شعبہ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس جدید اردو غزل کے موضوع پر توسیعی خطبے کا انعقاد
لکھنؤ۔۴،فروری
تجربے کی انفرادیت اور روایت کے تسلسل سے جدید اردو شاعری عبارت ہے۔اس میں غزل گویوں کے ساتھ ساتھ نظم نگاروں کی بھی ایک کہکشاں ہے۔ان خیالات کا اظہار اردو کی ممتاز ادیبہ،پروفیسر نجمہ رحمانی نے شعبہئ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس جدید اردو غزل کے موضوع پرآن لائن توسیعی خطبے کے دوران کیا۔نجمہ رحمانی اس وقت دہلی یونی ورسٹی میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور شعبہئ اردو کی صدر ہیں۔کیمپس کے انچارج ڈ اکٹر عبدالقدوس نے اس موقع پر بے حد وقیع خطبہ کے لیے مبارک پیش کی۔پروگرام کے آغاز میں ایم اے اردو پہلے سمسٹر کے طالب علم محمد ابرار الحق نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا۔ڈاکٹر نور فاطمہ نے شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹرعمیر منظر نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔توسیعی خطبہ یوٹیوب پر لائیو نشر کیا گیا جس کے ناظرین نے سوالات بھی کیے اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔
پروفیسر نجمہ رحما نی نے کہا ہر ادب اپنے عہد میں نیا ہوتا ہے جو آگے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ترقی پسندی کا ز مانہ گرچہ غزل کے لیے سخت رہا مگر وہی زمانہ نظم کے لیے سازگار رہا۔فیض،سردار جعفری،کیفی اعظمی اور دیگر ترقی پسند نظم نگاروں کی ایک کہکشاں ہے۔البتہ جدید شاعری نے نظم اور غزل دونوں پر توجہ دی۔نجمہ رحمانی نے جدید شاعری کے موضوعات اور فنی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جدید شاعری جہاں ایک طرف عشقیہ جذبات و احساسات کے مختلف حوالے رکھتی ہے وہیں اس کے گہرے سیاسی رنگ بھی متاثر کن ہیں۔پروفیسررحمانی نے کہا کہ جدید شاعری محض تنہائی اور ذات کے کائنات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے تجربوں میں دیگر احساسات اور جذبات بھی شامل ہیں۔پروفیسر نجمہ رحمانی نے باقر مہدی،عمیق حنفی،بمل اشک،شہریار اور عزیز قیسی کی نظموں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئے انداز کو فروغ دیا۔اور ان کی نظمیں ہمارے ہمارے لیے خاصے کی چیز ہیں۔ا س موقع پرجدید شاعری کی شناخت کے حامل شعر میں بانی،زیب غوری،مصور سبزواروی،عرفان صدیقی،امین اشرف کا ذکر خصوصیت سے کیا اور کہا کہ ان کو کسی ایک خاص دائرے میں محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔جدید کے عام مضامین کے علاوہ زندگی کے بہت سے دیگر موضوعات بھی ان کے یہاں ملتے ہیں۔ان کے یہا ں زبان وبیان کے تجربے بھی خوب ہیں۔پروفیسر نجمہ رحمانی نے اس بات کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کہ تقسیم ہند کے بعد شاعرات کا یہاں بہت وقیع اور ممتاز شعری تجربہ نہیں سامنے آسکا۔ان کی شناخت اس طرح قائم نہیں ہوسکی جیسا کہ ان کے معاصر شعرا نے قائم کی۔اس موقع پر انھو ں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے شاعری نہیں کی لیکن ان کے شعری تجربہ بہت وسیع ثابت نہیں ہوسکے۔حالانکہ جبر وقدر اور جنسی رویوں کی ناہمواری کے بہت مسائل اور صنفی امتیاز ان کے شعری تجربوں کا حصہ رہے ہیں۔
انھوں نے اس موقع پر شفیق فاطمہ شعری،داراب بانو وفا،شہناز نبی وغیرہ کا ذکر کیا۔
پروفیسر نجمہ رحمانی نے اس ز مانے کے شعرا کا ذکر کرتے ہوئے جینت پرمار،فرحت احساس،شارق کیفی،نعمان شوق،امیر امام،سالم سلیم،معید رشیدی،کے شعری تجربوں کاذکر کیا۔نیز ابھشیک شکلا،کنور رنجیت چوہان اور دیگر شعرا کا بھی ذکر کیا۔
کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے آخر میں کہا کہ اس طرح کے خطبے ادبی اور علمی روایت کا سرگرم حصے رہے ہیں۔کیمپس نے اس روایت کو ہمیشہ جاری رکھاہے۔اس وبا کے ز مانے میں ٹکنالوجی کے توسط سے یہ کام انجام دے رہے ہیں۔
کیمپس کے اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ وطالبات نے آن لائن پروگرام میں شریک رہے۔
Dr. Omair Manzar
Assistant Professor
Dept. of Urdu
MANUU, Lucknow Campus.
504/122 Tagore Marg,
Near Shabab Market
Lucknow -226020 (U.P)
8004050865
www.manuu.ac.in
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

