رنگوں کی کٹوریاں، روپا کے قریب ہی رکھی ہو ئی تھیں۔ سورج کی نرم نرم کرنیں، انہیں کٹوریوں کو چوم رہی تھیں۔…
افسانہ
-
-
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے تالاب کے کنارے پیپل…
-
جب تیسری بار میری نظر ان کے ہاتھوں پر پڑی جن میں ایک بھی انگلیاں نہیں تھیں، تو وہ مسکرائے، اور بولے: …
-
تیزگام ایمبولینس کی رفتارکچھ اور تیز ہوگئی تھی،اس کے تمام سائرن اس طرح بج اٹھے تھے جیسے وہ سرحد پر لڑنے والے…
-
مٹھ میں آج بھی مقدس بزرگوں کا مجمع لگاتھا،کوئی سفید براق جبہ سنبھالے آیا تو کوئی تسبیح کے دانے سہلاتا ہوا میٹنگ…
-
پنک سوٹ میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ساتھ میچنگ جیولری نے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دئیے تھے۔اس…
-
جہیز کی لعنت پر بولتے بولتے اس کا حلق خشک ہو گیا اور جسم پسینے میں شرابور۔ اپنی تقریر ختم کرکے وہ…
-
ایرکنڈیشنڈ آفس میں ایزی چیئر پربھی مسٹرچوپڑا دباؤ اور تناؤ لیے بیٹھے تھے۔وہ ایک نئی قسم کے بواسیر میں مبتلاتھے۔مسّے ان کے…
-
چند محاوروں اور فلموں کی بدولت قصائی کا لفظ ہمارے ذہنوں میں شقی القلبی اور سفاکی کا تصور اجاگر کرتا ہے۔تاہم میرا…
-
یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند…

