جذبات میں اک آگ لگاتا ہےدسمبر
خواہش کی نئی فصل اگاتا ہے دسمبر
جوبن پہ اگر رات ہو اور چاند بھی چمکے
پھر آنکھ کو کیا کیا نہ دکھاتا ہے دسمبر
چاندی سے بدن دھوپ کو سینے سے لگا لیں
تب حسن کی بارش میں نہاتا ہے دسمبر
دن وصل کی مانند گزر جاتے ہیں جلدی
قصہ شبِ ہجر اں کا بڑھاتا ہے دسمبر
مژدہ بھی نئے سال کی آمد کا سنائے
اور عمر بھی اک سال گھٹا تا ہے دسمبر
بچھڑا تھا وہ ہم سے تو مہینہ بھی یہی تھا
ہم کو تو ندیم اور ستاتا ہے دسمبر
عبداللہ ندیم
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

