*اردو ڈرامہ فیسٹیول میں پیش کیے گئے چھ ڈرامے*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام 11 جنوری سے 16 جنوری 2022 تک روزانہ شام 7 بجے "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کا انعقاد کیا گیا. چھ دن چلنے والے اس فیسٹیول میں بہترین ڈرامے پیش کیے گئے اور بڑی تعداد میں ناظرین نے شرکت کی. اور کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ پورا حال کھچا کھچ بھر گیا. کووڈ کے لیے جاری ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے سوشل ڈسٹینسگ کے تحت ناظرین کو بٹھانے کا انتظام کیا گیا. چھ ڈراموں پر مشتمل یہ ڈرامہ فیسٹیول بے حد کامیاب رہا. سبھی ڈراموں کی مختصر روداد ذیل میں پیش کی جارہی ہے.
*پہلا دن:*
*”پہلے دن برسا منڈا کی زندگی پر مبنی ڈرامہ پیش کیا گیا”*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تحت پہلے دن شام 7 بجے پروگرام کا افتتاح کیا گیا. یہ ڈرامہ فیسٹیول 11 جنوری سے 16 جنوری 2022 تک روزانہ شام 7 بجے سے رویندر بھون ، بھوپال میں منعقد ہوگا.
پروگرام کی ابتدا میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے ڈرامہ فیسٹیول کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی ہر سال ڈرامہ فیسٹیول کا انعقاد کرتی ہے. اسی سلسلے کے تحت اس سال 6 ڈرامے اسٹیج کیے جارہے ہیں. اس کا مقصد اردو زبان میں ڈراموں اور تھیٹر کی روایت کو زندہ رکھنا ہے ساتھ ہی اس کے ذریعے اس فن سے جڑے ہر فنکار کو اسٹیج فراہم کرانا بھی ہے. اس سال آزادی کا امرت مہوتسو کے موضوع کو بھی ڈرامہ فیسٹیول میں شامل کیا گیا ہے.
پروگرام کے پہلے دن "برسا منڈا” ڈرامہ اسٹیج کیا گیا. یہ ڈرامہ مشہور ڈرامہ گروپ رنگ محلہ سوسائٹی فار پرفارمنگ آرٹ،بھوپال کے ذریعے پیش کیا گیا،اس کے مصنف رشیکیش سلبھ ہیں.
ڈاکٹر نصرت مہدی نے برسا منڈا کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ برسا منڈا کی زندگی انسان کی عزت نفس کے لیے جدوجہد کی علامت ہے. برسا منڈا کی زندگی ان کی قوم کو غلامی کی مشکل زندگی سے آزادی دلانے کی جدو جہد میں گزری. انھوں نے منڈا ؤں کو یکجا کرکے نئے سماجی انتظام اور آزادی کے لیے لڑائی لڑی. ان کی اسی جدو جہد کو ڈرامے کی صورت میں ڈھال کر پیش کیا گیا. یہ ڈرامہ پردیپ اہروار کی ہدایت کاری میں پیش کیا گیا اور منتظمین اسٹیج تھے عدنان خان اور وویک ترپاٹھی. ان کے علاوہ دیگر فنکاروں میں رمیش اہیرے، اودے نوالکر، یوگیش وشوکرما ،سنیتا اہیرے اور ودھیادھر آمٹے وغیرہ موجود رہے.
*دوسرا دن*
*”اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے دوسرے دن "رام : امام ہند، ناز ہند” ڈرامہ پیش کیا گیا*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تحت دوسرے دن”رام : امام ہند، ناز ہند” ڈرامہ پیش کیا گیا. یہ ڈرامہ ابھیودے سانسکرتک منچ، اندور کے ذریعے پیش کیا گیا، جس کے مصنف و ہدایت کار آلوک واجپائی ہیں.
پروگرام کی ابتدا میں اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اردو شاعری میں رام کے مقام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو شاعری میں رام کا ذکر کریں تو نظیر کے یہاں رام پر بہترین شاعری ملتی ہے۔ چَکبست نے رام کے رخصتِ بن باس کا نقشہ کھینچا ہے توعلامہ اقبال نے ان کی شجاعت، پاکیزگیِ نفس اور رعایا سے ان کی محبت کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں امامِ ہند کہا ہے. آج کے ڈرامے کی تھیم اور موضوع بھی یہی ہے اور ڈرامہ کا نام ہے "رام : امام ہند، ناز ہند”.
اس ڈرامہ کے تحت اردو شاعری میں رام پر مرکوز نظموں کو ایک تمثیلی مشاعرے کے ذریعے پیش کیا جارہا ہے. یہ ادبی حصہ تقریباً پچاس منٹ کا ہے، باقی اتنے ہی حصے میں میوزیکل ڈرامہ ہے. یہ ڈرامہ کی ایک نئی قسم ہے جسے انفو ڈرامہ کہہ سکتے ہیں، مطلب اس میں کئی اہم معلومات بھی ڈرامائی شکل میں پیش کی جارہی ہیں. ڈرامہ کے ذریعے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیا گیا ہے، اور ملک کی مثبت تعمیر میں ایک دوسرے کے مذہب اور علماء کے لیے محبت، عزت اور امن کی طرف بھی یہ ڈرامہ اشارہ کرتا ہے.
*تیسرا دن*
*”اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تیسرے دن "خانم بی” ڈرامہ پیش کیا گیا*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تحت تیسرے دن شام 7 بجے "خانم بی” ڈرامہ پیش کیا گیا. یہ ڈرامہ ینگس تھیٹر فاؤنڈیشن ، بھوپال کے ذریعے پیش کیا گیا جس کے مصنف ایس این لال اور ہدایت کار سرفراز حسن ہیں.
پروگرام کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اردو ڈراموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں ڈرامہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا پودا کسی دوسرے ملک سے نہیں لایا گیا بلکہ اس نے ہندوستان میں ہی جنم لیا اور یہیں پرورش پائی. اس لئے یہاں کی کہانیاں، یہاں کے مناظر اور یہاں کی تاریخ ڈراموں میں نظر آتے ہیں. اسی سلسلے کے تحت آج کے پیش کردہ ڈرامہ "خانم بی” میں آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے حالات کو بیان کیا گیا ہے. ڈرامے میں ایک ایسے کوٹھے کی کہانی ہے، جہاں لڑکیوں کو ادب، شاعری، موسیقی اور رقص سکھانے کی درسگاہ کے طور پر بہت عزت کے ساتھ پہچانا جاتا ہے. اس کوٹھے کو وطن پرست خانم بی نام کی ایک بہت عزت دار اور بااصول خاتون چلاتی ہیں جو اپنے ملک ہندوستان سے بے پناہ محبت کرنے والی ہیں اور جو بٹوارے کے خلاف رہتی ہیں اور اپنی ذہانت سے پاکستان بننے کے نقصانات کی پیشین گوئی کرتی ہیں جو کچھ سالوں بعد صحیح ثابت ہوتی ہے. ڈرامے کے اہم فنکاروں میں کیتکی اشڑا، شمبھاوی استھاپک،پریم جین، راہول کشواہ، رام تیواری، دیپانشو کمار، امن اگروال، مریم رضا، ظفر رضوی، شبھم سین وغیرہ کے نام شامل ہیں.
*چوتھا دن*
*”اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے چوتھے دن جل ککڑے-٣ ڈرامہ پیش کیا گیا”*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تحت چوتھے دن شام 7 بجے جل ککڑے-٣ ڈرامہ پیش کیا گیا. اس ڈرامہ کے مصنف رفیع شبیر اور تخلیقی ہدایت کار فرخ شیر خان ہیں.
پروگرام کی شروعات میں اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اردو ڈراموں میں طنزومزاح کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں طنز و مزاح پر مبنی موضوعات کو بہت کامیابی کے ساتھ برتا گیا ہے. اس طرز کے ڈرامے، کہانیاں، افسانے اور شاعری دلچسپ انداز میں عمدہ درس بھی دے جاتے ہیں. آج کا ڈرامہ جل ککڑے بھی ایسا ہی ایک ڈرامہ ہے.
جلن ایک برا جذبہ تو ہے لیکن جل ککڑے ڈرامے میں یہ کس طرح اپنی صورتیں بدلتا ہے اور ڈرامے میں اس کی کتنی دلچسپ شکلیں نظر آتی ہیں یہ دیکھنے لائق ہے. در اصل ڈراموں میں اس طرح کے تمام موضوعات اپنی عام سماجی تفہیم سے الگ بھی ایک معنی قائم کرتے ہیں.
جل ککڑے ڈرامے کے ذریعے مڈل کلاس فیملی کے رہائشی مسائل کے ساتھ اکیلے پن کے شکار ان مرد حضرات کا غم پیش کیا گیا ہے جن کے بچے انھیں چھوڑ کر دوسرے ملک چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے بھجنے سے وہ خوش ہوجائیں گے، مگر یہاں وہ دوسروں کے خاندان کو دیکھ جلتے کڑھتے اپنی زندگی گزارتے ہیں. اس ڈرامے میں ایسے ہی مرد حضرات کے ذریعے ہی معاشرے کے کئی پہلوؤں پر طنز کیا گیا ہے اور مزاح کے ذریعے معاشرے کی ایک چھپی ہوئی سچائی کو دکھایا گیا ہے. یہ ڈرامہ ان کرداروں کی کہانی ہے جو اپنے غموں سے نہیں بلکہ دوسروں کی خوشی سے زیادہ عمگین ہیں. ہر انسان اپنی زندگی میں ایک خواہش لے کر جیتا ہے، وہ خواہش پوری نہ ہونے پر جلنے کڑھنے سے لفظ جل ککڑا وجود میں آتا ہے. اس ڈرامے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر ہم دوسروں کی خوشی دیکھ جلنے کے بجائے جو کچھ ہمیں ملا ہے اسی میں خوش رہیں تو زندگی آسان ہوجاتی ہے. ڈرامے کے فنکاروں میں محمد آصف، سمت مشرا، یوگی چندرونشی،متھن دھوریا، زبیر عالم، سنجے پنچاکشری، عمران خان، انکر راؤ، شروتی دھرمیشن کے نام شامل ہیں.
*پانچواں دن*
*”اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے پانچویں دن "نظیر تو بے نظیر” ڈرامہ پیش کیا گیا*
*نظیر اکبر آبادی کے کردار کے ذریعے دیا گیا محبت کا پیغام*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے تحت پانچویں دن شام 7 بجے "نظیر تو بے نظیر” ڈرامہ پیش کیا گیا،جس کے مصنف ڈاکٹر رضوان الحق اور ہدایت کار راجیو سنگھ ہیں.
پروگرام کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے نظیر اکبرآبادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نظیر پہلے شاعر ہیں جن کی شاعری مکمل طور پر ہندوستانی فضا میں سانس لیتی نظر آتی ہے۔ ان سے قبل اردو شاعری میں ہندوستانی فضا اور ہندوستانی عوام کی زندگی اس طرح نہیں پیش کی گئی تھی کہ ان سے زندگی کے تمام نشیب و فراز ہمارے سامنے آ جائے.
ان کی نظموں میں جہاں عوامی زندگی جیتی جاگتی، ہنستی بولتی اور چلتی پھرتی نظر آتی ہے اسی طرح در باروں، شہروں، بازاروں، خانقاہوں اور مندروں کی رونق اور چہل پہل بھر پور انداز میں دکھائی دیتی ہے۔ انھیں ہندوستان کے ذرے ذرے سے بے پناہ محبت و عقیدت ہے۔ اس لیے انھوں نے ہندوستان کے مختلف تیوہاروں، تقریبوں، میلوں ٹھیلوں اور مذہبی رہنماؤں کی شان میں کثرت سے نظمیں لکھی ہیں۔ انھوں نے جہاں عید، شب اور حضرت سلیم چشتی کے حوالے سے نظمیں تخلیق کی ہیں وہیں ہولی، دیوالی، راکھی، کنھیا جی، رام کرشن جی، بلد یو جی اور گرو نانک پر بھی نظمیں تحریر کی ہیں. آج کا یہ ڈرامہ نظیر کی نظموں پر مبنی ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ نظیر کا کردار بھی اسٹیج پر اداکاری کرتا نظر آرہا ہے جو خود اپنی یعنی نظیر اکبرآبادی کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ہوئے نظیر کی اپنے ملک سے ، ملک کی عوام سے، یہاں کے تہواروں، یہاں کے موسموں غرض ہندوستان کی ہر چیز سے محبت کو اپنی اداکاری کے ذریعے سب کے سامنے پیش کرتا ہے. نظیر اکبر آبادی کی وہ نظمیں جن میں انھوں نے عوام کے مسائل اور میلوں ٹھیلوں اور تہواروں، ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو موضوع بنایا ہے اس ڈرامہ کا حصہ ہیں. اس ڈرامے میں آدمی نامہ، بنجارہ نامہ، مفلسی، دیوالی، ککڑی جیسی نظمیں شامل ہیں. آدمی کا نامہ کا بند ملاحظہ فرمائیں
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اسی طرح مفلسی کا یہ مصرعے
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی
ان نظموں کی مدد سے نظیر کے کردار کے ذریعے محبت کی مثال پیش کی گئی ہے اور قومی یکجہتی، اپنے وطن سے محبت کا پیغام دیا گیا ہے. ڈرامے میں اسٹیج پر موجود فنکاروں میں یوگیش تیواری، انوپ شرما، ندھی دیوان، طلعت حسن، شیو کٹاریا، پشپیندر سنگھ، راہول سنگھ وغیرہ کے نام شامل ہیں.
*آخری دن*
*”اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے آخری دن "بھاگ اونتی بھاگ” ڈرامہ کی پیش کش*
مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام "اردو ڈرامہ فیسٹیول” کے آخری دن شام 7 بجے رویندر بھون،بھوپال میں "بھاگ اونتی بھاگ” ڈرامہ پیش کیا گیا. یہ پیشکش بھوپال تھیٹرز کی جانب سے دی گئی. ناٹک کے مصنف ہیں یوگیش سومن اور ہدایت کار ہیں معروف اداکار راجیو ورما.
پروگرام کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اردو اکادمی کا ایک کام دوسری زبانوں میں لکھے جارہے ادب اور دیگر اصناف کا اردو زبان میں ترجمہ کرنا بھی ہے. اس سے اردو زبان جاننے والوں کو دیگر زبانوں میں ہونے والے ادبی اور فنی تبدیلیوں علم ہوتا ہے اور اس سے زبانیں مالامال ہوتی ہیں. آج کا ڈراما یوگیش سومن کے طبع زاد مراٹھی ڈرامہ "لگین گھائی” کا ہندی/اردو ترجمہ ہے. یہ ترجمہ پروین مہووالے اور راجیو ورما نے کیا ہے. پروین مہووالے اس ڈرامے میں مرکزی کردار بھی نبھا رہے ہیں. مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو اپنی روزمرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بڑی مشقت کرنا پڑتی ہے. ایسے میں اگر کسی بڑی بیماری پر جمع رقم خرچ ہوجاتی ہے تب کبھی کبھی انسان پریشان ہوکر ایسے فیصلے لے لیتا ہے کہ حالات مضحکہ خیز ہوجاتے ہیں. ایسے ہی حالات کی مثال ہے یہ بھاگ اونتی بھاگ.
اسٹیج پر موجود فنکاروں میں پروین مہو والے، رہتا ورما، ادیشا نایر،ابھیشیک ٹھاکر وغیرہ کے نام شامل ہیں.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

