زبان دو طرح کی ہوتی ہے، ایک مادری اور دوسری غیر مادری یا اجنبی زبان۔ مادری زبان صرف ایک ہوتی ہے اور اس کے سیکھنے کا آغاز آپ کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ مادری زبان کے علاوہ دوسری ساری زبانیں غیر مادری زبان میں شمار ہوتی ہیں اور آپ ان کو زندگی کے مختلف مراحل میں اپنی ضرورت کے تحت سیکھتے ہیں۔ مادری زبان والدین، اہل خانہ اور آس پڑوس کے دیگر افراد کے ساتھ سیکھی جاتی ہے۔ غیر مادری زبان عام طور پر استاد اور کتاب کی مدد سے کسی اسکول یا کوچنگ سینٹر میں سیکھی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں آپ اپلیکیشن کی مدد سے بغیر کسی استاد کے خود بھی سیکھ سکتے ہیں۔
مادری زبان غیر ارادی طور پر سیکھی جاتی ہے۔ یعنی اس کو سیکھتے ہوئے آپ کو احساس نہیں ہوتا ہے کہ آپ ایک زبان سیکھ رہے ہیں۔ آپ دوسروں کو بولتے ہوئے سنتے ہیں، آپ بھی بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور بات کرتے کرتے ایک دن آپ پورے اعتماد کے ساتھ ایک زبان میں گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ آپ نہ اسکول جاتے ہیں اور نہ کسی کورس میں داخلہ لیتے ہیں، صرف سن کر اور بول کر ایک زبان بولنے لگتے ہیں۔
غیر مادری زبان کو ارادی طور پر سیکھا جاتا ہے۔ اس میں آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک زبان سیکھ رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ کسی کورس میں داخلہ لیتے ہیں اور زبان کے قواعد پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ کسی زبان کے علم نحو اور صرف پر عبور حاصل ہو جائے تو آپ اس زبان کو فراٹے سے بولنے لگیں گے۔ کبھی آپ کو لگتا ہے کہ کسی زبان کے ایک ہزار الفاظ یاد ہو گئے تو اس زبان میں آپ روانی سے بات کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ گرامر کے سارے اصول یاد کرتے ہیں لیکن اس پر اچھا خاصا وقت خرچ کرنے کے بعد بھی بعض دفعہ آپ اجنبی زبان نہیں بول پاتے ہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو اس میں اعتماد کی کمی نظر آتی ہے۔
اجنبی زبان سیکھنے میں ناکام ہونے یا اس کو اعتماد کے ساتھ نہیں بول پانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس کو فطری طریقے سے سیکھنے کوشش نہیں کرتے ہیں۔ زبان سیکھنے کا بہترین اور موثر طریقہ اس کا استعمال کرنا ہے۔ جب آپ اجنبی زبان سیکھتے ہیں تو آپ اس کے استعمال سے زیادہ اس کے قواعد کے مطالعہ پر یقین رکھتے ہیں اور زبان سیکھنے کے عمل میں یہ ایک بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ اسٹیفن کراشین ایک امریکی ماہر لسانیات ہیں۔ وہ اجنبی زبان کو مادری زبان کی طرح سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آپ زبان کے گرامر پر دھیان نہ دیں بلکہ اس کے استعمال پر دھیان دیں۔ یعنی ان کے مطابق زبان گرامر سے نہیں زبان کو استعمال کرکے سیکھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس نظریے کی تنقید کی گئی ہے کہ زبان سیکھنے کے معاملے میں گرامر کی اپنی اہمیت ہے، تاہم تجربات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسٹیفن کراشین کا نظریہ زیادہ قابل قبول اور کار آمد ہے۔
آپ جب بھی ارادی طور پر کوئی زبان سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ چاہتے ہیں کہ بولتے ہوئے آپ سے کسی بھی طرح کی غلطی نہ ہو۔ اس کے لیے آپ گرامر کی طرف بھاگتے ہیں اور بولنے سے قبل زبان کے سبھی اصول و قواعد یاد کرتے ہیں۔ آپ گرامر سے لیس ہوکر بولنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔
زبان سیکھنے کے معاملے میں آپ سب سے پہلی غلطی یہ کرتے ہیں کہ آپ غلطی کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ اجنبی زبان کو مادری زبان کی طرح سیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک بار پھر سے بچہ ہو جائیں اور غیر مادری زبان سیکھتے ہوئے اسی طرح غلطی کریں جس طرح آپ مادری زبان سیکھتے ہوئے غلطی کرتے ہیں۔ آپ سیکھنے کے معاملے میں جتنی غلطی کرتے ہیں اتنا ہی سیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد ندیم احسن اپنی کتاب "تخلیقی نثر اور اسطور” میں تھارن ڈائک کا نظریہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"نفسیات میں سیکھنے اور سمجھنے(Learning) پر بہت سے ماہر نفسیات نے اپنی رائے دی ہے، جس میں تھارن ڈائک کی تھیوری Trial and Error اہم ہے۔ اس تھیوری پر غور کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ذی روح غلطی کرکے سیکھتا ہے اور ذہانت کا دارومدار پوری طرح سے عمل پر ہے اور جب کوئی عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو غلطیاں ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو انسان جتنی غلطی کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ سیکھے گا”
مذکورہ بالا اقتباس کا اطلاق زبان سیکھنے کے معاملے میں بھی کر سکتے ہیں۔ آپ غلطی کریں گے تبھی آپ اپنی اصلاح کریں گے اور آپ غلطی تبھی کریں گے جب آپ بولنا شروع کریں گے۔ اجنبی زبان سیکھنے کے دوران آپ غلطی کرنے سے پہلے قواعد کی کتاب پڑھ کر اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر فطری عمل ہے اور اس کا کوئی فائدہ آپ کو نہیں پہنچتا۔ مادری زبان سیکھتے ہوئے جس چیز کو مقدم رکھنا چاہیے اسے موخر رکھا جاتا ہے اور جس چیز کو موخر رکھنا چاہیے اسے مقدم رکھا جاتا ہے۔ بس اسی فرق کی وجہ سے آپ غیر مادری زبان سیکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں یا زیادہ وقت لیتے ہیں۔ میں نے فرانسیسی زبان سیکھی ہے اور میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ غیر مادری زبان سیکھتے ہوئے اسے جتنا سنا جائے اتنا استعمال بھی کیا جائے۔ اس طرح آپ بہت تیزی سے کوئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ گرامر کا علم ضروری ہے لیکن آپ زیادہ محنت زبان کو بولنے اور سمجھنے پر کریں اور جب آپ زبان بولنے اور سمجھنے لگیں تو قواعد کی مدد سے اسے صیقل کریں۔ سن کر اور بول کر آپ زبان سیکھتے ہیں اور گرامر کی مدد سے آپ زبان اچھی کرتے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

