"ہم ،جو اکیسویں صدی میں قدم رکھ کر تقریباً ربع صدی مکمل بھی کر چکے ہیں، کہاں ہیں؟ ہماری ساری قابل فخر مادی ترقی کے بعد ہماری اخلاقیات میں کتنی ترقی آئی؟ ہم نے توہمات سے کتنا پیچھا چھڑایا. ہم نے ذات اور مذہب کو بنیاد بنا کر لوگوں سے نفرت کرنا یا انھیں کم تر سمجھنا کب چھوڑا. "
درج بالا اقتباس ذکیہ مشہدی کے تازہ ناول "بلہا کیہہ جاناں میں کون”سے ہے اس ناول میں ذکیہ مشہدی نے صدیوں سے چلی آ رہی ظلم و استبداد اور جبر کے تسلسل کی داستان پیش کردی ہے. اس ناول کا بیانیہ اس کے کردار، ان کے سوچنے کا انداز اور ان کی سماجی زندگی، کرداروں کے درمیان ہونے والی گفتگو غرض کہ اس ناول کی بنت میں اکیسویں صدی شامل ہے
واضح رہے کہ ذکیہ مشہدی کا شمار ایسے فکشن نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے پیش پا افتادہ موضوع پر لکھنے سے ہمیشہ گریز کیا. حادثات و واقعات کا تجزیہ وہ تہذیبی و ثقافتی تناظر میں کرتی رہی ہیں لہذا اس ناول کے بیانیہ میں گرچہ اکیسویں صدی بلکہ گزشتہ دو چار برسوں میں رونما ہونے والے قتل و نا انصافی اور زنا بالجبر کے روح فرسا حادثات کا ذکر ہے لیکن جذباتیت یا بلند آہنگی سے احتیاط ہر سطح پر برقرار ہے. واقعات کی مناسبت سے زبان و بیان کے معاملے میں بعض دفعہ لغزشیں ہو جاتی ہیں اور کوشش کے باوجود ایسے الفاظ استعمال کرنے کی نوبت آ جاتی ہے جو مصنف کے ڈکشن میں نہ آتا ہو لیکن ذکیہ مشہدی نے کہیں اشارےاور کہیں محاورے کے ذریعے زبان کے مطالبے پورےکر کے اپنے مخصوص اسلوب کو اثر انداز ہونے سے محفوظ رکھا ہے
بنیادی طور پر اس میں ایک ایسے کردار (ہرش علی وردھن) کی زندگی سے وابستہ واقعات ہیں جو بد قسمتی سے بین المذاہب شادی کرنے والے والدین کی اولاد ہے. دو خاندانوں کو آزمائشوں کے گرداب میں چھوڑ کر سمیر اور شبنم شادی تو کر لیتے ہیں لیکن یہ رشتہ چند ہی برسوں میں نظریاتی اختلافات کی نذر ہو جاتا ہے. والدین کے باہمی سمجھوتہ سے ہرش وردھن ماں کے ساتھ رہتا ہے، پانچ برس کے بچے کا چھوٹا سا ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ اس کے والدین الگ الگ کیوں رہنے لگے. باپ اس پر جان چھڑکتا تھا مگر ماں کی محبت اس کے لیے بے مثل تھی. وقت گزرنے کے ساتھ ماں اس کی آئیڈیل بنتی گئی. علیحدگی کے بعد لاشعوری طور پر اس کی ماں اپنی مذہبی سرکاروں سے اسے وابستہ کرنے لگی جبکہ بچپن سے وہ اس سے بالکل مختلف رسوم و روایات کا عادی تھا جو ظاہر ہے ہندو مذہب کی تھیں. شعور میں پختگی آنے کے بعد اس نے خود کو کسی مخصوص مذہبی بندھن سے آزاد رکھا لیکن ماں اور باپ دونوں کے گھروں میں ہونے والی مذہبی رسموں پر عمل کرتا رہا، دو کشتیوں کے سوار اس کردار کی ملاقات درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء پر سارہ نامی ایک امریکن یہودی لڑکی سے ہوتی ہے، اس کی روشن خیالی اور وسعت قلبی کی وجہ سے ان دونوں کی دوستی ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہ دوستی محبت کا روپ اختیار کر لیتی ہے، سارہ ہندوستانی تہذیب اور ہندوستان سے متعلق کسی پروجیکٹ پر کام کرنے کی غرض سے یہاں مقیم ہے اسی لئے اس کی گفتگو میں تاریخ اکثر و بیشتر زیر بحث آ جاتا ہے. ہرش اور سارا کی گفتگو کے ذریعہ مصنفہ نے نہ تاریخ کا وہ صفحہ کھولا ہے جس پر مذہب اور قومیت کے نام پر ظلم و استحصال کے واقعات درج ہیں. مختلف اقوام اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے سیاہ کارناموں سے بد دل ہو کر وہ غیر مشروط محبت کو اپنا مذہب قرار دیتا ہے اور اپنی ماں کی تربیت کو رہنما اصول.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

