گوپی چند نارنگ کی تنقید تحقیق پر مبنی ہے ۔ ان کی یک موضوعی کتابوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہر کتاب ایک الگ thesis کو ثابت کرتی ہے اور اردو کی گنگا جمنی تہذیبی جڑوں کا اثبات کرتی ہے ۔ (پروفیسر انیس اشفاق )
پروفیسر گوپی چند نارنگ ایک ہشت پہلو اور مختلف الجہات شخصیت ہیں جس نے ہمارے ادب کو ثروت مند کیا ، غنی کیا ،مالامال کیا اور مختلف میدانوں میں مالامال کیا ۔ وہ ادیب بھی ہیں ، مقرر بھی ہیں ، مفکر بھی ہیں ،محقق بھی ہیں اور منتظم بھی ۔ اُن کا سا منتظم ہم نے آج تک نہیں دیکھا ۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی( لکھنٔو )کے اُن سیمیناروں کی شکل سازی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے جن سیمیناروں نے بین الاقوامی حیثیت اختیار کی ۔ لکھنٔو دو شخصیتوں کی وجہ سے ادبی اُفق پر نمودار ہوا ۔ ایک شخصیت پروفیسر نارنگ ہیں اور دوسری شخصیت اطہر نبی صاحب ہیں۔ نارنگ صاحب کی اتنی جہتیں ہیں ، اتنے پہلو ہیں کہ انھیںایک ہشت پہلو شخصیت کہا جا سکتا ہے ۔ میں اپنی گفتگو اُن کی سبقتوں اور فضیلتوں سے شروع کروں گا کہ اُن کے معاصرین میں انھیں کیا کیا سبقتیں اور فضیلتیں حاصل ہیں ۔ پہلی سبقت اور فضیلت اُن کو یہ حاصل ہے کہ وہ اردو کے پہلے ایسے نقاد ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ معنی خیز ،یک موضوعی کتابیں تصنیف کیں ، اُن کی کتابوں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ اردو کے ایسے واحد شخص ہیں جنھیں سب سے زیادہ انعامات و اعزازات سے نوازا گیا ۔ اُن کی تحریروں میں ، اُن کے معاصرین میں، سب سے زیادہ تنوع ہے ۔ جب میں تنوع کی بات کہتا ہوں تو میری مرادیہ ہے کہ انھوںنے مختلف میدانوں میں ، مختلف اصناف پر ، شعری اصناف، نثری اصناف ہر میدان میں نارنگ صاحب نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں ۔ وہ واحداسکالر نقاد ہیں جن کی کتابوں کے سب سے زیادہ انگریزی ،ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں اور اِسی کے ساتھ اُن کو یہ سبقت اور فضیلت بھی حاصل ہے کہ اُن کی کتابوں کے سب زیادہ ایڈیشنز شائع ہوئے ہیں ۔ اُن کی ایک رجحان ساز کتاب ’ ساختیات ، پس ساختیات اور مشرقی شعریات ‘ کے بارے میں جان کر آپ کو حیرانی ہوگی کہ وہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے اور اب تک اُس کے چودہ ترجمے اور بیسیوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں اور جب بھی شائع ہوتے ہیں ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں۔ اِس سے آپ کو اُن کی مقبولیت کا اندازہ ہوگا کہ وہ کتابیں ہمارے ادب کے لئے کتنی اہم ہیں کہ وہ بازار میں آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ وہ ایک ایسے مفکر نقاد ہیں جن پر سب سے زیادہ کتابیں اور سب سے زیادہ مضامین لکھے گئے ۔ وہ ایک ایسے واحد ادیب ہیں کہ جو اردو کے بڑے اور انتہائی اہم قومی اداروں سے نہ صرف وابستہ رہے ،بلکہ اُن کی سربراہی بھی کی ۔ ہندوستان کے معزز ترین ادارے ’ ساہتیہ اکادمی ‘ کے پریزیڈنٹ بھی رہے ۔ ایک طرف انھوںنے رجحان ساز،یک موضوعی مبسوط کتابیں لکھیں اور دوسری طرف اُ ن کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ انھوں نے رجحان ساز سیمیناروں کا انعقاد کیا جن سے ادب میں ایک نیا رجحان پیدا ہوا ۔ یہ ایک بڑی فضیلت ہے ۔ ۱۹۸۳ میں جب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں موجود تھے تو انھوں نے میر سیمینار کرایا۔اُس سے پہلے میرکو اِس طرح سے دریافت نہیں کیا گیا تھا ۔ فکشن بھی نارنگ صاحب کا محبوب موضوع ہے ۔ فکشن پر انھوں نے دو تاریخ ساز سیمیناروں کا انعقاد کیا ۔ ایک ایسا سیمینار تھا جس میں اُس زمانے کے تمام بزرگ افسانہ نگار شریک ہوئے جن میں راجندر سنگھ بیدی ، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر وغیرہ نمایاں نام ہیں ۔ اِس کے بعد انھوں نے ۱۹۸۵ میں ایسا غیر معمولی سیمینار اور ورکشاپ کیا جس سے نئے لکھنے والوں کو حوصلہ ملا اور انھیں افسانہ میں ایک نئی سمت کا احسا س ہوا اور اِس کا احساس نارنگ صاحب نے دلایا ۔ یہ دہلی میں پانچ روزہ ورکشاپ تھا اور نارنگ صاحب دہلی اردو اکادمی کے صدر تھے ۔ اِس سیمینار نے نئے لکھنے والوں میں ایک حوصلہ پیدا کیا۔ اِس میں سید محمد اشرف کی کہانی ’ ڈار سے بچھڑے ‘ بہت مقبول ہوئی تھی ۔ نارنگ صاحب کے ذہن کی اُپج یہ بھی تھی کہ ہر افسانہ پڑھا جاتا تھا اور اُس افسانہ کا تجزیہ بھی پیش کیا جاتا تھا ۔ پورے ہندوستان سے انھوں نے ہر نئے لکھنے والے کو اِس سیمینار میں مدعو کیا اور پوری طرح سے اُس کو موقع دیا کہ وہ آئے اور اپنے خیالات کا اظہار کرے ۔
نارنگ صاحب نے جو کام لسانیات میں کیا ، قواعد اور اردو املامیں کیا وہ بھی بے مثال ہے۔مزید یہ کہ انھوں نے نسائی ادب میں ’انیس شناسی‘ اور ’سانحۂ کربلا بطور شعری استعارہ‘ جیسی فکری بنیادی کتابیں لکھیں ۔’امیر خسرو کی ہندوی شاعری کا قلمی نسخہ ’نسخۂ برلن‘ دریافت کیا اور اسے پورے تحقیقی مباحث کے ساتھ پیش کیا۔’سانحہ ٔ کربلا بطور شعری استعارہ ‘میں نئی شاعری کے ایک نئے رجحان کو ثابت کیا اور نوجوان شعرائ کا معنی خیز تعارف کرایا۔ افسانویات اور غالبیات تو اُن کا غیر معمولی کارنامہ ہیں ۔ یہاں میں اُن کی تین کتابوں کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور پوری اردو شاعری کو سمجھنے میں ایک Turning Pointہیں ۔ ان میں سے پہلی کتاب ہے ’ ہندوستانی قصو ں سے ماخوذ اردو مثنویاں ‘ ، دوسرا کام ’ اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب ‘ ہے اور تیسری کتاب ہے ’ہندوستان کی تحریکِ آزادی اور اردو شاعری ‘ ۔ یہ تینوں کتابیں جو سہ پارہ ہے، جس نے ہماری ہندوستانی شاعری کو سمجھنے میں ایک بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مثنوی کو سمجھنے میں ، غزل کو سمجھنے میں اور ہمارے پورے ہندوستانی تہذیبی پس منظر کو سمجھنے میں ۔ یہ بات ہم بھی سمجھنے لگے تھے کہ جب جدیدیت آئی تو اردو ادب میں کوئی رجحان مقدم اور مستحکم نہ ہو سکا اور جدیدیت کا غلبہ کچھ مدت تک رہا۔ ترقی پسندی کے چلے جانے کے بہت سے وجوہ تھے ، لیکن ہمارے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ جدیدیت شاید ہمارے ادبی اُفق سے آسانی سے غائب نہیں ہوگی ۔ نارنگ صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوںنے ایک بہت ہی اہم کتاب ، بڑی خیال افروز کتاب تصنیف کی، وہ کتاب ہے، ’ساختیاب، پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘ ۔ اس کتاب پر ہی انھیں ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازاگیا ۔ اِس کتاب نے دو کام کیے ، سب سے اہم یہ کہ ہمیں معروف ، جدید تر اور کھرے جدید تر ادبی نظریوں سے متعارف کرایا ، اُن کی معنویت کو بتایا نیز اُن کو ہندوستان کی تہذیبی جڑوں اور مشرقی شعریات کی روشنی میں اُن کی وضاحت کی۔ وہ بار بار تنبیہ کرتے ہیں کہ ادب میں نئے تخلیقی رویے ، تتبع اور نقالی سے پیدا نہیں ہوتے ۔ وہ ہی چیز پنپ پاتی ہے جو تہذیبی جڑوں اور مزاج سے لگّا کھاتی ہو۔ اردو میں اِس کتاب نے ما بعد جدید تنقید کو محکم اور مستحکم کیا ۔ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کتاب کے بعد نارنگ صاحب مابعد جدید تنقید کے بانی قرار پائے ۔اگر چہ ادب میں بانی یا امام کا تصور غلط ہے، ہر چیز زبان کی ادبی آزادی اور تخلیقیت سے پیدا ہوتی ہے۔اس کے بعد جعلی جدیدیت پس منظر میں چلی گئی اور مابعد جدیدیت پیش منظر میں آ گئی ۔ نارنگ صاحب نے جس عرق ریزی سے اور جس جگر کاری کے ساتھ اِس کتاب کو تصنیف کیا ہے اور ہمیں عالمی اقداروں سے اورتازہ ترین تخلیقی نظریات سے واقف کرایا ہے وہ ایک لائقِ تحسین تاریخی کارنامہ ہے ۔
نارنگ صاحب کا صرف یہی کارنامہ نہیں ہے ،بلکہ اِس پوری مابعد جدید فکریات کے اطلاقات کے لئے انھوں نے ایک تاریخ ساز سیمینار کا انعقاد کیا اور اُس میں بھی سارے نوجوانوں کو مدعو کیا اور سب نے اپنے تخلیقی خیالات پیش کیے ۔ جس طرح سے ہم نے سوچ لیا تھا کہ اب جدیدیت کے بعد شاید ہی کوئی نیا رجحان اِس قوت کے ساتھ ہمارے سامنے نہ آئے ، اُسی طرح ہم یہ طے کیے بیٹھے تھے کہ غالب کی جو تعبیریں ہوئی ہیں، غالب کے جو مشاہرین سامنے آئے ہیں ، غالب کی جن معنویتوں کو روشن کیا گیا ہے ،اُن معنویتوں ، شرحوں اور تعبیروں کے بعد اب غالب کو آگے بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اسی دور میں جب یہ بات ہمارے ذہنوں میں راسخ ہونے لگی ، نارنگ صاحب کی ایک اہم ترین کتاب سامنے آئی اور یہ بھی اُن کی تیٔس سالوں کی ریاضت کا ثمرہ ہے اور یہ کتاب ہے ، ’ معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع ، شونیتا اور شعریات ‘ ۔ یہ کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ غالب کو اِس طرح سے بھی دریافت کر سکتے ہیں ،مشرقی فلسفوں کی روشنی میں اور ہندوستان کے archetypal فلسفے کی روشنی میں ہم غالب کے اندر اتنی نئی حیران کُن معنویتیں دریافت کر سکتے تھے ۔ بارہ ابواب پر مشتمل اِس کتاب میں نارنگ صاحب نے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ۔ ابتدا سے لے کر انتہا تک بہ تدریج سال بہ سال اتنے دقیق نکات ہیں ، لیکن ایک خوبی نقاد کی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اِس طرح سے د قیق اور وسحر انگیز نثر کو ہمارے ذہن کے اندر اتار دے ۔ جب آپ اِسے پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ نارنگ صاحب نے کتنے وسیع علم کے ساتھ کتاب تحریر کی ہے اور کیسی ذکاوت کے ساتھ ایک نئے غالب کو دریافت کیا ہے ۔
جب ترقی پسندی آئی تو نظریہ غالب تھا اور جب جدیدیت آئی تو تجزیہ غالب تھا ۔ ہم نظریہ سے تجزیہ کی طرف آئے تو نظریہ اور سماجی معنویت کو نظر انداز کر دیا ۔ یہ تخلیقیت کی آزادی کے بالکل خلاف تھا ۔ ادب میں کوئی حکم نامہ یا فارمولا سازی نہیں چلتی۔ جو حشر ترقی پسند حکم سازی کا ہوا وہ ہی حشر جعلی جدیدیت کے حکم ناموں کا بھی ہوا ،لیکن جب مابعد جدیدیت آئی تو نارنگ صاحب نے نظریہ کو بحال کیا اور تجزیہ کو رواں رکھا ۔ انھوں نے سماجی معنویت اور تخلیقیت کے تنوع اور آزادی پر اصرار کیا۔انھوں نے ہر طرح کے حکم ناموں کو رد کیا۔ اگر آپ اِن کی تنقید دیکھیں گے تو یہ محض نظریہ نہیں، بلکہ یہ کھلا ڈھلا نظریہ بھی ہے اور متن کاتہہ دار تجزیہ بھی ۔ نارنگ صاحب تخلیقی نظریہ اور تجزیہ کو ایک ساتھ لے کر چلے اور وہ چیز جو ترقی پسندی کے زمانے میں غالب آ گئی تھی ، جدیدیت میں غالب آ گئی تھی، مابعد جدیدیت میں آپ نے تجزیہ کو محض تجزیہ نہیں رہنے دیا ، نظریہ اور تجزیہ کے ساتھ آپ نے تخلیقیت کے معنی یاتی جوہروں کو نمایاں کیا ۔ عالمی جدید نظریوں اور مشرقی تہذیبی جڑوں کی وضاحت کی ،بلکہ اُن کے عملی اطلاقات بھی پیش کیے ۔ مختلف ادبی اصناف کے پیمانۂ نقط کی تعمیر کی ۔ نارنگ صاحب نے فکشن پر بہت تفصیل سے لکھا اور ایک طرح سے فکشن کی شعریات سازی بھی کی ۔ نئی بصیرتوں اور مشرقی دانش کے نئے آفاق سے روشناس کرایا ۔
اب اُن کی کتاب ’ اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب ‘ کی بات کریں تو پانچ ابواب میں نارنگ صاحب نے ہندوستانی تہذیب کے ارتقا سے لے کر اردو غزل کے جمالیاتی اور فنی پہلوؤں کا جو احاطہ کیا ہے اور جو معنی خیز مثالیں پیش کیں وہ واقعی ایک بڑا کمال ہے ۔’ غالب معنی آفریانی ، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات ‘ اور ’ اردو غز ل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب‘ کے انگریزی ترجمے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیے ہیں اور اِدھر میر تقی میر پر اُن کی ایک بے مثال کتاب ‘The Hidden Garden’ پینگوئین سے شائع ہوئی ہے ۔
( ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ کی پیش کش کے موقع پر کی گئی استقبالیہ تقریر )
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

