چراغاں سرِ خواب کی لو / ارشد عبد الحمید – پروفیسر غضنفر
ارشد عبد الحمید کا دوسرا شعری مجموعہ ‘چراغاں سرِ خواب’ میرے سامنے ہے۔سب سے پہلے میری نگاہ عنوان پر پڑی اور ٹھہر گئی۔عام طور پر نگاہ دیر تک عنوان پر مرکوز نہیں رہتی۔ عنوان کے پاس میری نگاہ کے رک جانے کا سبب یہ ہے کہ اضافت والا یہ عنوان نیا لگا اور قدر ے انوکھا بھی۔
دل میں تجسس جاگا کہ جانیں کہ سرِ خواب چراغاں کیسا ہوتا ہے۔ خواب کے در بند تو دیکھے تھے۔خواب کی کرچییں بھی پلکوں سے چنی تھیں مگر سرِ خواب ہونے والے چراغاں کا منظر کبھی نظر نواز نہیں ہوا تھا۔ اس خواہش کے ساتھ ہی خیال کی ایک لو بھی جھلملا اٹھی کہ تصنیف یا تخلیق کو عنوان کی روشنی میں بھی دیکھنا چاہیے اور اس لو کے جلتے ہی آنکھوں کے سامنے بے شمار کتابوں کے چراغِ عنوانات مثلاً : بانگِ درا، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل ،ارمغانِ حجاز، ، شاخِ نہالِ غم، حاصلِ سیرِ جہاں، چراغِ تہِ داماں ، سفینۂ غمِ دل، آخرِ شب کے ہمسفر، گردشِ رنگِ چمن، سی پارۂ دل، نو طرزِ مرصع، طلسمِ ہوش ربا، فسانۂ عجائب، دریاۓ لطافت، آئینۂ بلاغت، بحر الفصاحت وغیرہ جھلملا اٹھے اور ان کتابی چراغوں سے عنوان اور متن کے رشتوں کی شعاعیں بھی پھوٹ پڑیں۔ان شعاعوں کے رنگوں سے یہ راز بھی منکشف ہوا کہ عنوان میں کوئی پھیلی ہوئی تخلیقی یا طلسمی کائنات سمٹ کر ایک نقطے پر آ جاتی ہے۔ عنوان میں مصنف کی مجموعی فکر منعکس ہوتی ہے۔عنوان میں تخلیق کار کے ہدف کےساتھ ساتھ اس کی قوتِ متخئیلہ ، قوتِ احساس اور نقطۂ نگاہ کی بھی غمازی ہوتی ہے۔ عنوان سے اس کی لسانی جادو گری کا کرشمہ بھی سامنے آتا ہے۔ گویا عنوان وہ قطب نما ہے جو کسی کتاب کے قبلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آپ اسے ایک ایسا تھرما میٹر بھی تصور کر سکتے ہیں جو کتابِ دل و دماغ کی حرارت کا پتا دیتا ہے۔
اس راز کے منکشف ہوتے ہی میری نگاہیں کتاب کے اندر داخل ہو کر یہ دیکھنے کی سعی کرنے لگیں کہ شاعر کے دل و دماغ میں کس طرح کا چراغاں ہوا ہے اور اس کا تعلق خواب سے کیا ہے؟ اس کی شعری کائنات کس لو میں سمٹ آئی ہے یے؟۔اس کا نقطۂ نظر کس رنگ میں غمازی کر رہا ہے۔
اس کام میں ایک شعری چراغ :
نور امکان کا ہو جیسے نمایاں سرِ خواب
صرف احساس ہے یا ہے یہ چراغاں سرِ خواب
نے میری رہنمائی کی جسے خود شاعر نے کتاب کے ایک گوشے میں جلا رکھا ہے اور جس سے کچھ اس طرح کی شعاعیں پھوٹتی ہیں :
آگے اس موڑ کے رستہ نہیں ملتا کوئی
خیمہ زن کب سے ہے یہ قافلۂ جاں سرِ خواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کو پھر وہی سورج وہی اندھیرا ہے
چراغِ خواب تری روشنی ہے کتنی دیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رونقیں کتنی نظر آتی ہیں چار ں جانب
آکے رک جاتا ہے کیوں جادۂ ارماں سرِ خواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسوس ہوا کہ یہ چراغ جلایا بھی اسی لیے گیا ہے تاکہ دل و دماغ کا چراغاں اچھی طرح دکھائی دے سکے اور دیکھنے والے کو یہ پتا چل سکے کہ اس چراغ کی لو کا رنگ کیسا ہے؟ اس کی روشنی میں جھلملاہٹ کیسی ہے ؟ اس کی کرنوں کی لپک کیسی ہے؟
اس شعری چراغ کی لوؤں کی روشنی میں مجھے یہ نظر آیا:
دل و نگاہ کو بے تاب دیکھنے کے لیے
جہاں میں آۓ ہیں ہم خواب دیکھنے کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی دکھائی پڑا :
پھر وہی خواب ہے اور خواب میں روشن خیمہ
پھر رواں جادۂ آوازِ درا پر کوئی
۔۔۔۔۔
شاعر کے خوابوں میں ایک نئی دنیا کا تصور ہے۔اس تصور کو حقیقت میں ڈھلنے کی خواہش ہے اور یہ امید بھی ہے کہ اس کے خوابوں کی دنیا حقیت میں ڈھلے گی اور اس کی اس امید میں دنیا حد درجہ نمو تاب بھی ہے ۔اسی لیے وہ اس امید کی تصویر کی شمع کسی بھی حالت میں جلاۓ رکھنا چاہتا ہے اور یہ عزم کرتا ہے
کہ :
تصویر کی یہ شمع بجھانے کے نہیں ہم
مگر حقیقت وہ خود ہی بیان کردیتا ہے :
غم کے آتش دان سے امید کے خورشید تک
یخ زدہ سب ہیں لہو برفاف کو کچھ مت کہو
۔۔۔۔۔۔
یہ خواب اگر چہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتے مگر زندہ رکھنے میں مدد ضرور کرتے ہیں۔
اس حقیقت کو بھی شاعر نے بہت ہی واضح لفظوں میں بیان کردیا ہے :
یہ رختِ خواب نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے
یہی ہے چھاؤں ہماری یہی سراۓ سفر
اور اسی سے اس کے یہاں چراغاں بھی ہے
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خوابوں کی حقیقت جاننےکے باوجود چراغاں سرِ خواب کیوں ہے؟ شاید اس کا سبب اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ذہن میں خوابوں کا چراغاں نہ ہو تو حقیقتوں کے مہیب اندھیرے سانسوں کا گلا گھونٹ دیں۔
نیم وحشی صنفِ سخن میں نظم کی طرح خیال کی شائستگی یا صورتِ ریزہ خیالی میں خیال کی منظم و مہذب تصویر کی تلاش ویسے تو مشکل ہے مگر ‘ چراغاں سرِ خواب ‘ کے کینوس پر بکھرے ہوۓ خیال کی جھلملاہٹوں کو یک جا کرنے پر وہ تصویر دکھائی دے جاتی ہے جو عموماً نظم کے کینوس پر دکھائی دیتی ہے اور جو غزل کے کینوس پر ابھر نہیں پاتی۔ اس فن کار کا ایک یہ بھی کمال ہے کہ اس نے لاشعوری یا شعوری طور پر یہ کارِ مشکل کر دکھایا ہے۔ کتاب کے اندر داخل ہونے پر اس بات کا بھی احساس ہو جاتا ہے کہ عنوان واقعی گلمپس ثابت ہوتا ہے اگر اس کے انتخاب
میں قوتِ ممیزہ اور قوتِ متخئیلہ کی فن کارانہ کارفرمائی ہو۔
چراغاں سرِ خواب کی روشنی میں چونکانے والی ایک جھلک یہ بھی نظر آئی کہ یہاں ردیفیں بھی تازگی لیے ہوئی ہیں اور ان صورتوں میں روشن ہیں :
سرِ خواب، بہت ہوئی، دیکھنے کے لیے، کھینچتے ہیں، کوئی چراغ، کو کچھ مت کہو، نئیں، میں خاموش، جانتی ہے ، پر کوئی ہے ، کے نہیں ہم، تو ہونے کی نہیں ، سب ٹھیک ہے، بنائی ہوئی ہے ، سے باندھا ہوا ہے، کی جاۓ، کوئی نہیں میرے سوا، بھی ہو سکتے ہیں ، کھینچتے ہیں ، نے نہیں کیا، ہے کتنی دیر، کا پتا پوچھتی ہے ،میں کہیں موجود میں بھی ہوں ، کھولتے ہیں، ہوئی ہے،
ردیفوں کی یہ صورتیں اپنی تصویری جاذبیت یا محاکاتی کشش تو دکھاتی ہی ہیں ،ساتھ ہی نغمگی بھی سناتی ہیں اور شعر کی معنویت کے انعکاس میں مشعل کا بھی کام کرتی ہیں ۔
ان سے تازگی کا احساس توہوتاہی ہے ،تخلیق کار کی فنی بصیرت کے ادراک کا پتا بھی چلتا ہے۔ ارشد عبدالحمید کے خواب کی لویں اتنی تیز ہیں کہ
تعبیروں کی تصویریں بھی دکھائی دے جاتی ہیں۔
ایک عمدہ،معنی خیز،روشن، تازہ کار اور خوبصورت شعری مجموعے کے لیے ارشد عبدالحمید کو ڈھیروں مبارک باد
اور اس دعا کے ساتھ کہ
بجھے نہ لو یہ تمھاری کسی بھی آندھی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غضنفر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

