دسمبر ۲۰۱۲ نئی دہلی جہاں ایک معصوم دوشیزہ 23 سالہ دامنی نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داعی اجل کو لبیک کہا اور ہم سے سدا کے لیے دور موت کی آغوش میں چلی گئی۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ صرف ہندوستان ہی نہیں پڑوسی ممالک میں بھی زبردست احتجاج کیا گیا۔ مشرق سے مغرب ( آسام سے راجستھان تک) اور شمال سے جنوب ( کشمیر سے کنیا کماری تک) اس کا چرچا ہے۔ اس درد ناک موت پر تقریباً سبھی ہندوستانی خواتین کی آنکھیں نمدیدہ ہیں۔ اہل وطن نے اشکبارآنکھوں سے دامنی کو الوداع کہا، وہ شرمناک واقعہ جو ہندوستانی کی راجدھانی دہلی میں ہوا اس کی ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں کی جانب سے پر زور مذمت کی گئی۔ شدید عوامی احتجاج میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ جس نے پارلیمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہلی جو ہندوستان کا دارالحکومت ہے۔ اس کے تعلق سے شاعر نے کہا تھا :
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو !
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عال میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
وہ شہر جس کا شمار دنیا کے بہترین شہروں میں کیا جاتا رہا ہے۔ جہاں ہرروز غیر ممالک سے مختلف مقاصد کے تحت لوگ دورہ کرتے ہیں۔ وہاں ہرروز کرپشن بڑھ رہی ہے۔ چوری، رشوت خوری، ڈاکہ زنی آئے دن کا معمول بن چکا ہے۔ کچھ برسوں قبل نوئیڈامیں بچوں کی چوری اور قتل کی خبر اخبارات کی شبہ سرخیوں میں تھی۔ جب ہندوستان 1947ئ کو آزاد ہوا۔ تو اسی شہر دلی کے لال قلعے کی فصیل پر ترنگا لہرانے لگا۔ یونین جیک اتارلیا گیا اور آزادی ملی۔ جن کے دلوں میں برسوں سے یہ جذبات امڈ رہے تھے۔
وہ وقت آنے کو ہے آزاد جب ہندوستان ہوگا
مبارکباد اس کو دے رہا سارا جہاں ہوگا
علم لہرا رہا ہوگا ہماری رائے سینا پر
اور اونچا سب نشانوں سے ہمارا یہ نشاں ہوگا
15؍ اگست 1947 ئ کو ہندوستان آزاد ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسے روشن خیال لیڈر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں سیکولرزم اور جمہوریت کی بنیاد پر 26؍ جنوری 1950 ئ کو ہندوستانی دستور اساسی کا نیا قانون نافذہوا۔ آج آزاد ہندوستان میں دامنی کی موت نے سارے قوم کے ضمیرکو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ المناک واقعہ جمہوریت کے ماتھے پر کلنک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حالیہ واقعے سے عام لوگ سہمے ہوئے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دی جائے جب ہی معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ وہاں دوسری جانب بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ کہتے ہیں :”Proper environment & proper guidance are needed to arouse the talent”
لیکن Talent ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے Talent کو بروئے کار نہیں لا سکتی ہیں۔ آج ہندوستان میں ایسے میڈیکل اور انجینئرنگ کالج کی ضرورت ہے جو صرف خواتین کے لیے مخصوص ہو۔ جہاں کی فیکلٹی خواتین پر مشتمل ہو۔ اور بلا تفریق مذہب و ملت لڑکیاںMedical education(طبی تعلیم) حاصل کر سکیں اور قوم و ملت کے کام آسکیں۔ حالیہ سروے رپورٹ سے عیاں ہے کہ ہندوستان میں ڈاکٹر کی کمی ہے۔ یہاں خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ خواہ وہ Gynaecology, Medicine یا Surgery ہو ہر میڈیکل شعبے میں خواتین ڈاکٹرس کی نمائندگی ضروری ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظریہ امر قابل غور ہے کہ آنے والی نئی نسل کے لیے میڈیکل اور انجینئرنگ کالج برائے خواتین کا قیام عصر حاضر کی پکار ہے۔ اگر باریک بینی اور حقیقت پسندی سے غور کریں تو صاف شیشے کی طرح ہر پہلو سے عیاں ہے کہ موجودہ تعلیمی معیار میں اضافہ کرتے ہوئے بہت حد تک طالبات کے اخلاقی قدروں کو استوار کرنا ہے۔ ڈاکٹر ، انجینئر، پروفیسر کے ساتھ ایک شریف، مخلص، بااخلاق اور درد مند انسان بنانے کے لیے کلیدی رول ادا کرنا ملت اور معاشرے کے لیے لمحۂ فکر ہے۔ اور نئی نسل میں شعوری فکر بیدار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے اخلاق اطوار اور آداب کی آبیاری کرنا چاہیے۔
ہندوستان کی کثیر آبادی صحت سے متعلق پریشانیوں سے دو چار ہیں ۔ وزیر صحت انومنی رام دوس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 7لاکھ ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ ویہی علاقون میں ڈاکٹرس کی بہت کمی ہے۔ یہ تمام حالات زبان حال سے پکار رہے ہیں کہ ہندوستان میں میڈیکل اور انجینئر کالج برائے خواتین کا قیام اشد ضروری ہے۔
بلاامتیاز مذہب و ملت ہماری بچیاں قوم کی خدمت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم ( میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم) حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن مخلوط تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور بچیوں کی صلاحیتوں کو پنپنے سے پہلے ہی ہم اس کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ علم و فن کا گہوارہ شہر نشاط میں اہل خیر حضرات کی کمی نہیں۔ اگر مخیر حضرات کا مالی تعاون ہو تو شاید بہت جلد میڈیکل اور انجینئر نگ کالج برائے خواتین کا قیام ممکن ہے۔ ہندوستان کا شمارعظیم جمہوری ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اور صوبہ بنگال وہ ریاست ہے جہاں سے اٹھنے والا ہر ذرہ نیر اعظم ہوتا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ عزت مآب ممتا بنرجی خواتین کے مسائل بخوبی سمجھتی ہیں۔ہمیں ان پر فخر ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی کی شخصیت عظیم شخصیت ہے۔ وہ ایکتا اور اکھنڈتا کی علمبردار ہیں۔ انشائ اﷲ ہم اگر مل کر کوشش کریں تو مسئلے کا حل ممکن ہے۔ اس ضمن میں سیاست دانوں ، سماجی قائدین اور دانشوروں کو یکساں طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انشائ اﷲ بہت جلد اس کاحل ممکن ہے۔
اگر کوشش کرے گا تو خدا اس کا ثمر دے گا
تیرا دامن وہی امید کے پھولوں سے بھر دے گا
مختلف مذہب، زبان، تہذیب کے ہوتے ہوئے بھی ہندوستان میں کثرت میں وحدت ہے۔ ہمارے دیش ہندوستان میں جمہوریت کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوا۔ اور پڑوسی ملک کی طرح وطن عزیز پر آمریت کا سایہ دیکھائی نہیں پڑا۔ ہندوستانی جمہوریت کی شان ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب کو اور اپنی ثقافت کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ خواتین اور اطفال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ورنہ مغربی تہذیب، عریانیت ، فحاشیت ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گی۔
تمہاری تہذیب خود اپنے ہاتھوں آپ ہی خود کشی کرے گی
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
خدائے پاک رب العزت ہمیں نیک کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔ ہمیں دل درد مند اور حساس ذہنیت عطا کرے تا کہ ملت کے تئیں ہم اپنے فرائض پورے کریں۔
Mobile + Whatsapp : 9088470916
E-mail : muzaffarnaznin93@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

