ڈاکٹر شانِ احمد صدیقی کی شخصیت غیر منقسم بہار کے لئے کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ان کی جامع حیثیات شخصیت سے بہار وجھارکھنڈ کے اہلِ علم و ادب اچھی طرح واقف ہیں۔ان کی خدمات کا دائرہ کئی سمتوں میں پھیلا ہواہے۔ ادب تو جیسے ان کا اوڑھنا بچھونا ہو لیکن اس کے علاوہ سماجی، سیاسی،تہذیبی اور ملی خدمات کی وجہ سے ان کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔اپنے زمانے میں وہ کئی عہدوں پر سرفراز ہوئے جیسے کہ ہائی اسکول ہزاری باغ کے سکریٹری رہے اور اپنی ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس کے علاوہ(موجودہ بنگلہ دیش) میں کچھ عرصہ تک کسٹم آفیسر کے عہدے پر بھی مامور رہے۔اس کے بعد انہوں نے علم و ادب کی طرف اپنی توجہ کو مرکوز کیا اور ہزاری باغ(جھارکھنڈ) کے مشہور کالج، سینٹ کولمبس کالج، ہزاری باغ میں ۱۹۵۲ء میں لکچرر ہوگئے اور بڑی محنت اور لگن سے درس و تدریس کے فرائض کو انجام دینے لگے۔پھر وہ وقت بھی آیا جب اسی کالج میں وہ صدر شعبہ اردو ،فارسی کے منصب پر سرفراز ہوئے۔اس کے ساتھ ہی جب ہزاری باغ میں وِنوبابھاوے یونیورسیٹی کا قیام عمل میں آیا (۱۹۸۳)تو وہ شعبۂ اُردو کے پہلے صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔جو اپنے آپ میں یقینا ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔جب موصوف کو پی ایچ۔ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی تو وہ اس وقت شہر کے پہلے پی ایچ۔ڈی کی سند والے تھے۔شان صاحب کے ملی و سماجی کارناموں کا اعتراف ڈاکٹر سیّد آلِ ظفر نے کچھ اس انداز میںکیا ہے۔ ملاحظہ کریں :
’’ان کے ملّی کارناموں میں مسلمانوں کے فروغ تعلیم کا عنوان بہت ہی درخشاں ہے۔ وہ نونہالانِ ملّت کی تعلیم و تربیت کے تعلق سے بھی بہت ہی فکر مند رہا کرتے تھے۔‘‘
(پیام آشنائی، ص : ۶۶)
شعر و ادب سے ان کے لگاؤ کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے ’’بزم ادب‘‘ نام سے ایک ادبی مجلہ شہر ہزاری باغ سے جاری کیا تھا۔جس نے علمی و ادبی حلقوں میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔اس کے علاوہ وہ ہر سال ہزاری باغ میں کل ہند مشاعرہ اور ادبی سیمیناروں کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ جس میں ملک کے معتبر شعراء و ادباء تشریف لاتے تھے۔شانِ احمد صدیقی صاحب چونکہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے استاد تھے اسی وجہ سے انہوں ’’گلدستۂ دانش‘‘ کے نام سے ایک کتاب فارسی میں لکھی جس میں موصوف نے مشاہیر شعراء کے حالات اور ان کی شاعری کے نمونے پیش کئے۔
موصوف کا اصل کارنامہ جو انہوں نے ’’مولوی کریم الدین: حیات اور کارنامے ‘‘کی شکل میں انجام دیا ہے۔وہ قابلِ قدر ہے اور قابلِ ستائش بھی۔یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ہر باب کا الگ الگ ذکر کرنایہاں ممکن نہیں۔اس میں شان احمد صدیقی صاحب نے مولوی کریم الدین کی خدمات پر صرف روشنی نہیں ڈالی ہے بلکہ اس میں’’ طبقات شعراء ہند‘‘سے لیکر ’’مفتاح الارض‘‘ تک مولوی کریم الدین کی تالیفات کو سمیٹ کر ان کامطالعہ بے حدمفصل اور تاریخی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
کتاب کا دوسرا باب جس کا عنوان ’’مولوی کریم الدین کی تالیفات‘‘ہے۔جس میں انہوں نے مولوی کریم الدین احمدکی تالیفات کو کچھ اس انداز میں پیش کیا ہے۔ملاحظہ فرمائیں :
’’طبقات شعرائے ہند، طبقات اور گارساں دتاسی کی تالیف، تاریخ ادبیات ہندوی و ہندوستانی، گلدستۂ نازنیناں، عربی شعراء کا نامکمل تذکرہ، دیگر تالیفات، کریم اللغات، عجالتہالعلالہ، گل رعنا اور کریم الاخبار، تسہیل القواعد، انتخاب دیوان حافظؔ ، انتخاب دیوان سعدیؔ، تعلیم النساء، گلستان ہند، رسالہ فرائض، روض الاجرام، محط الححیٰ، ترجمہ کتاب ڈاکٹری، تاریخ دہلی، خذاصفا، تشریخ ظہوری و تکریم ظہوری، پند سودمند، مفتاح الارض۔‘‘
مولوی کریم الدین احمد حالی،ؔشبلیؔ اور سرسید ؔ وغیرہ کے معاصرین میں سے ہیں۔کریم الدین احمدکوصنف شعروشاعری سے بھی شغف تھا۔ وہ اپنے کلام پر مومنؔ اور آزردہؔ دونوں معتبراساتذہ کرام سے اصلاح لیا کرتے تھے۔بعد میں انہوں نے شاعری سے خود کو الگ کر لیا اور شاعری سے بالکل کنارہ کش ہوگئے اور شاعری کو ناپسند کرنے لگے۔ان کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہ عروضی تھے ۔ ان کو علم العروض پہ مہارت حاصل تھی۔ساتھ ہی مولوی کریم الدین نے علم العروض پہ باقاعدہ ایک کتاب تحریر کی تھی جو کافی مشہور ہوئی۔انہوں نے ایک ناول ’’خطِ تقدیر‘‘ کے نام سے لکھاتھا۔وہ ایک لغت نویس کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔مگر ان کا اہم کارنامہ ’’تذکرہ طبقات الشعراء ہند‘‘ ہے۔جس کو تذکرہ’’گل رعنا‘‘ کے برابر رکھا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ مولوی صاحب نے عربی شعراء کا ایک تذکرہ’’فرائد الدہر‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا۔جس کا ترجمہ بھی انہوں نے خود ہی’’تاریخ شعراء عرب‘‘ کے نام سے کیا۔
مولوی کریم الدین اپنے عہد کی نابغۂ روزگار شخصیت میں سے تھے۔ وہ ایک ذہین متعلم ، دوررس نتائج اخذ کرنے والے شاعر و ادیب تھے اور بالغ نظر معلم بھی۔اب ان جیسی شخصیت پہ قلم اٹھانا یا ان کے پوشیدہ گوشوں کو اجاگر کرنا واقعی ایک بہت ہی دشواراور کٹھن کام ہے۔لیکن اصل مزہ بھی اسی میں ہے کہ کسی گمشدہ کڑی کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔جس سے عام قاری ناواقف ہو۔
اس میں ڈاکٹر شانِ احمد صدیقی کے حوصلہ اور ان کی ہنرمندی اور ہمت مرداں کا راز پنہاں ہے۔کیونکہ اگر ڈاکٹر شان احمد صدیقی چاہتے تو اپنی تحقیق کے لئے کوئی آسان موضوع کا انتخاب کر سکتے تھے۔ جو ان کے لئے آسان ہوتا اور اس کام کو موصوف بہ آسانی پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے تھے۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے روایتی شعراء و ادباء میں اس غیر معروف شخصیت کا انتخاب کیا جو اس وقت محتاج توجہ تھی۔اب ذرا مولوی کریم الدین احمد کے تعلق سے ڈاکٹر شانِ احمد صدیقی کی رائے بھی ملاحظہ فرمائیں :
’’سرسیدو حالی کے نظریات کو انہوں نے قبول کیا اور مصلحت وقت کے مطابق تبلیغی و تعلیمی مہم شروع کی۔ اصلاح کا بیڑا اٹھایا تذکرہ تاریخ ، جغرافیہ،ریاضی، اخلاقی، قواعد، لغت، ترجمہ، ناول نگاری کے ضمنی تکلفات کے طلسم کو توڑااور سادگی وسچائی ، نئی راہیں اور نئی روایات قائم کیں۔ نئے اسالیب سے روشناس کرایا۔‘‘
(پیام آشنائی، ص : ۴۷)
اسی سے متعلق ایک دوسرا اقتباس بھی پیش خدمت ہے۔جس میں شان احمد صدیقی مولوی کریم الدین احمد کے سلسلے میں یوں رطب اللسان ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’علم و ادب کے جن محسنوں کو زمانہ فراموش کر تا جا رہا ہے۔ ان میں مولوی کریم الدین بھی ہیں۔ ان کی پوری زندگی علم و ادب کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے میں گزری ……۔‘‘
(پیام آشنائی، ص : ۴۹)
درج بالا اقباس کی روشنی میں اگر ہم حقائق پر نظر دوڑائیں تو شانِ احمد صدیقی ایک محقق کی حیثیت سے نمودار ہوتے ہیں۔اس کے برعکس موصوف کا دوسرا رخ ان کے انداز و اسلوب تحریر میں گہرے تنقید ی شعور کا بھی پتہ چلتا ہے۔اس طرح جناب شانِ احمد صدیقی تنقید و تحقیق دونوں پر اپنی رائے ایک کتاب میں پیش کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر شان احمد صدیقی بحیثیت محقق و نقاد ادب میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں ۔ اس تعلق سے معروف نقاد پروفیسر وہاب اشرفی کا خیال ملاحظہ فرمائیں :
’’ان کی تحریروں میں ضبط اور اعتماد کی ایک کیفیت ہے اور لہجے میں توازن ہے۔ انداز بیان محققانہ ، سنجیدہ اور سائنٹفک ہے۔‘‘
(پیام آشنائی، ص : ۴۹)
ڈاکٹر شان احمد صدیقی کی تحقیقی تصنیف’’مولوی کریم الدین احمد:حیات اور کارنامے‘‘ اس لحاظ سے انفرادیت و اہمیت کی حامل ہے کہ موصوف نے ایک ایسی شخصیت پر خامہ فرسائی کی جن کی جانب اردو داں طبقہ نے اپنی توجہ کو مبذول نہیں کیاتھا اور کیا بھی تھا تو اس نظریے سے نہیں جس کے وہ مستحق تھے۔اس لئے یہ شان احمد صاحب کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔میں تو جناب شانِ احمد صدیقی کے متعلق صرف یہی کہوں گا کہ ؎
جہاں بھی جائے گا یہ روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
Imamuddin Imam
S/O.- Md. Salauddin
Vill.- Dampdari
P.O.- Bshundattpur
Muzaffarpur- 843113
(Bihar)
Mob.- +91 62061 43783
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

