حجاب یا پردہ آج کل ہر سطح پہ موضوع بحث بنا ہوا ہے – کچھ اس کے مخالف تو کچھ اس کی حمایت میں اپنی اپنی رائے رکھ رہیں ہے – حالانکہ حجاب کا مسئلہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اسلامی کیلنڈر کی تاریخ ہے –
پردہ فارسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "پردہ یا لباس” جو کہ ایک لمبا، بڑا لباس ہے جسے بہت سی مسلمان خواتین دوسرے لباس پر پہنتی ہیں۔ جب کہ ‘حجاب’ عربی لفظ ہے جو اصل لفظ ‘حَجْبٌ’ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کسی کو کسی چیز تک رسائی سے باز رکھنا ہے – شریعت میں پردے کا حکم نازل ہونے پر اس کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے – یہ عورت جیسی صنف نازک کو بری نظروں سے بچاتی ہے – انہیں ایذا رسانی یا دیگر پہچان ہونے سے روک لیتی ہے –
یہاں یہ سوال قارئین کے ذہن میں ضرور اُبھرتا ہوگا کہ کیا یہ پردہ یا حجاب صرف خواتین کے لیے ہی ضروری ہے؟ اس کا جواب دینے کے لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ عورت دراصل عورت ہے یعنی یہ رب کی وہ قیمتی مخلوق ہے جس سے اجنبی مردوں سے ہیرے کی طرح چھپانے کی ضرورت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں حجاب ایک اسلامی شعار ہے – حجاب گردن سے لے کر پاؤں تک کا احاطہ کرتا ہے – پردہ یا حجاب ایک لباس کا ضابطہ ہے اور روایتی طور پر یہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے –
کرناٹک کا تنازعہ حجاب
حجاب نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنا ہے ۔ اس حوالے سے حالیہ تنازعہ ریاست کرناٹک میں پیدا ہوا ہے ۔ پچھلے سال دسمبر کے آخر سے کرناٹک میں اسکول کے ساتھیوں کے حجاب پہننے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء نے زعفرانی اسکارف پہن کر اڈوپی کے ایک کالج میں آنا شروع کر دیا ۔ اس کے بعد حجاب بمقابلہ زعفرانی سکارف کا مسئلہ ریاست کے دیگر اداروں میں پھیل گیا ہے ۔ حجاب کا معاملہ کرناٹک کے ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے – اس عدالت نے منگل کے روز طلباء اور لوگوں سے امن و سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی کیونکہ ریاست کے کچھ حصوں میں حجاب کے تنازعہ میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے – یہ عرضی کرناٹک کے شہر اُڈوپی کے گورنمنٹ کالج فار گرلز میں زیر تعلیم کچھ طالبات کی ہے ۔ اس درخواست میں عدالت سے یہ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اُنہیں کالج کے احاطے میں اسلامی عقیدے کے مطابق حجاب پہننے سمیت ضروری مذہبی طریقوں پر عمل کرنے کا بنیادی حق دے دیا جائے۔ جسٹس ایس ڈکشٹ کی سنگل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اس عدالت کو بڑے پیمانے پر عوام کی عقلمندی اور خوبی پر پورا بھروسہ ہے اور اُمید ہے کہ احاطے میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا ۔ تاہم جسٹس ایس ڈکشٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ صرف کچھ شرارتی لوگ اس معاملے کو بھڑکا رہے ہیں ۔درخواست گزار طلباء کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ ڈی کامت نے کہا کہ انہیں حجاب پہننے کی اجازت دی جائے ۔
حال ہی میں اس کالج سے ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی – جس میں پی ای ایس کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کے احاطے میں مسکان خان نامی باحجاب طالبہ کو ہر طرف مخالف ہجوم نے "جے سری رام” کے نعرے لگائے جس کے جواب میں مسکان "اللہ اکبر” کے نعرے لگاتی ہوئی دیکھی گئی ہے ۔ اس طرح کے حالات سے پوری ریاست میں تشویش ناک صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ تاہم کالج حُکام نے بر وقت مسکان کی حمایت اور حفاظت کو یقینی بنایا اور مزید حالات کو بگڑنے سے بچا لیا ہے – دیکھا جائے تو حجاب کے معاملے میں گزشتہ بیس سالوں سے مختلف فیشن ہاؤسز اور شر پسند عناصر کے ذریعے ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے ۔ اس نئے رجحان نے روایتی حجاب کو اِس کی مقبولیت میں چیلنج پیدا کیا ہے –
حجاب حُکمِ شرِیعت
دینِ اسلام میں عہد نبویؐ میں حجاب کا حکم ۲ یا ۴ ہجری کو نازل ہوا یعنی آج سے تقریباً 1441 یا 1439 سال پہلے جب ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ نبوت میں ازواج مطہرات کے طور پر آگئی – قرآن کریم اور کُتبِ احادیث میں بالترتیب متعدد آیات اور احادیث کے اندر حجاب کے بارے میں واضح بیان فرمایا گیا ہے – جس سے یہ بالکل عیاں ہے کہ حجاب دین کا لازمی جُز ہے اور یہ حکمِ شریعت کے اندر آتا ہے –
قرآن پاک میں خصوصی طور پر دو ابواب ایسے ہیں جن میں عورت کے پردے کی ذکر کی گئ ہے ۔ جس سے پردے کے احکامات، فضیلت، افادیت، اہمیت و ضرورت واضح ہو جاتی ہے –
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ "اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی تھی”- (الاحزاب؛ ۳۳)
یہاں اگلی جاہلیت سے مُراد قبل از اِسلام کا وہ زمانہ ہے جس میں عورَتیں اِتراتی ہوئی نکلتی تھیں، اپنی زینت و بناؤ سنگھار کا اظہار کُھلے عام کرتی پھرتی تھیں – افسوس! موجودہ دور میں بھی زمانۂ جاہِلیت والی بے پردَگی اپنے بام عروج پر ہے ۔ جہاں بھی نظر دوڑائی جائے، بے پردگی کا عالم سایہ ڈالے ہوا ہے – یقین مانیے جیسے اُس زمانہ میں پردہ کی اہمیت و ضَرورت تھی ویسی ہی اب بھی ہے ۔
اسی طرح پردے کے بارے میں ایک مَقام پر یوں اِرشَاد فرمایا گیا ہے کہ ” اور جب تم پیغمبر ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہَر سے مانگو – یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے” – (الاحزاب؛ ۵۳)
اس آیت مبارکہ پر عمل کرنے والی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی سیرت اٹھا کر دیکھیے جو اِس کے بعد موت آنے تک گھر سے کبھی غیر ضروری باہر نہیں نکلی – اِسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک دختر حضرت فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہ اپنی موت کے وقت بھی یہی وصیت کر گئی کہ اس سے رات کے وقت دفن کیا جائے تاکہ کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے – اس طرح اُنہوں نے پردے کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا –
اسی باب میں پردے کے حق مضبوط دلائل دے کر یوں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ "اے نبیﷺ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب باہر نکلا کریں تو وہ اپنے چہروں پر چادر لٹکا کر لیا کریں تاکہ ان کی پہچان نہ ہو اور ان کی کوئی توہین و ایذا رسانی نہ دے گا۔” (الاحزاب؛ ۵۹)
جب پردے کے تقاضے پیدا کرنے کی بات آتی ہے تو زیادہ کارآمد یہی ہے کہ قرآن کریم کے مطابق خواتین سے اپنے بیرونی کپڑوں کو اپنے اوپر نیچے لٹکا دیں، جسے اکثر لمبی چادر (جلبیب) کی ضرورت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح حجاب کی اہمیت کو سورۃ النور میں بھی اُجاگر کیا گیا ہے – یہاں پردے کے بارے میں یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ "اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں، اور اپنی عصّمت کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے محرم کو ۔۔۔ ” (النور؛ ۳۱)
یہ آیت مبارکہ دینِ اسلام میں پردے کا سب سے بڑا جواز فراہم کرتی ہے ۔ یہ اس ضمن میں مناسب رویے کی غیر معمولی وضاحت کرتی ہے اور سر پر اسکارف پہننے کا ذکر کرتی ہے ۔ بہت سے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیات خواتین کو ڈھیلے کپڑے پہننے کی تلقین کرتی ہیں جو ان کے جسم کا زیادہ تر حصہ ڈھانپتی ہیں ۔ تاہم، اسلامی پردہ دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف قسم کی شکلیں اختیار کرتا ہے، اور خواتین کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے، اس کے لیے کوئی شکل متعین نہیں رکھی گئی ہے ۔ قرآن کریم کے مطابق اس کے اردگرد تین اصول "نیکی کا لباس پہننا” (القرآن؛ 7:26)، "سینوں کو خمار سے ڈھانپنا” (24:31) اور "کپڑوں کو لمبا کرنا” (33:59) بیان کیے گئے ہیں –
کتب احادیث کی کتاب ابوداؤد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت کے مطابق، مندرجہ بالا آیات کے نازل ہونے کے بعد "جب انصار کی عورتیں فجر کی نماز کے لیے چلتی تھیں تو جیسے ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوتے ہے” فرمایا گیا ہے- جسے بعض علماء نے عورتوں کو سیّاہ رنگ کا حجاب پہننے کی وجہ قرار دیا ہے ۔
شرارتی عناصر نے حجاب کی نہ صرف ظاہری شکل بدل دی ہے بلکہ اس کا تقدس بھی پامال کیا ہے ۔ دُنیا بھر میں حجاب کی دونوں حمایتی اور مخالف گروہ موجود ہیں ۔ سب سے زیادہ شدت پسند مغرب زدہ ملک امریکہ میں بھی رافعہ ارشد کی صورت میں حجاب پہننے والی پہلی جج موجود ہے ۔ جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پردہ کسی بھی صورت میں شدت پسندی کی علامت نہیں ہے اور نہ یہ دنیا کی ترقی حاصل کرنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے –
لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام اسلامی فقہاء اور مذہبی تنظیمیں، اسلام کے ابتدائی اور ثانوی ماخذ (قرآن و حدیث) کی روشنی میں حجاب کے بارے میں بیداری مہم پیدا کرنے کے لیے آگے آئیں ۔ اور ہم عصر زمانے میں حجاب کا جائزہ لے کر اسلامی شریعت کے معیار کے مطابق سادہ ڈیزائن اور رنگ تفویض کرے ۔ اس وقت کرناٹک میں حجاب پر پیدا شدہ گھمبیر مسئلے کو بین المذاہب مکالمے کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کریں – تاکہ شرپسند عناصر اور سستے سیاست دان اس سے مزید کوئی غلط رنگت نہ دے سکیں اور فیشن ہاؤسز سے پیدا شدہ نئے رجحانات کو ہمیشہ کے لیے روکا جا سکے –
بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال
رابطہ – 9858109109
(مضمون نگار علاقہ ترال سے تعلق رکھتا ہے اور آپ اخلاقی، سماجی، تعلیمی و مذہبی عنوانات پر ریاست کے متعدد روزناموں میں لکھتے رہتے ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

