عرفاں صدیقی اردو کے منفرد و ممتاز شاعر ہیں، جنہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات اور فکرکی نیرنگیوں کی ایک نئی دنیا آباد کی۔ ان کی شاعری میںعلامتوں اور استعاروں کے علاوہ تلمیحات کی ایک نئی شکل نظر آتی ہے۔ان کی شاعری اپنے ہم عصروں سے تھوڑی مختلف ہیں۔
کچھ تو ہو جو تجھے ممتاز کرے اوروں سے
جان لینے کا ہنر ہو کہ مسیحائی ہو
عرفاں صدیقی اپنے خیالات و اسلوب کے لحاظ سے جدیدیت سے متاثر نظر آتے ہیں، مگر ان کے یہاں جدیدیت کی سخت گیری نظر نہیں آتی۔انہوں نے خود کوتشکیک ، تنہائی، اور وجودیت جیسی خالص جدیداصطلاحات سے دور ہی رکھا۔
عرفان صدیقی کی کلیات ’ دریا‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری کو پڑھتے ہوئے نہ صرف شاعری کی نئی تراکیب اور لفظیات ملتے ہیں بلکہ ان کے موضوعات ایسے ہیں کہ ہمارا ذہن چونک جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا عرفان صدیقی کے یہاں لفظ و معنی کی نئی پرتیں اور خیالات و احساسات کی نئی ترجمانی ملتی ہے۔ان کی غزلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے :
’’ عرفان صدیقی نے کئی بار ایسا بھی کیا ہے کہ ان کے یہاں ذاتی احتجاج اور خارجی دنیا کا احساس بیک وقت زندگی کے دو تجربات سے روشناس کراتا ہے۔ ذاتی احساس و احتجاج نے خود کلامی پیدا کی ہے اور خارجی دنیا کا احساس شعر کو سماج اور سیاست اور معاشرے کے دائرے میں لے آتا ہے۔‘‘
(عرفان صدیقی کی غزل۔ شمس الرحمن فاروقی، رسالہ نیا دور ، اکتوبر۔ نومبر ۲۰۱۰)
عرفان صدیقی کے یہاں جس ذاتی اور خارجی تجربات کے بیان کی طرف شمس الرحمن فاروقی نے اشارہ کیا ہے وہ بے حد اہم اور خاص ہے۔اس لحاظ سے عرفان صدیقی ترقی پسند اور جدیدیت کے درمیان کی ایک ایسی کڑی ہیں جنہوں نے شاعری کے مزاج کا پورا خیال رکھا، ان کے یہاں ایسے بہت سے اشعار ہیں جوکو ہم نظری مباحث سے الگ رکھ سکتے ہیں۔اس ضمن میں شارب ردولوی کا بیان کافی اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے لکھا ہے’’عرفان صدیقی نے جس اسلوب کو اپنایا وہ ترقی پسند تحریک یا جدیدیت سے مستعار نہیں تھا۔‘‘انھوں نے موجودہ دور کی نا آسودگی ا ور اس کے کرب کو پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی مقامات پر اس کا احساس ملتا ہے۔
ایک میں ہوں کہ اس آشوب فغاں میں چپ ہوں
ساری دنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے
مجھے قبول نہیں ہے یہ عرض حال کی شرط
کہ میں سخن بھی کروں اور مدعا بھی نہ آئے
خرد کے پاس فرسودہ دلیلوں کے سوا کیا تھا
پرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
عرفان صدیقی کے یہاں ہجرت کی کیفیت کا اظہار بھی بار بار ملتا ہے۔ہجرت کی تکلیف اور اس پورے واقعے کو اپنی شاعری اور افسانے میں بہت سے تخلیق کاروں نے پیش کیا ہے مگر عرفان صدیقی کے یہاں ہجرت دو معنوں میں استعما ل ہوا ہے۔ ایک ہجرت کا وہی عام تصور یعنی تقسیم ہند اور اس کے بعد کا منظر یا واقعہ، بلکہ کہیں کہیں فرقہ وارانہ فساد کے بعد پیدا ہوئے صورت حال سے مجبور ہوکر کی جانے والی ہجرت اور دوسرا ہجرت کا ایک خاص مفہوم جس کا ایک رشتہ کربلا کے دل سوز واقعے سے بھی قائم ہوتا ہے۔
میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو پہچانوں
اگر نصیب ہو سیر جہان گم شدگاں
نہر اس شہر کی بھی بہت مہربان ہے مگر اپنا رہوار مت روکنا
ہجرتوں کے مقدر میں باقی نہیں اب کوئی قریہ معتبر یا اخی
میں اپنی کھوئی ہوئی لوح کی تلاش میں ہوں
کوئی طلسم مجھے چار سو پکارتا ہے
عرفان صدیقی کے یہاں تلمیح کا استعمال بھی خوب خوب نظر آتا ہے۔ان کے یہاں واقعہ کربلا ایک علامت کے طور پر ابھرتا ہے۔ کربلا کا بیان عرفان صدیقی سے قبل کے شعرا کے یہاں بھی خوب ہوا ہے۔ مگر عرفان صدیقی کا کمال یہ ہے کہ واقعہ کربلا کو بیان کرتے ہوئے اس میں عصری معنویت کی تلاش کرلیتے ہیں۔ اس ضمن میں شارب ردولوی لکھتے ہیں:
’’کربلا کے تلازمات نے ان اشعار کو ہمارے سیاسی حالات اور اس کے تحت رونما ہونے والے بعض تکلیف دہ واقعات سے جوڑ دیا ہے کہ ان اشعار کو پڑھتے وقت ذہن کبھی گجرات، کبھی ملیانہ اور کبھی بھونڈی کی طرف چلا جاتا ہے۔‘‘
(جدید غزل اور عرفان صدیقی ۔ شارد ردولوی، رسالہ نیا دور ، اکتوبر۔ نومبر ۲۰۱۰)
عرفان صدیقی کے وہ اشعار جن میں ان علامتوں کا استعمال ہوا ہے جو براہ راست کربلا کی طرف اشارہ کرتے ہیں ان میں بھی انہوں نے معنی کی نئی جہت کو پیش کیا ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہو:
زرد دھرتی سے ہری گھاس کی کونپل پھوٹی
جیسے اک خیمہ سر دشت بلا لگتا ہے
تری تیغ تو مری فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں
ہم تہی دستوں کے ہاتھوں میں نہ چادر ہے نہ خاک
بی بیو! تم نے کس امید پہ سر کھولا ہے
ہوائے کوفہ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
دوسرے اور تیسرے شعر میں کربلا کے واقعے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔جب یزیدی فوج نے فراط کی ندی پر قبضہ کرلیا جس سے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہل و عیال کو پیاس کی شدت نے پریشان کیا ،اس وقت انہیں پریشان حال دیکھ حضرت عباسؓ نے بہت کوشش کی کہ پانی کسی طور پر حضرت امام حسینؓ اور ان کے اہل خانہ تک پہنچ جائے مگر یزیدی فوج نے ایسا ہونے نہ دیا۔ دوسرے شعر میں متکلم اس تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دشمنوں میں اتنی قوت نہیں تھی کہ وہ ان کے دست و بازو کو کاٹ سکتے مگرپیاس کی شدت نے دشمنوں کو ان کے مقصد میں کامیاب کردیا۔درج بالا تیسرے شعر سے بھی کربلا کا تاریخی منظر ہمارے آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ان دونوں شعر سے متکلم کی بے بسی اور لاچاری کا علم ہوتا ہے۔عرفان صدیقی کے یہاں ایسے بہت سے اشعار یں جن میں کربلا کا ذکر ہے اور جیسا کے میں نے پہلے عرض کیا عرفان صدیقی کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ انہوں نے واقعہ کربلا کو معاصر مسائل سے قریب تر کردیا ہے۔ مرزا شفیق حسین شفق لکھتے ہیں:
’’انہوں [عرفان صدیقی] نے کربلا کے المیے کو ہمارے عہد کے مسائل سے اس طرح جوڑ دیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ کربلا ہمارے روز مرہ پیش آنے والے مسائل و مراحل سے زبردست مطابقت رکھتا ہے اور ہمارا عہد اس سے مختلف نہیں بلکہ جو ظلم و استبداد کربلا میں ہوا وہی جور و ستم آج بھی ہم پر کسی نہ کسی شکل ہوتا رہتا ہے۔‘‘
(عرفان صدیقی : شخص اور شاعر۔ مرزا شفیق حسین شفق: ص۔۱۷۵۔۱۷۶)
عرفان صدیقی کے یہاں صرف واقعہ ٔ کربلا ہی تلمیح کے طور پر استعمال نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے دوسری تلمیحات کا بھی استعمال کیا ۔
یوسف نہیں ہوں مصر کے بازار میں نہ بیچ
میں تیرا انتخاب ہوں ارزاں نہ کر مجھے
گرگئی قیمت شمشاد قداں آنکھوں میں
شہر کو مصر کا بازار کیا ہے اس نے
عرفان صدیقی کے بعض اشعار ایسے بھی ہیں جن میں ظلم و جبر کے خلاف صدائے احتجاج نظر آتا ہے، حالانکہ یہ احتجاج ترقی پسندوں سے ان معنوں میں بھی مختلف ہے کہعرفان صدیقی نے ظالموں کے خون سے ہولی کھیلنے کی بات نہیں کی ، مگر انہوں نے ظلم پر خاموش رہنے کو ظالم کی حمایت اور مدد سے تعبیر کیا ہے۔
بہت کچھ دوستوں بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے
فقط اس خنجر دست جفا سے کچھ نہیں ہوتا
عرفاں صدیقی کے یہاں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جس میں عصری مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر فساد کا ذکر۔ ہندوستان کی ترقی میں یہ فساد کئی قسم کی مشکلات بن کر کھڑا ہے۔ اردو فکشن میں فساد کو ایک خاص اہمیت دی گئی مگر اردو شاعری میں اس کا ذکر بہت کم ہوا۔موجودہ عہد میں چند مشاعرے کے شاعر نے اس جانب توجہ ضرور دی مگر فنی خامیوں کی وجہ سے اسے شعر کہنا مشکل ہے بلکہ ایسے اشعار جن کا موضوع فساد ہے اس کی پیشکش میں جو اسلوب آج کے شعرا نے اختیار کیا ہے وہ محض نعرے بازی ہے اور کچھ نہیں۔ عرفان صدیقی کے یہاں فساد کا ذکر ایک المیہ کے طور پر ابھرتا ہے۔ عرفان صدیقی نے گجرات فساد پر روزنامہ صحافت کے لیے ایک اداریہ لکھا تھا جس میں انہوں نے گجرات فساد کے وجوہات کے ساتھ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ ہندو مسلم کے درمیان منافرت کا یہ بازار ہر الیکشن سے قبل دہرایا جائے گا، اور ان کا یہ ڈر سچ بن گیا۔عرفان صدیقی نے فساد سے ہونے والے انسانی نقصان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
خرد کے پاس فرسودہ دلیلوں کے سوا کیا تھا
پرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
یہ شہر پھونکنے والے کسی کے دوست نہیں
کسے خیال کہ تیرا مکان پیچ میں ہے
اچانک دوستوں میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا
یہاں ہوتا ہے ہر اک حادثہ آہستہ آہستہ
عرفان صدیقی کے شعری مجموعہ’عشق نامہ‘ میں شامل ایک غزل جس کے نیچے ’ اپنے نام‘ کا فقرہ درج ہے۔یہ عرفاں صدیقی کی اہم ترین غزلوں میں سے ایک ہے۔ یہ غزل خود کلامی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔پوری غزل ایک خاص فضا اور ایک خاص احساس کا پتہ دیتی ہے۔غزل کا پہلا شعر ملاحظہ ہو:
جاؤ،اب دشت ہی تعزیر تمہارے لیے ہے
پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے
اردو شاعری میں دشت اور دیوانگی کا مضمون بہت پرانا ہے اور طرح طرح سے شاعروں نے اسے باندھا ہے۔عرفان صدیقی کے یہاں یہ روایتی مضمون اظہار کی سطح پر نیا معلوم ہوتا ہے۔اس شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے دل تمہاری یہی سزا ہے کہ تمہیں دشت میں بھیج دیا جائے مگرتمہارا عشق اس قدر حاوی ہے کہ تمہیں کسی کی بات کا اثر نہیں ہورہا ہے۔یہاں شاعر نے پہلے مصرعے میں ’ جاؤ‘ کا لفظ استعمال کرکے شعر میں زور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ محض فعل امر کا صیغہ نہیں ہے بلکہ اسی ایک لفظ سے متکلم کی بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔متکلم خود سے بیزار کیوں ہے اس کا پس منظر گرچہ متکلم نے نہیں بتایا ہے، مگر لفظ ’جاؤ‘ سے پورے پس منظر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا کہ اس نے خود کو عشق سے بچائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر خود کو اس سے بچا نہیں سکا ،لہذا متکلم سپر ڈالتے ہوئے خود سے کہتا ہے کہ تم نے انجام کی فکر کیے بغیر عشق کیا ہے لہذااب دشت کی ویرانی اور آوارگی ہی تمہاری سزا ہے۔غزل کا دوسرا شعر دیکھئے:
اپنے ہی دست تہی ظرف نے مارا تم کو
اب بکھر جانا ہی اکسیر تمہارے لیے ہے
اس شعر میں دست تہی ظرف کی ترکیب متکلم کی فطری کم مائیگی کی طرف اشارہ کرتی ہے اس طرح یہ کم مائیگی انسان کا ازلی مقدر بن جاتی ہے۔مصرعہ ثانی میں بکھر جانا ہی اس کے لیے اکسیر ہے۔سوال یہ ہے کہ یہاں دست تہی ظرف کے بعد بکھر جانے کا مشورہ کیوں دیا جارہا ہے۔بکھرنے کے بعد وہ کون سی چیز ہے جو دست تہی ظرف کو ثروت مند بنا سکتی ہے۔اردو میں ایسے بہت سے اشعار مل جائیں گے جس میں متکلم اپنی کم مائیگی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔دوسرے مصرعے میں شاعر نے ’بکھر جانا‘ کا جو فقرہ استعمال کیا ہے یہ بکھراؤ جسمانی نہیں ہے بلکہ وجود کا بکھرنا ہے۔غزل کا تیسرا شعر دیکھئے:
آخر شب تمہیں آنکھوں کا بھرم کھونا تھا
اب کوئی خواب نہ تعبیر تمہارے لیے ہے
متکلم محبوب کی بے اعتنائی سے حیران ہے اور خود کا مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے میں نے جو خواب دیکھے تھے اس کی تعبیر الٹی نکلی اور میرا خواب ٹوٹ گیا ۔ اس میں یہ پہلو بھی ہے کہ اب کسی خواب کی امید کرنا بے کار ہے، اس کی وجہ خواب کی تعبیر کا الٹ جانا ہے۔متکلم کہتا ہے کہ چونکہ میری آنکھ آخر شب میں کھلی لہذا اب نہ کسی نئے خواب کی امید ہے اور نہ تعبیر کی ۔عرفان صدیقی کے یہاں آخر شب کاذکر کئی جگہ ملتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے اسے الگ الگ معنوں میں استعمال کیا ہے۔عرفان صدیقی کا ایک شعر دیکھئے:
آخر شب ہوئی آغاز کہانی اپنی
ہم نے پایا بھی تو اک عمر گنواکر اس کو
ان دونوں اشعار میں’ آخر شب‘ کا فقرہ ہمیں غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ان دونوں اشعار میں المیہ صورت موجودہے اور ایک سطح پر متکلم دونوں جگہ احساس زیاں سے دوچار ہے۔
عکس نظارہ کرو زود پشیمانی کا
اب تمہاری یہی تصویر تمہارے لیے ہے
متکلم غزل کے چوتھے شعر میں خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب افسوس سے کچھ حاصل نہیں۔ تصویر تو بہرحال تصویر ہے مگر عکس نظارہ کا فقرہ متکلم کی محرومی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اصل کو چھوڑ کر عکس میں چہرہ ڈھونڈنا کسی عذاب سے کم نہیں۔یہاں زود پشیمانی میںمعنی کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں۔یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ زود پشیمانی کا سبب کیا ہے؟کیا قتل کے بعد کی اس پشیمانی کی طرف اشارہ تو نہیں جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا:
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
عکس کو تصویر سمجھ کر دیکھنا ایک سزا ہے ۔عرفان صدیقی کے کئی اشعار ایسے ہیں جن میں محبوب کی قربت کی خواہش کا اظہار ملتا ہے۔چند اشعار دیکھئے:
میں اس زمیں پہ تجھے چاہنے کو زندہ ہوں
مجھے قبول نہیں بے جواز ہوجانا
یہ درد ہی مرا چارہ ہے تم کو کیا معلوم
ہٹاؤ ہاتھ میں بیمار رہنا چاہتا ہوں
اس طرح کے کئی شعر ان کے مجموعے ’عشق نامہ‘ میں موجود ہیں۔ان اشعار سے عرفاں صدیقی کی انفرادیت کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔عرفان صدیقی کی وہ غزل جس کا عنوان انہوں نے ’اپنے نام‘ رکھا ہے میں محبوب کی بے رخی اور بے وفائی کا ایک نیا تصور ملتا ہے ا ور یہی ان کے عشقیہ واردات کو تقویت پہنچاتی ہے۔اصل میں عرفان صدیقی خود کو عشق و محبت کے حصار سے نکالنا ہی نہیں چاہتے ۔غزل’اپنے نام‘ میں شاعر طنز کا حدف محبوب کو نہیں بلکہ اپنی ذات کو بناتا ہے۔ غزل کا پانچواں شعر دیکھئے:
آج سے تم پہ درِ حرف نوا بند ہوا
اب کوئی لفظ نہ تاثیر تمہارے لیے ہے
اس شعر کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی آواز غیب سے آرہی ہے اور در حرف نوا کے بند ہونے کا سبب بتائے بغیر زندگی کے خاتمے کا اعلان ہے۔در حرف نوا کا بند ہوجانا زندگی کا ختم ہی ہوجانا تو ہے،اس کے بعدلفظ بھی باقی رہے گا اور نہ اس کی تاثیر۔خیال کی ترسیل کا بڑا انحصار حرف اور لفظ پر ہی ہے ان کا چھین لیا جانا ایک سزا ہے۔اتنی بڑی سزا کسی شخص یا کسی قوم کا ایک دن میں نہیں ملتی اب یہ راز نہیں کھلتا کہ جس پر حرف نوا کا دروازہ بند کیا گیا ہے اس نے اسے کیسے استعمال کیا تھا اور کس طرح حرف و لفظ کے معنی تبدیل ہوئے اور مجموعی طور پر زبان کا چہرہ لہو لوہان ہوا۔
منصب درد سے دل نے تمہیں معزول کیا
تم سمجھتے تھے کہ یہ جاگیر تمہارے لیے ہے
اس شعر میں منصب درد کی ترکیب پہلی قرات میں متاثر کرتی ہے۔اور ظاہر ہے کہ درد کے رہنے کی جگہ دل ہے، منصب کی رعایت سے جاگیر کا لفظ کتنا بامعنی ہے۔ مغلوں کے زمانے میں جاگیر تقسیم کی جاتی تھی اور پھر انہیں معزول بھی کردیا جاتا تھا۔سوال یہ ہے کہ دل نے منصب درد سے اہل دل کو کیوں کر معزول کردیا اور یہ جاگیر کسی اور کے سپرد کیوں ہوگئی اس کا جواب ہر قاری اپنے اپنے طور پر تلاش کرسکتا ہے۔
عرفان صدیقی کے یہاں عشق کا ایک پاکیزہ احساس ملتا ہے ۔ ان کے یہاں عشق کے مختلف کیفیات کو بڑے سلیقے سے پیش کرتے ہیں۔وہ اپنے جذبات و احساسات کے اظہار میں کبھی وہ کلاسیکی رنگ اختیار کرتے ہیں تو کبھی جدید پیرائے میں اسے بیان کرتے ہیں۔محبوب سے وصال کی کیفیت کو بھی انہوں نے ایک خاص رنگ میں پیش کیا ہے۔ ایسے اشعار جن میں وصال کی کیفیت کا اظہار ملتا ہے اسے پڑھتے ہوئے ہمیںعشق کی وارفتگی اور اظہار کی ندرت کا احساس ہوتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدر منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
یہ درد ہی میرا چارہ ہے تجھے کیا معلوم
ہٹاو ہاتھ میں بیمار رہنا چاہتا ہوں
میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہوجاو
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاو
عرفان صدیقی کے یہاں محبوب کا روایتی رنگ بھی نظر آتا ہے۔وہ محبوب کی بی اعتنائی اور ظلم و ستم کا شکوہ بھی کرتے ہیں۔کسی بھی رشتے کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس میں محبت و خلوص کے ساتھ بھروسہ اور اعتماد موجود ہو۔شاید یہی وجہ ہے کہ رشتے کے ٹوٹنے اور بکھرنے میں سب سے اہم کردار بدگمانی اور عدم اعتماد کا ہوتا ہے۔ عرفان صدیقی نے نہایت سلیقے سے رشتے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔اس ضمن کے چند اشعار ملاحظہ کریںجن میں محبوب سے شکایت اور رشتے کی نازکی کا ذکر ملتا ہے۔
میں بہر حال اسی حلقہ زنجیر میں ہوں
یوں تو آزاد کئی بار کیا ہے اس نے
یوسف نہیں ہوں مصر کے بازار میں نہ بیچ
میں تیرا انتخاب ہوں ارزاں نہ کر مجھے
عجب لوگ تھے مجھ کو جلا کے چھوڑ گئے
عجب دیا ہوں طلوع سحر پہ راضی ہوں
میں نے اتنا اسے چاہا ہے کہ وہ جان مراد
خود کو زنجیر محبت سے رہا چاہتی ہے
عرفان صدیقی کے یہاں محبوب کا ایک نیا روپ بھی نظر آتا ہے۔ شاعری کی پوری تاریخ کا مطالعہ کرلیجیے ایسے اشعار کی تعداد بہت ہیں جن میں محبوب کی بے وفائی اور اس کے بے اعتنائی کے ساتھ اس کے جور و ستم کو پیش کیا گیا ہے، عرفان صدیقی کے یہاں بھی ایسے اشعار موجود ہیں،مگر ان کے یہاں محبوب کی ایک نئی شبیہ بھی ابھرتی ہے، دو شعر دیکھیے:
غزلوں میں تو یوں کہنے کا دستور ہے ورنہ
سچ مچ میرا محبوب ستم گر نہیں ہے
ہم سے وہ جان سخن ربط نوا چاہتی ہے
چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے
عرفاں صدیقی کے یہاں کلاسیکی رنگ تغزل بھی پایا جاتا ہے۔ محبوب سے وصال کی جو کیفیت فراق نے بتائی تھی اس کی جھلک عرفان صدیقی کے یہاں بھی نظر آتی ہے۔ فراق کو محبوب کے پہلو میں محبوب کی یاد آئی تھی عرفان صدیقی وصال کو ہوس سے تعبیر کرتے ہیں۔
محبت میں ہوس کا سا مزہ ملنا کہاں ممکن
وہ صرف اک روشنی ہے جس میں جلنا چاہتا ہوں
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
عرفاں صدیقی کے غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس بار بار ابھرتا ہے کہ وہ جدیدیت سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی روایت کا دامن نہیں چھوڑتے، انہوں نے علامتوں اور استعاروں کا استعمال بھی کیا ہے۔ عرفان صدیقی کی غزلوں میں جو علامتیں بار بار ملتی ہیں ان میں چراغ، سفر،شجر، فقیر، ستارہ، خواب، سر، نیزہ ، خیمہ، پیاس، مشکیزہ اور مقتل وغیرہ کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔جہاں تک موضوعات کی بات ہے تو عرفان صدیقی نے کلاسیکی جمالیاتی ا ور عصری مسائل دونوں پر اشعار کہے ہیں، ان کے یہاں عشق مجازی کا ایک خاص تصور نظر آتا ہے، ان کے اشعار میںفراق یار اور وصال محبوب کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

