"سسی فس ، بیتال پچیسی اور جدید شاعر” – ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

by adbimiras
0 comment
جدید شاعر جب بھی مسلط کردہ، ان تھک و لامتناہی مشقت کا مضمون پیش کرنا چاہتا ہے، وہ غیر ارادی طور پر سسی فس کی اسطورہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ البتہ جدید شعرا کے یہاں اس اسطور ہ کے ضمن میں کچھ نہ کچھ فرق بھی ظاہر ہوتا ہے —- کامیو نے کیا اچھی بات کہی ہے کہ سسی فس کی کہانی میں دل چسپ حصہ وہ ہے ،جب وہ واپس آنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے پہاڑپر رکتا ہے؛ مسلسل مشقت کے بیچ فرصت کا وقت!کامیو کہتے ہیں کہ ’’جب سسی فس بھاری مگر نپے تلے قدموں کے ساتھ واپس اس عقوبت کی طرف آرہا ہوتا ہے ،جس کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں کہ کب ختم ہوگی، تو دم لینے کی یہ فرصت اس کی بیداری کا وقت ہے۔ ان سب لمحوں میں جب وہ بلندی سے نیچے آرہا ہوتا ہے تو وہ اپنی تقدیر پر غالب ہوتا ہے‘‘۔کامیو کامئوقف ہے کہ سسی فس کا زمین کی طرف واپسی کا سفر ،جب اس کے پاس پتھر نہیں، اگر اذیت ناک ہے تو یہی سفر مسرت کا موجب بھی ہوسکتا ہے۔اگراس کا دھیان مسلسل زمینی مسرتوں کی طرف رہتا ہے تو یہ المناک ہے ،کیوں کہ اس طرح زمینی مسرتوں کی یاد اس کی مصیبت کی شدت میں اضافہ کررہی ہے،لیکن اگر وہ اپنی صورت ِ حال کو قبول کرلیتا ہے،یعنی اپنی مصیبت کا کھلی آنکھوں سے سامنا کرتا ہے تو اپنی تقدیر پر غالب آجاتا ہے ؛وہ مسرت محسوس کرسکتا ہے۔بہ قول کامیو’’ کچل ڈالنے والی سچائیاں اگر قبول کر لی جائیں تو ان پر غالب آیا جاسکتاہے‘‘۔یہ نکتہ تھوڑا تفصیل طلب ہے۔ اس سے یہ گماں ہوسکتا ہے کہ جیسے کامیو تقدیر پرستی کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کامیو کے مئوقف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ کس سیاق میں یہ بات کررہے ہیں۔ سسی فس کسی حال میں پتھر ڈھونا ترک نہیں کرسکتا،اور نہ کوئی ایسی قوت،اس کے سامنے ہے ،جس کے خلاف وہ اپنے غم وغصے کا اظہار کرسکے۔اسے ہر حال میں پتھر کو بلندی پر پہنچانا، پتھر کاواپس زمین کی طرف آنا اور اسے ایک بارپھر پتھر کو بلندی تک لے جاناہے۔لہٰذا اس کے پاس آزادانہ سوچنے کا فقط وہ وقت ہے جب وہ ایک مرتبہ پھر اپنے کاندھوں پرپتھر اٹھانے واپس زمین کی طرف آرہا ہوتا ہے؛اسے اسی دوران میں اپنی صورتِ حال کو سمجھنا اور اس کے بارے میں کوئی نئی بات سوچنا ہے؛کوئی معنی خلق کرنا ہے۔کامیو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شے ،کوئی صورتِ حال انسان کی خلق ِ معنی کی صلاحیت گو گزند نہیں پہنچا سکتی، ہاں انسان خود ایسا کرسکتا ہے ؛بدترین صورت ِ حال سے کسی نہ کسی شکل میں نکلنے کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے ،یا بنایا جاسکتا ہے۔جن ننگی سچائیوں کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے ، ان کا سامنا پورے انسانی وقار کے ساتھ کرنا ،اور انھیں تسلیم کرلینا، در حقیقت اپنی انسانی حیثیت کو تسلیم کرلینا ہے،اپنی انسانی تقدیر کو قبول کرلینا ہے ۔تقدیر کو قبول کرنا ،اور تقدیر پرستی دو جداگانہ چیزیں ہیں۔ تقدیر پرستی ایک منفعل اور کاہلی پر مبنی رویہ ہے ،جب کہ تقدیر قبول کرنا ایک فعال ،جرأت مندانہ عمل ہے۔ معنی کی تخلیق دریا کے دھارے کو کسی دوسری سمت موڑنے کی کوشش بھی ہے، اوردھارے میں بہتے چلے جانے کے لغو عمل اورجبر کو اپنا اختیار بنالینا بھی ہے۔دریا کے دھارے کے مخالف رخ بہنے کی کوشش المیے کو جنم دیتی ہے۔
سسی فس کی صورتِ حال کو جو چیز المیہ بناتی ہے ،وہ اس کا ’دہرا شعور‘ ہے؛ اسے اپنی مصیبت اور زمینی مسرتوں کا بہ یک وقت شعور ہے۔زمینی مسرتوں کا شعور اسے مسلسل ماضی کی طرف لے جاتا ہے ، اس ماضی کی طرف جو کبھی واپس نہیں آسکتا؛ اس کی لغو مصیبت ،اس کا حال ہے؛۔ جب تک وہ حال سے سمجھوتہ نہیں کرلیتا، وہ ایک المناک زندگی بسر کرتا ہے۔جدید شاعر لمحہ ء حال کو اصل حقیقت سمجھتا ہے ،اور اسی کو زندہ حقیقت بنانے میں یقین رکھتا ہے۔وہ کسی چھوڑی ہوئی بہشت کی طرف لوٹنے کی خواہش کرسکتا ہے ،جیسا کہ متعدد جدید اردو شعرا نے ایسا کیا ہے ۔ جدید شاعر بنیادی معنی کی تخلیق کے لیے ماضی ، روایت کی طرف دیکھتا ہے ،مگر وہ ان کے وحدانی تصور یا گزری مسرتوں کے احیاکی سعی نہیں کرتا۔وہ لمحۂ حال کی لغویت، بے معنویت، تکرار سے فرار اختیار نہیں کرتا،جس کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ وہ لمحۂ حال کی’ پوری حقیقت‘ گرفت میں لیتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ لمحۂ حال کی پوری حقیقت میں ایک رخنہ بھی موجود ہوتا ہے،جہاں سے ماضی کا نقش مداخلت کرتا ہے۔جدید شاعر بھی ایک حد تک سسی فس کی طرح ’دہرے شعور‘ کی المناکی کا شکار ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا جدید شاعر کے پاس ’دم لینے کی وہ فرصت‘ ہے ،جس کا ذکر کامیو نے سسی فس کے ضمن میں کیاہے؟ہم سمجھتے ہیں کہ ،ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جدید اردو شاعری میں اس سے کم کام لیاگیاہے۔ دم لینے کی فرصت، زندگی کی مشقت اورجبر کے درمیان کا وقفہ ہے۔یہ وقفہ عبوری ہے، مختصر ہے ،مگر یہی وقفہ ہے ،جس میں آدمی اپنی ہستی کے اس مرکز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ،جہاں اسے کلی اختیار حاصل ہے،یعنی جہاں وہ خزانہ مضمر ہے جسے آدمی سے کوئی چھین نہیں سکتا۔یہاں آدمی اپنے اوپر ہنس سکتا ہے ،دوسروں کا مضحکہ اڑا سکتا ہے، ہر شے ،ہر رشتے سے بے نیاز ہوسکتا ہے، رنج وراحت ،یاس وامید، افضل و اسفل ،اشراف و اجلاف،عورت ومرد ، فرد وسماج جیسے متخالف جوڑوں کی زنجیر توڑ سکتا ہے،۔قصہ مختصر اپنی حقیقی انسانی نہاد اور مطلق آزادی کا تجربہ کر سکتا ہے۔
سسی فس کی کہانی ،راجہ بکرم سین کی اس کہانی کی یاددلاتی ہے ،جسے بیتال پچیسی میں بیان کیا گیا ہے۔ بکرم سین کو ایک جوگی سے وچن نبھانے کی خاطر ایک لاش کاندھے پر اٹھا کر شمشان گھاٹ تک جانا پڑتا ہے۔ راستے میں بیتال (مردوں میں سرایت کرجانے والی بدروح) اسے کہانیاں سناتا ہے۔سسی فس اور بکرم سین میں یہ بات مماثل ہے کہ دونوں کے کاندھوں پر بوجھ ہے، مگر بکرم کا سفر ،سسی فس کی طرح دائرے کا سفر نہیں؛نیزخاموش بھاری پتھر اور کلام کرتی سرد لاش میں بھی فرق ہے۔دونوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سسی فس کے کاندھوں پر لدا پتھر ایک سزا ہے جسے دیوتاؤں نے تجویز کیا تھا ، جب کہ بکرم کے کاندھے پر لدی لاش ’’دراصل یہ بوجھ ،یہ کام اس کا اپنا تھا‘‘۔آدمی کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنا انکار کرنے کا میلان رکھتا ہے ؛ وہ اس محشر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا جو اس کے اندر کی گہرائیوں میں برپارہتا ہے ؛ وہ ان بہائم سے آنکھیں چرانا چاہتا ہے جو اس کے شعور کی روشن دنیا کے پیچھے ایک تاریک کرے میں موجود ہیں۔جدید ادب نے آدمی کو اپنے انکار کی روش ترک کرنے کی ترغیب دی۔چناں چہ اس کی ہستی کے فراموش کردہ حصوں بخروں کو سامنے لانے کا چارہ کیا۔جدید نظم کا اگر کوئی نعرہ ہوسکتا ہے تو بس یہ:’’زندگی سے ڈرتے ہو؟؍زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں؍آدمی سے ڈرتے ہو؍آدمی تو تم بھی ہو،آدمی تو ہم بھی ہیں‘‘۔انسانیت کے لیے جدید نظم کی یہ ایک اہم عطا ہے کہ اس نے آدمی کے آدمی سے ڈرکو ختم کرنے کا چارہ کیا۔نظیر اکبر آبادی نے تو صرف آدمیوں کی قسمیں بتائی تھیں؛یعنی ابدال و قطب و غوث بھی آدمی ہیں،اور منکر و کفر سے بھرے ہوئے بھی آدمی ہیں،اور اشراف ،کمینے ، شیطان ،پرہیزگار سب آدمی ہیں،مگر جدید شاعر اس سے آگے جاتا ہے ؛وہ آدمی کے اندر کئی طرح کے آدمی دیکھتا ہے،اور آدمی کو اکساتاہے کہ ان سب کے انکار کی روش ترک کرے؛ان کا سامنا کرے ،اورانھیں قبول کرے۔ قدیم اساطیر ی کہانیوںکی جتنی تعبیرات جدید زمانے میں کی گئیں، ان کا مقصود یہ محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کے آدمی سے ڈر،یعنی خود سے ڈرکومٹایا جائے ، آدمی کو اپنی تقدیر کو قبو ل کرنے پر آمادہ کیا جائے ،آدمی کو اپنی فانی حیثیت ، اپنے داخل میں مضمر سب نوروظلمت، سب ملکوتی و ابلیسی عناصر کا سامنا کرنے کی جرأت دلائی جائے۔
(ناصر عباس نیّر صاحب کی کتاب  "نظم کیسے پڑھیں” (2018ء) سے مقتبس)
نوٹ: یہ مضمون ڈاکٹر ناصر عباس نیّر صاحب کے فیس بک سے لیا گیا ہے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

Leave a Comment