دائم محمد انصاری کی کتاب دریافت اور باز یافت – نسیم اشک
ہر عہد اپنے اعتبار سے اہم ہوتا ہےاور اپنے عہد کی خوبیاں رکھتا ہے اس بات کی مد نظر جو ہم سے بچھڑ گۓ وہ بھی اہم تھیں جو اب آۓ ہیں وہ بھی اہم ہیں۔ نتیجہ آدمی کی محنت سے بر آمد ہوتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ نتیجے کے حاصل میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔جب کوئی بھی کام نیک نیتی سے کیا جاتا ہے تو اس کا انجام نیک ہی ہوتا ہے۔ہم نے تاریخ کی کتابوں میں مختلف ادوار کے بارے میں پڑھا ہے ہر دور کی ایک خاص بات رہی ہےجو اس عہد کی تاریخ کا مرقع ہے بالکل اسی طرح اس عہد رواں کی کوئی خاص خوبی ہے تو وہ "ہم” کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔مقام کبھی قابلیت کا پتہ نہیں دے سکتا گر اس بات سے انکار ہو تو دور حاضر کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔کبھی کبھی انسان کو یہ احساس ستاتا ہے کہ وہ ابھی تک انسان کیوں ہے؟ وہ کوئی دنیا کیوں نہیں تخلیق کرتا،اپنے اصل قد سے ذیادہ لمبا اور اپنے اصل وزن سے ذیادہ وزن رکھنا خود اعتمادی نہیں خام خیالی اور خوش فہمی کی انتہا ہے لہذا یہ بات قابل غور ہے کہ جو فیصلہ وقت کرتا ہے وہی اہم ہوتا ہے۔
وقت کے ہاتھوں میں فیصلہ رکھنے والوں کی فہرست میں دائم محمد انصاری ایک اہم نام ہیں۔
موصوف کی حالیہ تصنیف "دریافت اور باز یافت” اردو فکشن پر تحریریں ہیں۔کتاب کے مطالعے سے ان کی ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔دائم محمد انصاری کے افسانے کئ اعتبار سے منفرد ہوتے ہیں،افسانوی ادب میں دائم ایک دائم نام بن کر نمودار ہوۓ ہیں ان کے افسانوں کی دنیا میں کلاسیکی عہد کی جھلکیاں ملتی ہیں تو کہیں آج کا ہانپتا کانپتا سماج اور کہیں مونھ چھپاتی حقیقتیں۔افسانوں کے بیان پر جو دسترس ان کو حاصل ہے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ان کا ایک افسانہ "تندور میں پکا چاند” کا مطالعہ اس بیان پر مہر ثبت کرتا ہے۔طۓ شدہ میدان عمل میں سر کردہ رہنے والے دائم انصاری اپنے مطالعےکے ساتھ اپنے کافی کو بہت عزیز رکھتے ہیں اور اس لۓ اپنی بات کو بولنے کے لئے ان کا اپنا اسلوب کافی ہوتا ہے۔تنقید کا کام بہت محنت کے ساتھ بہت ایمانداری مانگتا ہے اگر تنقید نگار فن کار کی نگاہیں رکھتا ہے تو تنقید باعث قبول ہوتی ہے میری نگاہ میں فن پر تنقید فن کار کا ہی کام ہے اور تنقید وہ لکھے جو فن کار ہو ورنہ تنقید ذاتی بغض اور ذاتی نظریات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔تنقید ویسا بالکل نہیں ہے جیسا کہ اسے ادب کا ایک قاری سمجھتا ہے اگر کوئی قاری یہ سمجھتا ہے کہ تنقید کا نام فن کی برائیاں نکالنے کا نام ہے تو وہ غلط ہے ہاں مگر اس غلط احساس کا ذمہ دار وہ خود ساختہ ناقدین ہیں جنہوں نے فن کو محفل چند میں مقید رکھا لیکن ایسے ناقدوں کی بھی کمی نہیں جنہوں نے ادب کو فن کی کسوٹی پر پرکھا،اس کی خوبیوں کو ڈھونڈا،خامیوں کی نشاندہی کی اور بہتر سے بہترین بنانے پر زور دیا ایسے ناقدوں کو ادب احترام کی نظروں سے دیکھتا ہے۔موصوف نے اپنے مضامین میں تنقیدی گفتگو کرتے وقت نہایت سنجیدہ اور مثبت فکر کی غمازی کرتے نظر آتے ہیں۔ان کا اسلوب بہت سلیس اور شگفتہ ہے اپنی بات کہتے ہوۓ وہ مغربی اشاروں سے خود کو باز رکھتے ہیں جو ان کے تنقید کی ایک اہم اور قابل غور بات ہے۔نثری اصناف کے ابتدا ،عروج اور موجودہ حالات سے نہ صرف با خبر اور بیدار ہیں بلکہ ان کی وضاحت کرتے ہوۓ ان کا نظریہ ماہر تیر انداز کے ذہن کا وہ نشانہ ہوتا ہے جس کا وار خالی نہیں جاتا اور ایک تیر ہی کافی ہوتا ہے۔عجلت پسندی سے اپنی تنقید کو بچاتے ہوۓ وہ فن پر حاصل سیر گفتگو کرتے ہیں۔ان کی تحریر پڑھتے ہوۓ وہ اپنی عمر کے دوگنے دکھائی دیتے ہیں،قد و قامت میں بھی اور افکار و نظریات میں بھی۔ یہ صاف صاف اشارہ ہے، ایک آہٹ ہے ایک مستند فکشن نگار کا۔
خاص کر ادب میں خوش فہمی کی ایک وجہ معاشی حالت کا بہتر ہونا بھی ہے۔عصر حاضر میں جب کوئی عہدہ پالیتا ہے تو اس کو طرح طرح کے گمان ہونے لگتے ہیں جیسے اس نے خدا پا لیا ہوں پھر اس کے بعد اب وہ دوسروں کو حقیر مخلوق سمجھنے کی سعی کر بیٹھتا ہے کرے بھی کیوں نہ جب کوا موتی کھانے لگے تو ایسی سعی معنی خیز بن جاتی ہیں۔ایسے قصے ہر ادبی و غیر ادبی گلیاروں میں وافر مقدار میں مل سکتے ہیں۔کبھی سیاست کی مہربانی کبھی تقدیر کا سانڈھ ہونا انہیں وہاں پہنچا دیتا ہے جس کے لائق وہ نہیں ہوتے۔دو چار الفاظ منھ ٹیڑھی کرکے نکال دینے سے ادب پر احسان کرنے والوں کی جماعت میں خارجیت،داخلیت کچھ بھی نہیں ہوتا سواۓ انکے خام خیالی کے۔
دائم صاحب کی تنقید میں مشرقی ادب کو فوقیت حاصل ہے۔Magical Realism کے حوالے سے بات کرتے ہوۓ وہ کہتے ہیں کہ یورپ میں طلسماتی حقیقت کا اطلاق جب مصوری کے لئے ہوتا تھا اس وقت ہمارے یہاں فکشن میں یہ طلسماتی حقیقت نگاری موجود تھی اور پریم چند ہی وہ ادیب تھے جنہوں نے شعوری یا لا شعوری طور پر اپنے افسانہ”پسنہاری کا کنواں” میں طلسماتی حقیقت نگاری کو جگہ دی یقناً یہ بات ہماری معلومات میں اضافہ کرتی ہے اور ہمیں اپنی ادبی روایت پر نازاں ہونے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔دائم صاحب نے اپنے بازیافت کی اچھی مثال بھی پیش کی ہے۔موصوف کے اندر ایک حساس فکشن نگار سانسیں لے رہا ہے اس لۓ وہ قاری سے ایک افسانہ نگار کی طرح گویا ہوتے ہیں اپنا نظریہ رکھتے ہیں اور فیصلہ قاری پر اور وقت پر چھوڑ دیتے ہیں وہ کسی موضوع پر اپنا نقطہ نظر تھوپتے نہیں پیش کرتے ہیں۔سائنٹفک تنقید کے ساتھ وہ تھیوری رکھتے ہیں اور ردعمل کا منتظر رہتے ہیں۔ناول،افسانے اور ڈرامے کے صفحۂ قرطاس پر اپنی فکری قلم کی نوک رکھتے ہوۓ ان کا بیانیہ لہجہ عام قاری کے اذہان تک رسائی پا لیتا ہے اور بڑی شگفتگی سے فکر کے تاروں کو چھیڑ دیتا ہے یہ ان کے اسلوب کی بڑی خاصیت ہے۔کبھی کبھی مدعا ثقیل الفاظ کی گھیرا بندی کے شکار ہو جاتا ہےاور تحریر اپنے مقصدیت سے بھٹک جاتی ہے موصوف نے اس معاملے میں بڑی چابکدستی سے کام لیا ہے۔
اردو نثر کی حسین تاریخ کا تزکرہ کرتے وقت،ان نثر پاروں کی عظمت بیان کرتے وقت ان کے اندر ایک ناقد کے ساتھ ساتھ اردو ادب کا ایک سپاہی نظر آتا ہے جسے اپنے ماضی پہ ناز ہےاور مستقبل سے ڈھیروں امیدیں۔”داستان امیر حمزہ” کا حوالہ دیتے ہوۓاردو ادب خصوصی طور پر نثری ادب کے متعلق ان کا مثبت نظریہ سر اٹھاۓ نظر آتا ہے انہیں اپنے ماضی پر فخر ہے یہ عین ثبوت ہے ان کے قد آور ہونے کی کیونکہ جو اپنے اسلاف کو بھلا دیتا ہے اسے ایک دن دنیا بھی بھلا دیتی ہے۔
"تقسیم ہند،تعمیر پاکستان اور قدرت اللہ شہاب کا "یا خدا” کا تنقیدی جائزہ لیتے وقت وہ جس جزبات نگاری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ قابل ذکر ہے۔
"ایک مہذب انسانی سماج میں جہاں قتل اور زنا روز مرہ کی واردات ہو وہاں فسادات ٹھاکر کی بارات کے مانند ہوتے ہیں جس میں کھیسوں جیسا چمار بھی اس قدر کھانا کھا لیتا ہے کہ اس سے چلا بھی نہیں جاتا”
عصر حاضر کے تناظر میں مذہب اور خوف مذہب پر اپنی راۓ قائم کرتے ہوۓ یوں گویا ہے۔
"میں سمجھتا ہوں مذہب اور ذات یہ سب بیکار محض باتیں ہیں،اصل معاملہ ہے جنس کا۔ کوئی بھی مذہب جب تک انسان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا ہے تب تک وہ با آسانی اگل دیا جاتا ہے۔مذہب اور مذہبی باتیں ہر کس و ناکس کی سمجھ میں کہاں آتی ہیں لیکن جنس کی سمجھ تو درندوں تک کو ہے۔ہم خواہ مخواہ فسادات کو مذہبی تناظر میں دیکھتے ہیں”
اپنے نظرۓ کو قارائین کی عدالت میں پیش کرتے وقت وہ ان سے بھی جواب کے طلب گار ہوتے ہیں.اپنے کہے کو حرف آخر نہیں مانتے اپنے خیالات کا بر ملا اظہار کرتے وقت وہ ان کے جذبات بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا اس موضوع پر کیا نظریہ ہے یہ کشادہ قلبی کے ساتھ انکے معاملہ فہمی کو بہتر طریقے سے پیش کرتا ہے نیز قاری ان کی گفتگو کا مخاطب بھی بنتا ہے اور متکلم بھی اس طرز وضاحت سے مصنف کے احساسات کو قاری بہتر سمجھتے بھی ہیں اور گفتگو سے بیزار بھی نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر ایک سوچتا ہوا قاری ڈھونڈ لیتے ہیں جو صرف سنتا نہیں سوچتا بھی ہے۔
"اور اگر قاری کا جگر مظبوط ہے تو ایک لمحہ کے لئے وہ بس سوچ کر دیکھے کہ اگر یہ لڑکی اپنے ان دونوں بھائیوں کے ہمراہ چلی جاتی تو کیا اس کے ساتھ ‘برادرانہ’ سلوک کیا جاتا یا ‘مردانہ’ لیکن قدرت نے رحم کھا کر دلشادکو مہاجر خانہ پہنچا دیا۔”
نیر مسعود کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیتے وقت ان کی پارکھی نظر اور عمیق مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔یہ مضمون ان کی تحقیقی کا ایک بین ثبوت ہے۔موصوف نے نثر کو اپنا میدان عمل چنا ہے اور اس دشت کی پیمائی سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنے اس مضمون میں نیر مسعود کی افسانوی دنیا میں کیمرے کی نگاہ سے دیکھا ہے اور ایک کامیاب کہانی کار کو اس کے فکری محاسن کےساتھ نہ صرف ڈھونڈ کر سامنے لایا ہے بلکہ قاری کو یہ باور بھی کرایا ہے کہ ان کی فن کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہاں بھی موصوف اپنے کہے کو قاری کے اذہان پر مسلط نہیں کرتے بلکہ انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ ایک نگاہ اور۔۔۔۔۔۔۔۔
موصوف افسانوں کا جائزہ لیتے وقت اپنا نقطہ فکر کو محور رکھتے ہیں اور اس وجہ سے وہ ان افسانوں کے حوالے سے بات کرتے وقت ان کا نظریہ گم نہیں ہوتااسی محور کے چاروں طرف طواف کرتا ہے کبھی کبھی وہ افسانوں کے ان کرداروں سے ہی اس افسانے کے بابت بات کرتے دکھائی دیتے ہیں ان کا یہ طرز عمل ان کا فراخ دل ہونا اور flexibility کو دکھاتا ہے جو تنقید میں خال خال ملتی ہے۔
دائم محمد انصاری نے اپنا رشتہ نثر سے ضرور جوڑا ہے مگر وہ ترچھی نگاہوں سے غزل کے حسن کو بھی تاڑتے رہتے ہیں جس کا ثبوت وہ اپنے مضامین میں جا بجا چھوڑ گۓ ہیں۔ میری دانست میں نثر نظم سے بغلگیر نہ سہی لیکن ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ضرور دکھائی دیتے ہیں،ادب کی اس شاہراہ پر کسی ایک منزل کے مسافروں کی طرح…. شناسا کی طرح۔۔۔۔۔
ادب کے درخشندہ ستاروں کے فکشن کو اپنے سخن کا موضوع بنانے والے دائم محمد انصاری نے بڑی کمال خوبی سے اپنی تنقید پیش کی ہے اور اپنی تنقیدی بصیرت کے جوہر دکھائیں ہیں جو آنے والے تابناک کل کی علامت ہے۔
غلام عباس،پریم چند،قدرت اللہ شہاب،نیر مسعود،شمس الرحمٰن فاروقی،خالد جاوید وغیرہ شخصیات کے فن کا انتخاب کرنا انکی تنقیدی شعور کے دریچے وا کرتا ہے نیز آنے والے تنقیدی کارواں کو اذن سفر دے رہا ہے۔
موصوف نے دریافت بھی کی ہے اور باز یافت بھی اس مناسبت سے اس کتاب کا عنوان مناسب اور درست ہے۔میں ان کی تنقیدی بصیرت اور اس خوبصورت کتاب پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اردو ادب میں یہ کتاب یقیناً قابل قدر نگاہوں سے دیکھی جائے گی۔خالق ازل سے ان کی مزید تخلیقی ترقی کا دعا گو ہوں۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاء اللہ۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔