آل انڈیا تحریک تحفظ سنت ومدح صحابہ کے سالانہ اجلاس سے مولانا سیدازہر مدنی،مولانامحموددریابادی،مولاناسیدحذیفہ قاسمی اورمفتی شکیل منصور قاسمی کے خطابات
دیوبند24 فروری(پریس نوٹ)
آل انڈیا تحریک تحفظ سنت ومدح صحابہ کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ سہ روزہ عظیم الشان اجلاس عام کے دوسرے دن مطابق ۲۲ فروری ۲٠۲۲ بروز منگل بعد نماز عشاء ۹ تا ۱۲ زیر صدارت مولانا ابو حنظلہ عبدالاحد قاسمی صاحب صدرتحریک منعقد ہوا، جسے تحریک کے یوٹیوب چینل اورفیسبک پیج پر آن لائن نشر کیا گیا،صدر محترم نے افتتاحیہ کلمات میں پروگرام کا خاکہ پیش فرمایا، مجلس کا آغاز قاری سید محمد ثوبان حسنی کی تلاوت اور شان نبی و صحابہ میں ہدیہ عقیدت کا نذرانہ قاری آس محمد مظفرنگری نے خوبصورت انداز میں پیش فرمایا، تلاوت و نعت نبی کے بعد ناظم جلسہ نے پروگرام کے پہلے مقرر،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی اورتحریک کے سرپرست حضرت مولانا حکیم محمود احمد خان صاحب دریابادی کو دعوت خطاب دی آپکا موضوع تھا "شیعہ مذہب کا تعارف ” بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ مذہب شیعیت کے متعلق اتنی معلومات شاید ہی اہل شیوع کو ہوں جو آپ نے پیش فرمائیں ,موضوع کا حق ادا کر دیا ,جسکا کچھ حصہ قارئین کی زیر بصارت ہے،مولانا دریابادی نےاپنے خطاب میں فرمایا کہ
ان ساڑھے چودہ سو سالوں میں بہت سارے طاغی باغی فتنہ آئے جیسے القضیہ ,مرجیہ ,قدریہ,دہریہ وغیرہ یہ سارے فتنہ آئے اور حالات کی تندہی میں مٹ گئے لیکن شیعیت سب سے پرانا باطل فرقہ ہے ,جتنے بھی باطل فرقے ہیں سب کا پاور ہاؤس اور بنیاد شیعیت ہے جیسے مہدویت ,قادیانیت ,زیدیت ,اسماعیلیت,شکیلیت ,دیندار انجمن ,امامیت,ام انس وغیرہ ۔جسکی دو وجہیں ہیں نمبر ایک ۔شیعہ لوگ نصوص کے دو معنی لیتے ہیں ایک ظاہری معنی ,دوسرے باطنی معنی ,باطنی معنی وہ ہوتے ہیں جو انکے امام بتاتے ہیں اور وہی انکے یہاں اصل ہوتے ہیں اسلیے کہ شیعہ مذہب میں مہدویت و امامیت،ایمان کا جز ہے ,انہوں نے نبوت کے بعد امامیت کی بنیاد رکھی جو لوازمات نبی کے ساتھ ہیں وہی امام کے ساتھ چسپاں کر دیے ,انکے یہاں امام مفترض الطاعہ ہوتا ہے ,دوسری چیز مہدویت ہے انکے عقیدہ کے مطابق امام مہدی چھ سال کی عمر میں بہت سارا ساز و سامان لیکر غائب ہوگئے جیسے عصاء موسوی، سلیمانی انگوٹھی اور بھی دیگر باقیات وغیرہ ,ان غائب شدہ مہدی کیلیے شیعہ دعا بھی کرتے ہیں عجل اللہ فرجہ وغیرہ الفاظ سے, انکے عقیدہ کے مطابق انکی آمد اسوقت ہوگی جب ۳۱۳ پکے شیعہ ہوجائینگے حالانکہ ابھی کروڑوں ہیں وہ ابھی تک پکے نہیں ہیں،انھوں نے شیعہ مذہب کے کلمہ اور اذان کے الفاظ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انکے کلمہ کے دو جز ہیں ,لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ جزء اول سے مسلمان ہونا مراد لیتے ہیں ,وعلی ولی اللہ و خلیفتہ بلا فصل جزء ثانی, جس سے مؤمن ہونا مراد لیتے ہیں ۔انکے عقیدہ امام اثناء عشر جنکے اسماء تفصیل سے ذکر فرمائے ۔
۱.حضرت حسن رضی اللہ عنہ
۲ حضرت حسین رضی اللہ عنہ
۳حضرت زین العابدین رحمہ اللہ
٤.حضرت امام باقر رحمہ اللہ ۔
۵.حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ
٦.حضرت زید ابن باقر
۷ موسی کاظم
۸۔امام رضا
۹علی نقی
۱٠.علی تقی
۱۱.حسن عسکری
۱۲۔امام مہدی ۔الغرض بالتفصیل موصوف محترم نے شیعیت کا تعارف پیش فرمایا،اجلاس کے دوسرے مقرر اورمہان خصوصی شہر بھیونڈی کے معروف عالم دین حضرت مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب، جنکا موضوع تھا” مسلک احناف و رد غیر مقلدیت ” ماشاء اللہ موصوف نے نہایت عمدگی اور سلیس انداز میں موضوع پر کلام فرمایا،اپنے خطاب کے دوران انھوں نے فرمایا کہ ہم مقلدین ائمہ اربعہ ہی اہل سنت والجماعت ہیں جنکی بنیاد قرآن، سنت، اجماع امت اور قیاس پر ہیں اور یہی چاروں چیزیں دور صحابہ میں موجود تھیں اور یہی منشاء شریعت ہے , مزید فرمایا کہ قرآن و حدیث اور صحابہ سے ملکر جو چیز وجود میں آگئی وہ دین ہے ,نیز فرمایا کہ صحابہ کرام کو نظر انداز کردینے کے بعد صراط مستقیم کی توفیق نہیں ہو سکتی ,رد غیر مقلدیت پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غیر مقلدین کا اصول ہے اطیعو اللہ و اطیعو الرسول , ہمارا غیر مقلدین سے سوال ہے جو کام اللہ کے رسول نے نہیں کیا اور وہ صحابہ نے کیا تو آپ اس عمل کو کیا کہینگے ۔مثلا جمع قرآن کا مسئلہ الغرض اور بھی کئی مثالیں ارشاد فرمائیں، پھراسکے بعد حضرت مولانا سید ازیر مدنی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی، آپکا موضوع تھا "فضائل اہل بیت "خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے فضائل صحابہ پر حضرات عبادلہ صحابہ کی احادیث پیش فرمائیں جنکا لب لباب اور خلاصہ یہ ہیکہ صحابہ معیار حق ہیں ۔فرمایا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق فرمان رسول ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ کو منتخب فرمایا میرے لیے میرے اصحاب کو منتخب فرمایا جنمیں کچھ کو میرا وزیر بنایا کچھ کو میرا معین بنایا کچھ کو میرا سسرالی رشتہ دار بنایا ,جو شخص انکی برائی کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور قیامت کے دن نہ انکے فرائض قبول ہونگے نہ انکے نوافل ۔اہل بیت کے تعلق سے علماء دیوبند کا مسلک حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے قول سے مدلل فرماتے ہو ئے ارشاد فرمایا کہ ۔اہل بیت کی دو قسمیں ہیں ایک حقیقی دوسری حکمی ۔جسکا قرآن کریم میں اشارہ ہے انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت کے اندر ان سے ازواج مطھرات مراد ہیں جنہیں حقیقی اہل بیت کہا جاتا ہے ۔دوسری قسم حکمی اہل بیت جو حدیث کساء میں مذکور ہیں ان سے مراد چار تن ,یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ,حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ,حضرات حسنین رضی اللہ عنہما ہیں ۔ماشاء اللہ حضرت نے موضوع کا حق ادا فرمایا، اجلاس کے آخری مقرر تحریک کے سرپرست محقق عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی نے اپنے مقررہ عنوان "اصحاب رسول کی اہميت و خلفاء راشدین کی فضیلت” پر آپ نے بہت مختصر وقت میں نہایت جامعیت کے ساتھ موضوع کا احاطہ کیا اور فضائل صحابہ پر عقیدت کے دریا بہا دیے گویا لبوں سے موتی جھڑ رہے ہیں اللہ نے آپکو سلیقہ دیا ہے اور خوب دیا ہے,فرمایا اللہ تعالی نے اپنے نبی کو خیر الابشار قرار دیا ہے آپکے رفقاء خیر الاصحاب ۔چیدہ ,چنندہ, برگزیدہ, وفاشعار عطا فرمائے ,فرمایا کہ اصحاب رسول کا انتخاب اللہ کا انتخاب ہے ,آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں اصحاب رسول کی تربیت ہوئی ہے ,اگر کوئی بدبخت اصحاب رسول پر طعنہ زنی کریگا گویا وہ نبی کی تربیت میں بد ظنی کا شکار ہے ,جنکی مدح سرائی خود قرآن کریم کرے” والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم "اب اسکے بعد جو شخص بھی تنقیص کریگا وہ رافضی ہے زندیق ہے خبیث ہے لعین ہے ,فرمایا اصحاب رسول میں فرق مراتب ضرور ہیں سب سے بڑے فضائل خلفاء راشدین کے ہیں پھر اہل بیت رسول ہیں پھر اصحاب مہاجرین اول ہیں ,اہل عقبہ ہیں ,اہل بدر ہیں وغیرہ وغیرہ ۔الغرص فرمایا کہ اسلام کی ساری بنیاد صحابہ پر ہے،رات کافی ہوچکی تھی،تقریباً 12 بجے رات مفتی شکیل قاسمی کی دعاء پر دوسری نشست اختتام کو پہونچی،اراکین وذمہ داران کے علاوہ سامعین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی،مولانا عبدالاحد قاسمی نے کامیابی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
(یہ رپورٹ تحریک تحفظ کے مرکزی آفس جامعہ حسینیہ دیوبند سے جاری کی گئی ہے)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

