میرےچہرے پر کوئی چہرہ نہ تھا
ورنہ کیا میں آدمی اچھا نہ تھا
زندگی کوجب تلک سمجھا نہ تھا
ٹوٹ کر ایسے کبھی بکھرا نہ تھا
میں سمجھ کر پی گیا آب حیات
زہر تیرے ہاتھ کا کڑوا نہ تھا
اپنی جاں بخشی کی خاطر مخبری
اتنے بزدل ہو کبھی سوچا نہ تھا
آگیا زد پر شکاری کی وہی
جو پرندہ شاخ پر بیٹھا نہ تھا
میں نےدشمن سےنبھائی تھی جہاں
بھائیوں کےدرمیاں رشتہ نہ تھا
در بدر ہی کاٹ دی عمرِ رواں
گھر کرائے کا انس سستا نہ تھا
انس اعظمی
خاص بازار بلریاگنج اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

