قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام بین الاقوامی یومِ مادری زبان کے موقعے پر‘ہندوستانی معاشرے کے کثیر لسانی موزیک میں مادری زبان کا استعمال’ کے عنوان سے آن لائن مذاکرہ
نئی دہلی:بین الاقوامی یومِ مادری زبان کی مناسبت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے زیر اہتمام ‘ہندوستانی معاشرہ کے کثیر لسانی موزیک میں مادری زبان کا استعمال’ کے عنوان سے ایک آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا گیا،جس میں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے عالمی یوم مادری زبان کے پس منظر و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک عظیم لسانی روایت پائی جاتی ہےاورہم لسانی وتہذیبی تنوع کے اعتبار سے ایک غیر معمولی قوم ہیں۔ شیخ عقیل نے کہا کہ اگرہم اپنی مادری زبان کی حفاظت کرتے اوراسے فروغ دیتے ہیں، تو اس سے ہندوستان کے لسانی وتہذیبی تنوع کابھی تحفظ ہوگا اور اسے ترقی بھی حاصل ہوگی۔ انھوں نے زور دیا کہ مادری زبان میں مہارت حاصل کرکے ہی ہم اپنی تہذیب کوسمجھ سکتے ہیں۔پروفیسر عقیل نے مزید کہا کہ بھارت سرکار نے مختلف زبانوں کے الگ الگ ادارے بنائے ہیں تاکہ ان زبانوں کوفروغ دیاجائے اور یہ ادارے اس سلسلے میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بھی بھارت سرکار کے زیر سرپرستی سرگرم عمل ادارہ ہے،جو اردو زبان کی نشرو اشاعت اور اس کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔اس کی اسکیمیں اور پروگرام پورے ملک میں چلتے ہیں جن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس زبان کے علمی و ادبی ذخیرے میں اضافہ کرنے کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔انھوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں تیار کی گئی جامع اور مفید تعلیمی پالیسی میں آٹھویں شیڈول میں درج تمام زبانوں کے تحفظ اور فروغ کی ضمانت دی گئی ہے، جن میں اردو بھی شامل ہے۔ اس پالیسی میں مادری زبان کے فروغ اور تعلیم پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔
مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی وشو ودیالیہ کے سابق وائس چانسلر پروفیسر گریشور مشرانے کہا کہ آزادی کے طویل عرصے بعد بھی ہم لوگ ذہنی غلامی کے شکار ہیں اور اپنی علمی و عملی زندگی میں مادری زبان کے بجائے انگریزی کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم سوچتے کسی زبان میں ہیں اور بولتے کسی اور زبان میں ہیں،اس سے ہماری انفرادی و اجتماعی ترقی پر منفی اثر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کو تعلیمی سطح پر لاگو کرنے کی جو تجویز ہے اسے سنجیدگی سے نافذ کرنے پر توجہ دینی چاہیے،اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو گھر اور اسکول کے بیچ کا فاصلہ دور ہوگا، بچوں میں اپنی زبان کی قدر و قیمت کا احساس پیدا ہوگا اور اس کی علمی و تخلیقی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر پونم بترا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ لسانی تنوع ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے اور اس کا تحفظ ہمیں ہرحال میں کرنا ہوگا ۔ مگر ابتدائی مرحلے میں بچے کو غیرمادری زبان میں پڑھانا لسانی تفریق اور غیر برابری ہے،جس کا خصوصاً اقلیتی اور آدی واسی زبانوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر زبان ایک کلچر اور شناخت سے جڑی ہے اور جب ہم اس زبان کو بچے سے الگ کردیتے ہیں توگویا ہم اسے اس کے کلچر اور شناخت سے محروم کردیتے ہیں جس کے منفی نتائج بہت خطرناک ہیں اور اس طرح پوری ایک قوم کی شناخت اور ثقافت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے کہا کہ بچہ مادری زبان ماں کی گود اور گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے ،یہ اس کی بنیادوں میں شامل ہوتی ہے ،لہذا مادری زبان سے محبت پیدا کرنا سب سے پہلے والدین اور سرپرستوں کا کام ہےاگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوگا،مگر افسوس ہے کہ اب ہمارے گھروں میں ایسا نہیں ہوتا ،ہماری ثقافت بدل گئی ہے جس کے نقصان دہ نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شاہد لطیف نے کہاکہ کئی زبانیں سیکھنا اور ان میں مہارت حاصل کرنا اچھی بات ہے مگر یہ مادری زبان کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی پروفیسر گلفشاں حبیب نے کہا کہ اگر مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم یا سائنس و ٹکنالوجی کی تعلیم دینی ہے تو پہلے اس زبان میں لٹریچر فراہم کرنا ضروری ہے ۔ ایسے کئی ملک ہیں جنھوں نے اپنی زبان میں لٹریچر تیار کیا اور وہ اب انگریزی پر منحصر نہیں ہیں، اگر ہم بھی اپنی زبان کو ثروت مند بنائیں تو انگریزی یا کسی بھی دوسری زبان کو سیکھنا ہماری مجبوری نہیں ہوگی بلکہ ہمارے اختیار میں ہوگا۔ اسی طرح مادری زبان کے فروغ میں دوسری زبانوں کے الفاظ اور ماحول کو قبول کرنے کا مزاج بنانا بھی نہایت اہم ہے۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض ٹی آئی ایس ایس ،حیدرآباد سے وابستہ ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ کونسل کے ڈائرکٹرشیخ عقیل احمد کےاظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس موقعے پر کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر) و دیگر اسٹاف بھی شریک رہے۔ ٹیکنکل سپورٹ افضل حسین خان اور نوشاد منظر نے فراہم کیا۔
(رابطہ عامہ )
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

