ملک میں بے شمار اوقاف ہیں ، لیکن ان کا مناسب استعمال نہیں ہورہا ہے _ بہت سی اوقاف پر مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی چیرہ دستیاں ہیں اور ان سے زیادہ اوقاف پر خود مسلمانوں نے ناجائز قبضہ کرکے ان پر بےجا تصرف کیا ہے ، یہاں تک کہ انہیں ذاتی مفادات کے لیے فروخت تک کردیا ہے _
جماعت اسلامی ہند کا شعبۂ ملّی امور اس سلسلے میں بہت پہلے سے فکر مند رہا ہے _ اس نے RTIs کے ذریعے بہت سی اوقاف کو واگزار کرایا ہے اور انہیں ناجائز تصرف سے بچایا ہے _ پورے ملک میں اوقاف کی صورت حال کو بہتر بنانے کے مقصد سے مرکز جماعت میں دو روزہ ( 11 – 12 دسمبر 2021) ورک شاپ منعقد کیا گیا ، جس میں پورے ملک سے اوقاف سے دل چسپی رکھنے والے حضرات شریک ہوئے اور ان کے سامنے حکومت کی مرکزی وقف کونسل کے ذمے داران اور دیگر ماہرین اوقاف نے اظہارِ خیال کیا _
اس ورک شاپ میں راقم سطور سے ‘وقف کی شرعی حیثیت’ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرنے کی خواہش کی گئی _ میری گفتگو کے نکات درج ذیل تھے :
(1) اسلام نے اول روز سے رفاہی کاموں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مال دار مسلمانوں نے ہر دور میں اور ہر علاقے میں خیر کے کاموں کے لیے دل کھول کر وقف کیا ہے _
(2) وقف اسلامی قانون کا ایک اہم جز اور مسلمانوں کی ملّی زندگی کا روشن باب ہے _
(3) وقف کا مطلب فقہی اصطلاح میں یہ ہے کہ کسی چیز کا مالک اس پر سے اپنا حق ختم کردے اور اسے اللہ کے لیے خاص کردے ، چنانچہ اسے فروخت نہ کیا جاسکے ، اس کا وجود باقی رہے اور اس کی منفعت عام کردی جائے _
(4) غزوۂ احد (4 ھ) کے موقع پر مُخَیریق نامی یہودی اسلام لائے _ انھوں نے کہا کہ اگر میں جنگ میں شہید ہوجاؤں تو میرا سارا مال اللہ کے رسول ﷺ کے لیے ہے _ ان کے سات باغات تھے _ وہ شہید ہوگئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان باغات کو وقف کردیا _ (طبقات ابن سعد ، مغازی واقدی)
(5) حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو غزوۂ خیبر میں ایک زمین ملی تو انھوں نے اسے صدقہ کرنے کا ارادہ کیا _ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : ” تم اس کی اصل کو محفوظ رکھو اور اس کے فوائد کو صدقہ کردو _” انھوں نے ان شرائط کے ساتھ اسے وقف کردیا :
* اسے فروخت نہیں کیا جائے گا _
* اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا _
* اسے وراثت میں نہیں دیا جائے گا _
* اس کا فائدہ فقراء ، رشتے داروں ، غلاموں ، فی سبیل اللہ ، مہمانوں اور مسافروں کو ملے گا _
* اس کا متولی معروف طریقے سے اس میں سے کھا سکتا ہے _( بخاری : 2737)
(6) رسول اللہ ﷺ سے بھی وقف کرنا ثابت ہے _ ایک حدیث میں ہے :
ما ترک رسول اللہﷺ …… إلّا….. ارضاً جعلھا لإبن السبیل صدقۃً ( بخاری : 4461)
” رسول اللہ ﷺ نے جو چیزیں چھوڑی تھیں ان میں ایک زمین بھی تھی ، جسے آپ نے مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا _”
(7) عہدِ نبوی میں مسجد قبا ، مسجد نبوی اور دیگر متعدد مساجد کو وقف کیا گیا _ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا قیمتی باغ (بیرُحاء) ، جو مسجد نبوی کے عین سامنے تھا ، وقف کردیا تھا _ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رومہ نامی کنواں ایک یہودی سے خرید کر وقف کردیا تھا _
(8) وقف کی کئی قسمیں ہیں :
* وقف عام ، جسے ابتدا ہی سے عام لوگوں کے لیے وقف کیا جائے _
* وقف خاص ، جسے پہلے اپنی اولاد ، پھر اس کی ذرّیت کے لیے وقف کیا جائے ، بعد میں اسے عام کیا جائے _
* وقف مشترک ، جس کے منافع کو اپنی اولاد اور عام لوگوں دونوں کے لیے وقف کیا جائے _
(9) وقف غیر منقولہ جائداد اور منقولہ سامان کو کیا جاسکتا ہے ، کسی چیریٹیبل پروجکٹ میں سرمایہ کاری بھی کی جاسکتی ہے ، نقد رقم کو بھی وقف کیا جاسکتا ہے اور کئی لوگ مل کر بھی کسی عمارت کو خرید کر اسے وقف کرسکتے ہیں _
(10) وقف کے سلسلے میں چند اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں :
* وقف نامہ : وہ تحریر جس میں کسی چیز کے وقف کیے جانے کی صراحت ہوتی ہے _
* واقف : وہ شخص جو وقف کرتا ہے _
* موقوف : وہ چیز جسے وقف کیا جاتا ہے _
* موقوف علیہ / علیہم : وہ شخص / لوگ جن کے لیے کوئی چیز وقف کی جاتی ہے _
* جہتِ وقف : وہ مقصد جس کے لیے کوئی چیز وقف کی جاتی ہے _
* متولّی : وہ شخص جسے موقوفہ جائیداد کی حفاظت ، نگرانی اور انتظام کا ذمے دار بنایا جاتا ہے _
(11) وقف کی شرائط یہ ہیں :
* واقف عاقل ، بالغ اور موقوفہ شئ کا مالک ہو _
* وہ اس شئ کو اپنی ملکیت سے نکال کر متولّی کے سپرد کردے _
* موقوفہ شئ میں وہ اپنے لیے کوئی شرط نہ لگائے _
* موقوفہ شئ الگ ہو ، مشترکہ نہ ہو _
* وقف عارضی مدت کے لیے نہ ہو ، دائمی یعنی ہمیشہ کے لیے ہو _
(12) اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وقف بہت سے مقاصد کے لیے کیا گیا ہے ، مثلاً :
* دینی تعلیم کے لیے : مدارس ، جامعات ، لائبریریاں ، کتابیں
* عبادت کے لیے : مساجد یا ان کا سامان
* پانی کی فراہمی کے لیے : سبیلیں
* غذا کی فراہمی کے لیے : سرائیں
* یتیموں ، بیواؤں ، بے سہارا عورتوں کے لیے
* دودھ پلانے والی عورتوں کے لیے
* معذوروں اور بوڑھوں کے لیے : Old age homes
* علاج معالجہ کے لیے : بیمارستان
* حاجیوں کے لیے : حج ہاؤس
* مقامات مقدسہ کے لیے
* سرحدوں کی حفاظت کے لیے
* مسافروں کے لیے
* بچوں کے لیے : کھیل کود کے میدان ، پارک
* حیوانات اور پرندوں کے لیے
(13) اوقاف میں ناجائز تصرفات ہوتے رہے ہیں ، اس لیے باشعور مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ ان کے تحفظ کی فکر کریں اور ان کے صحیح مصارف میں استعمال ہونے کی تدبیریں کریں _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

