Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

افتخار عارف کا جہانِ غزل – مصطفی علی

by adbimiras جنوری 3, 2022
by adbimiras جنوری 3, 2022 0 comment

افتخار عارف عصرحاضر کے ممتاز ترین پاکستانی شاعروں میں سے ایک ہیں۔وہ لکھنؤ میں پیداہوئے، پلے بڑھے اور یہیں سے انھوں نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی۔ اس کے بعداپنی عمر کے ۲۱ ویں پڑاؤ پر ۱۹۶۵ میں پاکستان ہجرت کر گئے اور چونکہ وہیں پران کا ریحانہ نام کی خاتون سے رشتہ ٔ ازدواج میں (بوقت پیدائش ہی)منسلک ہونا طے پایا تھا اس لیے گئے تواسی زنجیر میں بندھ کر رہ گئے۔ جانے کے دو برس بعد ۱۹۶۷ میں ان کی شادی ہوئی اور دس برس بعد بیوی، بچوں کے ساتھ وہ لندن کوچ کر گئے۔ ۱۹۹۰ میں اردو مرکز(جس میں وہ سروس دیتے تھے)بند ہونے پروہ پاکستان واپس آگئے لیکن ان کی آل اولاد نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس صورت میں ریحانہ سے ان کی علیحیدگی ہو گئی۔ اب وہ ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تنہائی۔
ان حالات نے ان کی شاعری میں تین توانا موضوعات پیدا کیے۔ ایک مٹی کی محبت کا، دوسرا ہجرت کے کرب کا اور تیسراتنہائی کاموضوع۔ یہ تینوں موضوعات ان کے ایوانِ شاعری میں ردائے محزونیت اوڑھ کر داخل ہوئے ہیں۔اس ردا کی بُنائی ان کی کلیدی الفاظ ’’شہر،گھراورآنکھ، خواب‘‘ کے مخصوص دھاگوں کے تانے بانے سے ہوئی ہے۔ یہ الفاظ ان کی شاعری میں کبھی اپنے اصل معنی میں آتے ہیں تو کبھی علامت و استعارہ کی شکل میں۔ بشکل علامت ان میں اتنیوسعت و گہرائی ہوتی ہے کہ وہ افتخار کے موضوعات کو اپنے احاطے میں لے سکیں۔ میں پروفیسر سید ڈاکٹر ابوالخیر کشفی صاحب کے اس بات سے متفق ہوں کہ:
’’افتخار عارف کی علامتوں میں ان کے موضوعات کو سمیٹنے کی قوت موجود ہے ۔۔۔‘‘
( کتاب دل و دنیا، ص: ۱۶۹)
ان الفاظ کے درمیان ایک قسم کا علاقہ بھی پایا جاتا ہے۔ جس طرح گھر شہرمیں ہوتے ہیں اسی طرح خواب آنکھوں میں پلتے ہیں۔عارف وہ پہلے اور اکلوتے شاعر نہیں ہیں جنہوں نے ان الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ان سے پہلے اور ان کے ہم عصر شعرا میں بھی بہتوں نے اپنے جذبات کی ادائیگیکے لیے ان لفظیات کا سہارا لیا ہے ۔ مثلاً غالبؔ، ناصرؔ، مجروحؔ، فرازؔ وغیرہ۔فرق موضوع یااندازِ پیش کش کا ہے۔موضوع یکساں و مماثل بھی ہو توافتخار عارف کا طرز بالکل منفرد ہوتاہے۔ اس قبیل کے چنداشعار بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں ؎
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
اک ہجرت اور ایک مسلسل دربدری کا قصہ
سب تعبیریں دیکھیں گے کوئی خواب نہیں دیکھے گا
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف کے کلیدی الفاظ کی طرح ان کے مذکورہ موضوعات بھی ایک دوسرے سے متعلق ہیں اور ان کا سرا رزق و روزگار سے جڑا ہوا ہے۔ان کے کلام کا بغور مطالعہ کرنے پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان کی ہجرت کسی کے ستائے جانے یا ظلم و تشدد کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مسئلۂ رزق کی بنیادپرواقع ہوئی ہے۔بطور دلیل یہاںکئی اشعار پیش تو کیے جا سکتے ہیں لیکن بخوف طوالت میںبس ایک ہی شعر پر اکتفا کرنا چاہوں گا ؎
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
روزی روٹی کی خاطر دربدر بھٹکنے کی مجبوری نے کتنے انسانوں کو گھر سے دور کر دیا ہے۔ مسئلہ ٔ روزگار ملکی ، ملی سے اوپر اٹھ کر عالمی مسئلہ بن چکا ہے لیکن تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہندوپاک پر بے روزگاری کی مار زیادہ پڑی ہے۔ اگر اسے مزید معروضی بنایا جائے تو بی بی سی اردو کی 14نومبر 2016کی رپورٹ کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندی مسلمانوں کی زبوں حالی کی واحد وجہ یہی ہے، وہ اپنی بے روزگاری کی وجہ سے غربت کے شکار ہیں اور غربت و مفلسی کے سبب جاہلیت کے۔ہندی مسلمانوں کا دو تہائی حصہ بھی کسی معاشی سرگرمی سے منسلک نہیںہے۔اعلی سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب تو بد سے بدتر ہے، آئی اے ایس میں 3.0%، آئی پی ایس؍سکیورٹی ایجنسیز میں 4.0%، انڈین ریلویز اور شعبۂ صحت میں 4.5%، تعلیم (ریاستی سطح پر)میں 6.5% اور عدلیہ میں7.8% مسلم ملازم ہیں۔
جو لوگ اس کی بنیادی وجہ مدرسہ کے روایتی نظام کو مانتے ہیں ان کی نگاہ شاید ان دو محقق باتوں پر بالکل نہیں، پہلی یہ کہ ان کے صرف 4%بچے ہی مدرسہ کا رخ کرتے ہیں باقی کے 96% میں سے 66% سرکاری اور30% پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،اور دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کے انہی علاقوں میں مدارس زیادہ ہیں جہاں ان کے لیے اسکول دستیاب نہیں ہیں۔ بجائے اس کے کہ حکومت سے ان جگہوں پر اسکولز بنوانے کی پرزور سفارش کریں لوگ مدرسوں کے روایتی نظام پر اس کا ٹھیکرا پھوڑتے رہتے ہیںاور جو 96% حصہ مدرسوں سے الگ تعلیم حاصل کرتا ہے اس کے روزگار کا کیا بنتا ہے، اس کے حشر پر تو یہ کم اندیش، کوتاہ فہم بات بھی نہیں کرتے۔
مسلمانوں کی اکثر نسل صفرسے اپنا سفر شروع کرتی ہے اور منزل تک پہنچتے پہنچتے اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے، لہذاجب تک حکومت ان پر توجہ دے کر انھیں مرکزی دھارے سے نہیں جوڑتی ، ان کی حالت نہیں سدھر سکتی اور کمیٹیوں (سچر،رنگ ناتھ مشرا)کی رپورٹیں تومحض دیمک کو خوراک مہیا کرانے کے لیے ہی ہوتی ہیں۔ورنہ مسلمانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، وہ اپنی لیاقت، اپنا ہنر، اپنی تعلیم اور اپنی وطن پرستی (جس کا سرٹیفیکٹآج کل اس سے ہر جگہ مانگاجا رہا ہے )اپنے ہاتھوں میں لیے کھڑا ہے اور کہتا ہے مجھ سے کام لو لیکن کوئی اس کا دست گیر و پرسان حال نہیں۔اب تو ہر طبقے کے ہنرمند نوجوانوں کی حالت یہی ہوتی جا رہی ہے، اللہ خیر کرے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح شاعر نے کتنے بنیادی مسئلے کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اسے کس قدر خوبصورت شعری اظہار کا جامہ پہنایا ہے۔ اس سلسلے میں زہرا نگاہ کا درج ذیل شعر بھی ذہن کے پٹارے سے اچھل کرباہر آنا چاہتا ہے ؎
ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافر
روزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے
روزی کی بھٹی کا ایندھن بن کربے گھر ہونے والییہ لوگ افتخار عارف کو بہت انگیخت کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ کہیں نہ کہیں ان کی ذات سے بھی منسلک ہے۔ایک جگہ انھوں نے بذات خود کہا ہے ؎
’’مری بے گھری مجھے کیسے کیسے دروں، گھروں پہ لیے پھری‘‘
اور پھر ایک جگہ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے حزن و ملال کو سدرۃ المنتہٰی سے آگے پہنچا دیاکہ ؎
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
اس دلیل سے ان کی محزونیت کو معراج حاصل ہو گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رزق اور اس کے لیے مہاجرت کا مسئلہ ان کے اجسام شاعری کی روح بن گیا ہے۔ ہجرت کی یہی مجبوری اور گھر سے دوری ان کی شاعری کے بطن سے مٹی کی محبت اور تنہائی کو پیدا کرتی ہے ۔ مٹی کی محبت کے لیینمونے کے طور پر ان کے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے
مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لیے
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لیے
پہلے شعر میں قرض اور دوسرے میں میثاق ،روزگاری اصطلاحیں ہیں۔یہی اصطلاحیں مٹی کی محبت کا رشتہ رزق سے جوڑ دیتی ہیں۔ روزگاری اصطلاحات تو ان کے کلام میں اور بھی بہت ساری جگہوں پر دیکھنے کو ملتی ہیں، مثلاً یہ اشعار دیکھیں ؎
دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی
اجرت عشق وفا ہے تو ہم ایسے مزدور
کچھ بھی کر لیں گے یہ محنت نہیں ہوگی ہم سے
ان اشعار میں’ اجرت ‘اور ’مزدور‘روزگاری اصطلاحیں ہیں لیکن’ اجر‘مذہبی اصطلاح ہے۔ ان کی غزلوں میں مذہبی اصطلاحات بھی خوب استعمال ہوئی ہیں اور ساتھ ہی مذہبی تلمیحات اور کربلائی استعارات کابھی غلغلہ ہے۔اگر میں کہوں کہ اس قبیل کے ان کے اشعار اپنی ہیئتی پگڈنڈی سے بھٹک کر منزلِ غزل کی جانب گامزن ہو گئے ہیں توشاید غلط نہ ہوگا۔ بعض دفعہ تو ایسا لگتا ہے کہ ہم غزل نہیں مرثیہ پڑھ رہے ہیں لیکن بات دراصل یہ ہے کہ صرف مرثیہ ہی نہیں بلکہ حمد،نعت، منقبت اور ہندی گیت بھی عارف کے یہاں غزل کا بہروپ بنا کر آ گئی ہیں۔ان سب کے باوجود ان کی غزلیہ شاعری پربھرپور کلاسیکی رچاؤدیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ نمونے ملاحظہ ہو ؎
وہ خاک پاک ہم اہلِ محبت کو ہے اکسیر
سرِ مقتل جہاں نیزوں پہ سر تولے گئے تھے
مدینہ و نجف و کربلا میں رہتا ہے
دل ایک وضع کی آب و ہوا میں رہتا ہے
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
کاسۂ شام میں سورج کا سر اور آواز اذان
اور آواز اذاں کہتی ہے فرض نبھانا ہے
اب بھی توہینِ اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے
ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
صاحبو! اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے
ان کے اسی اسلوب کو لوگوں نے ماورائیت، نورانیت، عقیدت اور تصوف وغیرہ کا نام دیا ہے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ افتخار عارف نے سانحۂ کربلا اور مذہبی تلمیحات و اصطلاحات کو عصری استعارے کی شکل میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں رؤف امیرکے درج ذیل اقتباس پر ہی اکتفا کیا جائے گا کیوں کہ ان کا یہ گوشہ ایک الگ مضمون کا مستحق ہے، اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’افتخار عارف کی غزل کے تمام حوالوں میں ایک حوالہ سب سے زیادہ روشن اور تابناک ہے۔ کربلا، وطن، سیاست، محبت سارے مضامین غزل ایک طرف وہ اکیلا موضوع اپنی جگہ۔ میں اسے ’’ماورائیت‘‘ کا نام دوں گا۔ اسی ماورائیت کے باعث افتخار عارف کی غزل زمین سے بلند ہوکر زمانے پر چھا گئی ہے۔
افتخار عارف کی ماورائیت متصوفانہ خیالات سے تشکیل پاتی ہے۔ کبھی وہ حمد کے شعر کہنے لگتے ہیںکبھی نعت کے اور کبھی کچھ نورانیوں کے نام ان کی غزل کو منور کر جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں افتخار عارف ’’افتخار عارف‘‘ ہیں۔۔۔
افتخار عارف کی ماورائیت ان کی غزل میں صوفیانہ اصطلاحات کی جمالیاتی دائرہ بناتی ہے مثلاً اسباب دنیا، گریۂ نیم شبی، امید حضوری، گریۂ جنوں، غبار شعور،جوہر نور وغیرہ۔‘‘
(رؤف امیر،اقلیمِ ہنرافتخار عارف :شخصیت و فن، ص ۶۵۔۶۶)
افتخار عارف بعض جگہ تذبذب کے شکار بھی نظر آتے ہیں۔ کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں ان سے حتمی فیصلہ نہیں ہوتا کہ وہ کس جذبے کی ترجمانی کریں مثلاً ہجرت ہی کو لے لیجیے ۔وہ پہلے ہجرت نہ کرنے کی بات کہتے ہیں جیسا کہ اوپر مذکور دوسرے شعر سے پتہ چلتا ہے پھر فیصلہ بدل لیتے ہیں۔اسی طرح پہلے خواب کو بھی کبھی نہ جدا کرنے کی بات کہتے ہیں لیکن بعد میں اسے بھی آزاد کرنے کے لیے مجبور دکھائی دیتے ہیں۔آپ شعر دیکھیں ؎
نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو
مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا
لہو دینے لگی ہے چشمِ خوں بستہ سو اس بار
بھری آنکھوں سے خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا
خیربات ہو رہی تھی مصلحت رزق کی۔ یہ حقیقت ہے کہ اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے لوگ ایمان و اخلاق کو طاق پررکھ دیتے ہیں۔ بال بچے تو دور خود اپنے شکم میں ہی آگ لگتی ہے تو انسان دولقمے کے عوض کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ کوئی پروردگارہے جس کی آنکھیں سب کچھ دیکھ رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے’ بھوکے بھجن نہ ہوئے گوپالا‘۔واقعی رزق ایک بڑامسئلہ ہے اسی لیے افتخار عارف کی غزلیہ شاعری کے نقشے میں اسے ایک بڑے صوبے کی حیثیت حاصل ہو ئی ہے اور تقریباً ساری مصلحت رزق اس میں سما گئی ہے۔ عارف نے اس موضوع کو نہ صرف بنیادی طور پر اپنایا ہے بلکہ اسے بڑی خوش اسلوبی سیبرتا بھی ہے ۔ اس کی کچھ جھلکیاں دیکھیں ؎
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیر اہلِ حاجت کیا
ترا رزق ہی سببِ مرض ہے تو اب کے بار
ذرا جم کے ردِّ وبال درہم و دانہ کر
جن کے قلوب میں لالچ سرایت کرجائے وہ حلال و حرام کی تمیز بھول جاتے ہیں ۔ وہ روزی کے لیے کسی بھی سطح پر اترنے کو تیار ہوتے ہیں۔ جبکہ افتخار عارف اس کے قائل نظر نہیں آتے ۔ وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ ؎
کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے
لیکن خیرات کا لقمہ توڑنے کے عادی ان حرص و طمع سے اندھے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے پرعزم لہجے میں بڑی سادگی سے شریعت کایہ سبق بھی سناتے ہیں ؎
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
ہجرت ہمیشہ مہاجر کے دل میں مٹی کی محبت ، وطن سے دوری اورخاندان کی جدائی کا احساس کراتی رہتی ہے۔ روزی روٹی کا جگاڑ بٹھانے کے لیے گھروں سے دور نکلے لوگ خانہ بدوشوں کی مانند زندگی گزارتے ہیں۔ وہ کبھی یہاں کبھی وہاں ، کبھی اس دیس کبھی اس دیس بھٹکتے پھرتے ہیں۔ایک جگہ سے نوکری چھوٹی توکاندھے پربیگ لٹکائے دوسری جگہ نوکری کرنے پہنچ جاتے ہیں لیکن اس کے لیے انھیںدردر کی ٹھوکریں کھانیپڑتی ہیں۔کئی طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں پھر بھی اپنی ان سب تکالیف کو بخوشی جھیل کریہ بے گھربے در لوگ اپنے گھر کی سلامتی کی دعاکرتے ہیں، جس میں ان کے ماں باپ، بھائی بہن اور بال بچے رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ اپنوں سے بچھڑنے کی یاد ایک کسک کی صورت دھار کران کی روح میں بیٹھ جاتی ہے اور انھیں ہرلمحہ بے چین رکھتی ہے۔ وہ اس امید میں دن رات محنت کرتے ہیں کہ اپنی بدحالی سے ابرنے کے بعد گھر واپس لوٹ آئیں گے اور زندگی کے باقی بچے دن اپنوں کے ساتھ رہ کرگزاریں گے کیوں کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر پر کوئی ان کی راہ دیکھ رہا ہے اور بے صبری سے ان کے آنے کا انتظار کر رہا ہے مگرشاید ہی کسی پر قسمت مہربان ہو اور اس کی یہ خواہش پوری ہوتی ہو۔یہ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں اور نہ ہی اس مجبوری کی کوئی سرحد ہے۔ افتخار عارف نے کیفیت و شعورکے ان تمام جہات کو اپنے ذاتی جذبات کی بھٹی میں تپاکر بڑی کامیابی سے غزلیہ شاعری کی شکل میں ڈھالا ہے۔اس کے کچھ نمونے دیکھتے چلیں ؎
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں
ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے
گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا
ہم بے در بے گھر لوگوں کی ایک دعا بس ایک دعا
مالک! شہرِ گلاب سلامت ہم پر جو بھی آئے عذاب
انسان زندگی بھر ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔کبھی گھر کی خوراک ، کبھی بچوں کی فیس، کبھی والدین کی دوا، کبھی اولاد کی شادی غرض ذمہ داری بھیس بدل کرہر وقت اس کے سامنے کھڑی رہتی ہے اور وہ بے چارہ قرض مہ و سال اتارتے اتارتے بوڑھا ہو جاتا ہے۔افتخار عارف نے اپنے ایک شعر میں اس کو کتنی صفائی اور سادگی سے پرتاثیر لہجے میں بیان کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں
انسان اللہ کی طرح رزاق نہیں کہ وہ دیتا جائے اور بندہ لیتا جائے پھر بھی اس کی جھولی خالی نہ ہو۔ اس کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ وہ اپنی استطاعت بھر ہی کسی کی مددکر سکتا ہے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ ؎
ابھی اٹھا بھی نہیں تھا کسی کا دست کرم
کہ سارا شہر لیے کاسۂ طلب نکلا
افتخار عارف عصری آگہی و حسیت سے بہت آگاہ ہیں۔انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اگر سارا شہر ہی ننگا ہو تو کوئی آدمی کس کس کوکپڑے پہنائے گا۔ خیر یہ تو ایک بات ہوئی اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ لینے والے ہزاروں ہیں اور دینے والے گنے چنے ۔ مذکورہ بالا شعر ایک طرف خون چوس لینے والے اورسارے شہر کو ضرورت مندوبھکاری بنا دینے والے ظالموں کونشانہ بناتا ہے اور دوسری طرف زکات پر پلنے کی خصلت والے مفت خورمسٹنڈوں کو۔
رزق پر بات بہت لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لیے یہاں پر پروفیسر سید ابوالخیر کشفی کا ایک اقتباس پیش کرتے ہوئے میں اپنی بات کو سمیٹنا چاہوں گا:
’’افتخار عارف کی شاعری کا بنیادی موضوع رزق جلیل ہے۔ یہی رزق جلیل قربت خسروانہ میں بھی ہمیں مرنے نہیں دیتا بلکہ حیات ابدی کا سراغ دیتا ہے۔ یہی رزق جلیل اور نان جویں ہمیں اس مستقر تک پہنچاتی ہے جسے گھر کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے تعبیر نہیں کر سکتے۔ افتخار عارف کی شاعری کا موضوع رزق حلال اور وہ گوشہ ٔ عافیت ہے جو مکان کو گھر بناتا ہے اور ان دونوں کا حصول ہمیشہ اس منزل تک پہنچاتا ہے کہ موت ہمارے جسم کو چھوتی ہے مگر ہمارے وجود کے مرکز سے دور رہتی ہے۔ ‘‘
( کتاب دل و دنیا، ص: ۱۶۹)
پروفیسر سید ابوالخیر کشفی صاحب مکان کو گھر بنانے والی جس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں وہ افتخار کے درج ذیل شعر کی طرف اشارہ کرتی ہے ؎
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
جس طرح غالبؔ نے اپنی شاعری میں بڑی عمدگی سے قیس اور مجنوں یا آدمی اور انسان کے درمیان فرق قائم کیا ہے ٹھیک اسی طرح افتخار عارف نے بھی گھر اورمکان میں افتراق روا رکھا ہے۔ یہاں گھر مستقل ٹھکانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جبکہ مکان ایک ایسی جگہ کے طور پر آیا ہے جسے ایک متعین وقت کے بعد بدلنا یا چھوڑنا پڑتا ہے۔
افتخار عارف نے جن مزاج اور جن جذبوں کی ترجمانی کرنی چاہی ہے ، بغیر انقباض کا شکار ہوئے کامیابی سے ان کا حق ادا کردیا ہے۔ہجرت ہی نہیں ان کے یہاں ہجر کا کرب بھی ہے۔سیاست دوراں ہی نہیں بلکہ عشق فروزاں کے گل و خار بھی ہیں لیکن یہ کم کم ہیں۔جذبہ کوئی بھی ہو عارف کا رنگ چوکھا ہوتا ہے اور سطح بلند۔پہلے تو آپ ان کا سیاسی تیوردیکھیں ؎
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
غرور ٹوٹنے کے بعد آدمی جس کیفیت سے دو چار ہوتا ہے ، اس کی جو صورت اور حالت اس وقت ہوتی ہے اس کی اس سے بہترترجمانی اور کیا ہو سکتی ہے۔ افتخار عارف کا سیاسی شعور اور سماجی حسیت بالیدہ و پختہ ہے۔ آج کے مطلب پرست دنیا والے جو نقاب در نقاب چھپے ہوتے ہیںان کو افتخار نے بے نقاب دیکھا اور اپنی غزلوں میں فن کا نقاب پہناکرپیش کر دیا۔ انھوں نے ظالم اور مظلوم میں سے مظلوم کے جذبے کو سہارا دینے اور ان کے حالات و کیفیات کی ترجمانی کرنے کوچنا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ ترقی پسندخیمے سے وابستہ یا ترقی پسندافکار و نظریات سے متاثر ہیں ، وہ تو بالکل آزادانہ طور پر لکھتے ہیں۔ انھیں جو جذبہ و احساس اور افکار و نظریات اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں وہ ان کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے یہ ہرگز نہیں دیکھتے کہ یہ کس تحریک یا رجحان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کام میں ان کا طریقۂ کار اس قدر منفرداور ان کا لہجہ اتنا شگفتہ و نرم ہوتا ہے کہ کوئی بھی دل ان مظلومین کی ہمدردی سے لبریزہو جائے۔اس طرح کے کچھ اشعار ملاحظہ ہو ؎
شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا
کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے
بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے
شہر بے مہر میں لب بستہ غلاموں کی قطار
نئے آئین اسیری کی بنا چاہتی ہے
نرغۂ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقت شہر
اہل دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف
کچھ اس طرح کے بھی چراغ شہر مصلحت میں تھے
بجھے پڑے ہیں خود ہوا سے ساز باز کرکے بھی
مصلحت پرستی، منافقت اور بے حسی کے کوبڑکو مذکورہ بالااشعار کے تحت بڑی عمدگی سے ظاہر کیا گیاہے۔ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے مگر ایک مضمون میں صرف اشارے پر ہی اکتفا کیا جانا مناسب معلوم پڑتا ہے لہذا معذرت کے ساتھ ہم آگے بڑھتے ہیں۔ اب ذرا ان کے عشق کا نرالا طور ملاحظہ فرمائیں؎
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے
مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
اردوشاعری میں ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی نے چاند سے مکھڑے،کالی گھنیری زلفیں، گلاب کی پنکھڑی سے نازک لب ، نرگسی آنکھیں اور بلوریں دانت والے محبوب کی خواہش نہ کرتے ہوئے ایک ایسے معشوق کی طلب ظاہرکی جو اس کے مزاج کے سب موسموں ، اس کے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو۔یہ جرأت بھی پہلی دفعہ دکھا کہ دل میں پوشیدہ ایسی تمنا جس کے ظاہر ہونے پر سُبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہو اس کو کوئی اتنی برہنہ گفتاری سے عیاںکرتے ہوئے کہہ رہاہو ؎
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے
آپ نے اب تک اردو شاعری میںادا سے اٹھلاکر چلنے والا محبوب توبہت دیکھا ہوگالیکن افتخارکے یہاں آپ دیکھیںگے کہ ان کا محبوب صرف اچھی چال والا ہی نہیں بلکہ تیز چال والا بھی ہے۔ اتنی تیزکہ وہ کب ان کی زندگی سے رخصت ہوجاتا ہے ان کویہ بھی پتہ نہیں لگتا۔اس شدت غم کوانھوں نے کس لطیف پیرایے میں ادا کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی
’محبوب کا اپنی زندگی سے چلے جانے کے بعد خبرہونا‘ نہایت لطیف جذبہ اور احساس ہے جسے افتخار نے شعر کے قالب میں کامیابی سے ڈھالا ہے۔یہ خاصیت ندا فاضلی کی شاعری کی بھی ہے بلکہ یوں کہیں کہ نداؔ کی شاعری وہاں معراج حاصل کر لیتی ہے جہاں لطافت احساس میں شدت کرب موجزن ہواور اب افتخار عارف کی شاعری بھی اسی نہج پر گامزن نظر آتی ہے۔خیر اس طرح ان کا عاشق بھی اردو شاعری کے روایتی عاشقوں کی طرح ہجر کی صعوبت برداشت کرتا ہے۔ ہجر پر ان کے کچھ اشعار یہاں پیش کیے جاتے ہیں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ ان کا یہ رنگ بھی دوسروں سے منفرد ہے ؎
رات بس اک چراغ کی لو سے رہا مکالمہ
صبح نہ جانے کب ہوئی کیسے ہوئی پتہ نہیں
تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہیں
جان بہت شرمندہ ہیں
بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام
پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں
افتخار نیرنگیٔ زمانہ سے اس قدر متاثر لگتے ہیں کہ انھوں نے جب بھی عشق پربات کرنی چاہی ہے، سیاست نے اکثراس میں اپنا ٹانگ اڑایا ہے۔آپ کو بہت سی جگہوں پر ایسا محسوس ہوسکتا ہے کہ عشق سیاست کے کھول میں لپٹا ہوا ہے۔ پتہ نہیں کہ ایسا دانستہ طور پر ہوا ہے یا نادانستہ طور پرلیکن اس کارروائی کا ان کی غزلوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ جہاں کہیں بھی ایسا ہوا ہے وہاں ان کے اشعار میںمزیدنکھارکے ساتھ کیتھارسس کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اشعار دیکھیں ؎
بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں
خوابوں کی پسپائی کے چرچے گلی گلی تھے جب ہم نے
دل کے ہاتھ پہ بیعت کر لی دنیا کو ناراض کیا
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
میں چاہتا تھا کہ سورج میری گواہی دے
سو میں نے رات کے آگے سپر نہیں ڈالی
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں وفا اور مروت کوئی قدر نہیں ،ایثارو خلوص کا ہر طرف قحط پڑا ہوا ہے۔یہ سب ایک کمزورشے کی صورت اختیار کر چکی ہیں، بس یوں سمجھ لیجیے کہ مطلب پرستی کے اس زمانے میں یہ ایک شاخِ نازک کی مانند ہیں جس پر اگر محبت کا آشیانہ بنا تو ناپائیدار ثابت ہوگا۔ انہی وجوہات نے شاعر کے دل میں تنہائی کا ہائی لیول تعمیر کرکے اس کے فن کارذہن سے یہ شعر نکلوایا ہے ؎
چہرہ بہ چہرہ، لب بہ لب، خواب بہ خواب، دل بہ دل
عمر گزار دی گئی، کہیں کوئی ملا نہیں
جب منزل دور دراز ہو اور طویل مسافت طے کرنے کے بعد بھی راستہ میں کوئی ہمسفر نہ ملے تو ناامیدی و قنوطیت جنم لے لیتی ہے ، لیکن عارف نے اس لہجہ کو بھی اس ملائمت اور نرمی سے برتا ہے کہ قابل دید و شنید بن گیا ہے، ملاحظہ فرمائیں ؎
تار شبنم کی طرح صورت خس ٹوٹتی ہے
آس بندھنے نہیں پاتی ہے کہ بس ٹوٹتی ہے
میں بس اتناکہنا چاہتا ہوں کہ افتخار عارف کلاسیکی رچاؤکے ساتھ شعری و فنی لوازم کی پابندی کو کبھی نظر انداز نہیں کرتی بلکہ وہ غزلیہ شاعری کی فنی و جمالیاتی قدروں کا احترام ہر وقت ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ علامت و استعارے کا عمدہ استعمال اور حسن تراکیب کا خیال رکھتے ہوئے خوبصورت لب و لہجہ اخیتار کرنابھی وہ کبھی نہیں بھولتے۔وہ اگر مناظرقدرت کی عکاسی بھی کرتے ہیں تو اپنی سطح سے نیچے نہیں اترتے اور اپنی شعریت کا وہی انداز اپنائے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعرملاحظہ فرمائیں ؎
سپاہِ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا
اس طرح افتخار عارف کے اسلوب نے اوروں سے الگ اپنی جداگانہ پہچان قائم کرلی ہے اور غزل گوئی کے میدان میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ ان کے جانے کتنے اشعار ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ خیر یہ استاد ذوق ؔ کی بساط ہے مگر افتخار اپنی حسن ادائیگی سے اس کھیل کے بھی مہارتھی بنتے جا رہے ہیں۔شاید انھوں نے شاعری کی ساری گوٹیوں کی چال کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا ہے ورنہ اس طرح کے اشعارخلق کرنا مشکل ہی نہیں محال ہو جاتا۔کوئی بس ان کا یہ ایک شعرہی یاد رکھے تو بھی بطورشاعر انھیں نظر انداز کرنااس کے لیے ناممکن ہو جائے گا ؎
بوند میں سارا سمندر آنکھ میں کل کائنات
ایک مشت خاک میں سورج کی آب و تاب دیکھ
انھوں نے جس لب و لہجہ میں اپنی شاعری کی ابتداکی تھی اب تک اسی کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔محزونیت کے جس رنگ اور زبان و بیان کے جس ڈھنگ سے مہر دو نیم کی غزلیں ہمارے سامنے آتی ہیں حرف باریاب سے ہوتے ہوئے جہان معلوم تک وہ ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں۔ بدلاہوا ہوتا ہے تو افتخار کا جذبہ ، ان کا تیور ان کے موضوعات وخیالات ۔ ان کے علامات و استعارات کی پرت بھی آگے دبیز سے دبیز تر ہوتی جاتی ہے۔میں یہاں نیر مسعود صاحب کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا:
’’اس میں ایک تو تراکیب سے حسن اور معنویت پیدا ہوئی ہے اور ظاہر ہے تراکیب بازار کی عام پسند کا مال نہیں ہوتیں۔ ’’فغانِ قافلۂ بے نوا‘‘ قسم کی ترکیبوں کو سمجھنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے اعلی قسم کے ادبی ذوق کی ضرورت ہے، لیکن بہرحال ان کی ندرت کی وجہ سے وہ لوگ بھی ان سے لطف لیتے ہیںجن کا ذوق اتنا اعلی نہیں ہوتا۔
عارف کی شاعری کی کامیابی کا دوسرا اور قوی تر سبب اس کے موضوعات اور اس کا لب و لہجہ ہے۔ ان موضوعات کو افتخار عارف ہلکے رمزیہ اشاروں اور لطیف کنایوں میں اسی طرح برتتے ہیں کہ بعض سامنے کے موضوعات میں بھی حسن اور تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور سننے والے ’’ہل من مزید‘‘ کہنے لگتے ہیں۔ مجھے بھی ’’ہل من مزید‘‘ کہنے والوں میں شمار کیجیے۔‘‘
(نیر مسعود، جہان معلوم )
نیر مسعود صاحب کی دوسری بات بالکل بجا ہے لیکن پہلی بات سے میں متفق نہیں ہوں۔ آپ مضمون میں پیش کردہ تمام اشعار کو مدنظر رکھیں۔ کیا آپ کو کہیں بھی ’’فغانِ قافلۂ بے نوا‘‘ والے افتخار عارف نظر آتے ہیں؟آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے جان بوجھ کر ایسے اشعار سے گریز کیا ہے ۔ اس کے برعکس میں نے حتی الامکان افتخار عارف کی شناخت اور انھیں ہردل عزیز بنانے والے ان کے بے حد مقبول اشعارکا انتخاب پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے بے حد معذرت کے ساتھ نیر مسعود صاحب کی پہلی بات سے میں اختلاف کرتاہوں۔اگرمحض ان کی نظموں سے متعلق یہ رائے دی جاتی تو ایک حد تک درست بھی ہوتی مگران کی مکمل شاعری کی کامیابی کا سہرا ان کے تراکیب پر باندھنا ہرگزدرست نہیں۔ان کے تراکیب کی حسن اور معنویت سے مجھے قطعی انکار نہیں اور میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ یہ بھی ان کے اسلوب نگارش کی ایک جہت ہے لیکن غزل افتخار کا فخر یہ نہیں بنتے بلکہ ان کی کامیابی کا دارومدار ان کے سادہ و پرکار اسلوب پر قائم ہے۔ زبان کی پیچیدگی اور عربی ،فارسی تراکیب کا استعمال ان کی مقبولیت کا راز نہیں بلکہ زبان کی سادگی اور لطیف رمز کے ساتھ علم بدیع و بیان کے برمحل استعمال پر ان کی غزل کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اور یہی ان کی انفرادیت بھی ہے۔ ان کی شاعری کی زنبیل اسلوب کی رنگارنگی اور متنوع موضوعات سے پہلے ہی بھری ہوئی ہے لیکن ابھی ان کی سخن طرازی جاری ہے اس لیے آئندہ ان کے موضوعات و اسلوب ، علامات و استعارات اور تعبیری لب و لہجہ کے مزیدستارے آسمان شاعری پرٹمٹماتے نظر آ سکتے ہیں۔
٭٭٭

 

نوٹ:
جب یہ مضمون اشاعت کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے تو افتخار عارف کے ایک نئے شعری مجموعے ’’باغِ گلِ سرخ‘‘کی آمد کی نوید میرے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔ ترمیم و اضافے کے لیے اسے اب روکنا ٹھیک نہیں ، لہذا اگرزندگی رہی تو ان شا اللہ اس نئے مجموعے پرپھر کبھی غور وفکرکیا جائے گا۔مدیر محترم کی اس کرم فرمائی کا بے حد شکریہ کہ انھوں نے آخری مرحلے میں بھی نوٹ کو شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

مصطفی علی
ریسرچ اسکالر ، شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی110025-
8299535742
mustafaaliias@gmail.com

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
عامر سبحانی کو چیف سیکریٹری بنانا وزیر اعلی نتیش کمار کا مستحسن قدم: ” کاروان ادب”

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں