اردو تنقید پر ایک نظر : کلیم الدین احمد- پروفیسر کوثر مظہری
اردو تنقید کی تاریخ میں اگر بغور دیکھا جائے تو عہد حالی کے بعد ترقی پسند تحریک سے وابستہ اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، محمد حسن، آل احمد سرور کو شہرت ملی۔ کلیم الدین احمد نے بھی آل احمد سرور کے زمانے میں اپنی تنقیدی نگارشات پیش کیں لیکن دیکھا جائے تو انھیں اپنے زمانے میں سب سے زیادہ شہرت ملی۔ چوں کہ وہ انگریزی ادب سے پوری طرح باخبر تھے اس لیے ان کے شعور نقد میں ایک طرح کی بالیدگی اور غیرجانبداری نظر آتی ہے۔ اپنی باتیں بغیر کسی رو رعایت کے قارئین کے سامنے پیش کرنے میں انھیں کسی طرح کی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ انھوں نے ایف آر لیوس اور آئی اے رچرڈس کے حوالے سے اپنی خودنوشت میں جو اظہار خیال کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں سے بے حد متاثر تھے۔ انھوں نے تو اپنی خودنوشت’اپنی تلاش میں‘ یہاں تک لکھا ہے کہ ’ایف آر لیوس نے مجھے نقاد بنا دیا۔‘ ظاہر ہے کہ وہ ایف آر لیوس کے براہِ راست شاگرد بھی تھے۔ اس کے علاوہ آئی اے رچرڈس کے بھی لکچرمیں کبھی کبھی شریک ہوجایا کرتے تھے۔ ساتھ ہی وہ ٹی ایس ایلیٹ سے بھی بہت متاثر تھے۔
کلیم الدین کی کتاب ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ پہلے تو اُن کے رسالے ’معاصر‘ میں 1940-41 میں قسط وار شائع ہوئی پھر 1942 میں کتابی شکل میں منظرعام پر آئی۔ ترمیم و اضافے کے بعد یہ 1957 اور مزید اضافے کے بعد 1983 میں اشاعت پذیر ہوئی۔ یہی ایڈیشن آج بھی متداول ہے۔ اس کے بعد اس پر کسی طرح کی نظر ثانی نہیں ہوسکی۔ اس طرح آج 2012 میں اگر دیکھتے ہیں تو اس کتاب (ترمیم و اضافے سے قطع نظر) کا سارا مواد بہتّر (72) سال پہلے کا ہے۔ پوری دنیا میں علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، اگر ان کی روشنی میں اس کتاب کا جائزہ لیا جائے تو شاید کچھ عجیب و غریب نتائج سامنے آئیں گے۔ کیوں کہ اب تو مغرب میں بھی ایف آر لیوس، آئی اے رچرڈس، ٹی ایس ایلیٹ کے بہت سے فرمودات اور مفروضات ازکار رفتہ ثابت ہورہے ہیں، البتہ ہر نظریے میں کچھ عوامل اور نکات ایسے ضرور ہوتے ہیں، جوہر زمانے کا ساتھ دیتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’کیا نظریاتی تنقیدممکن ہے؟‘- پروفیسر کوثر مظہری )
کلیم الدین احمد نے 1940 اور اس کے آس پاس جو کچھ لکھا، وہ اردو تنقید کے بال و پر نکلنے کا زمانہ تھا۔ اس وقت ترقی پسند تحریک سے متعلق لکھنے والے نقادوں کے نام تھے، سجاد ظہیر، مجنوں گورکھپوری، اختر حسین رائے پوری وغیرہ۔ یہ نقاد اور ادیب کہیں نہ کہیں ادبی تنقید کی سرزمین کو اپنی طرح سینچنے کی کوشش کی کررہے تھے۔ یہ سب لوگ مغربی ادب سے واقف تھے، لیکن کلیم الدین احمد کی طرح ان میں سے کوئی بھی مغرب کے کسی مشہور زمانہ نقاد (مثلاً ایف آرلیوس یا آئی اے رچرڈس) کا باضابطہ شاگرد نہیں تھا۔ کلیم صاحب جو مغرب سے لوٹے ہیں تو انھیں اردو میں تنقیدکا وجود محض فرضی لگا، جو کہ تقریباً فطری تھا۔ چوں کہ وہ ایک حق اندیش نقاد تھے اس لیے انھوں نے خاشاک کے تودے کو کوہ دماوند کہنے کی پوری طرح نفی کردی۔ یہاں تک کہ اقبال کی شاعری کو لائق اعتنا نہیں سمجھا، اور بھی بہت سوں کو اَونے پَونے نپٹایا۔ البتہ اپنے والد محترم ڈاکٹر عظیم الدین احمد کی نظموں کے مجموعے ’گل نغمہ‘ میں تنقیدی گل افشانیوں کے رنگ بکھیرے جس کے لیے انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لیکن کیا کیجیے کہ کلیم صاحب بھی آخر ’بشر‘ ہی تھے۔
کلیم الدین احمد نے پورے اردو ادب کو جرح کرنے کا انداز سکھایا۔ سوال کیسے قائم کیا جاتا ہے، یہ سلیقہ کلیم الدین احمد نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو والوں کے سامنے پیش کیا۔ وہ ادب اور تنقید کے باہمی ربط کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ تنقید ادب کی پیروی کرتی ہے، ادب سے الگ ہوکر یہ سانس نہیں لے سکتی۔ جو لوگ بلا وجہ یہ ہنگامہ کرتے پھرتے ہیں کہ اولیت تخلیق کو حاصل ہے نہ کہ تنقید کو، انھیں کلیم صاحب جیسے سخت گیر نقاد کے مذکورہ بالا مطمح نظر کو سمجھنا چاہیے۔ باقر مہدی نے بھی لکھا ہے کہ تخلیق کو غیرمعمولی اہمیت دے کر تنقید کو کم حیثیت ثابت کرنے کی کوشش وہی فنکار کرتے ہیں جو خود اعتماد ہی نہیں رکھتے۔
(تنقیدی کشمکش، پس نوشت، 21مارچ 1979)
دراصل کلیم صاحب اس بات سے نالاں نظر آتے ہیں کہ لوگ اصول تنقید سے عدم واقفیت کے باوجود ادبی فن پاروں کا تجزیہ کرتے ہیں اور غیرضروری مدح سرائی یا پھر غیرضروری تنقیص کے پہلو تلاش کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ اگر آپ اصول تنقید سے واقف نہیں تو آپ نقاد نہیں بن سکتے۔ آگے لکھتے ہیں کہ اردو میں اصول تنقید کی ترتیب اور تشریح ابھی تک نہیں ہوئی۔ (پیش لفظ، اردو تنقید پر ایک نظر، ص 12،1956 )
اب یہ ایک الگ موضوع بحث ہے کہ ہم اس کتاب مذکور کے 72 برسوں بعد اردو تنقید کے سرمائے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ میں سمجھتاہوں کہ آج جس طرح تنقید نے اپنی ایک مستحکم شناخت بنا لی ہے، اس تناظر میں کلیم صاحب کا بیان رد ہوجاتا ہے۔ لیکن 1940 یا 50 کی دہائی میں ان کا بیان کہیں نہ کہیں اپنی معنویت ضرور رکھتا تھا۔ آج گوپی چند نارنگ، وزیر آغا، شمس الرحمن فاروقی، وہاب اشرفی، سجاد باقر رضوی، شمیم حنفی، عتیق اللہ، ابوالکلام قاسمی، شافع قدوائی، مولا بخش وغیرہ کی تحریریں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ کلیم صاحب سے بہت آگے جاچکا ہے جیسا کہ کلیم صاحب کا زمانہ حالی اور آزاد سے بہت آگے تھا۔ انھوں نے خود پیش لفظ میں لکھاہے:
’’ہر زمانہ اپنی نظر الگ رکھتا ہے اور اس نظر سے وہ نئے اور پرانے ادب کو دیکھتا ہے، اس کا تجزیہ کرتا ہے، اس کی خامیوں اور برائیوں کا پتہ لگاتا ہے۔‘‘ (ص :11)
اگر ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ کے مشمولات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمہیدی کلمات کے بعد پرانے تذکرے، نئے تذکرے، پرانی تنقید اور سند، غلطیہائے مضامین، حالی، شبلی، عبدالحق، پیروی مغربی، ترقی پسند تحریک، آل احمد سرور جیسے موضوعات ہیں، پھر ترقی پسند نقاد کے ذیل میں اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، محمد حسن پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اردو میں تبصرہ نگاری پر ایک مضمون ہے۔ خاتمہ کے بعد 1983 کے ایڈیشن میں ضمیمے کے طور پر رشید احمد صدیقی، ترقی پسند ادب پر دو کتابیں، تاثراتی تنقید اور پھر آخر میں شمس الرحمن فاروقی پر ایک مضمون ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہ کتاب بھی مختلف مضامین کا مجموعہ ہے لیکن باطنی تنقیدی ارتباط کے سبب یہ کتاب یک موضوعی بن گئی ہے۔
کلیم صاحب لکھتے ہیں:
’’تنقید کوئی کھیل نہیں جسے ہر شخص بہ آسانی کھیل سکے۔ یہ ایک فن ہے، ایک صنّاعی ہے۔ فن تو ہر طرح کے ہوتے ہیں مشکل بھی اور آسان بھی۔ تنقید مشکل ترین فن ہے۔‘‘ (ص 17)
وہ نقاد کو بھی شاعر اور انشاپرداز کی طرح چند مخصوص اوصاف کا حامل بتاتے ہیں اور یہ کہ شاعر کی طرح وہ بھی لطیف قوت حاسّہ رکھتا ہے۔ کلیم صاحب نے اپنے زمانے کی تنقیدی نگارشات کا جائزہ لیتے ہوئے قدرے سختی سے کام لیا ہے۔ انھیں اس بات سے بے حد شکایت ہے کہ اردو کا نقاد جب کسی کی تعریف کرنا شروع کرتا ہے تو بے جا تعریف ہی کرتا چلا جاتا ہے اور اسی طرح اگر کسی کی مذمت پر آتا ہے تو بے جا اعتراض بلکہ گالیوں تک کے دریا بہا دیتا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے محمد حسین آزاد کے ذریعہ ’آبِ حیات‘ میں اپنے استاد ذوق کے حوالے سے کی گئی مبالغہ آمیز تعریفوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ یا پھر سجاد ظہیر نے انقلابی نظموں پر جو مبالغہ آمیز آرا پیش کی ہیں، ان کی گرفت بھی کلیم صاحب نے کی ہے اور لکھا ہے کہ انقلابی شعرا چند پیش پا افتادہ خیالات اور جذبات کے طلسم میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کا موضوع انسانیت نہیں اشتراکیت ہے۔ مذمّت والی تنقید کے ذیل میں کلیم صاحب نے معرکۂ چکبست و شرر کا ذکر کیا ہے اور مثال پیش کرکے اس طرز تنقید کی مذمت کی ہے۔ اگر ایماندارانہ طور پر دیکھا جائے تو کلیم صاحب کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ تنقید کوئی کھیل نہیں جسے ہر شخص بہ آسانی کھیل سکے۔ اس میں اعتدال قائم رکھنا، مشکل ہوتا ہے۔ البتہ انھوں نے تنقید کو صناّعی بھی کہا ہے، جس کا ایک منفی پہلو بھی ابھرتا ہے۔ وہ اس طرحکہ صنّاعی اگر ہوگی تو کہیں نہ کہیں اس تنقید میں تصنع بھی ہوگا، اور اس تصنع کے خلاف کلیم صاحب بھی رہے ہیں۔ آزاد کی انشاپردازی کو وہ اسی لیے تنقیدی زبان سے پرے مانتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ نثر ایسی ہو کہ تنقید قاری کے لیے بوجھل نہ ہو، اور ایسی تنقیدی نثر لکھنے میں حالی، آزاد اور شبلی ان تینوں کو مہارت حاصل تھی۔ بلکہ کلیم الدین احمد کی نثر میں بھی ایک طرح کی ذہانت آمیز تخلیقیت ہے جس کے سبب ان کی تحریریں سبک اور رواں معلوم ہوتی ہیں۔
اردو تنقید کی زمین تذکروں سے تیار ہوئی ہے۔ کلیم صاحب اپنی اس کتاب میں مختصر تمہید کے بعد پرانے تذکروں اور نئے تذکروں کی روشنی میں اردو تنقید کی جڑیں تلاش کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آج بھی (کلیم صاحب کے زمانے میں) اردو تنقید تذکروں کی تنقید سے آگے نہیں بڑھی ہے۔ پرانے تذکرے کے باب میں وہ گردیزی، لالہ سری رام، مصحفی،میرتقی میر، شیفتہ، میر حسن وغیرہ کے تذکروں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے کمزور پہلوؤں کو نشان زد کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ تذکروں کے تین اجزا ہوتے ہیں (1) شاعر کی زندگی (2) شاعر کی شخصیت (3) شاعر کے کلام پر تنقید۔ اس کے علاوہ اشعار کے انتخاب میں کوتاہی اور سطحیت یا پھر شعرا کے بارے میں آرا پیش کرتے ہوئے جانب داری برتنے جیسے عمل پر کلیم صاحب کاری ضرب لگاتے ہیں۔ جیسا کہ خود انھوں نے لکھا ہے—ان تذکروں کا بلند ترین نکتہ ہے ’’بسیار خوش گو است‘‘۔ تذکروں میں بے جا لفاظی یا مداحی یا حد درجہ تکلفات و اہتمام کو کلیم الدین احمد اردو تنقید کے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہیں، اور وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہیں۔
نئے تذکروں کا آغاز آزاد کی کتاب ’آب حیات‘ سے ہوتا ہے۔ کلیم الدین احمد لکھتے ہیں کہ ’آب حیات‘ تنقیدی کارنامہ نہیں، ایک تذکرہ ہے۔ یہ سب کو پتہ ہے اور آزاد کو بھی معلوم تھا کہ وہ کوئی تنقیدی کارنامہ انجام نہیں دے رہے تھے۔ لہٰذا آب حیات کو تنقیدی کارنامہ تسلیم کرنا یا رد کرنا دونوں ہی غیر ضروری اور نامناسب باتیں ہیں۔ کلیم صاحب یہ بھی لکھتے ہیں:
’’نئے تذکروں کی ظاہری صورت بدل گئی ہے۔ ان تذکروں میں اردو کی ابتدا، ترقی اور تبدیلی پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے…. یہ چیزیں دلچسپ ضرور ہیں لیکن انھیں تنقید سے کوئی خاص لگاؤ نہیں۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تذکرے میں بھی جب شاعر کے کلام پر رائے دی جاتی ہے تو وہاں تذکرہ نگار کی تنقیدی بصیرت کام کرتی ہے، لیکن جس تنقیدی اصول اور بصیرت یا جس زاویۂ نقد یا جس طرز استدلال کا تقاضا کلیم الدین احمد کرتے ہیں، وہ غیرضروری ہے۔ وہ پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ تنقید بھی ایک فن ہے، صنّاعی ہے۔ اگر اس کی روشنی میں آزاد کی عبارت آرائی کا تجزیہ کریں تو ان کی تحریر معیاری تنقید کا نمونہ کہلائے گی۔ کلیم صاحب آزاد کے زور تخیل کو نشا ن زد کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’تخیل ادنیٰ خادم ہے، نقاد کا مخدوم نہیں۔ آزاد زور تخیل سے مجبور ہوکر ایسی تصویریں مرتب کرتے ہیں جو دل چسپ تو ضرور ہوتی ہیں لیکن حقیقت اور واقعیت سے مناسبت نہیں رکھتیں۔‘‘
چلیے ہم آزاد کی اس زور تخیل والی خامی کو تسلیم کرلیتے ہیں، لیکن اس کو کیا کیجیے کہ جہاں تخیل اور Imagination نہیں وہاں خشک عبارت آرائی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ تذکرہ میں شاعری سے زیادہ شخصیت اور اس سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ نقاد کے سامنے صرف متن ہوتا ہے جیسا کہ خود کلیم الدین احمد بھی تنقید کرتے ہوئے اپنے پیش نظر متن ہی کو رکھتے ہیں اور یہ مناسب رویہ بھی ہے۔ اس لیے میں سمجھتاہو ںکہ تذکرے میں بھی تخلیق کی طرح قدرے تخیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ کلیم صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ محقق قیاس کے گھوڑے نہیں دوڑاتا، آزاد قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ کوئی ضروری نہیں کہ تذکرہ لکھنے والا محقق بھی ہو۔ یہ تو خود کلیم الدین احمد ہیں جو تذکرہ نگار کو محقق اور نقاد سمجھے بیٹھے ہیں۔ تخیل اور حقیقت طرازی کے ذیل میں کلیم صاحب بھی تضاد کے شکار نظر آتے ہیں۔ جب وہ نظیر اکبرآبادی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں تو لکھتے ہیں:
’’ہر تصویر میں حقیقت کی جھلک ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فرضی و خیالی نہیں۔ نظیر حقیقت طراز شاعر ہیں۔ جو چیزیں وہ گرد و پیش میں دیکھتے ہیں ان کی جیتی جاگتی تصویریں اتارتے ہیں…ان میں ذرا بھی اجنبیت کی بو نہیں۔‘‘ (اردو شاعری پر ایک نظر، ص 43)
—
وہ ہر قسم کے خیالات کو جو ان کے زمانہ میں فضا میں بکھرے ہوئے تھے اپنی نظموں میں جگہ دیتے ہیں۔ ان کا دام حلقۂ خیال بہت وسیع تھا۔‘‘ (ایضاً، ص 38)
—
’’اگر وہ اپنے ماحول، اس طرز معاشرت کی جس سے وہ واقف تھے، الگ تھلگ رہ کر تصویر کھنچتے تو بہترین حقیقت طراز ہوتے۔‘‘ (ایضاً، ص 47)
—
’’خصوصاً گرد و پیش کی چیزوں کو نہایت صفائی اور کامیابی کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن ان کے تخیل کو طاقت پرواز نہیں۔‘‘ (ایضاً، ص57)
قارئین مذکورہ بالا اقتباسات میں موجود تضادات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ مجھے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہنا۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ آزاد کے زور تخیل پر کلیم صاحب کی گرفت بے معنی ہے۔ یہاں یہ بحث بھی بے معنی ہوگی کہ یہاں تذکرے کی بات ہے، وہاں شاعری کی۔ کلیم صاحب کا ماننا ہے کہ آزاد میں نقد کا مادہ مطلق نہ تھا، نظر مشرقی حدود میں قید تھی۔ باریک بینی اور آزادی خیال سے مبرا اور پھر انگریزی لالٹینوں کی روشنی اُن کے دماغ تک نہیں پہنچی تھی۔ کلیم صاحب کو سوچنا چاہیے کہ آزادی خیال سے مبرّا شخص کا زور تخیل اس قدر بلند کیسے ہوسکتا تھا؟ پھر یہ بھی تو ہے کہ کہیں انگریزی لالٹینوں کی روشنی نہیں تو کہیں مشرقی لالٹینوں کی روشنی نہیں۔ خیر، اور بھی بہت سی باتیں ہوسکتی ہیں۔ اس کے بعد یہاں دوسرے تذکروںمیں ’گل رعنا‘ اور ’شعر الہند ‘کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
’گل رعنا‘ میں ’آبِ حیات‘ اور آزاد کے حوالے جابجا ملتے ہیں۔ کلیم الدین احمد نے لکھا ہے کہ ’گل رعنا‘ میں آزاد کی لغزشوں کو طشت ازبام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر جگہ مصنف ’گل رعنا‘ نے یہ انداز اپنایا ہے کہ آزاد نے ٹھیک لکھا ہے… آزاد نے سچ کہا ہے… وغیرہ۔ کلیم صاحب کے اندر ایک خوبی ہے کہ وہ تنقید کے حوالے سے بہت ہی حساس اور ذمہ دار ہیں اور ہونا بھی چاہیے۔ بے چارے مصنف ’گل رعنا‘ مولوی عبدالحئی نے دیباچہ میں یہ لکھ دیا کہ:
’’…اس سال کچھ کام کرنے لگا تھا کہ پھر مرض کا اعادہ ہوا۔ مدتوں کی عادت پڑی ہوئی کتاب بینی اور تصنیف و تالیف طبیعت ثانیہ بن چکی تھی۔ مجبوراً طبیعت کو ایسی کتابو ں کے مطالعہ پر مائل کرنا پڑا جن سے دماغ پر زیادہ زور نہ پڑے۔ انھیں کتابوں میں وہ بیاض بھی نکل آئی جو کسی زمانہ میں ہر وقت پیش نظر رہتی تھی…‘‘
اب سنیے کلیم صاحب کا یہ ردعمل:
’’مصنف ’گل رعنا‘ کے خیال میں تنقید ایسا کام ہے جس میں دماغ پر زور دینا نہیں پڑتا… تنقید بھی دماغ سوزی کا کام ہے۔ جس عالم میں ’گل رعنا‘ لکھی گئی اس عالم میں کسی قابل توجہ کتاب کی تصنیف ممکن نہ تھی…‘‘
بات وہیں آتی ہے کہ تذکرے کو کلیم صاحب نے بالکلیہ ایک تنقیدی کام سمجھ لیا ہے۔ پھر یہ کہ مصنف ’گل رعنا‘ نے جس کتاب کے مطالعے کی طرف اپنی طبیعت کے مائل ہونے کا ذکر کیا ہے وہ محض مختلف شعرا کے کلام پر مبنی بیاض ہے۔ ظاہر ہے کہ بیاض کا مطالعہ طبیعت کی خرابی کے باوجود بہت گراں نہیں گزرتا۔ کلیم صاحب تمام تذکرہ نگاروں سے غیرضروری طور پر اول درجے کی تنقیدی نگارشات (آراء) کا تقاضا کرتے ہیں اور اسی لیے انھیں ہمیشہ مایوسی ہاتھ آتی ہے۔ ’گل رعنا‘ کے حوالے سے بھی آخرکار وہ لکھتے ہیں:
’’گل رعنا، نہ لکھی گئی ہوتی تو بہتر تھا۔ اس کتاب کی تنقیدی اور ادبی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں۔
—
’’گل رعنا بھی پرانے تذکروں کی طرح حقیقت میں ایک بیاض ہے جس میں مشہور شاعروں کا کلام جمع کیا گیا ہے اور محض دل چسپی میں اضافہ کے لیے جن کا کلام ہے ان کے مختصر حالات بھی لکھ دیے گئے ہیں۔‘‘
—
’’اس کتاب کے بدلے کہیں بہتر ہوتا اگر مصنف ’گل رعنا‘، ’آب حیات‘ پر ایک مفصل ریویو لکھتے اور اس ریویو میں تفصیل کے ساتھ آزاد کی غلطیوں کا انکشاف کرتے…
حالاں کہ کلیم صاحب نے پہلے یہ بھی لکھا ہے کہ ’گل رعنا‘ میں آزاد کی قیاس آرائیوں کو طشت از بام کیاگیا ہے لیکن پھر وہی تقاضا یہاں بھی ہورہا ہے۔ یہ لکھنا بھی زیب نہیں دیتا کہ ’گل رعنا‘ نہ لکھی گئی ہوتی تو بہتر تھا۔ اب اگر کوئی شخص کوئی کتاب تصنیف یا تالیف کرتا ہے تو اس کا اپنا زاویہ فکر اور مطمح نظر ہوتا ہے۔ ہر شخص کے پاس کلیم صاحب جیسی بالغ نظری یا تنقیدی بصیرت تو ہے نہیں۔ پھر یہ کہ اگر یہ کتاب لکھی نہ گئی ہوتی تو کلیم صاحب کو اتنا کچھ کہنے کا موقع ہی کہاں ملتا۔ بلکہ پرانے تذکرے یا پھر نئے تذکروں کے باب میں آب حیات، گل رعنا اور شعرالہند پر جو انھوں نے گفتگو کی ہے، وہ اس لیے کہ یہ تینوں کتابیں منصۂ شہود پر آچکی تھیں۔ میں نے اسی لیے کہا کہ یہ بات زیب نہیں دیتی کہ کسی کے بارے میں یہ لکھ دیں کہ فلاں کتاب نہ لکھی گئی ہوتی تو بہتر ہوتا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جو کتاب لکھی جاتی ہے وہ ضرور لکھی جانی چاہیے۔
’گل رعنا‘ کے بعد مولانا عبدالسلام ندوی کی کتاب ’شعرالہند‘ کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے، لکھتے ہیں:
’’دل چسپی میں یہ ’آب حیات‘ سے پیچھے ہے۔ یہ درست ہے کہ اس میں مواد ’گل رعنا‘ سے زیادہ ہے لیکن ’گل رعنا‘ پڑھی جاسکتی ہے، ’شعرا الہند‘ کی ورق گردانی سے طبیعت میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔‘‘
کلیم صاحب اس حوالے سے ’شعرالہند‘ کے مصنف کی تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے محنت اور کاوش سے کام لیا ہے۔ لیکن وہ تنقید کے لیے پیدا نہیں کیے گئے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ اردو ادب میں اب یہ بھی ایک کام ہونا چاہیے کہ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ آخر وہ کون لوگ تھے جو تنقید کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔ کلیم صاحب جس طرح جرح کرتے ہیں، سوالات قائم کرتے ہیں وہ بہت اہم ہوتے ہیں، لیکن ادعائیت اور کٹھ حجتی کے سبب اور کبھی تضادات کے سبب اکتاہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ اکتاہٹ ان کے طرزِ اظہار سے کبھی نہیں ہوتی، کیوں کہ اس میں دل چسپی اور روانی ہوتی ہے، برجستگی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تنقید میں ارتداد کی صورتیں زیادہ ہیں۔ وہ خود اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ تذکرے تنقید نہیں، اردو شاعری کی تاریخ کے لیے Source Materialہیں اور یہی ان کی اہمیت ہے۔ جب کلیم صاحب کا ارتکاز فکری یہی ہے تو پھر سوال کیا جاسکتا ہے کہ بار بار ’آب حیات‘، ’گل رعنا‘ اور ’شعرالہند‘ کے مولفین و مرتبین سے تنقید لکھنے کا تقاضا کیوں؟ ان میں سے کسی میں شعرفہمی نہیں تھی، مذاق صحیح اور تیز و زندہ ادراک سے کوئی تعلق نہ تھا، نقد کا مادّہ مطلق نہ تھا، نظر مشرقی حدود میں پابند تھی، انگریزی لالٹینوں کی روشنی ان کے دماغ تک نہیں پہنچی تھی، وغیرہ۔ تذکرے Source Meterial ہیں، یہی بڑی بات ہے۔
کلیم الدین احمد نے ’پرانی تنقید اور سند‘ کے عنوان سے پانچ صفحات پر مشتمل اپنی آرا پیش کی ہیں۔ یہاں بھی انھوں نے یہ گرفت کی ہے کہ… ’’شعر کی جانچ پڑتال کی نوبت آئی تو محاورہ یا زبان کی صحت پر نظر دوڑائی اور کوئی محاورہ یا زبان کی خامی نظر آئی تو اس پر رائے زنی کی۔‘‘ آخر میں کلیم صاحب پرانے طرز تنقید کو یوں رد کرتے ہیں:’’یہ لفظ صحیح نہیں، یہ محاورہ غلط ہے،یہ بحر نا جائز ہے، بس یہی پرانی تنقید کی بساط ہے۔‘‘
کلیم صاحب نے بجا طور پر پرانی تنقید پر اظہار خیال کیا ہے۔ کسی بھی شعری یا نثری فن پارے کے خارجی امتیازات سے اس کے معیاری ہونے کا ثبوت فراہم نہیں ہوتا۔ الفاظ و تراکیب یا بحور و اوزان یا پھر محاورہ اور زبان کی صحت تو بنیادی ڈھانچے کے لیے اہم ہیں ہی، لیکن تنقید یہ بھی دیکھتی ہے کہ فنکار فشارمعانی یا جہات معانی پیدا کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوا ہے یا یہ کہ اس میں اثرانگیزی کے عناصر کس حد تک ہیں، اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے صرف صحت زبان و محاورہ پر نظر رکھنا کافی نہیں، بلکہ فن پارے کے باطن میں اترنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کلیم صاحب تنقید میںاسی کے متلاشی رہتے ہیں۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اردو تنقید کی عمارت کی بنیاد حالی کی ’مقدمہ شعر و شاعری‘ ہے۔ اسے کلیم الدین احمد بھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کے تسلیم کرنے کا جو اندا ز ہوتا ہے، وہ اوروں سے مختلف ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’وہ اردو ’تنقید‘ کے بانی بھی ہیں اور اردو کے بہترین نقاد بھی۔‘‘ خیال رہے کہ لفظ تنقید کو انھوں نے واوین میں لکھا ہے۔ شاید اس واوین پر کسی نے دھیان نہیں دیا ہوگا۔ دراصل کلیم صاحب انھیں تنقید کا بانی تسلیم کرنے میں تردد محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لیے حالی کو واقعی تنقیدکا بانی تسلیم کرلینا دشوار تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر لفظ تنقید کے واوین میں لکھے جانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں جو کچھ لکھا جائے گا اس سے حالی کی تحقیر مقصود نہیں۔ وہ جو کچھ لکھتے ہیں، اس سے چند جملے سنیے:
(1 اردو ادب کو اگر بلند کرنا ہے تو نئے نئے خیالات، نئے اصول تنقید سے استفادہ کرنا ہوگا۔ ایسے خیالات، ایسے اصول جن کی حالی کو خبر نہ تھی اور نہ ہوسکتی تھی۔
(2 شعر و شاعری کی اہمیت کا صحیح اندازہ حالی کے بس کی بات نہیں۔
(3 فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ۔ یہ فہم و ادراک کی کمی ہے کہ وہ بہت سی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور ان کا صاف سلجھا بیان بھی نہیں کرپاتے۔
(4 ان کا کارنامہ یہی ہے کہ وہ ’تابمقدور‘ مغربی ادب سے استفادہ کرنے میں منہمک ہوگئے اور جو کچھ، اچھا یا برا، تھوڑا یا بہت، انھوں نے سیکھا اس کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا اور اس نئی روشنی میں اردو شاعری کو دیکھا۔
(5 دوسری بات یہ کہ وہ کام کی باتیں کام کی زبان میں کرتے ہیں۔ حالی نے صاف اور سادہ طرز ایجاد کی لیکن اس طرز میں بے رنگی نہیں، پھُسپھساپن نہیں۔ اس میں ایک لطافت ہے جاذبیت ہے… لیکن زبان کے معاملے میں بھی حالی نے کوئی اجتہاد نہیں کیا۔
(6 ادبی نقطۂ نظر سے اگر کوئی چیز دائمی ہے تو وہ شاعری نہیں، تنقید بھی نہیں، حالی کی نثر ہے۔ اگر یہ کتاب ’مقدمہ شعر و شاعری‘ پڑھی جاتی ہے یا پڑھی جائے گی تو اپنی بے مثال نثر کے لیے، تنقیدی اصول اور نظریو ں کے لیے نہیں۔ وہ نئی دنیا، نئی کائنات روشن نہیں کرتی اور نہ کرسکتی ہے۔ اس کا جادو ٹھنڈا ہوگیا ہے۔
حالی کے لیے کلیم صاحب نے خراجِ تحسین کے طور پر کئی جملے لکھے ہیں۔ حالی کی نظر محدود تھی اور فہم و ادراک معمولی ہونے کے سبب بہت سی باتیں وہ سمجھ نہیں پاتے تھے۔ انھوں نے جو ’یادگار غالب‘ تحریر فرمائی، معلوم نہیں کلیم صاحب کی نظر میں اس کی کیا وقعت رہی ہے؟ صرف ’مقدمہ‘ دیکھ اور پڑھ کر حالی کی تمیز کو ادنیٰ قرار دینا یا یہ کہنا کہ شعر و شاعری کی اہمیت کا صحیح اندازہ حالی کے بس کی بات نہیں، غلط طرز تنقید ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ عربی و فارسی اصول و نظریا ت کے علاوہ مغربی حوالوں کی بابت یہ کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے بالواسطہ استفادہ کیا تھا لیکن جس انداز میں کتاب میں ان تمام مسائل اور اصول و نظریات کی تہذیب و ترتیب حالی نے کی ہے، وہ ان کی معیاری تمیز اور فہم و ادراک اور شعور کے بالیدہ ہونے پر دال ہے اور مجھے یہ کہنے دیجیے کہ یہ ترتیب تو خود اس کتاب ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ میں نظر نہیں آتی۔
اس کتاب میں کئی ابواب اور کئی اشخاص ہیں جن پر سوال قائم ہوسکتے ہیں۔ پرانی تنقید کی سند یا پھر ’غلط ہائے مضامین‘ کا کوئی خاص Relevance نظر نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عبدالحق کو بھی بحیثیت نقاد کے اس کتاب میں پیش کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس طرح تو بہت سے محققوں نے مقدمے تحریر کیے ہیں اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ جس طرح کلیم صاحب کو لگا کہ حالی کی کتاب کا جادو ٹھنڈا ہوگیا ہے، کیوں کہ ان کے عہد میں مغربی اصول و نظریات اور نئی کرنیں ضوپاشیاں کرنے لگی تھیں، اسی طرح آج کے مابعد عہد میں اگر ہم بارت، دریدا، لاکاں، فوکو، وغیرہ کی روشنی میں دیکھیں تو کلیم صاحب کی بہت سی باتیں obsolete معلوم ہوں گی۔ ان کے سامنے نہ Lyotard کی کتاب The Postmodern Condition تھی اور نہ اِہاب حسن تھے اور نہ چارلس جنکس، وہ Logo centrism اور Phonocentrism دونوں سے ناواقف تھے، لہٰذا ان کا طرزِ استدلال یا پھر ان کا اندازِ قرأت آج کے تناظر میں بے معنی ہوجاتا ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ کلیم صاحب نے Terry Eagletonکی کتاب Criticism and Ideology (1976) نہیں پڑھی، ان کے سامنے Stanley Fish کی کتاب Is there a text in this class, (1980) نہیں تھی۔ انھوں نے Jonathan Culler کی کتاب On Deconstruction: Theory and Criticism after Structuralism, (1983) بھی نہیں دیکھی۔ ان کے سامنے Raman Selden کی کتاب Contemporary Literary Theory (1985) بھی نہیں تھی۔ اسی طرح انھوں نے Jacques Derridaکی کتابیں Writing and Difference (1978), of Grammatology (1977) نہیں دیکھی تھیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ انھوں نے رولاں بارت کی وہ کتابیں بھی نہیں پڑھی تھیں جو چھٹی اور ساتویں دہائی میں چھپ چکی تھیں جیسے:
Writing Degree Zero (1953), Mythologies (1957)
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نظریات کی سطح پر اور مختلف علوم کی سطح پر اتنی بڑی تبدیلی آرہی تھی جس کے نقوش اس عہد کی کتب میں موجود ہیں، لیکن کہیں بھی کلیم صاحب کے یہاں مذکورہ بالا نظریہ سازوں یا نقادوں اور مفکروں کے حوالے یا ان کے افکار و نظریات کے عناصر نظر نہیں آتے۔ بے چارے حالی پر یا شبلی اور آزاد پر طعنہ زن ہونے سے پہلے کلیم صاحب کو خود بھی اپنے دامن میں جھانکنا چاہیے تھا۔
مغربی علوم اور ادبیات سے واقفیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور مشرقی فضا میں رہ کر تنقید لکھنے والوں پر انگشت نمائی کرنے والے بے چارے کلیم صاحب کو، حق تو یہ ہے کہ نہ مغربی نظریات سے واقفیت تھی اور نہ ہی مشرقی شعریات سے۔ سنسکرت یا عربی و فارسی شعریات سے بحث کرتے ہوئے آپ انھیں کم پائیں گے۔ ہاں کسی نے کچھ کہا یا اردو شاعر کو انگریزی شاعر کے برابر کھڑا کیا تو فوراً کسی انگریز شاعر کے اقتباسات پیش کردیے اور اپنی طرح ان میں اعلاافکار کے عناصر تلاش کرکے بے چارے اردو شاعر کو چِت کردیا۔ خیر چھوڑیے ان باتوں کو۔ مغرب میں ان کے استاد ایف آر لیوس بھی اب کتنے رہ گئے ہیں؟ یہاں بھی آئی اے رچرڈس کو اب لوگ کتنا پڑھتے اور Quote کرتے ہیں؟ایسی بہت سی باتیں ہوسکتی ہیں۔ بس یہ کہیے کہ کلیم صاحب بغیر کسی رو رعایت کے (سطحیت سے پرے ہوکر) اپنی تنقیدی آرا پیش کرتے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ کلیم صاحب کی یہ صفت آج کے کاسہ لیسی والے دور میں اہم ہوجاتی ہے۔ آج جس طرح منہ دیکھی تنقید لکھی جاتی ہے، ضرورت ہے کہ کلیم الدین احمد کے غیرجانبدارانہ طرز تنقید کا تتبع کیا جائے۔ اسے رائج کیا جائے۔
حالی کے حوالے سے کلیم صاحب نے جو کچھ لکھا ہے، اگر اسے Tone Down کرکے لکھا گیا ہوتا تو شاید اتنا شور و غوغا نہ ہوتا، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کی توجہ بھی شاید کلیم صاحب کی طرف نہ ہوئی ہوتی۔ حالی نے جو شعر کی خوبی کے بارے میں لکھا ہے کہ سادہ ہو، جوش سے بھرا ہوا ہو اور اصلیت پر مبنی ہو، اس پر کلیم صاحب نے اپنی آراء پیش کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نیچرل شاعری کے حوالے سے بھی حالی کی فروگذاشتوں اور غلط تعبیروں پر روشنی ڈالی ہے۔ ملٹن نے جہاں Sensuous کا لفظ استعمال کیا ہے، حالی نے اس کے بدل کے طور پر لفظ اصلیت رکھا ہے۔ کلیم صاحب نے بجا طور پر اس کی تردید کی ہے کہ Sensuous کی جگہ ’اصلیت‘ مناسب نہیں۔ انھوں نے اپنی اس ’تردید‘ کی تعبیر خدا بخش لائبریری میں دیے گئے اپنے لکچر موسوم بہ ’میری تنقیدایک بازدید‘ میں پیش کی، یعنی پورے 36برسوں (اردو تنقید پر ایک نظر 1942 میں چھپی تھی) بعد۔ بعد میں انھوں نے اس لکچر میں سادگی کی تعریف و تعبیر ورڈزورتھ کی نظم سے چند سطروں کی روشنی میں پیش کی ہے۔ پھر آگے چل کر ملٹن ہی کی ایک نظم Comus سے کومسؔ کی تقریر سے چند سطریں پیش کرکے بتانے کی کوشش کی ہے کہ:
’’اگر حالی ان سطروں یا ان جیسی سطروں سے واقف ہوتے تو انھیں Sensuous کے معنی سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی اور وہ اس کا ترجمہ اصلیت نہ کرتے۔ اس کا مفہوم حسّی یا حسیاتی ہے، یعنی حواس خمسہ کی تیزی، ارد گرد کی چیزوں سے اثرپذیری کا نتیجہ ہے جو اس مثال میں واضح طور پر موجود ہے۔‘‘ (ص 30)
مجھے یہ کہنے دیجیے کہ بغیر حسّی یا حسّیاتی یعنی حواس خمسہ کے شاعری ممکن نہیں۔ تمام Sensory Nerves اس تخلیقی عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر آئی اے رچرڈس کے تنقیدی اصول کی مبادیات پر غور کیا جائے تو اس کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔ اپنے زمانے کی حسیت یعنی Sensibility سے معرا ہوکر کوئی شاعر ایک شعر نہیں کہہ سکتا جس کی طرف کلیم صاحب نے بھی اشارہ کیا ہے’’اردگرد کی چیزوں سے اثرپذیری۔‘‘ آخر یہ ’اردگرد‘ کیا ہے؟ سیاسی و معاشرتی سروکار اور عناصر ہی تو ہیں۔ اگر ان سے اثرپذیری ناگزیر ہے تو پھر اس کا تعلق کہیں نہ کہیں ’اصلیت‘ سے پیدا ضرور ہوجاتا ہے، جس کی طرف کلیم صاحب کا ذہن نہیں جاسکا، جا بھی نہیں سکتا تھا کہ حالی کی عصری حسّیت کلیم صاحب سے فزوں تھی، کہ وہ ایک جینوئن تخلیق کار (کلیم صاحب تسلیم نہیں کرتے) بھی تھے۔ کہنے کو تو کلیم صاحب بھی تخلیقی فنکار تھے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس میدان میں ان کاکوئی مقام نہیں۔
حالی کے لیے کلیم صاحب نے جہاں 19 صفحات مختص کیے ہیں، شبلی کو محض ساڑھے چھ صفحات میں نمٹا دیا ہے۔ لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ اسی میں شبلی کی تنقیدی نگارشات کا نچوڑ پیش کردیا ہے۔ کلیم صاحب کو بھی کتابوں کے حوالے نہ دینے کی ایک بُری عادت ہے۔ دراصل انھیں اقتباس پر اپنا فوری ردعمل پیش کرنے کی جلدی ہوتی ہے۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالی کے بعد شبلی نے مغربی اور مشرقی نقادوں سے استفادہ کیا اور بہت سے بنیادی مسئلوں پر روشنی ڈالی۔ شبلی نے خود ہی تسلیم کیا ہے کہ ’’انگریزی زبان میں نہایت اعلیٰ درجہ کی کتابیں اس مسئلے پر لکھی گئی ہیں جن میں سے بعض میری نظر سے بھی گزری ہیں، گو میں ان سے اچھی طرح مستفید نہیں ہوسکا۔‘‘ اب کلیم صاحب کا رد عمل سنیے:
’’یہ تو ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ وہ انگریزی کتابوں سے اچھی طرح مستفید نہیں ہوسکے اور نہ ہوسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی مغربی ادب سے سطحی واقفیت رکھتے ہیں اور یہ سطحیت ناگزیر تھی۔‘‘ جس بات کا اعتراف خود شبلی نے کیا ہے، اس پر اضافہ کرنے اور استہزائی جملے لکھنے کی قطعی ضرورت نہ تھی۔ لیکن یہی ہے ’ضرب کلیمی‘ جس کے لیے کلیم صاحب کی شہرت ہے۔ شبلی کے بقول:
’’خدا نے انسان کو مختلف اعضاء اور مختلف قوتیں دی ہیں اور اُن میں سے ہر ایک کے فرائض اور تعلقات الگ ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادت کا سرچشمہ ہیں، ادراک اور احساس۔ ادراک کا کام اشیاء کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا یا کسی مسئلے کا حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہوجاتا ہے۔ غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے۔ یہی قوت جس کو احساس، انفعال یا ’فیلنگ‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی احساس جب الفاط کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔‘‘
اس عبارت میں دل اور دماغ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن حق تو یہ ہے کہ وونوں تقریبا ً ساتھ ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔سوچنے اور غور و فکر کا عمل بلاشبہ دماغ سے ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ دل بالکل still ہوتا ہے یا پھر یہ کہ جس وقت کوئی خوشی کا لمحہ آتا ہے تو دل رقص کرتا ہے اور دماغ بے خبر ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دل کو بھی ساری خبریں دماغ کے مختلف Nerves کے ذریعہ ہی پہنچتی ہیں۔ ٹھیس پیر کے انگوٹھے میں لگتی ہے اور ’آہ‘ منہ سے نکلتی ہے۔ اس عمل میں ’منہ‘ کہاں سے شامل ہوگیا؟ ٹھیس لگنے سے جو احساس دل پر ہوا یہ کام دماغ نے کیا اور پھر اس احساس کو انسانی نطق (قوت گویائی) نے ملفوظ کیا ’آہ‘!۔ تمام اعضائے بدن کے Nerves دماغ سے جڑے ہوتے ہیں۔ انگوٹھے کے Nerve نے دماغ تک بات پہنچائی، پھر دماغ نے یہ بات دل تک Nervesکے ذریعہ پہنچائی، تب جاکر ’احساس‘ ہوا۔ شاعری میں بھی شاعر کسی تجربے سے گزرتا ہے، اس کا دماغ ادراک کرتا ہے پھر اس قوت مدرکہ کے ذریعہ تجربہ احساس کا حصہ بن کر ملفوظ ہوتاہے اور آخرکار شعری پیکر ہمارے سامنے آتا ہے۔ تبھی تو کلیم صاحب کہتے ہیں ’’شعر میں ایک تجربہ ہوتا ہے، یگانہ و یکتا۔ یہ یاد رہے کہ شعر ہی تجربہ ہے۔ یہ تجربہ کوئی خیالی ہوسکتا ہے، کوئی ذہنی نقش ہوسکتا ہے یا کوئی احساس یا جذبہ۔‘‘ (سخن ہائے گفتنی)
شبلی کی مذکورہ بالا عبارت پر کلیم صاحب اپنی رائے یوں پیش کرتے ہیں:
’’شاعری کاتعلق جذبات یا دل سے ہے، علوم و فنون کا تعلق ادراک یا دماغ سے۔ یہ زاویۂ نظر درست نہیں، اور یہ شاعری کی ماہیت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ شاعری اضطراری کیفیت کا نتیجہ نہیں۔ تمام علو م و فنون کی طرح یہ بھی دماغی تحریکات کا نتیجہ ہے۔ شاعری میں ادراک کا وجود ضروری ہے، اُسی قدر ضروری ہے جس قدر دوسرے علوم و فنون میں۔ ادراک شاعری کی روح رواں ہے۔ شاعر اپنے زمانہ میں ادراک کے سبب سے بلند مقام پر ہوتا ہے۔‘‘ (ص :94)
کلیم صاحب اپنی مذکورہ تنقیدی آرا میں حق بجانب ہیں۔ یہ سچ ہے کہ صرف خیال، احساس یا جذبہ شعر نہیں بنتا بلکہ شعر میں ان مجرّد یا غیرمجرّد خیالات، احساسات یا جذبات کی ترتیب و تہذیب قوت مدرکہ ہی کرتی ہے۔ پھر اسی کے ساتھ الفاظ و تراکیب کے انتخاب اور ان کے در و بست کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ہاں، یہ سارے کام بہت میکانکی انداز میں نہ ہوکر کم و بیش Spontaneity کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر ادراک نے بہت زیادہ دخل درمعقولات شروع کردیا تو شاعری میں کاریگری اور صناعی بلکہ مصنوعی پن پیدا ہوجاتا ہے۔ جس سے شاعری کا فطری حسن مجروح و مشکوک ہوجاتا ہے۔ بہرحال کلیم صاحب بہت دقت نظری کے ساتھ شبلی کی تنقیدی بصیرت کا محاکمہ پیش کرتے ہیں۔ وہ شبلی کے ذریعہ پیش کی گئی محاکات اور تخیل کی بحث کو نشان زد کرتے ہیں۔ گرچہ وہ شبلی کے ذریعہ تخیل کی مختلف صورتوں پر روشنی ڈالنے کی تعریف کرتے ہیں، لیکن تخیل کی کوئی واضح تعریف نہ کرنے کی بنیاد پر شکوہ بھی کرتے ہیں۔ آخر میں جہاں شبلی نے تخیل کی بے عنوانی کا بیان کیا ہے، اس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جس چیز کو وہ تخیل سمجھتے ہیں، اس کو تخیل سے دور کا بھی لگاؤ نہیں۔ یہ بحث تو ٹھیک ہے، لیکن عملی تنقید اور تقابلی تنقید کے جو مباحث اور عناصر شبلی کے یہاں ملتے ہیں، ان کا اعتراف کلیم صاحب کو بھی ہونا چاہیے۔ آگے چل کر شبلی نے جہاں عربی کتاب ’کتاب العمدہ‘ کے باب فی اللفظ والمعنی کے حوالے سے لفظ اور معانی سے بحث کی ہے، وہاں وہ شبلی کے اس جملے کی تعریف کرتے ہیں کہ ’’لفظ جسم ہے اور مضمون روح ہے، دونوں کا ارتباط باہم ایساہے جیسا روح ا ور جسم کا ارتباط کہ وہ کمزور ہوگا تو یہ بھی کمزور ہوگی۔‘‘ (ص 94)
لیکن جب شبلی کی اس عبارت پر پہنچتے ہیں :
’’حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشاپردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ ہی پر ہے ’گلستاں‘ میں جو مضامین اور خیالات ہیں ایسے اچھوتے اور نادر نہیں۔ الفاظ کی فصاحت اور ترتیب اور تناسب نے ان میں سحر پیداکردیا ہے۔ انھیں مضامین اور خیالات کو معمولی الفاظ میں ادا کیا جائے تو سارا اثر جاتا رہے گا۔‘‘
تو کلیم الدین احمد کو اعتراض کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شبلی نے کھلے طور پر خیالات (یعنی مضامین) پر الفاظ کو فائز و فائق قرار دیا ہے لیکن شبلی نے جہاں معمولی الفاظ میں ادا کیے جانے سے اثر کے زائل ہونے کا ذکر کیا ہے، اُس سے ان کا منشا کہیں نہ کہیں لفظوں کی صحیح ترتیب اور در و بست سے ہوگا۔ بھلا اس میں کیا شبہ کہ کوئی لفظ بذات خود حسین یا خراب یا بدصورت نہیں ہوتا، اس کا برمحل اور برجستہ استعمال اُسے خوبصورت بناتا ہے۔ کلیم صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ بے خبری ہے۔ خیالات اور جذبات اور الفاظ کے ناگزیر تعلق سے بے خبری ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ بظاہر نامانوس، ثقیل اور غیرفصیح الفاظ اگر موقع و محل سے کام میں لائے جائیں تو نامانوس، ثقیل اور غیرفصیح باقی نہیں رہیں گے۔‘‘ (ص 96)
آگے چل کر وہ ’موازنۂ انیس و دبیر‘میں انیس کے شعری امتیازات کا ذکر فصاحت، روز مرہ اور محاورہ، بلاغت، استعارات و تشبیہات، انسانی جذبات یا احساسات، مناظر قدرت، واقعہ نگاری، رزمیہ وغیرہ کے تحت کیے جانے کو پرانی تنقید کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ شبلی کے عہد میں کون سی نئی تنقید کی چمک کلیم صاحب تلاش کرتے ہیں، معلوم نہیں۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ انسانی جذبات اور مناظر قدرت اور رزمیہ الگ الگ چیزیں نہیں۔ اس پر بہت کچھ تفصیلی مباحث کی گنجائشیں نکلتی ہیں، لیکن اس مضمون میں سردست اسے یہیں چھوڑا جاتا ہے۔ وہ شبلی کے فصاحت اور بلاغت والے تذکرے کو بھی تقریباً کالعدم قرار دیتے ہیں۔ آخر میں لکھتے ہیں:
’’حالی نے پرانی تنقید سے الگ ہوکر نئی تنقید کی ابتدا کی۔ شبلی نئی اور پرانی تنقید کے بیچ معلق نظر آتے ہیں۔‘‘ (ص 99)
یہاں آکر انھیں حالی نئی تنقید کے بنیاد گزار نظر آئے۔ شبلی کو کم تر ثابت کرنے کا یہ بھی ایک حربہ ہوسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شبلی میں حالی کی سی تنقیدی بصیرت اور نظم و ضبط نہیں تھا لیکن جس طرح کلیم صاحب نے نثر حالی کی تعریف کی ہے، شبلی کی نثر بھی اس تعریف کی بجا طور پر مستحق تھی۔ لیکن معلوم نہیں ان کی نظر شبلی کے اسلوب نثر کی طرف کیوں نہ جاسکی۔
مولوی عبدالحق کی حیثیت اور شناخت ایک محقق اور زبان داں کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے تنقیدیں بھی لکھی ہیں اور تنقیدی نظر کا استعمال کرتے ہوئے موقر اور معیاری تحقیقی نگارشات بھی پیش کی ہیں۔ خصوصاً انھوں نے جو مقدمے تحریر فرمائے وہ بے حد کام کے ہیں اور معیاری ہیں۔ کلیم صاحب نے اپنی اس کتاب میں بحیثیت نقاد کے انھیں پیش کیا ہے اور بڑی تعریفیں کی ہیں۔ لیکن بعد میں انھیں بھی الٹ دینے کی کوشش کی ہے۔ عبدالحق نے باغ و بہار کو قصہ چہار درویش کا ترجمہ ہونے کے بجائے یہ ثابت کیا کہ یہ دراصل عطاحسین تحسین کی کتاب ’نوطرزِ مرصع‘ کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ پھر انھوں نے عبارتیں پیش کرکے اختلاف و مماثلت پر روشنی ڈالی ہے۔ کلیم صاحب اس تحقیق کی خوب داد دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محقق جب کسی چیز کی تحقیق کرتا ہے تو وہ بے حد خوش ہوتا ہے اور مبالغے سے کام لیتا ہے۔ جیسے عبدالحق نے بھی ’مثنوی خواب و خیال‘ کی مبالغہ آمیز تعریف و توصیف کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’شاید ہی کوئی مثنوی زبان کی سلاست اور روانی، فصاحت اور شیرینی روز مرہ کی صفائی، قافیوں کی نشست اور مصرعوں کی برجستگی، زنانے مردانے محاوروں کے بے تکلف استعمال میں مثنوی خواب و خیال کا مقابلہ کرسکتی ہے…‘‘
’’یہ کوئی مسلسل قصہ یا داستان نہیں ہے…ایک مسلسل داستان کے بیان میں جو مختلف اشخاص کی سیرت نگاری اور مختلف حالات و واقعات کے دکھانے میں شاعر کو مشکلات پڑتی ہیں اور جس سے اس کے کمالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں سے یہ مثنوی خالی ہے۔‘‘
کلیم صاحب کا تبصرہ ہے:
’’لیکن وہ ان خامیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں اور اس کی خوبیوں کو اپنے مخصوص رنگ میں مبالغہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔‘‘
خود ہی اوپر اقتباس پیش کیاجس میں مثنوی کی خامیوں کا ذکرہے، اور پھر بھی یہ کہنا کہ وہ ان خامیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں، مناسب نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کلیم صاحب کی بدنیتی اور جانب داری کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آگے چل کر کلیم صاحب مزید فرماتے ہیں:
’’…لیکن اصل خامی دل چسپی کی کمی ہے اور اس خامی کا عبدالحق صاحب کو احساس نہیں۔ اگر اس مثنوی کو ایک مجلس میں شروع سے آخر تک پڑھا جائے تو یہ حقیقت ظاہر ہوجائے گی۔ تھوڑی دیر کے بعد طبیعت اکتا جائے گی… اور اردو زبان کو سلاست اور روانی، فصاحت اور شیرینی، روزمرہ کی صفائی، قافیوں کی نشست اور مصرعوں کی برجستگی، زنانے اور مردانے محاوروں کا بے تکلف استعمال، یہ سب چیزیں اس خامی کو دور نہیں کرسکتی ہیں۔‘‘ (ص 103)
کلیم صاحب جس پر تنقید کرتے ہیں، اس کے حوالے سے کوئی نہ کوئی آزمائشی نسخہ ضرور پیش کرتے ہیں۔ جیسے یہاں بھی، مذکورہ مثنوی کی اثر انگیزی کو ثابت کرنے کے لیے کسی مجلس میں اس کے پڑھے جانے کا تقاضا۔ پہلی بات تو یہ کہ کیا ہر تخلیق کو آزمانے کے لیے مجلس قائم کرکے اُسے شروع سے آخر تک پڑھ کر سنانا ضروری ہے؟ پھر یہ کہ جن لوگوں کی یہ مجلس ہوگی، ان کی ذہنی و علمی سطحیں کیا ہوں گی، جو فن پارے کی داد دیں گے اور اس داد کو معیاری اور مستند بھی سمجھ لیا جائے گا۔ انھوں نے انگریزی کے جن شعرا کے فن پارے اردو شاعری کے کلام کے سامنے رکھ کر تضحیک آمیز جملے لکھے ہیں، کیا ان انگریزی شاعروں کے کلام کو اسی کسوٹی سے گزاراگیا تھا یا وہاں کے لیے یہ ضروری نہیں؟ پھر یہ کہ مشاعرے میں تو بڑی بھیڑ ہوتی ہے اور ہلکے پھلکے شعر پر بھی چھتیں (اگر مشاعرہ ہال میں ہورہا ہو) اڑ جاتی ہیں اور سبحان اللہ سبحان اللہ کی آوازیں ہوتی ہیں اور ایسی داد و تحسین کو خود کلیم صاحب لائق اعتنا تصور نہیں کرتے۔ دوسری بات یہ کہ اگر کسی فن پارے میں یہ سلاست اور روانی ہو، فصاحت اور شیرینی ہو، روزمرہ کی صفائی ہو، مصرعوں کی برجستگی ہو، محاوروں کا بے تکلف استعمال ہو، تو کیا یہ کہا جانا چاہیے کہ ایسے فن پارے کے پڑھنے یا سننے میں اکتاہٹ ہوگی؟ جس طرح کلیم صاحب کبھی کبھی غیرمنطقی تنقیدی آرا پیش کرتے ہیں، کوفت سی ہوتی ہے۔ لیکن وہ پھر عبدالحق کی سوجھ بوجھ اور معتدل اور غیرجانب دارانہ تنقید کی تعریف کرتے ہیں:
’’اپنی تنقید کو مثالوں سے جامع کرتے ہیں اور کج فہمی اور کوتاہ نظری سے اپنے دامن کو آلودہ نہیں کرتے ہیں۔‘‘
’’خیالات کے بیان میں متانت ہوتی ہے، سنجیدگی ہوتی ہے۔ متانت کبھی ہاتھ سے جانے نہیں پاتی۔ کسی خاص خیال یا زاویۂ نظر کی کورانہ تقلید بھی نہیں ملتی۔ عبدالحق صاحب جو کچھ کہتے ہیں سمجھ بوجھ کر۔ صداقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی رائیں بے لاگ ہوتی ہیں اور خارجی واقعات سے متاثر نہیں ہوتیں۔‘‘ (ص 107)
عبدالحق کج فہمی اور کوتاہ نظری سے اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیتے۔ وہ غیرجانب دار ہیں۔ ان کے اندر متانت بھی ہے اور جو کچھ کہتے ہیں سمجھ بوجھ کر کہتے ہیں۔ وہ کسی بھی زاویہ نظر کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ بیجا نکتہ چینی ان کا شیوہ نہیں۔ یہ سب اوصاف کلیم صاحب نے گنوائے ہیں۔ لیکن یہ بھی لکھا ہے:
’’عبدالحق صاحب کی تنقید مشرقی فضا میں سانس لیتی ہے۔ وہ انگریزی سے واقف ہیں، حالی سے کچھ زیادہ ہی واقف ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو انگریزی ادب، مغربی اصول تنقید سے بہت کچھ واقفیت حاصل کرسکتے تھے۔ اس واقفیت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے بھی انھوں نے واقفیت حاصل نہ کی، یہی ان کی سب سے بڑی کمی ہے۔‘‘ (ص 105)
سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ کلیم صاحب کسی بھی شخص سے آخر یہ تقاضا کیسے کرسکتے ہیں کہ فلاں کو اس کی واقفیت حاصل کرنی چاہیے تھی، جو اس نے نہیں کی۔ اگر کوئی ان سے کہے کہ آپ نے عربی، فارسی اور سنسکرت شعریات سے اگر استفادہ کیا ہوتا تو مشرقی ادب (اردو بھی) کی افہام و تفہیم میں آسانی ہوتی۔ آزاد ہوں، حالی ہوں یا شبلی، ہر ایک سے انھوں نے کچھ ایسے ہی تقاضے کیے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ان سب حضرات کو تنقید لکھنے سے پہلے کیمبرج سے TRI-POS کی ڈگری لے کر آنا چاہیے تھا۔ عبدالحق نے جو بھی کام کیے ہیں بہت ہی مستند اور معیاری ہیں۔ پھر یہ کہ اگر ان کی تنقید مشرقی فضا میں سانسیں نہ لیتی تو کیا وہ ان کتابوں کے خوبصورت معیاری اور معلومات مقدمے تحریر فرما سکتے تھے، جو ابھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں؟ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
’’اپنے جملہ اوصاف کے باوجود بھی عبدالحق صاحب نقاد کی حیثیت سے حالی کے مرتبہ تک نہیں پہنچتے۔‘‘
دونوں میں بہت سی باتوں میں مماثلت اور مشابہت ہونے کی بات کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ:
’’وہ حالی کی لکیر پر چلتے رہے۔ نقاد کی حیثیت سے وہ حالی کے دوش بدوش نہیں چلتے ہیں بلکہ مؤدبانہ طور پر سعادت مند شاگرد کی طرح پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ (ص111)
آپ غور کریں گے کہ کلیم صاحب جیسے جیسے آگے بڑھتے جاتے ہیں حالی کی اہمیت اور تنقیدی قدر و قیمت ان کے اندر بڑھتی جاتی ہے۔ شاید یہ بات ان کے اندر نادانستہ طور پر پیدا ہوتی ہے اور یہ حالی کی معیاری اور خوبصورت نثر اور تنقیدی بصیرت کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وہ عبدالحق کی تنقیدی تحریروں سے بے جا طور پر نئی اقدار اور نئی تبدیلی کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں، حالاں کہ پوری اردو دنیا اس بات کی معترف ہے کہ عبدالحق کے کارنامے ایسے ہیں جو کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ ہر آدمی کا مزاج الگ ہوتا ہے، افتاد طبع مختلف ہوتی ہے۔ خود کلیم صاحب کی شخصیت کے بارے میں جب سنتے اور پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے حد Boaring شخصیت کے مالک تھے۔ گم سُم، خاموش طبع، کم آمیز اور غیرمجلسی، ظاہر ہے کہ یہ ایک فطری پہلو ہے۔ اب کوئی یہ کہے کہ انھیں کلاس میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اچھل کود کرنا چاہیے تھا۔ قہقہے لگاتے رہنا چاہیے تھا۔ جب ضرورت ہو یا نہ ہو، گیت گاتے رہنا چاہیے تھا۔ مجلس میں بلاوجہ بھی بول کر سبھوں پر چھاجانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی وغیرہ۔ یہی باتیں کلیم صاحب کی سمجھ میں نہیں آئی اور ہر اک کی علمی لیاقت، ماحول، افتاد طبع اور اسلوب نگارش کے خلاف اُس سے مطالبہ اور تقاضا کرتے رہے، جس پر شور و واویلا ہونا ایک فطری بات تھی۔
عبدالرحمن بجنوری نے ’محاسن کلام غالب‘ میں مغربی شعرا سے غالب کا تقابل کیا۔ ظاہر ہے کہ کلیم صاحب نے بجنوری کی مبالغہ آمیز تنقید کی گرفت کی۔ انھوں نے غالب اور جرمن شاعر گیٹے کے حوالے سے لکھا ہے:
’’غالب اور گیٹے دونوں کی ہستی انسانی تصور کی آخری حدود کا پتہ دیتی ہے۔ شاعری کا دونوں پر خاتمہ ہوگیا۔ دونوں اقلیم سخن کے شہنشاہ ہیں، تہذیب و تمدن، تعلیم، تربیت، فطرت کوئی زندگی کا ایسا پہلو نہیں جس پر دونوں کا اثر نہ پڑا ہو۔‘‘
کلیم صاحب کا رد عمل سنیے:
’’گیٹے کا مقام اس قدر بلند نہیں جتنا کہ بجنوری مرحوم سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ غالب ایک مبتذل صنف شاعری یعنی غزل میں لکھتے رہے… پھر غالب میں وہ شاعرانہ اوصاف نہیں جو دانتے، شیکسپیئر یا گیٹے میں پائے جاتے ہیں۔‘‘
گیٹے کا مقام اس قدر بلند نہیں، پھر بھی ان میں وہ اوصاف ہیں جو غالب میں نہیں پائے جاتے۔ یہ بھی کہ گیٹے کا مقام بلند نہیں تو آخر کن اوصاف کی بنیاد پر وہ دانتے اور شیکسپیئر کی صف میں ہے؟ ایسا تو نہیں کہ کلیم صاحب کو بھی اردو کے بعض نقادوں کی طرح تیتر بٹیر یا پھر بھیڑ بکری کو ایک ساتھ جمع کرنے کاشوق پیدا ہوگیا ہو؟ یہ بھی لکھتے ہیں کہ غالب ایک مبتذل صنف شاعری یعنی غزل میں لکھتے رہے۔ چلیے، مان لیتے ہیں کہ غزل ایک مبتذل صنف شاعری ہے، بلکہ نیم وحشی بھی ہے۔ لیکن دیکھنا چاہیے کہ اس مبتذل صنف غزل میں غالب کی شاعری کا فکری و اسلوبی معیارکیا ہے۔ خود کلیم صاحب کو معلوم ہے کہ شیکسپیئر نے کوئی بھی طویل نظم نہیں کہی۔ ملٹن اور دانتے نے تو خیر طویل نظمیں کہی ہیں۔ کسی بھی شاعر کی شاعری وحشی، نیم وحشی یا مبتذل ہوسکتی ہے جس کی مثالیں ہماری ادبی تاریخ میں موجود ہیں، لیکن کسی بھی صنف شاعری کو مبتذل یا نیم وحشی نہیں کہا جاسکتا۔ جارج سینٹیانا (George Santayana) نے بھی براؤننگ کی نظموں کو نیم وحشی کہا تھا صنف کو نہیں۔ اسی سنٹیانا نے پوپ (Pope) کی شاعری کو Skeleton of Poetry کہا تھا نہ کہ Heroic Couplet کو۔ اس موضوع پر ڈاکٹر تاج پیامی نے اپنی کتاب ’صاعقۂ طور‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ انھوں نے سینٹیانا کے علاوہ انگریزی میں وحشی یا نیم وحشی کے استعمال کی مزید تین مثالیں پیش کی ہیں۔ ایک شاعر Leconte de Lisle ہے جس کی کتاب کا نام Barbarian Poetic اس لیے ہے کہ اس نے Barbarian Races پر نظمیں کہی تھیں۔ اسی طرح Keats نے ملٹن کے رزمیہ Paradise Lost سے متعلق کہا تھا Paradise lost is a corruption of our language پھر Gilbert Highet نے اپنی کتاب The Classical Tradition میں لکھا تھا کہ Many critics accuse Milton of barbarying the language اور تیسری مثال Thomas love Peacock (1785-1866) کے ایک طویل مضمون The four ages of Poetry (1820) سے ہے جس میں اس نے اپنے دور Romantic Period کو پیتل سے تعبیر کیا اور کہا:
The Poet in our times is a semi-barbarian in a civilized society.
(صاعقہ طور: ص 211)
تاج پیامی نے کئی ثبوت پیش کیے ہیں کہ رزمیہ میں سب سے زیادہ وسعت ہوتی ہے، ڈراما میں بھی نہیں جس کے لیے شیکسپیئر کی شہرت ہے۔ اُس نے کوئی رزمیہ نہیں لکھی۔ ہومر کی اوڈیسی، الیڈ، بالمیکی کی رامائن، فردوسی کی شاہنامہ وغیرہ رزمیے کی مثالیں موجود ہیں۔ میتھیو آرنلڈ نے کہا تھا کہ شیکسپیئر Grand Style کا ماہر نہ تھا۔ ڈاکٹر جانسن نے تو یہ بھی لکھاکہ شیکسپیئر نے کہیں بھی لگاتار چھ سطروں سے زیادہ اچھی شاعری نہیں کی۔ خیر یہ بحث طویل ہوسکتی ہے۔ مختصراً یہ کہ غالب بلند پایہ شاعر تھا اور ہے۔ فکر اور اسلوب دونوں سطحوں پر اُس کی شاعری قبول کی جاچکی ہے۔ انگریزی تراجم سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دوسری زبانوں میں غالب Transcend کرچکا ہے۔ کلیم صاحب نے جو لکھا، ضروری نہیں کہ اس کا اثر بھی ہو۔ جہاں تک بجنوری کے یہ لکھنے کا سوال ہے کہ شاعری کا دونوں پر خاتمہ ہوگیا ہے، درست نہیں۔ ایسی تنقید کا خاتمہ ہوجاتا ہے، شاعری چلتی رہتی ہے جیسا کہ کلیم صاحب کے غزل کو مبتذل اور نیم وحشی کہنے سے بھی کچھ فرق نہ پڑا اور غزل چلتی رہی۔
اس باب ’پیروی مغربی‘ میں کلیم صاحب نے عبدالرحمن بجنوری کے بعد محی الدین قادری زور کی تصنیف ’روح تنقید‘ اور عبدالقادر سروری کی ’دنیائے افسانہ‘ کا جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ’’ میں نے ان کتابوں کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ ’پیروی مغربی‘ نے ابتدا میں کیاکیا گل کھلائے اور آج کیا گل کھلاتی ہے، اُجاگر ہوجائیں۔‘‘ (ص 128)
بات عبدالرحمن بجنوری کی ہورہی تھی۔ انھوں نے مقدمے میں لکھا ہے:
’’پس کیا تعجب ہے کہ اگر اس یورپ زدگی کے زمانہ میں طالب علم اور انگریزی تعلیم یافتہ مرزا غالب کا شیکسپیئر، ورڈزورتھ اور ٹینی سن سے مقابلہ کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ افسوس یہ کوتاہ نظر نہیں جانتے کہ شاعری اور تنقید پر کیا دانستہ ظلم ہوتا ہے۔‘‘
ظاہر ہے، کوئی نقاد یہ لکھے اور خود بھی وہی ظلم کرنے کا مرتکب ہو تو کلیم صاحب کہاں بخشنے والے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی غالب کا تقابل جرمن اور انگریز شاعروں سے کرتے ہیں اور عش عش بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے غالب کے اس شعر:
گر نہ اندوہِ شب فرقت نہاں ہوجائے گا
بے تکلف داغِ مہ مُہر دہاں ہوجائے گا
کی تفسیر و تعبیر کرنے کے ساتھ ورڈزورتھ کی دو سطریں پیش کرکے تقابلی مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ سطریں ہیں:
"O’ Mercy’ to myself I cried
"If Lucy should be dead”
اب لیجیے، کلیم صاحب وہ پوری نظم ہی لکھ کر اس کا ترجمہ پیش کردیتے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’پڑھنے والے فیصلہ کریں کہ غالب کے شعر اور ورڈزورتھ کی نظم میں کیا مشابہت ہے۔ دونوں میں چاند کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ کسی قسم کا لگاؤ نہیں۔‘‘ (ص 119)
کلیم صاحب نے درست فرمایا کہ دونوں میں ’چاند‘ کا ذکر ہے، دوسری کوئی مشابہت نہیں۔ ہو بھی نہیں سکتی۔ بجنوری بھی کلیم صاحب کی طرح تیتر بٹیر ایک جگہ جمع کرنے کے شوقین تھے۔ شعر کا تقابل بجنوری نظم کے دو مصرعوں سے کرتے ہیں، پھر کلیم صاحب پوری نظم پیش کردیتے ہیں۔ دونوں حضرات نظم اور شعر کے فرق کو ملحوظ رکھنے سے قاصر ہیں، اس لیے ایسی کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں۔ اسی طرح بجنوری پول ورلین کی نظم ’میرا خواب‘ کا تقابل غالب کے ایک قطعہ سے کرتے ہیں۔ پوری نظم کلیم صاحب لکھ کر اس کا ترجمہ پیش کردیتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہاں بھی مماثلت اور مشابہت کے عناصر نہ کے برابر ہیں۔ آخر میں کلیم صاحب دل چسپ تبصرہ یوں کرتے ہیں:
’’جب بچہ کوئی نیا لفظ سیکھتا ہے تو اُسے بار بار بولتا ہے۔ اردو انشاپردازوں کی بھی یہی حالت ہے۔ وہ مغربی ادب سے نئی واقفیت حاصل کرکے اس بچے کی طرح خوش ہوتے ہیں اور اس سے بے جا مصرف لیتے ہیں۔‘‘
(ص 122)
’روح تنقید‘ محی الدین قادری زور کی تصنیف ہے اور بقول کلیم الدین احمد طالب علمی کے زمانے میں لکھی گئی تھی۔ لیکن جب جائزہ لیا جاتا ہے تو کلیم صاحب کی توقعات اس کتاب سے نہایت بلند پایہ اسکالر کی تصنیف کی طرح بڑھ جاتی ہیں اور پھر لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زور کی ’روحِ تنقید‘ بے روح قرار دی جاتی ہے۔ مولوی عبدالحق نے اس کتاب پر جو تبصرہ کیا تھا، اس کے بہت سے اقتباس کلیم صاحب نے پیش کیے ہیں اور ساتھ ہی ’روح تنقید‘ سے بھی جملے اور فقرے پیش کرکے ان میں پائی جانے والی سادگی یا پھر متضاد باتوں پر تبصرہ کیا ہے، اور آخر میں یہ لکھ دیا ہے کہ کاش ڈاکٹر محی الدین قادری ’روح تنقید ‘ کے بدلے تاریخ تنقید پر سینٹس بَری کی مشہور کتاب کا ترجمہ کرڈالتے۔ کلیم صاحب اس طرح کے مشورے مختلف مصنفوں کو دیتے آئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سینٹس بری کی اُس مشہور کتاب کا نام بھی لکھ دیتے تاکہ طالب علموں کا بھلا ہوجاتا۔ اگر یہ وہی سینٹس بَری George Santsburry ہے جس نے Jane Austen کے فین کے لیے Janeite جیسی اصطلاح وضع کی تھی، تو پھر اس کی کئی اہم کتابیں ہیں۔ والٹراسکاٹ اور ڈرائڈن پر بھی کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کلیم صاحب کی نظر میں مندرجہ ذیل کتابوں میں سے کوئی کتاب رہی ہو:
A Primer of French Literature (1880)
Short History of French Literature (1882)
History of 19th Century Literature (1896)
A Short History of English Literature (1898)
لیکن انھوں نے کسی کتاب کا نام نہیں لکھا ہے۔
کہیں تو وہ غیرضروری اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور کہیں ناگزیر ہونے پر بھی سکوت اختیار کرلیتے ہیں۔
اس باب میں کلیم صاحب نے تیسری مثال عبدالقادر سروری کی کتاب ’دنیائے افسانہ‘ کی دی ہے۔ مصنف نے بھی اس موضوع پر اسے پہلی تصنیف قرار دیا ہے اور کلیم صاحب نے بھی۔ لیکن اسے ایک بے وقعت اور سطحی تصنیف کہا ہے۔ لکھا ہے کہ عبدالقادر صاحب نے افسانے پر چند انگریزی کتابیں دیکھی ہیں اور ساری باتیں انھی کتابوں سے لے لی ہیں۔ جو کتابیں انھوں نے دیکھی ہیں وہ پرانی اور فرسودہ ہیں۔ یہ بھی بتایا ہے کہ اس کتاب میں افسانہ کے خارجی اوصاف سے بحث کی گئی ہے۔ اور یہ ذکر بھی مستعار ہے۔ اسی طرح کلیم صاحب نے اس کتاب کو بھی رد کردیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان کتابوں میں مستعار افکار ونظریات ہیں لیکن اسے میں عیب نہیں سمجھتا۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کا اطلاق کس طرح کیا جاتا ہے یا پھر یہ کہ ان کی ترتیب و تہذیب کس طرح کی جاتی ہے۔ کلیم صاحب نے یہ کام بڑی ہی خوش اُسلوبی سے کیاہے۔ آج محی الدین قادری زور یاعبدالقادر سروری اور ان کی مذکورہ بالا تصانیف کی معنویت ختم ہوچکی ہے۔ یوں بھی ان کے کارناموں کے دائرے زبان اور لسانیات تسلیم کیے جاچکے ہیں، لہٰذا کلیم الدین احمد کی اس کتاب میں ان کا ذکر نقاد کی حیثیت سے بے معنی اور غیرضروری ہے۔ عبدالرحمن بجنوری کی تنقید بھی آج کی تنقیدی بساط پر چل نہیں سکتی۔
کلیم الدین احمد کا عہد ترقی پسندوں کے عروج کا زمانہ ہے۔ لہٰذا انھوں نے اس زمانے میں جو بڑے لکھنے والے تھے، ان کی تنقیدی نگارشات کاجائزہ اپنی اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ترقی پسند مصنّفین اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتے۔ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگانا ادب نہیں ہوسکتا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وہ چند الفاظ، خیالات اور بندھے ٹکے فقروں کے دام میں گرفتار ہیں: زندگی کی حقیقتیں، تاریخی واقعات، زندگی ایک نامیاتی اور جدلیاتی حقیقت ہے، ادب و زندگی کا تعلق، ادب زندگی کی تنقید ہے، انسان کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہے، حسن اور افادہ، سائنٹفک نقطۂ نظر، ماحول، سماج۔‘‘
اس کے بعد کلیم صاحب ان نکات کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام باتیں جو تاریخ، سماج، زندگی، جدلیاتی حقیقت، روٹی، افادی ادب وغیرہ کا ذکر ہوا ہے، مارکسی تنقید کا طرۂ امتیاز ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہے۔ اس اشتراکی نقطۂ نظر کی تردید کرتے ہوئے کلیم صاحب لکھتے ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی اہم قیمتی ضرورت دماغی خواہشات کی تسکین اور دماغی قوتوں کی ترقی ہے۔ اشتراکی نقاد انسانی تہذیب، کلچر اور ادب کی بنیاد حیوانی عناصر پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کلیم صاحب کی اپنی تعبیر و تشریح ہے۔ اس میں صداقت بھی ہوسکتی ہے، مگر اس قدر بھی نہیں۔ انسان کی عظمت کا راز بے شک اس کے اعلا دماغ اور اعلا فکر میں پوشیدہ ہے، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اپنے اندر بھوک اور جنسی خواہشات جیسی فطری جبلّت بھی رکھتا ہے۔ ان دونوں کا اظہار چاہے ہو یا نہ ہو، ان کی تکمیل کے بغیر اعلا دماغ یا اعلا فکر کا تصور تقریباً ناممکن ہے۔ کلیم صاحب نے مارکسی نقادوں کے حوالے سے یہ جو کہا ہے کہ وہ تہذیب، کلچر اور ادب کی بنیاد حیوانی عناصر پر رکھناچاہتے ہیں، سے مراد یہی ہے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میکسم گورکی کی یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ ہماری تمام تصنیفات کا ہیرو مزدور ہونا چاہیے، بالفاظ دیگر محنت سے جنم لینے والا انسان (Life and Literature p: 135) لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ ہمارا ادب انسانی معاشرے کی پیداوار ہے اور ہونا چاہیے۔ بہت موٹی سی بات ہے کہ ایک شاعر یا ادیب اسی معاشرے کا فرد ہوتا ہے اور وہ اپنے آس پاس کے مسائل یا پھر انسانی جذبات و احساسات (ذاتی اور اجتماعی) کو فن پارے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اگر مارکسی ادب و تنقید میں مقصد، مزدور، روٹی اور انقلاب زندہ باد کا تناسب کم ہوتا تو آج بھی اس کی معنویت سے انکار ممکن نہیں تھا۔ کلیم صاحب نے برگساں کی اردو میں تین صفحات پر مشتمل ایک طویل عبارت (حسب عادت بغیر کسی حوالے کے) پیش کی ہے اور اس سے پہلے یہ بھی لکھا ہے کہ کاش ترقی پسند نقاد انھیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ (ص 141)
کلیم صاحب نے اپنی کتاب سخن ہائے گفتنی کے حصہ (ج) میں بھی مارکس اور فرائڈ کے نظریات کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ہے اور بہت سی باتیں دونوں کتابوں میں مشترک ہیں، مماثل ہیں۔ اس میں کوئی عیب بھی نہیں کہ جب موضوع بحث ایک ہوگا تو یہ مماثلت یا Repetation ناگزیر ہوگی۔ یہ تحریر معاصر کے ماہنامہ سے سہ ماہی ہونے (حصہ نمبر 1) پر تعارف کے طور پر شائع ہوئی تھی۔
کلیم الدین احمد ادب کی ادبیت اور اس کے آرٹ کا نمونہ ہونے کو اہم تصور کرتے ہیں۔ اسی باب میں انھوں نے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے جو بہت ہی فطری ہے:
’’ادب نام ہے انسان کے خیالات و جذبات کے اظہار کا لیکن جس طرح کائنات کا ہر ذرہ حرکت میں ہے اُسی طرح انسان کے خیالات بھی جامد نہیں، سیال ہیں۔ وہ بھی بدلتے رہتے ہیں اور کسی دو لمحے میں کسی ایک شخص کے جذبات یکساں نہیں رہتے۔ لیکن الفاظ جامد ہیں سیال نہیں…‘‘ (ص 137)
کائنات کا ہر ذرہ حرکت میں ہے، درست فرمایا۔ انسان کے خیالات جامد نہیں سیال ہیں، ٹھیک! کسی دو لمحے میں کسی ایک شخص کے جذبات یکساں نہیں رہتے۔ رُکیے، مجھے سمجھنے دیجیے۔ کسی ایک شخص کے جذبات دو لمحوں میں یکساں نہیں ہوتے۔ یعنی ایک شخص کے ایک لمحے میں جو جذبات ہوتے ہیں وہ دوسرے لمحے میں (لازماً) بدل جاتے ہیں۔ ایسے میں کلیم الدین احمد صاحب کا غزل کے حوالے سے ریزہ خیالی اور اس میں غیرمسلسل مضامین کے ہونے کا شکوہ از خود معطل ہوجاتا ہے۔ ایک لمحے میں جو خیال یا جذبہ پیدا ہوا وہ شعری پیکر میں ملفوظ ہوکر سامنے آگیا، پھر دوسرے لمحے میں دوسرا جذبہ (خیال) پیدا ہوا، وہ بھی شعری پیکر میں ڈھل گیا۔ یہ تو عین فطری ہوا بلکہ اس میں آفاقی تصور ہے اور یہی سچائی ہے جس کے سبب غزل کے مضامین متحد الخیال نہیں ہوتے اور کلیم صاحب جس کے لیے بے جا طور پر شکوہ سنج رہے ہیں۔ خیر یہ بات یہاں ضمنی طور پر آگئی ہے، لیکن مجھے لگا کہ کلیم صاحب کے اس فطری خیال کا فطری انسلاک بھی پیش کرنا ضروری ہے۔
اپنے معاصرین میں کلیم صاحب نے سب سے طویل مضمون (54 صفحات پر مشتمل) پروفیسر آل احمد سرور پر تحریر کیا ہے۔ میرے خیال سے وہ ان کے پسندیدہ نقاد رہے ہیں اور شاید انگریزی ادب سے براہِ راست واقفیت کے سبب سرور صاحب اور کلیم صاحب میں ایک طرح کی ذہنی ہم آہنگی بھی رہی ہے۔ اختلاف و اتفاق دونوں پہلو ان کی تحریر میں موجود ہیں۔ مضمون کا آغاز یوں ہوتا ہے:
’’سرور صاحب سے مجھے بہت سی امیدیں تھیں اور اب بھی ہیں لیکن اب کچھ شکستہ سی ہوگئی ہیں۔‘‘ (ص 160)
کلیم صاحب کو اس بات کی شکایت ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ ادب و نظریہ میرے تنقیدی مضامین کا چوتھا مجموعہ ہے۔ میری چند ادبی تقریروں کا مجموعہ ’تنقیدی اشارے‘ کے نام سے 1942 میں شائع ہوا تھا۔اس مجموعے کو عام طور پر ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ وغیرہ۔ ایسے ہی کئی اور جملے پیش کرکے کلیم صاحب اسے خودستائی اور خودنمائی کے زُمرے میں رکھتے ہیں۔ مجھے اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ ایک مصنف کو اپنی نگارشات کے بارے میں اتنا کچھ کہنے کا حق تو ہے ہی۔ پھر یہ کہ اس سے بہت سی اطلاعات بھی فراہم ہوتی ہیں۔ خود کلیم صاحب نے ایسے حوالے دیے ہیں:
الفاظ اور شاعری:
’’یہ مضمون پہلے ’مشہور‘ دہلی میں شائع ہوا تھا۔ پھر اسے ’معاصر‘ میں شائع کیا گیا تھا۔ معاصر، جلد9، نمبر5,6: مئی و جون 1945، ‘‘ (سخن ہائے گفتنی، ص 53)
اقبال کا نظریہ فن:
’’یہ مضمون پہلے انگریزی میں Iqbal as a thinker کے لیے لکھا گیا تھا پھر اُسے اردو میں ڈھال کر معاصر میں شائع کیاگیا،‘‘ (معاصر جلد5، نمبر6,5، مئی و جون 1943)
بزم نگار:
نگار جلد39، شمارہ2-1، جنوری و فروری 1941 میں عہد حاضر کے تمام خوش فکر اساتذہ کا خود انتخاب کیا ہواکلام شائع ہوا تھا۔ پھر نگار جلد 41، شمارہ 1-2، جنوری، و فروری 1942 میں اس انتخاب پر کچھ تنقیدیں بھی شائع ہوئی تھیں۔ میرا مضمون بھی اسی نمبر میں شائع ہوا تھا۔ (سخن ہائے گفتنی،ص 325، اکتوبر 1955ادارہ فروغ اردو، لکھنؤ)
دیباچہ، 13 فروری 1983:
اردو تنقید پر ایک نظر 1940-41 میں ’معاصر‘ میں قسط وار شائع ہوئی۔ پھر کتابی شکل میں 1942 میں شائع ہوئی۔ کئی یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہونے کی وجہ سے اس کی مانگ برابر ہوتی رہی۔ 1957 میں اس میں کافی ترمیم و اضافہ کیاگیا اور اسی صورت میں یہ اب تک چھپتی رہی۔ اس کتاب کی مانگ اب بھی ہے،اس لیے پھر اس میں کچھ ترمیم ہوئی، زیادہ اضافہ ہوا اور اب یہی ایڈیشن آپ کے پیش نظر ہے۔‘‘ (اردو تنقید پر ایک نظر،ص 8)
اب یہ بتائیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ کلیم صاحب کو غیرضروری اطلاعات دینے کی بہت فکر ہوتی ہے، بلکہ اپنی تعریف کرنے میں بھی انھیں کوئی عار نہیں۔ تو کلیم صاحب کو کیسا لگے گا؟ لہٰذا سرور صاحب کے بارے میں اس نوع کی باتوں پر قضیہ کھڑا کرنا کلیم صاحب کو قطعی زیب نہیں دیتا۔ اگر وہاں خودستائی ہے تو یہاں بھی خودستائی ہے۔
ہاں تو کلیم صاحب کو سرور صاحب سے بہت سی امیدیں تھیں، لیکن اب شکستہ سی ہوگئی ہیں۔ انھیں سرور صاحب کا اپنی خودستائی کرنا پسند نہیں۔ حالاں کہ وہ خود بھی یہی کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ برنارڈشا کا کہنا تھاکہ میں اپنی تعریف کے لیے دوسرا آدمی کیوں لاؤں جب میں خود اپنی تعریف کرسکتا ہوں۔ کلیم صاحب برنارڈشا کے اس بیان کو اس کے کارنامے کے سبب درست ٹھہراتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی خودستائی (مغرب ہو کہ مشرق) پسند کی جاتی ہوگی۔ سرور صاحب نے اپنی انگریزی دانی اور انگریزی ادب سے واقفیت کی بنا پر اپنے مضامین میں انگریزی کے شاعروں اور ادیبوں سے اردو کے شاعروں اور ادیبوں کا موازنہ بھی کیا ہے۔ غالب کی نثر (خطوط) کا موازنہ اڈیسن سے کرتے ہیں، اکبر اور رشید احمد صدیقی کی شعری و نثری نگارشات کا موازنہ سوئفٹ سے کرتے ہیں۔ اسی طرح سجاد انصاری پر مضمون لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں نیٹشے کی روح، برنارڈشا کی بت شکنی، غالب کی انفرادیت، بیدل کی انسانیت سب کا عکس ملتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ آسکر وائلڈ کے قول محال کی یاد دلاتے ہیں… سوئفٹ پر آخر میں جو رنگ آیا، سجاد کے یہاں شروع سے موجود ہے۔ اب کلیم صاحب بھلا ان بے میل باتوں کو کب گوارا کرسکتے تھے اور اگر کہیں مشابہت ہو بھی سکتی ہے تو کلیم صاحب کا جرح کرنے کا انداز اور ان کی Advocacy اس مشابہت کو ’سراب‘ میں بدل دیتی ہے۔ ان کے ردعمل پر غور کیجیے:
.1 غالب کے خطوط کا اڈیسن کے مقالوں سے مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ وہ اخلاق میں نکتہ سنجی سے جان ڈال دیتا ہے اور نکتہ سنجی کو اخلاق کی مدد سے سنجیدگی بخشتا ہے۔ وہ اور بہت کچھ کرتاہے جو غالب کے بس کی بات نہیں۔ سرور صاحب کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اڈیسن کی نثر انگریزی نثر کی معراج ہے۔ اس کی انشا اپنے دلکش، رواں اور متبسم طرز کے باوجود بھی سوئفٹ کی انشا کی برابری نہیں کرسکتی۔
.2 سرور صاحب برا نہ مانیں، یہ تو اسی قسم کی بات ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ ولایت میں لوگ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں بیل گاڑی اس لحاظ سے بہت کام کی چیز ہے۔ ’اے ٹیل اوف اے ٹب‘ اور گلیورز ٹریویلز، تو بہت بڑی چیزیں ہیں۔ اردو میں موڈسٹ پروپوژل جیسی بھی کوئی چیز نہیں ملتی۔
.3 سرور صاحب کو یہ بھی احساس نہیں ہوگا کہ نیٹشے، برنارڈشا، غالب، بیدل، اور آسکر وائلڈ، سوئفٹ وغیرہ کا نام ایک سانس میں گنانے سے یہ مغالطہ ہوسکتا ہے کہ یہ لکھنے والے ایک طرح کے تھے یاان میں کوئی زبردست مشابہت تھی۔
کلیم صاحب نے نمبر 1 میں غالب کی نثر کو اڈیسن کے ہم پلّہ قرار دیے جانے کی نفی کی ہے لیکن خود ایڈیسن کی نثر کو سوئفٹ سے کم تر گردانا ہے۔ اخلاق میں نکتہ سنجی سے جان ڈال دینا اور نکتہ سنجی کو اخلاق کی مدد سے سنجیدگی بخشنا، یہ کوئی اہم کارنامہ نہیں۔ غالب کی جو نثر ہے اور اس میں اسالیب نثر کی جو نیرنگیاں ہیں، اُن پر گفتگو کی یہاں گنجائش نہیں۔ اڈیسن اور سوئفٹ کی اخلاقیات ان کے ساتھ اور غالب کے تہذیبی انسلاکات غالب کے ساتھ۔ نمبر 2 میں انھوں نے ولایت میں لوگوں کے ہوائی جہاز سے سفر کرنے کی بات کی ہے اور ہندوستان کی تضحیک بیل گاڑی سے کی ہے۔ کیا ولایت کی سڑکوں اور گلیوں میں ہوائی جہاز چلتے پھرتے ہیں اور کیا ہندوستان میں لوگ ہوائی جہاز سے سفر نہیں کرتے؟ اس کلونیل ذہنیت کا کوئی کیا کرے؟ پھر یہ کہ اکبر اور رشید احمد صدیقی کی ذہنی ساخت اور تہذیبی و ثقافتی پس منظر میں جو ادب خلق ہوگا اس کا موازنہ یا مقابلہ سوئفٹ کی ذہنی و تہذیبی ساخت سے پیدا ہونے والے فن پارے سے کیسے ہوسکتا ہے؟ موازنہ اگر صرف موضوع اور مواد تک ہے، تو ٹھیک ہے، لیکن چوک یہیں ہوتی ہے، سرور صاحب یا کلیم صاحب جیسے مغربی ادب کے پرستاروں سے۔ نمبر3 میں سرور صاحب نے جو نام سجاد انصاری کے ساتھ گِنوائے ہیں وہ بے موقع ہیں اور اس تقابل کی کوئی معنویت نہیں۔ کلیم صاحب نے بجا طور پر ان کی گرفت کی ہے۔
آل احمد سرور کی تنقید مروت والی ہے، اور یہ بات کلم الدین کی تنقیدی شریعت کے قطعی خلاف ہے۔ سرور صاحب کی ’ہاں اور نہیں‘ والی تنقید سے کلیم صاحب کو بے حد شکایت ہے۔ وہ سرور صاحب کی تنقیدی تحریروں سے پانچ صفحات پر مشتمل اقتباسات دے کر ان کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ سرور نے لکھا ہے کہ ’’تخلیقی ادب میں تنقیدی شعور کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ بڑی تنقید تخلیقی ادب سے کسی طرح کمتر نہیں ہوتی،بلکہ خود تخلیق ہوجاتی ہے۔‘‘
کلیم صاحب کو سنیے:
’’یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انیسویں صدی میں تخلیقی تنقید کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔ سرور صاحب نے شاید اسپنگارن سے یہ خیال لیا ہے اور وہ اس پرانے نظریہ کو ایلیٹ کی کچھ نئی باتو ں سے خلط ملط کردیتے ہیں۔ ایلیٹ نے کہا ہے کہ تخلیق میں تنقیدکا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں کہتا کہ تنقید میں تخلیق کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ تنقید کو تخلیق میں مدغم کیا جاسکتا ہے لیکن تخلیق کو تنقید میں مدغم نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ (ص 179)
ایلیٹ نے کہا کہ تخلیق میں تنقید کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، اس لیے اسے سند حاصل ہے لیکن چوں کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تنقید میں تخلیق کا بہت بڑاہاتھ ہوتا ہے، اس لیے یہ بے اساس اور بے وقعت بیان ٹھہرتا ہے۔ انیسویں صدی میں تخلیقی تنقید کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا، اس لیے سرور صاحب کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ تخلیق میں تنقید کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، اس میں جدت کیا ہے؟ الیٹ نے اگر تخلیق میں تنقید کے ہونے کی بات کہی ہے تو اس میں نیا کیا ہے؟ اردو شاعری میں تنقیدی شعور کا ہونا لازمی ہے، ایلیٹ کہے یا نہ کہے۔ خود کلیم الدین احمد کی نگرانی میں پروفیسر ممتاز احمد مرحوم (شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی، جو میرے بھی ایم اے کے زمانے میں استادتھے) نے ’اردو شعرا کا تنقیدی شعور‘ کے عنوان سے کام کیا تھا۔ مجھے ملا وجہی (ظاہرہے الیٹ کی پیدائش سے بہت پہلے) یاد آتے ہیں جنھوں نے تخلیق میں تنقیدی شعور کے ہونے کی بات کہی تھی۔ یہ اشعار:
جسے بات کرنے کا کچھ فام نئیں
اسے شعر کہنے سوں کچ کام نئیں
جو بے ربط بولے تو بیتاں پچیس
بھلا ہے جو اک بیت بولے سلیس
سلاست نہیں جس کیرے بات میں
پڑیا جائے کیوں جُز لے کر ہات میں
پھر یہ کہ تخلیق کے تنقید میں مدغم کیے جانے کی بھی کوئی بات نہیں۔ بس یہ ہوتا ہے کہ تنقیدی تحریر میں تخلیقیت کی شان پیدا ہوجاتی ہے اور اسی سے اسلوب بنتا ہے۔ خود کلیم صاحب کی تنقید میں تخلیقیت (Creativity) ہوتی ہے، جس کے سبب اُن کی نثر پڑھی جاتی ہے، لہٰذا اگر سرور صاحب نے یہ لکھا ہے کہ بڑی تنقید تخلیقی ادب سے کسی طرح کم نہیں ہوتی، تو اس پر جِز بِز ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ تخلیقی تنقید ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تخلیق تنقید میں مدغم ہوگئی۔ بس یہ ہوتا ہے کہ تنقید میں تخلیق کے کچھ عناصر مل جاتے ہیں۔
سرور صاحب کی تنقید دو ٹوک نہیں ہوتی۔ کلیم صاحب اس کی بھی گرفت کرتے ہیں کہ سرور صاحب کس فلسفے پر اپنے نظریے کی بنیاد رکھتے ہیں، پتہ نہیں چلتا، اس لیے کہ ان کی تنقید میں ہر فن پارہ اچھا ہے۔ غزل کے بارے میں سرور صاحب کی جو رائے رہی ہے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں اور ان کی ایک ہی سانس میں ہاں اور نہیں کہتے جانے والے رویے کو واضح کرنے کے لیے بارہ (12) فقرے لکھتے ہیں۔ بارہ ’ہاں‘ والے کالم میں اور بارہ ’نہیں‘ والے کالم میں۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ’غزل‘ کلیم صاحب کا پسندیدہ موضوع گفتگو رہی ہے۔ لہٰذا یہاں انھیں اپنے نظریہ غزل کی پیشکش کا اچھا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ اردو شاعری پر ایک نظر، عملی تنقید جلد اوّل، سخن ہائے گفتنی، ادبی تنقید کے اصول (1979، دوسرا حصہ) میری تنقید ایک بازدید،وغیرہ میں جہاں شاعری کا ذکر آگیا تو کسی نہ کسی طور بے چاری غزل بھی زد میں آگئی ہے۔
ہاں تو سرور صاحب کی تنقید دو ٹوک نہیں ہوتی، لیکن ان کی تنقید میں تخلیقی نثر کی چاشنی اور دل کشی ملتی ہے۔ ان کے اِن اوصاف نثر کی تعریف کلیم صاحب بھی کرتے ہیں۔ سرور صاحب تنقید کو بھی بہرحال ادب کی ایک صنف (شاخ) تصور کرتے ہیں اور اس میں بھی پُراثراور پُرکیف اسلوب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسلوبِ سرور کے دونوں پہلوؤں پر کلیم صاحب کا ردعمل دیکھیے:
.1 مجموعی طور پر ان کی نثر دل کش، رنگین اور پُرکیف ہوتی ہے لیکن اس کی دلکشی اور کیف میں وہ اکثر اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ انھیں یہ خیال نہیں رہتا کہ تنقید میں خیال آئینہ کی طرح واضح ہوتا ہے۔
.2 اپنے اسلوب میں تلوار کی تیزی، بہتے ہوئے پانی کی روانی، آئینے کی سی صفائی، ادائے محبوبی کی سی دل ربائی قصداً پیدا کرتے ہیں۔
.3 یعنی تنقید کی زبان کو وہ غزل کی زبان بنا دیتے ہیں۔ نثر میں شعر تراشتے ہیں۔ پڑھنے والے کو تھوڑی دیر کے لیے چونکا دینا چاہتے ہیں۔
یہ تمام اوصاف ان کے تنقیدی نثر پارے سے متعلق ہیں۔ لیکن کلیم صاحب کو بہرحال شکایت یہی رہتی ہے کہ (سرور صاحب) کہتے ہیں کہ تنقید میں لفاظی نہیں ہوتی، لیکن وہ لفاظی کرتے ہیں۔ وہ ہر فن کار کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتے ہیں۔ ہر ایک کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ اِدھر بھی ہیں اور اُدھر بھی ہیں (ص 198)۔ بہرحال، سرور صاحب کی تنقیدی بصیرت پر شبہ کرنا خود اپنی بصیرت کو مشکوک کرلینے کے مترادف ہے۔ جہاں جہاں تنقیدی نظریات یا ان کے اطلاق میں فروگذاشتیں ہوئی ہیں یا اصول تنقید سے انحراف ہوا ہے یا ادبیت اور جمالیاتی قدروں سے الگ ہوکر ادب پارہ خلق کیے جانے کی بات ہوئی ہے، سرور صاحب نے اس رویے کی گرفت کی ہے۔ خود کلیم صاحب نے ایسی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ کلیم صاحب کو دو ٹوک انداز تنقید نہ ہونے اور شگفتہ عبارت آرائی کے لیے سرور صاحب سے شکایتیں رہی ہیں۔
کلیم الدین احمد نے کسی بھی دبستان کی پیروی نہیں کی اور اسی لیے وہ کسی بھی دبستان تنقید کے نظریے پر قلم زن ہوجاتے ہیں۔ سب سے زیادہ انھوں نے ترقی پسندوں کی تنقیدی نگارشات پر توجہ کی۔ اگر آل احمد سرور کو ترقی پسند مان لیں، جس میں مجھے تردد ہے، تو 54صفحات صرف ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ میں ان پر صرف کیے گئے ہیں۔ پھر ترقی پسند نقاد والے باب (12) میں اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین اور محمد حسن پر 46صفحات پر مشتمل ایک اجمالی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی کتاب میں ’اردو میں تبصرہ نگاری‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کے بعد عزیز احمد اور علی سردار جعفری کی ’ترقی پسند ادب‘ کے عنوان سے لکھی گئی کتابوں پر تبصرے (پندرہ صفحات) ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ جس عہد میں کلیم اپنی تنقید چمکا رہے تھے اس میں ترقی پسند ادب و تنقید کی تیز روشنی پہلے سے ہی تھی۔ وہ خود لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند نقادوں پر میں نے قدرے تفصیل سے کام کیا۔ اس لیے کہ اس وقت ترقی پسند تحریک عروج پر تھی اور اس نے ہندوستان میں اودھم مچا رکھا تھا۔ اردو تنقید میں میں نے ان کے نظریوں کا جائزہ لیا اور ان کے کھوکھلے پن کو واضح کیا۔‘‘ (میری تنقید: ایک بازدید، ص 35)
اس عہد کی تنقید یا ادب میں سماجی سروکار کا ذکر کوفت کرنے کی حد تک ہو رہا تھا۔ اختر حسین رائے پوری کو ترقی پسندوں میں ادب اور زندگی اور ادب اور انقلاب جیسے مقالوں کے سبب اولیت حاصل رہی۔ اسی طرح مجنوں گورکھپوری کی کتاب ’ادب اور زندگی ‘بھی ترقی پسندوں کا قیمتی سرمایہ رہی ہے۔ ان دونوں نقادوں نے ادب اور ا نسان یا ادب اور سماج کے رشتوں کو، مارکسی نقطۂ نظر سے پیش کیا ہے جس پر کلیم الدین احمد نے تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ کلیم صاحب نے کئی اقتباسات دونوں کے بارے میں پیش کیے ہیں لیکن بغیر حوالے کے۔ اس معاملے میں کلیم صاحب کی بیشتر کتابوں میں ان کی کوتاہیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بہرحال وہ سرور صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ ترقی پسند تنقید اور خصوصاً ’ادب اور انقلاب‘ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ تنقید نہیں مارکسی خیالات کی تبلیغ ہے اور اس میں ادھ کچرے فلسفے کی ڈکار ہے۔ البتہ مجنوں کی بہت سی باتوں کو رد کرتے ہوئے ان کی کچھ باتوں کی تعریف کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’میں اسے بڑی بات سمجھتا ہوں کہ ایک مارکسی نقاد اس حقیقت تک پہنچ جائے کہ— ’’زندگی کے اقتصادی پہلو پر جو مارکس نے زور دیا تھا وہ ایک خالص عصری چیز ہے‘‘ اور یہ کہے کہ— ’’اقتصادیات کل زندگی نہیں بلکہ اس کا صرف عنصر ہے جو لاکھ اہم نہیں لیکن دوسرے عنصر پر غالب نہیں ہوسکتا۔‘‘ (ص 223)
اقتصادیات اور مادّی قوتوں کے زیراثر جو ادب تخلیق ہوا، اس کی اپنی ایک الگ اہمیت ہے، لیکن جس طرح اس کا پروپیگنڈہ ہوا یا کیا گیا یا پھر اسی کو سب کچھ سمجھ لیا گیا، یہ ایک نامناسب رویّہ تھا۔ کلیم صاحب جب احتشام حسین پر لکھتے ہیں تو یہاں بھی پہلے ان کے دیباچے یا پیش لفظ سے اقتباسات نقل کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ احتشام صاحب کو کوئی مستقل اور مبسوط کتاب نہیں لکھنے کا احساس ہے، جس کا ذکر وہ متعدد بار کرچکے ہیں۔ کلیم صاحب اُن کی اس بے بضاعتی کے ذکر کو غیرضروری سمجھتے ہیں اور ٹھیک ہی سمجھتے ہیں۔ وہ اسے مستقل علمی کارنامہ تصور نہیں کرتے اور کوئی مبسوط کام بھی نہیں کرتے۔ کلیم صاحب اسے ان کا احساس کمتری سمجھتے ہیں۔ آل احمد سرور نے بھی اس احساس کمتری کا ذکر اپنے بہت سے دیباچوں میں کیا ہے۔ یہاں احتشام صاحب نے تنقید،نقاد، حکیمانہ دماغ، حاکمانہ شعور، تخلیقی قوت کے لیے تنقیدی قوت کا لازمی طور پر ہونا، مارکس کے فلسفے کے ذریعہ دنیا کو بدلنا، مواد اور ہیئت وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے۔ کلیم صاحب ان کے مذکورہ نکات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وہ جو کچھ کہتے ہیں مارکس کی زبان سے کہتے ہیں، جو کچھ دیکھتے ہیں مارکس کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘‘
اور اگر ایسا کوئی بھی نقاد کرتا ہے تو بلاشبہ اس کی تنقید قابل گرفت ہے۔ احتشام صاحب تنقید کا رشتہ دوسرے علوم اور فلسفوں سے جوڑنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن صرف بات ہی بات ہوتی ہے، اُن کا اول و آخر مرکزی میلانِ نقد مارکسی نظریۂ حیات ہی ہوتا ہے۔ کلیم لکھتے ہیں:
’’احتشام صاحب نے بھی کوئی نئے اصول نہیں بنائے۔ وہ مارکسی ہی سہی۔ ان کی تنقیدوں میں اصول کی دھجیاں اور پُرزے ملتے ہیں لیکن ان دھجیوں اور پُرزوں کو ملا کر کوئی اچھا سا لباس نہیں بنا سکتے… وہ مارکسیت کے تاریک کمرے میں چکر کاٹتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی ساری دنیا ہے۔‘‘
(ص 245,246)
محمد حسن کی تنقیدی تحریروں پر بھی کلیم الدین احمد روشنی ڈالتے ہیں، تجزیہ کرتے ہیں، بحث کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کلیم صاحب اقتباسات پیش کرتے ہیں پھر ان پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی خوبیوں (کم سے کم) اور خامیوں (زیادہ سے زیادہ) کو سامنے لاتے ہیں۔ محمد حسن کے مطابق تنقید اکثر اپنے کو ہیئت اور فکر کے دائروں میں تقسیم کرتی رہی ہے۔ ہیئتی تنقید اور عمرانی تنقید کے منفی پہلوؤں پر حسن صاحب روشنی ڈالتے ہیں۔ کلیم صاحب اس کی پذیرائی کرتے ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہیئت اور مواد (Form and Matter) دو الگ الگ چیزیں نہیں۔ کم سے کم انھیں ادب میں الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تجزیے کی آسانی کے لیے آہنگ و اسلوب اور مضمون یافکر کی بات الگ الگ اٹھائی جاتی ہے اور کامیاب تنقید وہی ہے جو اس دوئی میں بھی پھر یکتائی دیکھ سکتی اور دیکھتی ہے (ص 250)، کلیم صاحب ہیئت اور مضمون کو الگ تصور نہیں کرتے۔ حالاں کہ اس میں فرق ہے۔ اس کا سراسیدھا لفظ و معنی سے مل جاتا ہے۔ تجربہ جو مضمون ہے، ممکن ہے شاعری میں اہم ہو، لیکن انسان کے لیے اہم نہ ہو یا پھر اس کا الٹا کہ آدمی کے لیے تجربہ اہم ہو لیکن شاعری کے لیے غیراہم۔ دوسرا مرحلہ اس کی پیش کش کا آتا ہے اور پھر کسی بھی تجربے (مضمون) کی پیش کش کے لیے ہیئت کا انتخاب ہوتا ہے۔ یعنی شعری ہیئت یا نثری۔ پھر یہ کہ شعری ہیئتوں میں، مثنوی، مرثیہ، رباعی، قطعہ، مستزاد، مسدس، مخمس وغیرہ۔ اونگھتے رہنے والے شاعر کو کبھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس تجربے کا کس ہیئت میں اظہار کرے۔ شاعری اونگھ کر یا شراب پی کر نہیں ہوتی۔ شاعری کے لیے بہت ہی چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ لیکن کوئی ضروری نہیں کہ شراب پینے والا شاعر بری شاعری کرتا ہوا اور نہ پینے والا اچھی شاعری کرتا ہو۔ جذبات کی پیش کش کے لیے شاعرکو اپنی ذات سے فاصلہ بنانا پڑتا ہے اور یہ سارے مرحلے طے کرنا اونگھ کر یا نشے کی حالت میں ممکن نہیں۔ طوالت ہوگی لیکن الیٹ کو سنیے:
- In fact, the bad poet is usually unconscious where he ought to be conscious, and conscious where he ought to be unconscious. Both errors tend to make him ‘personal’.
- Poetry is not a turning loose of emotion, but an escape from emotion; it is not the expression of personality, but an escape from personality.”
(The sacred Wood, Indian Edition, 1976, p: 58)
ہیئت اور مواد کی دوئی محمد حسن صاحب کی نظر میں حقیقی ہے، جس کی تردید کلیم صاحب کرتے ہیں۔ لیکن وہ تردید اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ انھیں بہر صورت محمد حسن سے اختلاف کرنا ہے۔ ورنہ ہم ادب کے طالب علم جانتے ہیں کہ ان کا جو بھی تنقیدی اثاثہ ہے، وہ کتنا وقیع اور بامعنی ہے۔
اوپر میں نے جو الیٹ کے دو اقتباسات پیش کیے ہیں ان میں سے دوسرے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ شاعری دراصل جذبات اور شخصیت (ذاتی) سے escapeکا نام ہے۔ لیکن محمد حسن صاحب کہتے ہیں:
’’لہٰذا متن کو سچائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے ضرورہے کہ مصنف کی شخصیت کے حوالے سے متن کی شناخت فراہم کی جائے مگر شخصیت کی شناخت معاشرے اور دور کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں اور اس طرح ادبی تنقید کا رشتہ لازمی طور پر تلاش اقدار سے جاملتا ہے۔ نئی تنقید کو اپنے ساتھ پورا انصاف کرنے کے لیے سماجی تنقید کا سہارا لینا ضروری ہے۔‘‘ (دیباچہ: شناسا چہرے)
محمد حسن کی یہ باتیں ٹی ایس الیٹ اور کلیم الدین احمد دونو ںکے میلان فکر سے دور جاپڑتی ہیں۔ لہٰذا کلیم صاحب ان کی گرفت کرتے ہیں اور پھر غالب کے حوالے سے محمد حسن نے جو باتیں ان کی عظمت ثابت کرنے کے لیے کہی ہیں، ان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہیں۔ اب یہاں کلیم صاحب غالب کے صنف غزل کا شاعر ہونے کے سبب ایک دم سے خم ٹھونک کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ محمد حسن غالب کے عہد کا پس منظر (سیاسی سماجی اور تہذیبی) بیان کرتے ہیں اور جذبۂ اخلاص کے ساتھ بہت ہی شگفتہ انداز میں بیان کرتے ہیں، لیکن کلیم صاحب کو ان باتوں میں دلچسپی نہیں:
’’کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کا کوئی مقصد نہیں صرف لکھنے والے کو اپنی ذہانت اور طباعی کا Demonstration کرنا تھا جس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔‘‘ (ص 260)
’اردو میں تبصرہ نگاری‘ کے عنوان سے کلیم صاحب نے خلاف توقع اور خلاف عادت صرف ڈھائی صفحات پر مشتمل مضمون (؟) تحریر کیا ہے۔ وہ تبصرہ کو فن تنقید کی ایک شاخ تصور کرتے ہیں۔ اس لیے کسی کتاب کی بے انتہا تعریف یا تنقیص دونوں کو وہ غلط سمجھتے ہیں۔ وہ اردو میں مولوی عبدالحق کے تبصرے کو غیرجانبدار بتاتے ہیں۔ اردو میں تبصرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’تبصرہ کا مقصد ہے کسی کتاب کے جوہر کا پتہ لگانا اور اسے اجمال یا تفصیل کے ساتھ پیش کرنا اور جو کچھ کہا جائے اس سے کتاب کی اہم ترین خصوصیتیں (خوبیاں اور برائیاں دونوں) واضح ہوجائیں۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب صحیح معیار موجود ہوں۔ ان کی عدم موجودگی میں تبصرہ لکھنا گویا ایسا ہے جیسے کوئی اندھا کسی تاریک کمرے میں کسی کالی بلّی کا متلاشی ہے جو وہاں موجود نہیں۔‘‘
تبصرہ نگاری پر کلیم صاحب کا یہ مضمون بہت ہی تشنہ ہے۔
ضمیمہ سے قبل گیارہ صفحات پر مشتمل خاتمہ ہے۔ اس میں 95 فی صد باتیں وہی ہیں جو پہلے کہی جاچکی ہیں، جس طرح ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ابواب کے اختتام پر نتیجہ اخذ کرتے ہیں جسے ’ماحصل‘ وغیرہ نام سے تحریر کرتے ہیں، اسی طرح آخر میں کلیم صاحب بھی اردو تنقید کی بے بضاعتی پر مہر ثبت کردیتے ہیں:
’’اردو میں ’انتقادی‘ ادب کی کمی نہیں لیکن قابل اعتنا حجم کے باوجود بھی یہ قابل اعتنا نہیں۔ بظاہر کام زیادہ مشکل نہ تھا لیکن کامیابی عنقا ہے۔‘‘
(ص 264)
اس طرح ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ اختتام کو پہنچتی ہے لیکن کچھ برسوں بعد ضمیمے کے طور پر اس میں کچھ چیزیں جوڑی جاتی ہیں۔ اردو تنقیدمیں رشید احمد صدیقی کا نام مستند قطعی نہیں لیکن چوںکہ کلیم صاحب ہمیشہ انقلابی اور اختراعی اقدام کرتے ہیں سو انھیں بطور ناقد کے اس کتاب کا حصہ بناتے ہیں اور پھر مزے لے لے کر اُنھیں حلال بھی کرتے ہیں۔ بی اے کے طالب علم سے بھی اگر آپ دریافت کریں کہ پانچ بڑے نقادوں کے نام بتاؤ تو کہیں سے بھی رشید احمد صدیقی کا نام نہیں آئے گا۔ کلیم صاحب بھی یہ باتیں سمجھتے ہیں لیکن بس، کچھ لکھنا ہے سو رشید احمد صدیقی ہی پر خامہ فرسائی شروع کردیتے ہیں۔ کہیں تعریف بھی کردی ہے اور پھر آل احمد سرور کے دو اقتباسات کی مدد سے ان کی تنقیدی بصیرت پر سوالیہ نشان بھی قائم کردیا ہے:
’’رشید صاحب نے یوں تو تنقیدی مضامین میں بھی بڑی خیال انگیز باتیں کہی ہیں، مگر دراصل وہ ایک مزاح نگار، طنز نگار، اور انشاپرداز کی حیثیت سے اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘ (نئے اور پرانے چراغ، ص 285)
اس کامطلب یہ ہوا کہ کلیم صاحب بھی رشید احمد صدیقی کے حوالے سے ایسا ہی خیال رکھتے ہیں، ورنہ وہ آل احمد سرور کے اس اقتباس پر اپنے مضمون کااختتام کیوں کرتے اور وہ بھی اس پر اپنا کوئی رد عمل دیے بغیر؟
ضمیمہ 2کے تحت ’ترقی پسند ادب‘ پر عزیز احمد اور علی سردار جعفری کی کتابوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خامیاں بھی گنوائی گئی ہیں اور خوبیاں بھی۔ دونو ںکے یہاں جو تضادات اور تکرار یا فروگذاشتیں راہ پاگئی ہیں، ان سے بحث کی گئی ہے۔ انھوں نے عزیز احمد کی کتاب کو سردار جعفری کی کتاب پر فوقیت دی ہے۔ لیکن یہاں بھی صورت حال حسب ماسبق، کلیم صاحب کو مایوسی ہاتھ آتی ہے کیوں کہ نقاد نہ تو عزیز احمد ہیں اور نہ سردار جعفری، حالاں کہ سردار جعفری کی تنقیدی بصیرت کے ذیل میں میر کبیر اور اقبال پر ان کی تحریریں اعتبار کا درجہ رکھتی ہیں۔
ضمیمہ3 میں ’تاثراتی تنقید‘ کے تحت فراق گورکھپوری اور ان کے شاگرد رشید محمد حسن عسکری پر 45 صفحات صرف کیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے ان دونو ںکی حیثیت اردو شعر و ادب میں Stalwarts کی ہے۔ پہلے وہ علی سردار جعفری کا ایک اقتباس پیش کرتے ہیں (حسب عادت بغیر کسی حوالے کے) او رپھر اس کی تائید کرتے ہیں۔ سردار جعفری کہتے ہیں:
’’فراق گورکھپوری شاعر بھی ہیں اور نقاد بھی۔ اُن کی تنقید کا معیار وجدانی ہے اور انھوں نے جو کچھ لکھا ہے تاثراتی انداز میں لکھا ہے جس میں زبان اور بیان کی بڑی لذت ہے لیکن ایک واضح خارجی کسوٹی کی کمی ان کی تنقید کو علمی تنقید نہیں بننے دیتی اور اسے پڑھ کر لطف آتا ہے اور بس…‘‘
کلیم صاحب لکھتے ہیں:
’’علی سردار جعفری نے بہت ٹھیک کہا ہے… تاثراتی تنقید کو تنقید کہنا صحت سے دور ہے۔‘‘ (ص 301)
کلیم صاحب سردار جعفری کی بات پر آمنّا صدّقنا کیسے کہتے ہیں، معلوم نہیں۔ ان کی نظر میں سردار جعفری کے اندر تنقید کا مادہ ہے ہی نہیں تو ان کی رائے فراق کے بارے میں اتنی وزنی اور قابل اعتنا کس طرح ہوگئی؟ ایک دو صفحے پہلے ہی وہ لکھ آئے ہیں:
.1 بات یہ ہے کہ علی سردار جعفری کو تنقیدی شعورنہیں۔ وہ اچھی نظم اور بری نظم میں فرق نہیں کرسکتے۔
.2 یہ صحیح ہے کہ علی سردار جعفری نقاد نہیں ہیں، وہ سائنٹفک اور علمی ہونا چاہتے ہیں لیکن جو وہ لکھتے ہیں وہ تنقید نہیں، ایک شاعر کے تاثرات ہیں۔
اب انصاف کیجیے کہ ایک ’شاعر کے تاثرات‘ کی اچانک اتنی اہمیت کیوں ہوجاتی ہے؟ بات یہ ہے کہ کلیم صاحب کو Moral Support چاہیے، سو سامنے جو نظر آیا ہے، اُسی کو پکار لیا، بلا سے کچھ دیر پہلے اس کی تضحیک ہی کیوں نہ کی گئی ہو۔ یہاں بھی سردار جعفری کے اقتباس سے فراق کی تنقید کو کمزور ثابت کرنے کا عمل اِسی زمرے میں آتا ہے۔ حالاں کہ جب انھوں نے ’میری تنقید ایک بازدید‘ تحریر کی تو لکھا:
’’میں نے جو کچھ بجنوری،زور اور سروری سے متعلق لکھا اس پر چنداں قیل و قال نہ ہوئی۔ اس کے بعد سرور صاحب اور ترقی پسند نقادوں میں اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، عزیز احمد اور علی سردار جعفری اور تاثراتی نقادوں میں فراق گورکھپوری اور حسن عسکری کا ذکر ہے۔ یہ سب نمائندہ نقاد ہیں۔ تاثراتی تنقید صحیح معنی میں تنقید نہیں ہوسکتی۔‘‘ (ص 33)
ہاں تو یہ سب نمائندہ نقاد ہیں، پھر بھی ان میں تنقیدی شعور نہیں۔ عزیز احمد، زور، سروری کو تو کم سے کم نقاد نہیں کہنا چاہیے۔ خیر، بات تاثراتی تنقید اور فراق کی ہورہی تھی۔ مجھے تاثراتی تنقید کے حوالے سے کلیم صاحب کی یہ رائے (جس میں حتمیت بھی ہے) درست معلوم ہوتی ہے:
’’…اس کا مرکز نقاد کی شخصیت ہوتی ہے فنی کارنامہ نہیں ہوتا۔ اس میں تعلق ہوتا ہے، بے تعلقی نہیں ہوتی۔ اس میں تعلقات کا دُھندلکا ہوتا ہے سمجھ بوجھ کی روشنی نہیں ہوتی، فوری جذبات کا ابھار ہوتا ہے ذہنی توازن نہیں ہوتا، ضبط نہیں ہوتا، احتیاط نہیں ہوتی۔‘‘ (ص 302)
نقاد جب ذاتی تاثرات پیش کرنے لگتا ہے تو تنقیدی اصول اور زیرمطالعہ فن پارے کا حسن و قبح قارئین کے سامنے پوری طرح واضح نہیں ہوپاتا۔ ایسی تنقید میں ٹھہراؤ کے بجائے اضطرابی کیفیت کا ایک دریا بہتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ خود فراق نے ’اندازے‘ کے پیش لفظ میں لکھا تھا، جسے کلیم صاحب نے Quoteکیا ہے، سنیے:
’’ہاں تو میری غرض وغایت اس کتاب کی تصنیف میں یہ رہی ہے کہ جو فوری وجدانی، اضطراری اور مجمل اثرات قدما کے کلا م کے میرے کان، دماغ، دل اور شعور کے پردوںمیں پڑے ہیں انھیں دوسروں تک اس صورت میں پہنچا دوں کہ ا ن اثرات میں حیات کی حرارت و تازگی قائم رہے۔ میں اسی کو خلاقانہ یا زندہ تنقید کہتا ہوں۔‘‘
خلاقانہ تنقید میں تخلیقیت ہوتی ہے جس کے سبب اسلوبِ نثر رواں اور شگفتہ ہوجاتا ہے لیکن فن پارے کا معروضی تجزیہ فوری وجدانی اور اضطراری کیفیت کے بجائے غور و خوض اور شرح و بسط اور سنجیدگی کے ساتھ ممکن ہے۔ فراق تنقید میں اسلوب اور اسٹائل کے قائل ہیں۔ ساتھ ہی ان کا ماننا ہے کہ:
’’میری رائے میں نقاد کو یہ کرنا چاہیے کہ پڑھنے والے میں بیک وقت لالچ اور آسودگی پیدا کردے۔ تنقید کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ پڑھنے والا ناقد کے بیانوں کی صداقت بھی محسوس کرے اور چونک بھی جائے اور خود بھی سوچنے اور غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔‘‘
اس کے حوالے سے کلیم صاحب ردعمل پیش کرتے ہیں اور سرور صاحب کے اسلوب سے مماثلت کی بات بھی کرتے ہیں۔ پھر فراق کے دو طویل اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ فراق نے اوپر کے اقتباس میں یہ کہا ہے کہ نقاد کی تحریر سے قاری میں ’’لالچ اور آسودگی‘‘ پیدا ہوجائے پھر بعد میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’خود بھی سوچنے اور غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ جس کے اندر آسودگی پیدا ہوجاتی ہے وہ سوچتا بھی ہوگا اور غور و فکر بھی کرتا ہوگا۔ سوچنے اور غور و فکر کرنے کا کام ناآسودہ ذہن کرتا ہے۔ اچھی تنقید راستہ دکھاتی ہے، راہرو کو آسودگی عطا کرکے سُلا نہیں دیتی۔ ہاں، یہ کہا جاسکتا ہے کہ فراق جس نوع کی تنقید لکھتے ہیں، اس میں آسودہ خاطر ہونے کا بہت کچھ سامان ہے۔ لیکن دوسری طرف آپ کلیم الدین احمد کی تنقید پڑھ کر آسودگی کیا محسوس کریں گے، پلک جھپکانا بھی ممکن نہ ہوگا۔ قاری کے اندر ان کی تنقید پڑھ کر بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ یا تو فن پارہ پڑھتا ہے یا پھر الگ رکھ دیتا ہے۔ اگر قاری خود بھی تنقیدی شعور رکھتا ہے تو اُسے کبھی کبھی غصہ بھی آتا ہے، آسکتا ہے۔ کلیم صاحب ’اندازے‘ کے صرف مصحفی پر لکھے گئے مضمون کی ستائش کرتے ہیں— ’’فراق اس قسم کی سلجھی ہوئی تنقید بھی لکھ سکتے ہیں اور اس میں تاثرات کے عوض بصیر ت ہے۔ مصحفی کی انفرادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔‘‘
دوسری مثال جو تاثراتی تنقید کے ذیل میں پیش کی گئی ہے وہ حسن عسکری کی ہے۔ ان کی تاثراتی تنقید کی ایک مثال تو فراق کی کتاب ’اردو کی عشقیہ شاعری‘ پر ان کے تبصرے سے پیش کی گئی ہے۔ دوسری مثال ’روح کائنات‘ پر لکھتے ہوئے عسکری نے فراق کی شاعری کے سلسلے میں جو مبالغہ آمیز باتیں کہی ہیں، ان میں سے ایک اقتباس پیش کرنے کے بعد یہ لکھتے ہیں — ’’اگر یہی تنقید ہے تو وائے برتنقید!‘‘ بعد ازاں فراق کی دو نظموں ’آدھی رات‘ اور ’دھندلکا‘ سے اقتباس پیش کرتے ہیں۔ فراق غزل گو شاعر ہیں اس لیے وہ نظموں کے بھیس میں غزلیں لکھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ کلیم صاحب کو مزید غور و فکر کی ضرورت تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ،فراق کو لفظوں سے خاص دل چسپی ہے‘۔ اس میں عیب کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ فراق حسین الفاظ کو پسند کرتے ہیں اور ان کو استعمال کرنے میں خاص لذت محسوس کرتے ہیں— روپ، سکمار، سکومل، رسمسانا، کام روپ کا جادو، کمدنی کے پھول، گھنی گھنی پرچھائیں، کنول، ندی کا سہاگ وغیرہ۔ یہی ’لذتیت‘ ان کی خصوصیت ہے۔ عسکری صاحب نے فراق کی مبالغہ آمیز تعریف کی ہے لیکن کلیم صاحب کو فراق صاحب کا حسین الفاظ پسند کرنا، پسند نہیں، یہ کون سی تنقیدی بصیرت ہے؟ شاعر اگر حسین الفاظ پسند کرتا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ کلیم صاحب نے تو کئی مقام پر یہ بات لکھی ہے کہ الفاظ بذات خود اچھے یا برے نہیں ہوتے، لکھتے ہیں:
’’وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ بظاہر نامانوس، ثقیل اور غیرفصیح الفاظ اگر موقع و محل سے کام میں لائے جائیں تو نامانوس، ثقیل اور غیرفصیح باقی نہیں رہیں گے۔
(اردو تنقید پر ایک نظر ، شبلی والے باب میں، ص 96)
کلیم صاحب یہ جو فرماتے ہیں کہ موقع و محل سے استعمال ہونے والے ثقیل اور نامانوس الفاظ بھی فصیح ہوجاتے ہیں، بالکل درست ہے، لیکن الفاظ خود بھی اپنی اچھی بری شکل و صورت رکھتے ہیں۔ اب مزید اس بحث میں الجھنا نہیں، آگے بڑھتے ہیں۔
’’ہاں تو عسکری صاحب کے یہاں تاثرات کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ کلیم صاحب اکبر پر عسکری کے مضمون کے حوالے سے اپنا ردعمل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ بات غیرمتعلق سی ہے کہ اکبر بے پردگی، تعلیم نسواں اور کالج کے خلاف تھے۔ وہ خلاف ہوں یا موافق، بہرحال ان کی شاعری پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔‘‘ (ص 315)
عسکری صاحب نے اکبر کی شاعری کے تہذیبی تناظر کو مرکز میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے، کلیم صاحب نے اتنی آسانی سے کیسے کہہ دیا کہ— وہ خلاف ہوں یا موافق، بہرحال ان کی شاعری پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔‘‘ ایسا نہیں ہے۔ اکبر کی شاعری سے اگر ان تہذیبی عناصر کو منہا کردیا جائے تو کلیم صاحب کے لیے ان کی شاعری میں کیا رہ جائے گا؟ اس تہذیبی تناظر میں جو تناقضات (Paradoxes)پیوست ہیں، وہی اکبر کی شاعری کا جوہر بنتے ہیں:
مغربی ذوق ہے اور وضع کی پابندی ہے
اونٹ پر بیٹھ کے تھیٹر کو چلے ہیں حضرت
حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی
عسکری نے اکبر کی شاعری کے جو ہر کو سمجھ لیا تھا، کلیم، معلوم نہیں اکبر کے یہاں شاعری کے کس جز کی تلاش میں رہے؟ اکبر کا شعری کردار وہ نہیں تھا جو میر و مصحفی کا تھا۔ خیر۔ کلیم صاحب عسکری کی تنقید کو تاثراتی تنقید کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ انھیں ادبی نامہ نگار اور دلّال تک کہہ گزرتے ہیں۔ معلوم نہیں کلیم صاحب جیسا شخص اس لفظ دلّال کا استعمال کیسے کرتا ہے؟ افسوس ہوتا ہے۔ سنیے:
’’عسکری صاحب کی حیثیت ایک ’دلّال‘ کی ہے۔ وہ مغربی مال ہندوستان میں بیچنا چاہتے ہیں… دوسری حیثیت ان کی رپورٹر کی ہے۔ وہ خبر دیتے ہیں کہ دنیائے ادب میں کیا ہورہا ہے۔‘‘ (ص 320)
ایک طرح سے دیکھا جائے تو کلیم صاحب نے یہ کام سب سے زیادہ کیا ہے، اس طرح وہ خود بھی اسی زُمرے میں آجاتے ہیں۔ عسکری صاحب نے کم سے کم مغربی مال بیچتے ہوئے ہندوستانی مال کو کمتر نہیں کہا ہے، لیکن کلیم صاحب نے اپنے مال کی بہ نسبت مغربی مال کو زیادہ معیاری، ٹکاؤ اور دیدہ زیب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسے کیا کہیں گے؟ عسکری اپنے مضامین میں بار بار بودلیئر، فلابیر، پروست، جیمس جوائس، گولڈ اسمتھ، چیخوف وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا ذہن سیدھے راستے پر چلتے چلتے قلابازیاں کھانے لگتا ہے۔ بودلیئر اور راں بو کی نظمیں پیش کرتے ہیں، انگریزی بھی اور اوریجنل فرنچ بھی۔ یہ وہ نظمیں ہیں جو عسکری نے پیش کی ہیں۔ دراصل تجزیے میں کلیم صاحب یہی ثابت کرنے میں منہمک نظر آتے ہیں کہ فرنچ اور انگریزی ادب سے صرف عسکری ہی واقف نہیں، بلکہ وہ بھی ہیں۔ واضح رہے کہ حسن عسکری پر انھوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی تاثراتی تنقید کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ وہ عناصر جو تاثراتی تنقید کے تحت آتے ہیں، وہ فراق کے یہاں تو ہیں، حسن عسکری کے یہاں کم کم ہیں۔
’اردو تنقید پر ایک نظر‘ میں ضمیمے کا آخری باب ہے۔ ’جدیدیت اور شمس الرحمن فاروقی‘۔ اب مطلع صاف ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا سفر اردو کے پرانے تذکرے سے چل کر حالی، شبلی سے ہوتا ہوا ترقی پسند نقادوں کے بعد فراق اور حسن عسکری اور پھر فاروقی پر ختم ہوجاتا ہے۔ فاروقی یعنی جدیدیت، جدیدیت یعنی فاروقی— دونوں لازم و ملزوم۔
کلیم صاحب ٹینی سن کی دو سطریں پیش کرنے کے بعد تمہید کے طور پر دنیا اور دنیائے ادب میں ہونے والے تغیرات کی ناگزیریت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے تجربے پرانے تجربوں کی تنسیخ نہیں کرتے ہیں اور نیا ہونے کی وجہ سے انھیں پرانے تجربوں پر فوقیت بھی نہیں ہوتی۔ پھر وہ آرنلڈ کی ایک نظم (انگریزی) پیش کرتے ہیں جس کا مرکزی خیال آدمی اور اس کی تنہائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہاں وہی معاشرے کا تنہا انسان‘‘ ہے جس کا آجکل اتنا لمبا چوڑا بیان ہوتا ہے۔ ‘‘
ہر انسان ایک جزیرہ ہے۔ زندگی کے سمندر میں، ہر جزیرہ ایک دوسرے سے الگ ہے اور بیچ میں آبنائے حائل ہے۔ اس طرح زندگی کے سمندر میں لاکھوں جزیرے ہیں۔ تنہا ہیں:
"We mortal Millions live alone.” (p 348)
آخری انگریزی سطر آرنلڈ کی نظم سے ہے جو انھو ںنے پیش بھی کی ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ کلیم صاحب جدیدیت کی حقیقت اور ماہیت پر مفصل تجزیاتی روشنی ڈالیں گے او رپھر اردو میں جدیدیت کے امام فاروقی کی جدیدیت سے ہم رشتگی کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پہلے تو وہ بغیر کسی حوالے کے (حسب عادت) انگریزی کے چار اقتباسات پیش کرتے ہیں جس میں وجودیت (Existentialism) کے اہم نکات کا ذکر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ان اقتباسات میں ڈیکارٹ کا یہ جملہ (انگریزی): I think, therefore I exist.
نہیں ہے اور نہ ہی کرکے گورکا یہ نظریہ کہ:
"Because I exist and because I think therefore I think that I exist.”
خیر، کلیم صاحب نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں:
’’لیکن بات یہ ہے کہ اردو داں طبقہ کا بہت ہی محدود حصہ وجودیت سے براہِ راست متاثر ہوا، یا ہوسکتا ہے کیوں کہ اس کی چشمِ دل وا نہیں اور وہ عالم گیر نقطۂ نظر یا نظریہ یا نظریے کی کمی یا ذہنی انتشار سے متاثر ہوئے ہیں…انھوں نے تو سن رکھا ہے کہ ہر فرد تنہا ہے، اس لیے وہ بھی تنہا ہیں۔ انھوں نے سن رکھا ہے کہ ہر فرد کرب میں ہے اس لیے وہ بھی کرب میں ہیں۔‘‘ (ص 351)
کلیم صاحب کم سے کم فاروقی کے بارے میں یہ باتیں نہیں کہہ سکتے۔ فاروقی میں بلاشبہ وجودیت اور دوسرے نظریات یا عالمی ادب سے براہِ راست اکتساب کرنے اور متاثر ہونے کی صلاحیت موجود تھی اور ہے۔ دوسرے لوگوں کا پتہ نہیں۔ پھر یہ کہ ادھر پروفیسر لطف الرحمن نے ’جدیدیت کی جمالیات‘ کے نام سے جدیدیت پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام کلیم صاحب کے زمانے میں نہیں ہوسکا تھا، ورنہ انھیں شاید ایسی شکایت نہ ہوتی۔ جدیدیت پر ایسی کوئی مبسوط کتاب فاروقی نے بھی (امام ہونے کے باوجود) تالیف نہیں کی۔ ہاں، لطف الرحمن صاحب نے بھی کلیم صاحب ہی کی طرح پوری کتاب میں اقتباسات تو دیے ہیں لیکن ان کے حوالے پیش کرنے سے گریز کیا ہے، خدا جانے کیوں؟
ہاں تو کلیم صاحب فاروقی کو وسیع لمطالعہ سمجھتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔ کئی اہم اور کام کے اقتباسات نقل کرتے ہیں اور پھر آگے چل کر یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
’’میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے رچرڈس کے شاگرد Empsonکی مشہور کتاب Seven Types of Ambiguity کا بھی بغور مطالعہ کیا ہے اور لفظی موشگافی کا فن Empson سے سیکھا ہے۔‘‘ (ص 356)
ظاہر ہے کہ اس لفظی موشگافی میں آدمی اصل فن پارے کے مرکزی خیال سے بہت دور جاپہنچتا ہے۔ کلیم صاحب کہتے ہیں کہ پہلے تو ایمپسن Lovelace کی مشہور نظم To Althea from Prison کی آخری چار سطروں کے تجزیے میں بہت دور جانکلتا ہے۔ کچھ نئے معانی کی جہتیں بھی کھلتی ہیں لیکن ان سطروں کے معروف معانی ہی قابل قبول ہیں۔ اس کے بعد فاروقی صاحب کے ذریعہ میر اور غالب کے کچھ شعروں کی تشریح و تعبیر میں دور کا سفر کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ فاروقی جرح کرتے ہیں۔ ان کی تنقید میں وکیلوں والی جرحیں ہوتی ہیں۔ کلیم صاحب بجا طور پر لکھتے ہیں:
’’میں نے کہا ہے کہ شمس الرحمن صاحب تنقید کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ وہ قصداً Inductive طریقے کا استعمال کرتے ہیں اور یہ دل چسپ بھی ہے لیکن وہ ضرورت سے زیادہ Arguments میں الجھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے خیالات پر غور کرتے ہیں، ان کے Pros and consپر تفصیلی اور مدلل بحث کرتے ہیں… نتیجہ یہ ہے کہ ان کے مقالے اکثر ضرورت سے زیادہ طویل ہوجاتے ہیں۔‘‘ (ص 363)
——
’’ان کے خیالات ان کے Arguments کے دبیز دھندلکے میں کھوجاتے ہیں۔‘‘ (ص 364)
استدلال کے لیے فاروقی جو کرتے ہیں، وہ ضروری ہے۔ خود کلیم صاحب کا طریقۂ تنقید بھی کچھ ایسا ہی ہے جو موزوں اور اہمیت کا حامل ہے۔ فاروقی لکھتے ہیں:
’’جب میں نے تنقید پڑھنی شروع کی تو انگریزی اور اردو کی بہت سی تنقید مجھے خاصی ناقص، تعمیم زدہ، غیرقطعی اور سطحی معلوم ہوئی۔ مجھے کولرج، رچرڈس اور ایک حد تک الیٹ تنقید نگاروں کے بادشاہ نظر آئے۔ میں نے یہ کوشش کی کہ ان کے طریق کار اور طرزِ استدلال کو اردو میں اپناؤں۔‘‘
(غبارِ کارواں، شعر، غیرشعر اور نثر، 1998، ص 15)
یعنی، یہ بات واضح ہوگئی کہ فاروقی کا طرزِ استدلال رچرڈس اور الیٹ کا مرہون منت ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ کلیم صاحب نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ایف آر لیوس نے انھیں نقاد بنا دیا (اپنی تلاش میں)۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آدمی اگر کسی سے متاثر ہو تو اس کا اعتراف بھی کرلے۔، خیر کلیم صاحب جب فاروقی کے مضمون ’نظم اور غزل کا امتیاز‘ کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کبھی کبھار وہ مکتبی ہٹ دھرمی اور کٹھ حجتی اختیار کرتے ہیں۔ پھر وہ ان کے کئی اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کا مدعا ہوتا ہے ’غزل‘ پر دی گئی آرا سے اختلاف کرنا۔ وہ نظم کے ذیل میں بودلیر کی ایک فرنچ نظم پیش کرکے یہ بتاتے ہیں کہ یہ ہے نظم، لیکن آجکل (جدیدیت کے زمانے میں) اردو میں جس قسم کی نظمیں لکھی جارہی ہیں ان کی بنا پر یہ کہنا کہ نظم میں صرف آہنگ ہوتا ہے، درست نہیں (ص 367)۔ اس کے بعد فاروقی نے افسانے کی حمایت میں (یعنی رد میں) جوباتیں کی یا کہی ہیں، کلیم صاحب ان کی تقریباً حمایت کرتے ہیں۔ غالب کی تشریح پر کلیم صاحب رائے دیتے ہیں۔ بعد ازاں لفظ اور معنی کی بحث پر روشنی ڈالتے ہوئے Empson کے ذریعہ رچرڈس کی نظم کی چار لائنوں کا تجزیہ نقل کرتے ہیں اور پھر ابہام (Ambiguity) کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ فاروقی نے ’غبار کارواں‘ میں گرمی کی چھٹیوں میں شیکسپیئر کے گہرے مطالعے اور اس کے حصار میں آنے اور پھر غالب سے بھی کچھ ایسی ہی وابستگی کا ذکر کیا ہے۔ کلیم صاحب نے وہ اقتباس Quoteکیا ہے۔ لیکن چوں کہ فاروقی نے غالب کا نام شیکسپیئر کے ساتھ لے لیا تھا اس لیے کلیم صاحب کے لیے اب یہ ضروری ہوگیا کہ وہ Macbeth اور Kinglear سے چار انگریزی اقتباسات پیش کریں اور آخر میں سوال بھی قائم کریں کہ— ’’آپ ہی بتائیے کہ دونوں میں کیا مماثلت ہے؟‘‘ ایک تو یہ کہ کلیم صاحب نے یہ نہیں سوچا کہ ’غبار کارواں‘ میں شیکسپیئر اور غالب کے حوالے سے فاروقی نے کوئی تقابلی مطالعہ پیش نہیں کیا ہے، بلکہ محض دو بڑے فن کاروں سے متاثر ہونے کی بات کی ہے۔ اصل میں کلیم صاحب کو فاروقی کے جدیدیت والے گوشے پر روشنی ڈالنی تھی، جو وہ نہیں کرسکے اور فاروقی کی دوسری تحریروں اور تشریحوں سے بحث کرنے لگے۔ اسی طرح کلیم صاحب کا یہ مضمون اختتام کو پہنچ جاتا ہے اور فاروقی اور جدیدیت کا رشتہ تشنہ کا تشنہ ہی رہ جاتا ہے۔
کلیم الدین احمد نے اپنی اس کتاب میں جو طریقۂ تنقید اپنایا وہ آخر تک قائم رہا۔ ان کا طرزِ استدلال اور متن سے مکالمے کا انداز اُنھی پر ختم ہوگیا۔ان کی تنقیدی نگارشات چاہے جتنی بھی متنازعہ فیہ رہی ہوں، اتنی بات مسلّم ہے کہ انھیں پڑھ کر اونگھ نہیں آتی بلکہ اگر قاری باشعور ہے، یا پھر خود بھی نقاد ہے تو اس کے اندر ردعمل کا پیدا ہونا فطری اور ناگزیر ہوجاتاہے۔ ایسا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی تحریرسپاٹ پن کا شکار نہیں۔ بلکہ ان کی تحریروں میں ایسے عناصر ملتے ہیں جو ادب کے قارئین کو ترغیب مطالعہ بھی دیتے ہیں اور تازیانے لگانے کا کام بھی کرتے ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی میں پروفیسر ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] کتاب کی بات […]
[…] تحقیق و تنقید […]