا اہم ہے وہ سمجھا جاسکتا ہے*
*جمعیۃ علماء ہند دنیا جہان کا پیسہ یہاں وہاں خرچ کرتی ہے دونوں جمعیۃ کے صدور دیوبند میں ہی رہتے ہیں روز ان کے آنکھوں کے سامنے طلباء کا ہجوم گزرتا ہوگا مگر کبھی ان مہمانانِ رسول کی ضیافت کا بھی خیال آتا ہے؟ ان کے کسی سہولت کا دھیان آتا ہے؟ یقیناً جمعیۃ بڑے بڑے کام کرتی ہے مگر کبھی یہ اچھا کام بھی کیا؟ عید ملن کے نام سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاسکتے ہیں تو ان مہمان طلباء کی راحت کے لیے ضیافت کا انتظام کیوں نہیں کیا جاسکتا ؟ یہ کوئی تنقید نہیں ہے صرف توجہ دلانا مقصود ہے یقیناً جمعیۃ یہ کام کرے گی مگر شاید اس طرف دھیان نہیں گیا ہوگا مگر اب تو کرسکتی ہے*
*ایک بات دیوبند کے لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ آپ کے پاس پہونچے ہوئے یہ مہمان طلباء عام طور پر کسی مالدار اور پیسے والوں کے بچے نہیں ہوتے بلکہ دین کا عشق دل میں سجائے یہ وہ طلبہ ہوتے ہیں جو پورے ملک سے چُن کر چھَن کر اورچھٹ کر دیوبند پہونچتے ہیں جن کے والدین اپنی غربت اور افلاس کے باوجود اپنے بچوں کو دین کے نام پر وقف کر کے قرآن و حدیث کا محافظ بناتے ہیں اور ان طلباء کو یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ ان دینی علوم سے کوئی دنیاوی مستقبل نہیں سنوار رہے ہیں انھیں کوئی نوکری نہیں ملنے والی انھیں کوئی تعلیمی اسکالر شپ کے نام سے ایک دانہ بھی نہیں دینے والا مگر وہ یہ سب صرف دین کی تفقہ سمجھ اور حفاطت و اشاعت دین کے جذبے سے کرتے ہیں جو ان شاء اللہ آخرت کی لازوال نعمتوں کا باعث بنیں گے مگر ہم کیا کرسکتے ہیں ان کے لیے ضیافت اور مکمل خدمت نہ سہی ان کے لیے کم از کم معمولی قیمت پر سامان تو دے سکتے ہیں تھوڑے فائدے لے کر ان کو کھانا تو کھلا سکتے ہیں کل ایک طالب علم کی بات نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہ کہہ رہا تھا کہ داخلہ کے لئے آیا ہوں تیاری کی وجہ سے پکانے کا وقت نہیں ملتا ہوٹل میں کھالیتا ہوں مگر اتنا مہنگا کھانا ہے کہ اپنے بس سے باہر ہے تین وقت کا معمولی کھانا تین سے چار سو روپے تک ہوتا ہے عام طلباء یہ خرچ کہاں سے برداشت کرسکیں گے ابھی سنا ہے دیوبند کے ہوٹلوں میں کھانا مہنگا بھی کردیا گیا ہے یہ ٹھیک بات نہیں ہے مہمانوں کے ساتھ یہ ایک قسم کی زیادتی ہے یہ کوئی ٹورسٹ لوگ نہیں ہیں یہ ساری دنیا سے الگ آخرت تلاش کرنے والے لوگ ہیں انھیں فری نہیں تو کم قیمت میں سامان دینا چاہیے*
*دیوبند کے لوگ تو وہ ہیں کہ جب جب دارالعلوم کے طلباء پر کوئی تکلیف آئی ہے تو اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے اپنا پیٹ کاٹ کر طلبا کو کھلایا ہے مگر اب یہ الٹا کیوں ہورہا ہے یاد رکھیں کہ خدا نے ان طلباء کے جیبوں میں آپ کی روزی لکھ دی ہے سال بھر ان سے آپ کی دکانیں آباد رہتی ہیں داخلہ کے وقت اگر رعایت ہوجائے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا ان شاء اللہ بلکہ سال بھر برکت کا ذریعہ ہوسکتا ہے آخرت کا فائدہ اٹھالیں یہ مہمان بڑے قیمتی ہیں پوری دنیا میں ایسے مہمان نہیں ملیں گے جن کے پاؤں کے نیچے فرشتے پر بچھاتے ہیں اور جن کےلئے سمندر کے جانور سے لے کر جنگل کے جانور تک دعائیں کرتے ہیں*
محمد سالم انظر قاسمی
مقیم : چنگیری کرناٹک
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

