’پری ناز اور پرندے‘ انیس اشفاق کا دوسرا ناول ہے۔ اس سے قبل ان کا پہلا ناول ’خواب سراب‘ شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے۔
انیس اشفاق بحیثیت فکشن نگار اور بطور ادیب خاصے معروف ہیں۔ ان کی شخصیت ان کی طرز تحریر سے ہم آہنگ ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص رکھ رکھاؤ اور تجاہل عارفانہ ہے، تو طرز تحریر میں بردباری اور متانت کی کارفرمائی نمایاں ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دونوں ناول ’خواب سراب‘ اور ’پری ناز اور پرندے‘ کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے، جہاں قدم قدم پر سنہری تاریخ و تہذیب اور روایات گم گشتہ کے تذکروں میں شان سربلندی اور پروقار جذبوں کے احساس کے اظہار میںجا بہ جا دبدبہ قائم ہوگیا ہے۔
بہرحال، ناول ’پری ناز اور پرندے‘ میں انیس اشفاق کا تہذیبی و تاریخی شعور قصے میں بطریق احسن رچ بس کر پرتجسس اور دلپذیر فضا خلق کرتا ہے اور اپنے اس تخلیقی عمل میں وہ زندگی کو اور بھی زیادہ معنی آفریں انداز میں پیش کرنے میں کامیاب ہیں۔ ان کے بیان اور اسلوب، زبان اور اظہار ادا میں تازہ کاری اور سحرانگیزی کی کارفرمائی ہے۔
انیس اشفاق کے پہلے ناول ’خواب سراب‘ اور اس ناول ’پری ناز اور پرندے‘ میں چند مماثلتیں ہیں۔
دونوں ناول میں لکھنؤ کی روایتی سنہری تہذیب کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔ دونوں ناول میں ناول کے ہیرو کا میدان عمل ابن صفی کے کردار کرنل فریدی کی طرح تلاش و جستجو پر مرتکز ہے۔ ’خواب سراب‘ امراؤ جان کی کہانی کو آگے بڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو ’پری ناز اور پرندے‘ نیر مسعود کے افسانہ ’طاؤس چمن کی مینا‘ کے بنیادی موضوع کی توسیع و تشریح ہے—
’’اتوار کے روز بدن کو جھلسا دینے والی دھوپ میں پرندوں کے بازار سے گزرتے ہوئے اچانک میری نگاہ بیس بائیس برس کی عمر والی اس بہت خوبصورت لڑکی پر ٹھہر گئی جو ایک گھنے پیڑ کے نیچے اپنے دونوں ہاتھوں میں طرح طرح کی شکلوں والے چھوٹے چھوٹے پنجرے لیے پرندے بیچنے والے کو ان کے دام بتا کر ان سے ان پنجروں کا سودا کررہی تھی۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس ناول کی ابتدائی عبارت ہے اور یہ پہلی عبارت، ناول میں پیش آنے والے مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کرتی ہے۔ محل نظر ہے۔ پرندوں کا بازار، بیس بائیس برس کی خوبصورت لڑکی، گھنے پیڑ، پنجرے اور پرندے بیچنے والے۔
ناول ’پری ناز اور پرندے‘ لکھنؤ کی روایتی تہذیب کو اپنے جلو میں لیے داستانی رنگ کا ایک ایسا قصہ بیان کرتا ہے، جس میں پرندوں کی خوش رنگ دینا آبادہے۔ پرندوں کو پالنے والے شائقین، پرندوں کی نگہداشت کرنے والے افراد، پرندوں کی محافظت میں اپنی زندگی تج دینے والی شخصیتیں ، اس طرح متحرک اور باعمل ہیں کہ ایک جہان گم گشتہ کی بازیافت، حیات آگیں اور مسحور کن طور پر عکس ریز ہوجاتی ہے۔
روایتی تہذیب و تمدن کا اظہار بیان، لکھنؤ کے باشندوں کے رکھ رکھاؤ کی جھلکیاں اور جان عالم کے شہر کی خصوصیتیں، کہانی کے چھوٹے بڑے، اہم، غیراہم واقعات کے سہارے خوبصورت اور دلنشیں اندازمیں منعکس ہوتی ہیں اور اس عہد گم گشتہ کی دلپذیر بازیافت میں حقیقی زندگی اجاگر ہوجاتی ہے۔
عموماً ناول کی کہانی کئی جہتوں میں چلتی ہے۔ اس ناول میں بھی، کئی جہتیں کہانی میں شامل ہیں۔ بظاہر لکھنؤ کی تہذیب و تمدن، رکھ رکھاؤ، بول چال، بادشاہوں اور اونچے گھرانوں کے شوق، پرندوں سے لگاؤ، انھیں پالنے کی چاہت اور پرندوں کے اقسام اور ان کی خصلتوں کا تذکرہ، اور تاریخ کے اوراق پارینہ سے مزین اس کہانی میں محبت کے انمول اور غیرمحسوس اظہار کا ایک انوکھا اور لطیف التزام جاں گزیں ہے۔
مختلف جہتوں اور زندگی کے خوبصورت شیڈس سے مزین اس قصے میںکئی بے حد اہم اور اثرانگیز پہلوؤں کا اظہار ہوا ہے۔ ان میں تین کے تعلق سے اپنی پسندیدگی اور فوقیت کی بنیاد پر اقتباسات کے حوالے سے اپنا موقف رکھنا چاہوں گا۔
(i) عہد گم گشتہ کی زریں روایتی تہذیب
(ii) پرندوں کے اقسام اور ان کی خصلتیں
(iii) قصے میں بین السطور سے اجاگر ہوتی رواں دواں محبتیں
آج ہم ترقی اور سربلندی کے منازل سر کرتے جارہے ہیں۔ ساری دنیا سکڑ کر، سمٹ کر ہماری مٹھیوں میں آگئی ہے۔ لیکن تہذیب و شائستگی کے جن اوراق پارینہ کو ہم نے کتاب زیست سے الگ کردیاہے، ان کی درخشندگی اور تابناکی کی جھلکیاں ’پری ناز اور پرندے‘ جیسی کتابوں میں دیکھ کر انسان لرزاں و خیزاں ہے اور اس کے قصے ہماری رگ حمیت کو گویا مہمیز کر ایک ایسے احساس سے دوچار کرتے ہیں، جہاں ہم حیراں و پریشان ہیں کہ حیات آگیں اور جاں فزا اثاثہ کھوکر ہم آج جبر و بربریت کے مقام صفر پر کھڑے ہیں۔ ہم نے تہذیب کے انمول پہلوؤں کو لطیفہ اور مذاق بنا لیا ہے۔ا س ضمن میں، مشہور چٹکلہ ’پہلے آپ، پہلے آپ‘ کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا حالانکہ یہ لطیفہ تو نہ تھا، یہ شائستگی اور توقیر کی پاسداری کا پہلو ہے۔ ہماری اسلامی تہذیب میں بھی شامل ہے کہ ہم دسترخوان پر اپنے مہمانوں کے پلیٹ میں پہلے کھانا چنیں، اور ان کے کھانا شروع کرنے کے بعد، ہم کھانے میں ساتھ دیں، اور سارے کھانے والے، دسترخوان سے ایک ساتھ اٹھیں….. لیکن اب کہاں….. روایتیں سب خاکِ پیوند ہوگئیں۔
’’…..اور سنو، جو ہمارے پرندے ہیں، مطلب جو باہر سے نہیں آئے ہیں، وہ اونچی شاخوں پر نہیں بیٹھیں گے…..یہ لکھنؤ ہے….. آدمیوں کی طرح یہاں پرندے بھی میزبانی میں پیچھے نہیں، اونچی شاخیں وہ باہر سے آئے ہوئے پرندوں کے لیے چھوڑ دیں گے۔‘‘
اسی ناول کا ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو:
’’جنگل سے آگے نکلتے ہی بابا نے وہاں کھڑے ہوئے تانگوں کی طرف بڑھنا شروع کیا، تو سب تانگے والے خود بابا کی طرف چلے آئے، اور سب کے سب ایک ساتھ بولے۔
بابا کس طرف جائیں گے؟‘‘
’پری ناز اور پرندے‘ کے اس منظر نے مجھے یاد دلایا کہ میرے دادا حکیم سید محمد ظہیر جو ڈپٹی نذیر احمد اور حافظ عبداللہ غازی پوری محدث دہلوی کے شاگرد تھے، جب گھر سے مطلب کے لیے نکلتے یا مطلب سے گھر کا قصد کرتے تو انھیں اپنے رکشہ پر سوار کرنے کے لیے کئی رکشہ والے آگے آتے تھے…..
شاید یہ اُس عہد کا قصہ ہے، جب عزت و تکریم کا جذبہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی تھا اور سماج کے محنت کش افراد کے دلوں میں بھی۔
اور ذرا لکھنؤ کے تانگے والے کا انداز بھی دیکھتے چلیں:
’’…..سکندر چابک ہوا میں لہراتے ہوئے مڑاا ور بابا سے بولا:
بول تو میر صاحب کے ہیں….. میر انیس کے، لیکن ان سے معافی مانگ کر میں اسے تیز قدم (گھوڑا) کے لیے استعمال کرتا ہوں…..آپ بھی سنئے…..
غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھئے
بن بن کے جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھئے
سانچے میں جوڑ بند کے ڈھلنے کو دیکھئے
تھم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھئے
گردن میں ڈالیں ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے
بالا دوی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے‘‘
’’واہ میاں سکندر میر صاحب نے کیا کیا تعریفیں کی ہیں گھوڑے کی…..‘‘
’’اور بابا پرندے بھی ان کی شاعری میں بہت ہیں۔ میں تو کہتا ہوں جانور سے محبت کے بغیر ایسے حروف نہیں نکل سکتے۔‘‘
’’سچ کہتے ہیں میر صاحب…..بتانے والے بتاتے ہیں پہلا شعر جب وہ پانچ برس کے تھے جانور ہی کے لیے کہا—
افسوس کہ دنیا سے سفر کرگئی بکری
آنکھیں تو کھلی رہ گئیں مرگئی بکری‘‘
آہ کیا عہد زریں تھا، جسے ہم کھوچکے ہیں!
اب اس رواداری اور تہذیب و شائستگی کے تذکرے کتابوں میں ہی ملتے ہیں۔ ہماری دنیا کے لوگ….. خاکی ہیں مگر ان کے انداز ہیں افلاکی۔
اور ہم ہیں کہ
تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی
تہذیب و شائستگی کے دور کی بازیافت کی یہ کوشش عہد زریں کے حیات افزا اثاثہ کی صورت ناول میں اجاگر ہوا ہے جس کے اظہار میں صناعی بھی ہے اور فنکاری بھی۔
مصنف نے اپنے درک و شعور کے سہارے انتہائی چابکدستی کا ثبوت دیتے ہوئے تجربے اور مشاہدے کی گہرائی و گیرائی کو بروئے کار لایا ہے۔ کمال حسن ہے کہ انھوں نے شاہین شہرزاد اور فرش آرا کی باہمی گفت و شنید میں بھی روایتی شائستگی کا دامن کہیں نہیں چھوڑا۔ حالانکہ روز روز کی ملاقاتوں اور باتوں کے سلسلے میں، اور باہمی پسندیدگی کے زیراثر تکلف اور آداب تخاطب اکثر چھوٹ جاتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے، اس لیے شہرزاد کا لہجہ اور انداز تکلم، ہر جگہ، ہر لمحہ، ہر پل، یہاں تک کہ تصور میں بھی متوازن اور مؤدب ہے:
’’…..موتی جھیل کے کنارے کھڑی فرش آرا کو دیکھنے لگا، اس طرح وہ چڑیوں کو دانہ ڈال رہی تھیں…..‘‘
’’….. کیا ہی اچھا ہوتا، فرش آرا بھی یہاں ہوتیں…..‘‘
’’….. فرش آرا اپنی میناؤں کے پنجروں کے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں اور ان سے فلک آرا کے پڑھائے ہوئے بول سن رہی ہیں…..‘‘
اس ضمن میں مصنف نے چھوٹے چھوٹے اور بظاہر غیراہم واقعے کو بھی نہایت برجستگی اور فطری نہج پر قصے میں شامل کیا ہے کہ وہ کہانی کی متجسس فضا سے ہم آہنگ بھی ہیں اور آداب کے اظہار میں رواں دواں بھی۔
’’…..آپ اتنی دیر سے کھارہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا اماں نے کھانا پکایاکیسا ہے؟
’’بہت مزے کا۔‘‘
….. اماں کہتی ہیں….. کھانا کھاؤ تو اس کا مزہ بھی بتاؤ….. یہ دسترخوان کے آداب میں ہے…..‘‘
’پری ناز اور پرندے‘ میں پرندو ںکے اقسام، ان کی خاصیتوں اور خصلتوں کا جس باریک بیں اندازمیں بیان ہوا ہے، یہ امر انیس اشفاق کے گہرے،عمیق اور طویل مشاہدے کا ضامن ہے— اور یہ بھی کہ:
’’میں تو کہتا ہوں، جانوروں سے محبت کے بغیر،ایسے حروف نہیں نکل سکتے۔‘‘
اس لحاظ سے یہ طے ہے کہ انیس اشفاق کو جانوروں سے محبت ہے، چند اقتباسات دیکھتے ہیں کہ اس محبت نے ناول میں کس کس رنگ و روپ کے گل بوٹے کھلائے ہیں، اور ہمیں پرندوں کی کن کن عادتوں اور اقسام سے متعارف کرایا ہے:
’’اسے دیکھو کتنا خوبصورت پرندہ ہے اور نام بھی خوبصورت ہے۔ سرخاب، لیکن….. مردہ خور ہے….. یہاں اس لیے دکھائی دے رہا ہے کہ یہاں سے دریا قریب ہے اور آس پاس تالاب بھی ہیں۔ اس میں ایک خوبی ایسی ہے، جو دوسرے پرندوں میں نہیں ہوتی….. جس کے ساتھ رہتا ہے، اسے عمر بھر اکیلا نہیں چھوڑتا….. اس کی بھوری گردن میں سیاہ رنگ کا طوق کیسا چمک رہا ہے اور دم، اس کا اوپری حصہ دیکھو، سیاہ اور سبزا رنگ مل کر کیسے کھل رہے ہیں…..‘‘
——
’’…..جب ان چڑیوں کے پوٹے بھر گئے، اور جب گردن گھما گھما کر چاروں طرف دیکھنے کے بعد انھوں نے جھیل کے پانی میں منہ ڈالا…..‘‘
’’کچھ دیر بعد یہ بن مرغیاں جھیل کے پاس اُگی جھاڑیوں میں چلی جاتیں….. یہ سب انھیں جھاڑیوں میں اپنے گھونسلے بناتی ہیں۔ گئی ہوں گی اپنے بچوں کو بھرانے…..‘‘
وہ ان کے قریب جاکر کسی چڑیا کو پکڑنے کی کوشش کرتیں، لیکن وہ ان کے ہاتھ نہ آتی۔ فرش آرا کے ایساکرنے سے دانہ چگتی ہوئی دوسری چڑیاں، بھرّا مار کر اڑجاتیں…..‘‘
’’شاخوں پر بیٹھے ہوئے پرندے، شاخوں سے اُسی وقت اڑتے، جب ان کی تیز نگاہیں جھیل کی اوپری سطح پر تیرتی ہوئی کسی مچھلی کو دیکھ لیتیں۔ وہ تیزی سے اڑ کر پانی میں غوطہ لگاتے اور مچھلی کو پنجوں میں پکڑ کر، کسی ایسی شاخ پر جابیٹھتے جہاں اس پکڑی ہوئی مچھلی میں کوئی حصہ لگانے والا نہ ہو۔‘‘
ان اقتباسات میں پرندوں کی خصلتوں کی انتہائی باریک بیں طورپر رواں دواں، زبان کے سہارے ایک دلچسپ اور جادوئی فضا خلق کی گئی ہے۔ یہاں پرندوں کے لحاظ سے پوٹے، بھرانے، بھرّا مار کر اڑجانے، جیسے الفاظ تو حیران کن طور پر مسحور کیے دے رہے ہیں۔
اب دیکھتے ہیں پرندوں کے اقسام اور ان کے حسن کا نظارہ۔
’’…..یہ غوغائیاں ہیں۔ سب ایک ساتھ چلتی ہیں اور لڑتی بہت ہیں اور شور بہت مچاتی ہیں…..‘‘
’’دو اگر ایک پنجرے میں ہوں تو ناطقہ بند کردیتی ہیں۔ عجیب چڑیاں ہیں۔ سات ایک ساتھ چلتی ہیں، اسی لیے سات بہنیں کہلاتی ہیں۔ غضب کی لڑاکا…..‘‘
’’…..یہ شیشم کے درخت ہیں اور ان پر جو چڑیاں بیٹھی ہیں وہ کہلک کہلاتی ہیں….. فاختہ تو دیکھتی ہیں….. قد میں اس سے بڑی ہوتی ہیں اور اس کی دم دیکھ رہے ہو۔ لمبی ہوتی ہے لیکن رنگ فاختہ ہی جیسا ہوتا ہے، اور یہ بھی جھنڈ میں چلتی ہیں۔‘‘
’’….. یہ چترو کے ہیں۔ جنگل میں بھی رہتے ہیں اور گھروں میں بھی یہ کسی بھی شاخ پر تیلیوں اور پروں کو جمع کرکے اپنا گھونسلہ بنا لیتے ہیں ان کے بدن کی سیاہ دھاریوں کو دیکھو کتنی اچھی لگ رہی ہیں، اور وہ جو سامنے شاخ پر بیٹھی ہے لمبی چوڑی چونچ والی چڑیا….. وہ دھنیش ہے۔ اس کی سیڑھیوں جیسی دم، آنکھ کی بھوری اور سفید دھاریاں اور کانوں اور کلّوں کے پروں کا خاکی رنگ…..یہ پیڑوں پر ہی رہتا ہے۔ پتہ نہیں نیچے کیسے اتر آیا…..‘‘
مصنف نے چڑیوں کی خصلتوں اور ان کے اقسام کے تذکروں کی آراستگی میں اکثر مقام پر خوبصورت اور دلکش منظرکشی سے حیران کن حسن اور دلپذیری پیدا کی ہے:
’’بہت سے درختوں کی شاخیں جھیل کے پانی پر آگئی تھیں، اور پانی ان کے پتوں کو چوم رہا تھا۔ سارے درخت پرندوں سے بھرے تھے اور جب کوئی پرندہ شاخ چھوڑ کر جاتا تو دوبارہ شاخ پر بیٹھنے کے لیے اسے جگہ نہ ملتی۔ بہت سے پرندے پانی کے قریب کی زمین پر اپنے پروں کو پھیلائے، چمکتی دھوپ کا مزہ لے رہے تھے۔ سورج کی اجلی کرنوں میںان کے بازوؤں کو دیکھ کر ایسا لگ رہاتھا جیسے ان کے پروں پر روپہلی ستارے جڑے ہوں۔‘‘
ناول میں ایسے بہتیرے مقامات آئے ہیں، ایسے متعدد واقعات رقم ہوئے ہیں جو زندگی کی سچی اور کھری حقیقتوں اور گزرے ایام کو ہمارے روبرو کردیتے ہیں—
’’…..انھیں بچپن میں پرندے پالنے کا شوق تھا۔بتاتے ہیں، جب چھوٹے تھے تو صحن میں کڑکئی لگاکر برآمدے والے کھمبے کی آڑ میں دن دن بھر اس انتظار میں بیٹھے رہتے کہ کب چڑیاں اس کے اندر جائے اور یہ ڈوری کھینچ کر کڑکئی گرائیں۔‘‘
تہذیب و تاریخ کے اوراق پارینہ اور پرندوں کی خوش رنگ چہکار سے سجی اس کہانی میں محبت کے انمول اور غیرمحسوس اظہار کا ایک انوکھا اور فنکارانہ اور لطیف التزام بھی جاں گزیں ہے جو جذبوں اور چاہتوں کے فطری عمل کے ساتھ قصے کا جزو بن کر ایک تازہ کار اور سحرانگیز ماحول منعکس کرتا ہے۔
محبت کے لطیف احساسات کی کارفرمائی سے ناول کی فضا میںایک غیرمرئی طلسمی سرشاری کی کیفیت سایہ فگن ہے۔ محبت پرندوں سے، محبت لکھنؤ کی زریں روایتی تہذیب سے، محبت جنگلوں سے، اور الماس خانی اینٹوں سے بنی عمارتوں اور کوٹھیوں سے۔ کالے خاں کی محبت اپنی بیٹی فلک آرا سے، جس محبت نے اُسے طاؤس چمن کی مینا کی چوری کے لیے بے بس کیا۔ اور یہ مجبوری اور چوری دراصل قصے کی نیو کی اینٹ ہے اور ناول کی سحرانگیز فضا بندی کا سبب بھی۔ فرش آرا کی محبت اپنی ماں، فلک آرا سے، جس کے اظہار میںاس نے طاؤس چمن کی نقل اتاری اور اسے چالیس میناؤں سے آباد کیا۔ گویااس ناول میں محبت کا سلسلہ در سلسلہ قائم ہے لیکن ان محبتوں کے علاوہ فرش آرا اور راویٔ قصہ شاہین شہر زاد کی انوکھی اور لطیف محبت شریانوں میں جاری لہو کی طرح رواں ہے۔ حالانکہ اس محبت کا اظہار آج کے ہنگامہ خیز اور گلوبل عشق کی طرح آئی لو یو، اور آئی لو یو ٹو کی طرح ظاہر نہیں ہے۔ فرش آرا اور شہرزاد کی محبت تہذیب و رواداری کی چھاؤں میںا س طرح پروان چڑھتی ہے جس کی گزرگاہوں میں دوب کی طرح مخملی شاہراؤں جیسا، لطیف جذبوں کا احساس تو ہے، مگر محبت کے نغموں کی آج جیسی سطحیت نہیں ہے اور نہ ہی عہد و پیمان کی لن ترانیاں ہیں۔ یہ محبت تو کمال فنکاری کے ساتھ کہانی کے بین السطور میںسانس لیتی ہے، اور لطیف احساسات سے مسحور کرتی ہے کیونکہ محبت کے اظہار میں بھی مصنف کے پیش نظر تہذیب کی حدبندیاں مقدم ہیں، اس تعلق سے راویٔ قصہ شہرزاد اور بابا کا یہ مکالمہ اہم ہے:
’’کل پرندوں کے بازار میں،….. ایک لڑکی ملی تھی مجھے…..‘‘
’’اس میں کوئی محبت والا قصہ ہو تو مجھے مت سنانا…..‘‘
ناول کی پہلی عبارت میں جہاں کئی پیش آئند واقعے کے اشارے ہیں، وہیں پرندوں کے بازار میں بیس بائیس برس کی عمر والی بہت خوبصورت لڑکی، جو طرح طرح کی شکلوں والے چھوٹے چھوٹے پنجرے لیے، پرندہ بیچنے والے سے، ان پنجروں کا سودا کرتی راویٔ قصہ کو دکھائی دیتی ہے، اور پھر ایک چبھن اور اضطراب کی صورت اس کے نہاں خانۂ دل میں خیمہ زن ہوجاتی ہے:
’’گھر آکر پرندوں کے بازار میں پنجرہ لانے والی لڑکی کے بارے میں، میں بہت دیر تک سوچتا رہا….. رات مجھے ٹھیک سے نیند نہیںا ٓئی۔ پنجرے دیکھتے دیکھتے اور پنجروں کے بارے میں سوچتے سوچتے مجھے اپنا ٹھکانہ بھی ایک پنجرہ معلوم ہونے لگا۔ یہاں آتے وقت مجھے ایسا لگتا جیسے قید ہونے جارہا ہوں….. اور یہاں سے نکلتے وقت محسوس ہوتاجیسے مجھے آزادکیا جارہا ہے۔‘‘
گھر قیدخانہ نظر آنے لگے اور باہر کی دنیا آزادی کا احساس جگائے تو یہ کیفیت یقینا اسیر محبت کی نشان دہی کرتی ہے۔
اور پھر ایک دفعہ جب شہرزاد اپنے گھر سے نکل کر فرش آراکی ماں سے ملنے کی خاطر اس کے گھر کی طرف روانہ ہوئے، تو گویا یہ قید سے رہا ہوکر آزاد ہونے کی کیفیت سے ہمکنار تھے لیکن وہاں فرش آرا نے ہلکا سا دروازہ کھولا اور شہرزاد کو دیکھتے ہی دو قدم پیچھے ہٹ کر تھوڑا کھلے ہوئے دروازہ کو بند کردیااور پھر کچھ ہی دیر بعد سر پر چادر ڈالے دروازے سے باہر آگئیں۔
’’…..آپ نے غضب کردیا۔ یہاں چلے آئے….. برا نہ مانئے گا، اصل میں ماں ہماری، جنھیں نہیں جانتیں، ان سے نہیں ملتیں، اور جنھیں جانتی ہیں ان سے بھی اسی وقت ملتی ہیں، جب ملنا بہت ضروری ہو…..‘‘
پھر وہاں سے لوٹتے وقت شہرزاد پریشان رہا کہ جب لڑکی اور اس کی ماں کو کسی کا گھر آنا پسند نہیں تو وہ ان کے گھر کیوں چلا گیااور ساتھ ہی یہ احساس بھی مستحکم رہا کہ:
’’لڑکی کو اس بات کا دکھ زیادہ نہیں تھا کہ میں اس کے گھر چلا آیا، اسے اس کا دکھ تھا کہ وہ مجھے گھر کے اندر نہیں بلا سکی۔‘‘
سوچ کا یہ پہلو لڑکی کے تئیں، شہرزاد کے شگفتہ جذبات کی غمازی کرتا ہے، اور یہی نہیں نرم رو جاں گزیں جذبات شہرزاد کو بصورتِ افکارِ پریشاں، تاسف اور پشیمانی میں محصور کیے ہیں— ایسے میں وہ تین دن گھر سے باہر نہیں نکلا اور بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے کسی کسی وقت اس کی زبان سے یہ فقرہ نکل جاتا:
’’میں نے وہاں جاکر اچھا نہیں کیا، لڑکی مجھے معاف نہیں کرے گی۔‘‘
یہاں تک کہ اس کے اس فقرے کو پری ناز (مینا) نے سیکھ لیا۔
’’میں نے وہاں جاکر اچھا نہیں کیا، لڑکی مجھے معاف نہیں کرے گی۔‘‘
اور پھر مینا نے یہ جملہ فرش آرا کے سامنے دہرا دیا۔
’’یہ آوازسن کر لڑکی نے میری (شہرزاد کی) طرف دیکھا، پھر اپنی آنکھیں جھکالیں اور اس کے بعد پنجرے سے پھر آواز آئی:
صورت اس کی بھولی ہے
میٹھی اس کی بولی ہے
کھوئی کھوئی رہتی ہے
لڑکی دل کی اچھی ہے
مینا کے بول سن کر لڑکی نے شہرزاد کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا، لیکن مینا نے تو شہرزاد کے بے خودی میں بولے ہوئے فقرے سن کر اور سیکھ کر لڑکی کے سامنے دہرا دیے، گویا اس نے پس پردہ بطور نامہ بر پیغام رسانی کردی—
پھر یہ سلسلۂ دور دراز اور نہاں خانۂ دل کی خلش نے ایک بار پھر شہرزاد کی زبان سے اچانک یہ جملہ ادا کرادیے۔
’’پری ناز تم بالکل فرش آرا جیسی ہو، بھولی اور معصوم۔‘‘
اور اس فقرہ کو بھی پری ناز (مینا) نے فرش آرا کے سامنے دہرادیا—
انسان جسے چاہتا ہے، جس کی محبت کا وہ اسیر ہوجاتا ہے، اس کی محافظت کے تعلق سے بھی طرح طرح کے وسوسے اور اندیشے اسے خلش میں مبتلا کرتے ہیں اور اضطراب کا شکار بناتے ہیں۔ یہ خلش یہ اضطراب دراصل انتہائی محبت کا اشاریہ ہے جو روپ بدل بدل کر سامنے آجاتے ہیں:
’’آنکھیں بند کرنے سے پہلے میں نے سوچا، فرش آرا ابھی جاگ رہی ہوں گی اور میری ہی طرح انھوں نے بھی بس ابھی ابھی لالٹینیں جلائی ہوگی۔ پھر میں سوچنے لگا، لالٹین انھوں نے کہاں لٹکائی ہوگی۔ یہ سوچتے ہی خوف کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ مجھے یہ ڈر ستانے لگاکہ فلک آرا پھوس کے چھپر میں رہتی ہیں، لالٹین اگر بے احتیاطی سے لٹکائی گئی تو رات میں کسی وقت گر کر ٹوٹ سکتی ہے اور پھوس کے تنکے آگ پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سوچتے ہی میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ میرا جی چاہا میں اسی وقت جھانکڑ باغ جاکر دیکھوں کہ فرش آرا نے لالٹین ایسی جگہ تو نہیں لٹکائی جہاں سے گر کر ٹوٹ جائے۔‘‘
اور پھر ان اندیشوں کی یورش اور ہجوم انتشار خیالی کے حصار نے اُسے رات بھر سونے نہیں دیا اور صبح اسے اپنا سر بھاری معلوم ہونے لگا، یہاں تک کہ دھوپ پوری طرح پھیل گئی، اور وہ بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔ پھر پری ناز کی آواز پنجرے کے اندر سے اس کے دل پر دستک دیتی سی سنائی دی:
’’پری ناز تم بالکل فرش آرا جیسی ہو۔ بھولی اورمعصوم‘‘
دوسرے دن جب فرش آرا ان سے ملنے آئیں تو اچانک ایک دم سے بولیں:
’’ارے ہاں کل….. کل ایک عجیب بات ہوئی….. کل مغرب کے وقت سارا کام کرنے کے بعد جب میں چھپرکے بانس میں لالٹین لٹکا رہی تھی تو….. ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی، اور چمنی اس کی ٹوٹ گئی….. میں نے آؤ دیکھ نہ تاؤ لالٹین کی لو پر، جو گرنے کے بعد اور تیز ہوگئی تھی،اپنا دوپٹہ ڈال دیا، اور دونوں ہاتھوں سے اسے دبانے لگی، لیکن لو پر دوپٹہ آتے ہی، اس نے آگ پکڑ لی اور جب تک شعلے بلند ہوں اماں دوڑکر آنگن سے تسلے میں مٹی لے آئیں اور دوپٹے میں لگی آگ پر اس مٹی کو ڈال دیا، آگ بجھی تو اماں غصے سے بولیں:
فرش آرا ان دنوں تم کھوئی کھوئی رہتی ہو، کسی کام میں تمھارا دل نہیں لگتا۔‘‘
دراصل ناول میں مافوق الفطرت عناصر اور بظاہر عقل و خرد سے پرے واقعات کی شمولیت ناول کی فضا بندی میں اسرار کے دھندلکے کے سہارے چار چاند لگاتے ہیں لہٰذا یہاں یہ Mysterious پہلو دلچسپ بھی ہے اور محبت کی شدت کے ز۔یراثر اندیشہ ہائے دور دراز کو ایک معنویت عطا کرتا ہے۔ بہرحال شہرزاد کے اندیشے اور وسوسے اسرار میں ملفوف Mysterious انداز، لیکن حقیقت کے روپ میں ظاہر ہوئے:
’’کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، جو ہونے والا ہوتا ہے، وہ کسی اور کے ذہن میں بھی آجاتا ہے—‘‘
یہ محبتیں روز اوّل سے ہی انسانی سرشت میں شامل ہیں۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ محبت کے یہ عناصر محض شاہین شہرزاد کے دل میں پناہ گزیں ہیں، اور فرش آرا اس جذبے سے پاک ہے۔ اس جذبہ کو فرش آرا کے کردارمیں بھی نمو پاتے دیکھا جاسکتا ہے— جب پہلی دفعہ شہرزاد فرش آرا کے گھر جاتے ہیں اور انھیں فرش آرا گھر کے اندر نہیں بلا پاتیں تو اظہار تاسف کے طور پر کہتی ہیں:
’’آپ کو ایک گلاس ٹھنڈا پانی بھی نہیں پلا سکی، اس کا افسوس رہے گا….. دھوپ بہت تیز ہے۔ پیڑوں کی چھاؤں چھاؤں نکل جائیے، اور جہاں شربت کی دکان ملے شربت پی لیجیے گا۔‘‘
اور پھر ایک جگہ چائے پیتے ہوئے انھوں نے کہا—
’’پورا پردہ آپ سے کب تک کروں گی۔ ہم اتنے دن سے مل رہے ہیں، اب مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے کہ میں آپ کے سامنے چادر اوڑھے رہوں۔ اماں کہہ چکی ہیں….. وہ (آپ) غیر نہیں۔‘‘
ان باتوں کے علاوہ واقعے کا یہ پہلو دلچسپ بھی ہے اور محبت کے استحکام کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ فرش آرا تاسف سے کہتی ہیں:
’’زعفرانی رنگ کا وہ دوپٹہ، جو پوری طرح جل گیا، جب مجھے رام دین سے پنجرے کے پیسے ملے تھے، میں نے وہیں نخاس سے خریدا تھا۔‘‘
یہ سن کر شہرزاد نے پوچھا—
’’اور وہ دوپٹہ نخاس میں کون سی دکان سے خریدا تھا آپ نے۔‘‘
’’….. چڑیا بازار کے سامنے ایک بازار لگتا ہے، وہیں دوپٹے بیچنے والوں کی برابر برابر کئی دکانیں ہیں۔ انھیں میں سے کسی ایک سے خریدا تھا۔‘‘
اور پھر فرش آرا کی دلجوئی میں شہرزاد نے نخاس سے دوپٹہ خرید کر ان کے تھیلے میں رکھتے ہوئے کہا، اسے گھر جاکر دیکھیے گا اور یوں ایک دن:
’’میں نے فرش آرا کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا ان کے جسم پر وہی زعفرانی دوپٹہ تھا، جسے میں نے کاغذ میں لپیٹ کر اس وقت ان کے تھیلے میں رکھ کر دیا تھا، جب وہ قصہ لکھنے والے کے گھر سے میرے یہاں آکر اپنے گھر جارہی تھیں—‘‘
یہ مدھم مدھم انداز اور دھیرے دھیرے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے جذبات کے دائرے دراصل محبت کے اشارے ہیں جو کہانی میں زیریں لہروں کی مانند قصہ کے بین السطور سے انوکھے طور پر اور وقار کے ساتھ ابھرتے ہیں۔
’پری نازاور پرندے‘ میں مواد اور ہیئت، موضوع اور اسلوب نفس مضمون سے ہم آہنگ ہیں اور فکر و تخیئل کے نقوش واضح انداز میں تجربات اور احساسات کو معنویت عطا کرتے ہیں، لہٰذا قاری کی فہم و بصیرت اسے انبساط کی ایک نئی دنیا سے متعارف کراتی ہے—
ISHRAT ZAHEER
"Malaz” New Colony
New Karim Ganj
Gaya – 823001
Mob: 9801527481
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

