تخلیق کی دہلیز پر (مجموعۂ مضامین) / فاروق اعظم قاسمی – ڈاکٹر نوشاد منظر
زیر تبصرہ کتاب ’تخلیق کی دہلیز پر‘ فاروق اعظم قاسمی کے مضامین کا مجموعہ ہے جن میں بقول مصنف بعض مضامین مطبوعہ ہیں اوربعض غیر مطبوعہ۔یہ مصنف کی تیسری تصنیف ہے۔اس کتاب سے قبل ”منا ظر گیلانی“ اور ”آؤ قلم پکڑنا سیکھیں“ نام سے ان کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ مذکورہ کتاب میں اکیس مضامین کے علاوہ حقانی القاسمی کی تحریر بعنوان ”خیابان خیال“ اور مصنف کا مقدمہ بھی شامل ہے۔مصنف نے اس کتاب کو چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔کتاب کے پہلے حصے میں ”ادیب،تخلیق اور قاری“ادب پر بازار کی اجارہ داری“۔”پروفیسر محمد حسن کی ’ادبی سماجیات‘ کا تجزیاتی مطالعہ“،”منٹو کے خاکے میں عصمت چغتائی“،”منٹو کا موضوعاتی جہاں“اور”پریم چند: اور پریم چند کا اسلام پریم شامل ہیں جب کہ دوسرے حصے میں سوانح اور خاکے کا فرق اور اردو میں انشائیہ کب سے؟کتاب کا تیسرا حصہ دو مضامین ”مکتوباتی ادب اور حضرت مولانا حسین احمد ہمدانی پر مشتمل ہے۔کتاب کے چوتھے حصے میں ”تصوف کے چند منتخب اشعار: تعبیر و تشریح“ اور ”اردو میں صوفیانہ شاعری:روایت اور بدلتے ہوئے رجحانات“ عنوان سے دو مضامین شامل ہیں۔کتاب کا پانچواں حصہ شاعری کی تنقید سے متعلق ہے۔نظیر کی شاعری،شاد عظیم آبادی کی غزل کائنات،علامہ مناظر احسن گیلانی کی شاعری،اختر الایمان کی شاعری میں انسانی قدریں،مولانا ریاست علی ظفر کی غزلوں کے حوالے سے مضامین شامل ہیں۔کتاب کا آخری حصہ ڈرامے سے متعلق ہے جس میں اندر سبھا،اردو ڈرامے میں پارسی اسٹیج کی انفرادیت اور فنون لطیفہ کا شاہکار مغلیہ طرز تعمیر کے عنوان سے مضامین شامل ہیں۔
کتاب ’تخلیق کی دہلیز پر‘ کا پہلا مضمون’’ادیب،تخلیق اور قاری“ ہے۔انسان اور دوسرے ذی روح میں بنیادی فرق عقل و فہم کاہے۔یہی قوت انسان کے لیے ترقی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔مصنف نے انسانی فہم و ادراک کے پیش نظر قاری کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔قاری کا پہلا گروپ ان لوگوں کا ہے جو صرف مطالعہ کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اپنی زبانی تاثرات سے دوسروں کو روشناس کراتے ہیں۔یعنی ادب کی افادیت اسی قاری کی ذات تک محدود رہ جاتی ہے۔قاری کا دوسرا طبقہ بقول مصنف ان لوگوں کا ہے جو اپنے تاثرات کو تحریری شکل میں پیش کرتا ہے تاکہ دوسرے بھی اس کے خیال سے استفادہ کرسکیں اور ادب فہمی میں ان کی رہنمائی بھی ہوسکے۔تیسرا طبقہ ان قارئین پر مشتمل ہے جو پورے انہماک کے ساتھ نہ صرف کسی فن پارے کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ ادب کے لیے مقررہ اصولوں کی بنیاد پر اس متن کے محاسن و معائب کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔متذکرہ تینوں جماعت کو مصنف نے عام قاری،باشعور قاری اور ناقد قاری کا نام دیا ہے اور تفہیم ادب کے لیے ناقد کی رہنمائی کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔ایک مختصر اقتباس دیکھئے:
”نقاد کی شکل میں اگر کوئی ادبی کنٹرولر ہمارے پیچھے نہ ہو تو ہمیں ادب سے روشنی ملنی تو مشکل ہے! ہاں کالے کالے حروف ضرور ہاتھ لگے گا۔“ (ص: 25)
مصنفکا خیال ہے کہ بغیر ناقد کے ادب کی تفہیم ناممکن ہے،یہ سوچنے کا مقام اس لیے بھی ہے کہ اگر ایک عام قاری کسی متن سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے تو کیا اس کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہوگی؟دوسری بات یہ کہ مصنف نے جس ادبی کنٹرولر کی بات کی ہے وہ کون ہے؟قاری کے جن تین جماعت کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ان میں سے آخر کے دو کا تعلق ناقد کے زمرے سے ہے پھر فاروق اعظم کی نظر میں کون سا گروپ ادبی کنٹرولر ہے؟یہ سوال نہایت اہم ہے کیونکہ مصنف نے لکھا ہے کہ ادب کی سینچائی کا کام باشعور قاری یعنی دوسری جماعت کے ناقد کرتے ہیں۔قارئین کا یہ دوسرا گروپ وہی ہے جس کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ ان کی تحریریں تاثراتی،غیر تنقیدی اور نیم تنقیدی ہوتی ہیں۔یہاں مصنف کا نظریہ مبہم ہوجاتا ہے کیونکہ کبھی وہ ادب کے لیے ناقد کو اتنا اہم قرار دیتے ہیں کہ بغیر ان کی رہنمائی کے تفہیم متن ناممکن نظر آتی ہے اور کبھی وہ ہلکی اور تاثراتی مضامین کو ادب کے لیے بہترین تصور کرتے ہیں۔
زیر مطالعہ کتاب کا ایک مضمون”ادب پر بازار کی اجارہ داری“ ہے۔جسمیں مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ سرمایہ داروں اورجمہوری حکومتوں کی سرپرستی نے ادب کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔بقول مصنف اس سرپرستی کے کئی مثبت پہلو ضرور ہیں جن سے ہم استفادہ کرسکتے ہیں مگر سرمایہ داروں یا جمہوری حکومت کی سرپرستی کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس سے ادیب کی فکر و آزادی پر پہرہ لگ جاتا ہے۔
مذکورہ کتاب کا ایک مضمون ”فضائل اعمال اور اردو ادب“ ہے۔ظاہر ہے اس کتاب کا موضوع تعلیمات اسلامیہ ہے۔بر صغیر بالخصوص ہندستان اور پاکستان میں اس کتاب کی اہمیت مسلم ہے۔فاروق اعظم نے فضائل اعمال کی مذہبی معنویت و مقبولیت سے قطع نظر اس کتاب کی زبان اور اسلوب کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کتاب نے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں رول ادا کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب کا ایک مضمون بعنوان ”تصوف کے چند منتخب اشعار: تعبیر و تشریح“ ہے۔اردو میں تقریباً تمام شعرا کے یہاں ایسے اشعار مل جاتے ہیں جن میں تصوف یا عشق حقیقی کا خالص تصور نظر آتا ہے۔تصور دراصل ایک عملی تحریک کا نام ہے۔اس مضمون میں فاروق اعظم قاسمی نے امیر خسرو،کبیر، ولی،سراج،میر درد سے لے کر شاد عظیم آبادی وغیرہ کے کلام میں تصوف کے مختلف موضوعات پر بحث کی ہے اور اپنی تائید میں متعدد اشعار درج کیے ہیں۔
مجموعی طور پر فاروق اعظم قاسمی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ایک ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے ان کی اس کوشش کو سراہا جانا چاہیے۔ممکن ہے اس کتاب کے مطالعہ کے بعدمصنف کی آرا سے ہمارا کچھ اختلاف ہو اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ ادب میں کوئی بھی بات حتمی نہیں ہوتی،مگر اس سے کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔فاروق اعظم کی زبان اور ان کی طرز نگارش بہت صاف ہے، کہیں کہیں ان کی زبان فارسی آمیز معلوم ہوتی ہے۔کتاب کی طباعت دیدہ زیب ہے اور قیمت مناسب ہے۔
(ماہنامہ ایوان اردو، اپریل 2015)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

