یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) نے ہم طلباء کی مشکلیں بڑھا رکھی ہیں، ہمارے JRF (جونیئر ریسرچ فیلوشپ) کا امتحان کی تاریخوں میں اتنی مرتبہ ترمیم و تنسیخ کردی گئی ہے کہ اب ہم پریشان ہوگئے۔ یہ امتحان آخری مرتبہ نومبر 2020 میں منعقد ہوا تھا جو کہ جون 2020 کے سیشن کا پیپر تھا۔ جنوری 2021 اور جون 2021 کے امتحان کا کہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہم طلبا کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے یا طنزیہ طور پر ہمارا مذاق اُڑانے کے لیے دھر میندر کے بیٹے سنی دیول کی فلم ‘دامنی’ کا ایک ڈائیلاگ "تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ” ہمارے سامنے بار بار دہرا دیا جاتاہے۔
کبھی ہم طلبا کے لیے نیٹ ضروری قرار دے دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو ضمنی مان لیا جاتاہے۔ دِقّت یہ ہے کہ بغیر نیٹ کے اعلیٰ تعلیم (پی ایچ ڈی، پی ڈی ایف) حاصل کر لینے پر بھی ہماری اہلیت زیرو ہے اور پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے نیٹ ضروری ہے۔ ریسرچ کے لیے ہماری جامعہ جیسی کچھ لائبریریوں کو اب بھی مقفل کر کے رکھا گیا ہے، ریڈنگ روم تو مستقل بند ہی ہیں۔ بغیر فیلوشپ کے تحقیقی کتابیں تک نہیں خریدی جاسکتیں، تو تحقیق کیا لکھی جائے گی خاک ؟؟؟ فیلوشپ کے امتحان کے نام پر اس سال ہمیں مارچ سے اکتوبر تک پریشان کیا گیا اور ابھی بھی مستقل ہمیں روز آنہ نئے نئے نوٹیفیکیشن کے ذریعے مزید ٹینشن میں مبتلا کیا جارہاہے۔ میں نے مانا کہ یو پی ایس سی کا امتحان بہت بڑا امتحان ہے تو پھر یو جی سی کا امتحان بھی تو نیشنل اور قومی سطح کا امتحان ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر اور جواں سال مترجم وسیم احمد علیمی کے بقول "ہم طلبا کو سیکڑوں کی تعداد میں ای میل کرنا چاہیے، ممکن ہے یو جی سی کے کانوں پر جوں رینگے۔” اس امتحان نے ہمیں اتنا تنگ کردیا کہ طلبا جائیں تو جائیں کہاں؟ کریں تو کریں کیا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔
دوسری خبر یو پی ایس سی کی ہے جو ایک بڑی مشکل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس خبر کے مطابق "31 پرائیویٹ لوگوں کو بھی آئی اے ایس مان لیا جائے گا” لیکن کسی کو بھی کوئی فکر نہیں ہے۔ کچھ مستقبل کے نوکر شاہ (بیوکریٹس) بننے والے لوگ آپس میں مست ہیں کہ ہمارے وارے نیارے ہونے والے ہیں۔ کیوں کہ لال فیتہ شاہی کا وہ لوگ من بنا چکے ہیں اور یہاں من مانی و دھاندلی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
دراصل سب سے بڑا مسئلہ ہم متوسط اور مڈل فیملی بیک گراؤنڈ والے طلبا کا ہے، ہمارے ماں باپ اپنا آدھا پیٹ کاٹ کر ہمیں بڑے شہروں میں پڑھنے بھیجتے ہیں، ہمارے لیے تعلیمی لون لیتے ہیں۔ لیکن ہمارا تین سال کا گریجویشن سات سات تک بھی مکمل نہیں ہوتا۔ رویش کمار نے پچھلے برسوں میں ہماری مجموعی تعلیمی صورتحال کو اپنے تقریباً 40/ پرائم ٹائم کے ذریعے اجاگر کیا لیکن پھر بھی اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ افسوس یہ ہے کہ ہندوستان کے باقی میڈیا ہاؤس پھونپو بنے ہوئے ہیں یا دلال بن کر ایک مخصوص پارٹی کی دلالی کررہے ہیں۔ اسی لیے این ڈی ٹی وی جیسے بڑے چینل کی باتیں بھی اب صدا بہ صحرا ثابت ہونے لگی ہیں؟ افسوس اب تو حاصل یہ کہ
کون سنتا ہے فغاں درویش ؟
ہمارے نیتا اور لیڈران کے بچے مزے سے غیر ممالک میں تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شائع ہونے والے پیڈورا پیپرس سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے۔ لیکن ہم غریب بچوں کو یہ بھی میسر نہیں، مسئلہ ترجیحات کا بھی ہے کہ ہمارے ابتر اور دُم بریدہ لیڈران نے اولاد کا سکھ دکھ جھیلا ہی نہیں تو انہیں ہمارے درد وغم کی فکر بھی کیوں ہو؟؟؟
محمد اشرف
(ریسرچ اسکالر، دہلی یونیورسٹی)
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

