نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے زیر اہتمام بہ اشتراک غالب انسٹی ٹیوٹ امیر خسرو یادگاری خطبے بعنوان” آثار امیر خسرو کے چند مخطوطات بیرونی لائبریری میں اور ازبکستان کے خسرو شناس“کا اہتمام کیا گیا. کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف محقق ودانشور پروفیسر چندر شیکھر نے کہا کہ امیر خسرو کا نام ہندوستان ہی نہیں پورے برصغیر اور وسط ایشیا میں بڑی عزت سے لیا جاتا ہے. انہوں نے اپنی شاعری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو پیش کرکے ایک شاعر اور عالم کا کردار ادا کیا ہے. دنیا کے مختلف کتب خانوں میں ان کے آثار محفوظ ہیں یہ اس بات کی علامت ہے کہ پوری دنیا ان کی استادی کی قائل ہے. صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے صدر پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ پروفیسر چندر شیکھر کے ساتھ کام کرنے کا میرا تجربہ بڑا خوشگوار رہا ہے وہ ہمیشہ ایسے موضوعات اٹھاتے ہیں جن کی طرف یا تو توجہ نہیں کی گئی یا نہایت اجمالی نظر ڈالی گئی ہے. وہ ازبکستان میں ہندوستان کے ثقافتی امور کے انچارج رہ چکے ہیں اور انہوں نے وہاں کے کتب خانوں اور خسرو شناسوں سے جو معلومات حاصل کیں آج انہیں یہاں پیش کر کے ہم سب کے لئے استفادے کا موقع فراہم کیا ہے. غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ پروفیسر چندر شیکھر ان چند محققین میں ہیں جو فارسی اور اردو کی کلاسیکی روایت پر گہری نظر رکھتے ہیں. پروفیسر شریف حسین قاسمی اور پروفیسر چندر شیکھر کی موجودگی نے آج کے اس یادگاری خطبے کو اور بھی یاد گار بنا دیا ہے. امیر خسرو کے کمال فن کے اردو اور فارسی دانشور سبھی قائل ہیں. مجھے امید ہے کہ آج کے اس لیکچر سے امیر خسرو پر کام کرنے والے اسکالرز کو بڑا فائدہ ہوگا. میں پروفیسر چندر شیکھر اور پروفیسر شریف حسین قاسمی کا تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے امیر خسرو یادگاری خطبہ میں شرکت فرمائی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

