سفیر صدیقی کے’خوابوں کے مرثیے‘ – ڈاکٹر ذاکر فیضی
اکثر نوجوانوں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ محنت نہیں کرتے۔ ان میں علم و صلاحیت کی زبردست کمی پائی جاتی ہے۔یہ بھی کہ یہ ہمیشہ چور راستے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کم سے کم محنت میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ مگر ہمارے عہدمیں کُچھ ایسے نوجوان بھی ہیں جن کی صلاحیتوں نے مُجھ جیسے نا اہل کو چونکا دیا ہے۔ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے ہی ایک نوجوان سے میں سال سال ڈیڑھ سال پہلے ملا تھا۔ بے حد ذہین، مطالعے کا شوقین، با اخلاق، منکسر المزاج اور کسی بھی طرح کی خوش فہمی سے دور۔ جی ہاں اس نوجوان کا نام ہے سفیر صدیقّی۔
سفیر سے میری پہلی مُلاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ راقم کے غریب خانے پر تشریف لائے تھے اور خاکسار نے بہت ہی خلوص و محبت کے ساتھ ان کی خدمت میں اپنا افسانوی مجموعہ ”نیاحمام“ پیش کیا تھا۔ دوسری ملاقات ان کے اسٹوڈیو میں ہوئی جہاں انھوں نے مجھے ”نیا حمام“ پر گفتگوکے لیے مدعو کیا تھا۔ پھر ہم لوگ ملتے رہے۔چند روز قبل وہ ایک بار پھر احقر کے غریب خانے پر تشریف لائے اور انھوں نے اپنے ’خوابوں کے مرثیے‘ مجھے پیش کیے ، جس کے لیے میں ان کا بے حد مشکور ہوں۔
راقم فیس بُک پر ان کی شاعری پڑھتا رہتا ہے۔شاعری میں پیش کیے گئے ان کے خیالات و افکار سے بے حد متاثر رہتا ہے۔ جب ”خوابوں کے مرثیے“ میری دسترس میں آئے تو مجھے خیال آیا کہ میں نے بھی کئی کہانیاں خوابوں کو مرکز بنا کر لکھی ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ زیرِ بحث کہانی ”ٹی او ڈی“ (Tax of Dream) ہے۔ اس کہانی میں حاکمِ وقت نے عوام پر خواب دیکھنے پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ مگر سفیر صدیقی نے جس زاویے سے خوابوں کو اپنی شاعری میں برتا ہے، پیش کیا ہے۔ اپنے افکار و خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ ایک دم نرالا، منفرد اور دلچسپ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں زندگی کا ایسا فلسفہ چھُپا ہوا ہے،جس پر ہر کسی کی نگاہ نہیں پہنچ پاتی۔ سفیر صدیقی کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو خوابوں کے مر جانے کی اداسی گھیر لیتی ہے۔
سفیرصدیقی کی شاعری میں احساس کی نئی تازگی، زندگی کے فلسفے کی نئی روشنی اور انسانی نفسیات کے تجربے کی تازہ فضا ہمارے ارد گرد ناچتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں نئے نئے تجربوں سے آشنا کرتی ہے۔ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آج کا انسان عجیب و غریب نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے۔ وہ نجانے کس خوشی، نجانے کس نجات کی تلاش میں ہے۔ انھیں خیالات و احساس کو سفیر نے اپنی شاعری میں دکھانے کی سعی کی ہے۔ غور طلب ہے کہ ان غزلوں میں جہاں زندگی کا فلسفہ ملتا ہے وہیں ہمارے عہد کا سیاسی، معاشرتی اور سماجی تصوّر بھی اُبھر کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس شعر پر غور فرمائیں:
ایک ہی سایہ نظر آتا تھا ہر دیوار پر
میں نے بھی جھلّا کے دے مارا ہے سر دیوار پر
سفیر صدیقی ”خوابوں کے مرثیے“ کے پیش لفظ میں فرماتے ہیں:
”میں نے جو کُچھ بھی لکھا ہے وہ اکثر رات کے تیسرے پہر میں لکھا ہے۔
اور اسے پڑھنے کا مناسب وقت بھی میرے خیال میں وہی ہے۔“
راقم نے بہت کوشش کی کہ ”خوابوں کے مرثیے“ رات کے تیسرے پہر میں پڑھ سکے، مگر یہ میرے لیے مُمکن نہ ہو سکا۔ میں عام انسان جو روزگار کی تلاش میں صبح گھر سے نکلتا ہے۔ شام کو گھر واپس لوٹتا ہے۔ رات بارہ بجے تک بچّوں کے ساتھ کھیلتا ہے اور صبح چھ بجے اُٹھ کر اسے پھر رزق کی تلاش میں نکل جانا ہوتا ہے۔ وہ بھلا رات کے تیسرے پہر میں خوابوں کے مرثیے کا مطالعہ کیسے کرتا۔مجبوراََ شام کے وقت ہی خوابوں کے مرثیوں سے روبرو ہوا۔ کتاب کا جھوٹا قاری قرار پایا۔ مگر میں نہایت خلوص و محبت اور احترام کے ساتھ سفیر سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دن کے اُجالے اور شام کے دھندلکے میں بھی ’خوابوں کے مرثیے‘ سے نبرد آزما ہونے میں بڑا لطف و انبساط حاصل ہوا۔
’خوابوں کے مرثیے‘ کا سچّا قاری ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے:
”یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہوگی کہ مجھے سچّے قارئین مل جائیں
لیکن شاید میرے سچّے قاری وہی لوگ ہوں گے جو خوشی کے احساس
سے بے نیاز ہو چکے ہوں گے۔“ (پیش لفظ)
اس معاملے میں، میں نے بھر پور کوشش کی کہ وقتی طور پر ہی سہی اپنے اندر کے شرارتی بچّے کو سلاکر خوشی کے ہر احساس سے بے نیاز ہو جاؤں اور نہایت سنجیدگی سے کتا ب کا مطالعہ کروں۔ میں نے ایسا کیا بھی۔ تب مجھے منفرد اور انوکھے احساس کا سامنا ہوا۔ اور میں نے پایا:
اب تو لگتا ہے کہ مرنا ہے اسی زخم کے ساتھ
جس کے بھرنے کی امید وں نے جواں رکھا تھا
رات بھر خواب کی تعبیر کی اور پھر دمِ صبح
اپنا ہر خواب وہیں پایا جہاں رکھا تھا
ذاکر فیضی جہاں اپنی کہانی ’ٹی او ڈی‘ میں خوابوں پر ٹیکس لگا کر حاکمِ وقت کا ظلم دکھاتا ہے اور عوامی احتجاج بُلند کرتا ہے۔ وہیں سفیر صدیقی کو اپنے قضا کے خواب بھی اس قدر سہانے لگتے ہیں کہ اپنی ہی ہاتھوں سے اپنا گلا دبانے لگتے ہیں:
قضا کے خواب ہمیں اس قدر سہانے لگے
ہم اپنے ہاتھوں ہی اپنا گلا دبانے لگے
ڈھلی جو شام تو سب اپنے اپنے گھر چلے
سو ہم بھی موت کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے
سفیر صدیقی کی اس کتاب میں آپ کو بہت سے اشعار ایسے ملیں گے جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے۔ زندگی کو جس زاویے سے ابھی تک آپ نے دیکھا ہے، اس سے مخالف سمت میں آپ چلتے ہوئے نظر آئیں گے اور پائیں گے کہ زیست محض وہ نہیں جو سامنے سے نظر آتی ہے۔زندگی اوپر، نیچے اور دائیں، بائیں بھی ہے۔ نیز یہ بھی کہ انسان کو اپنے خول سے باہر نکل کر اپنے اندرون میں اُتر کر بھی دیکھنا چاہیے۔ زندگی ہم سے کیا چاہتی ہے۔ شاید زندگی ہم سے موت کی تلاش میں سرگرداں ہونے کو ہر روز، ہر وقت کہتی رہتی ہے۔ ہم سُن کر بھی نہیں سُن پارہے ہیں۔۔ معلوم نہیں ہم موت کو نظر انداز کررہے ہیں یا زندگی کو؟
چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
موت کی دُھن پہ تھرکتے ہیں حقیقت کے قدم
زندگی جیتے ہیں بس خواب دکھائے ہوئے لوگ
اُتار خواب کو کاغذ پہ اور موڑ اُسے
دھوئیں کو قید نہ رکھ اپنے دل میں چھوڑ اسے
لوگ بے کار حقیقت کے گلے پڑتے ہیں
خواب رُسوائی کی بُنیاد رکھا کرتے ہیں
ذاکر فیضی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

