کلیات رباعیات جوش: جوش شناسی کا نیا باب – حقانی القاسمی
شہرت و شناخت کا رشتہ زمان و مکان سے بھی ہے۔ عہد بدلتا ہے تو سیاسی، سماجی اور ثقافتی تغیرات کے ساتھ ذہنی ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی شہرت کا سورج نصف النہار پرتھا اور جوش عوامی ذہن و شعور کا لاینفک حصہ تھے۔ مگر موت کے کچھ عرصے بعد ہی وہ روایت پارینہ بن گئے اور عوامی ذہن سے جوش کی یادیں بھی غائب ہوتی گئیں۔ جس جوش کو صدی کا حافظ و خیام کہا جاتا تھا اور جس کی گونج ہر طرف تھی رفتہ رفتہ اس جوش کا جادوختم سا ہونے لگا۔پاکستان میں بھی اتنی ناقدری ہوئی کہ جوش کے خلاف ایک محاذ سا کھڑا کر دیا گیا۔ انھیں مطعون و معتوب کیا گیا۔ وہاں بھی وہ آزردہ اہل اذاں رہے تو ہندوستان میں بھی تقریباً کچھ ایسی ہی کیفیت رہی۔ میزانِ نقد میں بھی ان کے الحاد و ایمان کو تولا جانے لگا اور ان کے شعری اوج و اجلال، توقیر و جاہ کو بھلا دیا گیا۔ جب کہ جوش کا سرمایہ سخن بیش بہا بھی ہے اور ان کے یہاں فکری، موضوعاتی اور اسلوبیاتی تنوع بھی ہے۔
جوش عصری جامعات کے تحقیقی و تنقیدی مطالعات کا حصہ بھی رہے اور ان کی شعری اور فنی جہتوں کے حوالے سے مقالے بھی لکھے جاتے رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ سلسلہ نقد سے جڑے ہوئے افراد نے ایک خاص منہج نقد اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کے کلام کی ساری معنویت قاری کے روبہ رو نہ آسکی۔اس میںقصور کلام جوش کا نہیںبلکہ فہم و ادراک کے زوال اور ذوق کی پستی کا ہے ۔ دراصل معاملہ یہ ہوا کہ جوش ملیح آبادی کے شعری سرمائے کی تفہیم و تعبیر کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیاوہ ناقص تھا۔ جوش کا مطالعہ لسانیاتی اور نفسیاتی زاویہ نظر سے کیا جاتا تو شاید ان کی معنویت زیادہ روشن ہوتی ۔ ان کے تعلق سے بھی وہی انداز نظر اختیار کیا گیا جو عمومی سطح کے شاعروں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ جوش کے تعلق سے مطالعاتی طریق کار میںتبدیلی کے بغیر ان کی مکمل تفہیم ممکن ہی نہیں ہے کیوں کہ بنیادی طور پر جوش نے لسانی سطح پر جو تجربے کیے ہیں اور ان کے یہاں جس نوع کے نادر الفاظ ، تراکیب، تشبیہات اور استعارات ملتے ہیں ان کی تفہیم کا صحیح حق لسانیات کے ماہر ین ہی ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جوش ملیح آبادی کے یہاں جو فکری یا نفسیاتی تضادات ہیں ان کی صحیح طور پر تعبیر نفسیات کے ماہرین کے لیے ہی ممکن ہے۔ ان دونوں زاویوں سے ہی جوش ملیح آبادی کی مکمل معنویت سامنے آ سکتی ہے۔ مگر ان پر جو بھی تنقیدی اور تحقیقی مطالعات لکھے گئے ہیں ان میں یہ دونوں زاویے تقریباً عنقا ہیں۔ ایک ٹریجڈی یہ بھی ہوئی کہ جوش کو مراثی میں محدود و مرکوز کر دیا گیا یا پھر ان کی نظمیہ شاعری کو ہی مرکز بنا کر تنقید لکھی گئی۔ جب کہ جوش ملیح آبادی اردو کے ان شاعروں میں ہیں جنھوں نے اردو کی مختلف شعری اصناف اور شعری ہئیتوں میںطبع آزمائی کی ہے۔انھوں نے فنی اور جمالیاتی اعتبارسے اردو زبان و ادب کو قابل فخر سرمایہ عطا کیا ہے۔ خاص طور پر جوش نے رباعی جیسی مشکل صنفِ سخن میں اپنے جوہر دکھائے ہیں جس کے بارے میں خود ان کا کہنا تھا:
’’رباعی ایک بہت بڑی بلا اور نہایت جان لیوا صنف کلام ہے۔ یہ کمبخت چالیس برس سے پیشتر کسی بڑے سے بڑے شاعر کے بس میں آنے والی چیز نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب تک کسی شاعر کو بے پناہ مشاق اور بے نہایت دیدہ وری کی بدولت دریا کو کوزے میں بھر لینے کا کام نہیں آتا اس وقت تک رباعی اس کے قابومیں نہیں آتی۔قلیل الفاظ کی وساطت سے کثیر معانی کا احاطہ کرکے صرف چار مصرعوں میں اس ربع ’مسکوں‘ کے تمام تجربات، مشاہدات، تاثرات، نظریات اور افکار کا سمیٹ لینا، ایک ننھے سے قطرے میں قلزم کو مقید کر لینا، ہر شاعر کے بس کا روگ نہیں۔ ‘‘
جوش ملیح آبادی نے اسی مشکل صنفِ رباعی کو وسعتوں سے ہمکنار اور اس کے دائرے کو لامحدود کیا ہے۔ ہر طرح کے موضوعات کو انھوں نے اپنی رباعی کا محور بنایا ہے۔ حیات و کائنات کے جملہ مسائل ، فلسفہ جبر و قدراور حسن و عشق ودیگر موضوعات ان کی رباعیوں میں ملتے ہیں۔ رباعی گو شعرا کی جو کہکشاں ہے اس میں جوش کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ محمد قلی قطب شاہ، سراج اورنگ آبادی، ولی دکنی، انیس ودبیر،سودا، میر سوز، مظہر جانِ جاناں، غالب، مومن، جگت موہن لال رواں، امجد حیدر آبادی،یگانہ، فراق، جگر، فانی وغیرہ نے فارسی کے رودکی حافظ خیام اور سعدی کی اس صنف کو جو بلندی عطا کی ہے اس میں جوش کا بھی کردار بہت اہم ہے۔جوش ملیح آبادی کے بیش تر شعری مجموعوں میںدیگر اصناف کے ساتھ ساتھ رباعیات کی بھی کافی تعداد ہے۔ شاعر کی راتیں، جنوں و حکمت، حرف وحکایت، حسین و انقلاب، آیات و نغمات، عرش وفرش، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سرود و خروش، سموم و صبا، قطرہ و قلزم،نجوم و جواہر،محراب و مضراب کے علاوہ اور دیگر مرتب کردہ کتابوں میں ان کی رباعیات ملتی ہیں اور اس حوالے سے ڈاکٹر رباب انجم کا تحقیقی مقالہ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی نے جوش کی رومانی رباعیاں کتاب مرتب کی ہے۔ ماہر جوشیات ڈاکٹر ہلال نقوی کی مرتب کردہ کتابوں میں بھی جوش کی رباعیات ملتی ہیں۔ مگر جوش کی رباعیات کے حوالے سے بہت کم تنقیدی تحریریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
رباعیات جوش کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر منتشر شکل میں ہے جس کی وجہ سے جوش ملیح آبادی کی تمام رباعیات سے قارئین روبہ رو نہیں ہو پاتے۔ نئی نسل کے نوجوان ناقد امیر حمزہ نے اسی کمی کو محسوس کرتے ہوئے کلیات رباعیات جوش کی ترتیب و تدوین کا بیڑا اٹھایا اور ان کے مختلف شعری مجموعوں سے رباعیات کو جمع کیا کیوں کہ رباعیات کے بغیر جوش ملیح آبادی کی مکمل شعری شخصیت سامنے نہیں آسکتی۔ جوش کو رباعی سے جو نسبت رہی ہے وہ ان کے لوح ِ مزار پر کندہ اشعار سے بھی واضح ہے۔ جوش کی رباعیوں میں جو لطف زباں اور حسن بیاں ہے ،فردوس لکھنو کی جو کھنکتی زبان ہے۔ جو بلند آہنگی، محاورہ بندی، لہجے کی تندی اور تلخی ہے۔ وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔ خاص طور پر خیام سے متاثر ان کی خمریہ رباعیات سے ایک الگ ہی جوش ملیح آبادی سامنے آتے ہیں۔ جن میں ان کے تجربات بھی ہیں، خیالات بھی ہیں اور حیات و کائنات کا مطالعہ بھی ہے،زندگی کا الگ تصور بھی ہے۔ چار مصرعوں میں خوبصورت منظر نگاری بھی ہے ، محاکاتی کیفیت بھی ہے ، لفظوں کی نادرہ کاری بھی ہے، تشبیہات، استعارات اور تراکیب کی تازہ کاری بھی۔جوش کے فکری تضادات اور لسانی اجتہادات کی تصویر بھی ہے۔ تضادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو جوش کے یہاں الحاد بھی ہے، ایمان بھی ہے، انکار بھی ہے، ایقان بھی ہے، تشکیک بھی ہے، تیقن بھی ہے، تمجید و تقدیس بھی ہے، تحقیر و تذلیل بھی اور شاید یہی تضاد ان کے شعری مجموعوں کے ناموں میں بھی نظر آتا ہے۔ جنون و حکمت، عرش و فرش، سیف و سبو، قطرہ و قلزم، سموم وصبا شاید جوش ملیح آبادی اضداد سے اشیا کی معرفت کے قائل تھے۔ اسی لیے ان کے یہاں فکری او رنفسیاتی سطح پر تضادات ملتے ہیں۔ وہ ایک طرف ملحد و مذہب بیزار ہیں تو دوسری طرف مرثیہ لکھتے ہیں اور سورۃ رحمان کا منظوم ترجمہ بھی کرتے ہیں ۔جوش ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ :
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین
چرخِ نوع بشر کے تارے ہیں حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
تو دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں :
آنسو دے کر درِ عطا لیتے ہیں
اللہ سے انعام بُکا لیتے ہیں
تقلیدِ حسین سے ہمیں کیا سروکار
ہم تو فقط آہوں کا مزا لیتے ہیں
اس طرح کے اور بھی اشعار ہیں جن سے ان کے تضادات ظاہر ہیں۔ ایک رباعی میں کہتے ہیں:
اللہ رے ایماں کا مرے استحکام
اک ہاتھ میں ہے حبل متیں ایک میں جام
دل برخِ بحرین ہے گویا اے جوش
اک سمت ہے کفر، اک جانب اسلام
دراصل جوش تیقن کی تلاش میں تشکیک کے شکاررہے ہیں۔ اس لئے انہوں نے موروثی اقدار اور مسلمہ افکار سے بغاوت کی۔ وہ کبھی خدا کے منکر اور رسالت کے انکاری بھی رہے اور اس طرح کے شعر بھی کہتے رہے:
تحقیق و تجسس نہ دلیل و برہان
پھر بھی مذہب پر مر رہے ہیں انسان
اب دین کی جھولی میں دھرا ہی کیا ہے
کج ضابطے، کھکھ صحیفے، کھکل ایمان
کہتے ہیں یہ پیر، ہم پئے نفع عوام
ڈھولک کی گمک پر بیچتے ہیں اسلام
دیتے ہیں غریبوں کو کرائے پر رسول
کرتے ہیں امیروں میں خدا کا نیلام
تشکیک کے باوجود انسانیت پر جوش کا ایمان پختہ تھا اور ہر طرح کے مذہبی تعصبات اور تحفظات سے اُن کا ذہن پاک تھا۔ اسی لئے انسانیت کی جستجو اُن کا شعری منشور بھی ہے اور نصب العین بھی۔ ایک رباعی میں کہتے ہیں:
خنجر ہے کوئی ، تو تیغِ عریاں کوئی
صرصر ہے کوئی، تو بادِ طوفاں کوئی
انسان کہاں ہے؟ کس کُرّے میں گم ہے
یا تو کوئی ’ہندو‘ ہے ’مسلماں‘ کوئی
اسی طرح ان کی ایک اور رباعی ہے:
ہر بات میں تیغِ خونچکاں ہے یارب
ہر پائوں میں زنجیر گراں ہے یارب
’مذہب‘ کی برادری سے دل تنگ ہوں میں
’انساں‘ کی برادری کہاں ہے یارب!
جوش نے سماجی ، سیاسی ناہمواریوں پر بھی ضرب کاری کی ہے اور حیات و کائنات کی حقیقتوں کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقتیں ہیں جنھیں شاید عقیدتوں میں محصور معاشرہ کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ انہی کی ایک رباعی ہے :
وہ جن کا تخیل ہے نجیب الطرفین
آتش کدہ و دیر بھی ان کے حرمین
ہیضہ حب وطن کا ہوتا ہے اُنہیں
ہوتی نہیں جن کو ہضم حب کونین
غزل گو شاعروں کے تعلق سے بھی جوش ملیح آبادی کے خیالات ایسے ہیں جو شاعروں کو شاید راس نہ آئیں۔ ایک رباعی میں کہتے ہیں:
یہ صنف غزل کہ جس سے خوش ہیں اوباش
کیا چیز ہے کیا بتائوں ارباب تلاش
سیلے ہوئے الفاظ کے تابوت میں ہے
یہ مردہ روایات کی بگڑی ہوئی لاش
ان کی رباعیات میں اس طرح کے تصورات کی کثرت ہے۔ شاید انہی تصورات کی وجہ سے جوش کے مخالفین کی تعداد بھی بڑھتی گئی اور جوش شعری منظرنامے سے گم ہوتے گئے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جوش کی شاعری میں شور و تموج بھی ہے، جوش و تہیج بھی اور طوفان و تشنج بھی۔ خاص طور پر ان کی تشبیہات کا تو جواب ہی نہیں:
شانوں پہ ہے چھٹکی ہوئی زلفوں کی لٹک
اعضائ میں ہے تازہ شاخِ گل کی سی لچک
اور اس پہ یہ انگڑائی کہ عالم نہ پوچھ
بکھری ہوئی بدلیوں میں جس طرح دھنک
لسانی اجتہادات کے تعلق سے دیکھا جائے تو جوش کے یہاں ایسے معرب و مفرس اور متروک الفاظ بھی ملتے ہیں جن کی تفہیم آج کے سہل پسند قاری کے لیے بہت مشکل ہے۔ جوش ملیح آبادی کے پاس لفظوں کا قلزم ذخار ہے۔ انھوں نے اردو زبان کو جو الفاظ عطا کیے ہیں وہ اردو کی وسعت دامانی کا ثبوت ہیں۔ جب کہ رشید حسن خاں جوش کی شاعری کو لفظی اسراف کی بدترین مثال قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جوش نے لفظوں کو نئی زندگی دی ہے اور مردہ لفظوں کو حیات بخش دہی ہے۔ جوش کا یہ وہ کارنامہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ایک رباعی ملاحظہ فرمائیں:
افسوس ہے اے عربدہ چرخِ کبود
ہو، اور ایازیت کا دشمن، محمود
کہتے ہیں کہ یہ خلیل عصر حاضر
وا کرکے رہے گا باب نار نمرود
دراصل تخیل سے جوش کا رشتہ بہت مضبوط تھا۔ وہ خیالوں کے نئے جزیرے کی سیر کرتے تھے اور تب ان کے ہاتھ کچھ لعل و گہر آتے تھے۔ انھوں نے اس باب میں بڑی ریاضت کی ہے۔ تبھی انہیں ایسے الفاظ اور خیالات ملے ہیں۔ جوش ہی کی ایک رباعی ہے:
اس وقت کہ جب دل کو غذا دیتا ہوں
اور فکر کو لفظوں کی قبا دیتا ہوں
جتنی ہے زمین و آسماں کی قیمت
اتنے کا تو لوبان جلا دیتا ہوں
امیر حمزہ نے جوش ملیح آبادی کی فکریات اور لفظیات کے حوالے سے بہت مربوط اور مبسوط گفتگو کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ لفظیا ت کے باب میں سودا، نظیراورانیس نے جو جوہر دکھائے ہیں جوش نے بھی اسی جدت و جودت کا مظاہرہ کیا ہے۔امیر حمزہ نے جوش کی شخصیت ، شاعری اور ان کے دیگر متعلقات اور لوازمات پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔ آج کے زمانے میں جب مذاق سخن کی تبدیلی کی وجہ سے جوش ملیح آبادی فراموش کیے جا رہے ہی تو ایسے میں یہ کتاب جوش کو زندہ کر نے میں معاون ثابت ہوگی خاص طور پر رباعیات پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ ایک حوالہ جاتی کتاب قرارپائے گی۔
جوش ملیح آبادی نے اپنی شاعری میں بہت ادق الفاظ استعمال کیے ہیں ان کے یہاں دغدغہ، دغل، شگرف، عربدہ، غباوت، افشردہ، افگندہ، رمیدہ،غلطیدہ، کیقباد، مردک زمہریری، خوبانِ صدف عذار، چرخِ کنج خو، ابلہانِ ذی جاہ، تکرار تزلزل، بنائے تمکین، اقلیم عقول، خشت خرابات جیسے الفاظ اور تراکیب ملتے ہیں جن میں سے بہت لفظوں کے معانی کی تلاش اردو ، فارسی اور عربی لغات میں بھی مشکل ہو جاتی ہے ۔ اس لیے تفہیمی زاویے سے امیر حمزہ نے فرہنگ بھی شامل کیا ہے ۔ جس سے اس کتاب کی اہمیت اور معنویت دوچند ہوگئی ہے۔ جوش شناسی کے باب میں یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے مجھے امید ہے کہ کلیات رباعیات جوش کی علمی اور ادبی حلقے میں خاطر خواہ پذیرائی ہوگی اور نئی نسل کے نوجوان محقق و ناقد امیر حمزہ کی یہ محنت رائگاں نہیں جائے گی۔
حقانی القاسمی،نئی دہلی
5دسمبر2021
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

