غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تین روزہ بین الاقوامی غالب تقریبات کا انعقاد
معاصر اردو ادب موجودہ صارفی اور برقیاتی ذرائع ابلاغ اور نئی سائنسی اور تکنیکیاتی ترقی سے پیدا ہونے والی صورت حال کا مظہر ہے وہ تنقید کے دباو سے آزاد ہے۔ ذہن و ضمیر کی آزادی ہی معاصر اردو ادب کی شناخت ہے۔ ان خیالات کااظہار پروفیسر عتیق اللہ نے ایوان غالب میں سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ گذشتہ دور شاعری کا تھا، اکیسویں صدی غالباً فکشن کی ہوگی۔ اچھی اور بہت اچھی شاعری سے عصری ادب خالی نہیں ہے لیکن فکشن میں تجربے کی گنجائش زیادہ ہے۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی اور دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گونر عالیجناب نجیب جنگ نے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ اردو کے سب سے فعال اداروں میں سے ایک ہے۔ مجھے یہاں منعقد ہونے والے سمیناروں کے عنوانات دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ان سمیناروں کے موضوعات محض روایتی نہیں ہوتے۔ معاصر اردو ادب پر گفتگو کیے بغیر ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہوسکتے۔ گفتگو اور سنجیدہ گفتگو کے بعد ہی معاصر ادب کے موضوعات اس کی خوبیاں اور نارسائیاں ہم پر عیاں ہوسکتی ہیں۔ اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہندی کے نامور ادیب ودانشورپروفیسر وشوناتھ ترپاٹھی نے کہاکہ غالب اور غالب انسٹی ٹیوٹ سے میرا رشتہ کافی پراناہے میں اکثر یہاں کے سمیناروں میں شریک رہاہوں۔ یہاں منعقد ہونے والے سمیناروں کی خوبی یہ ہے کہ یہاں جوبھی مقالے پیش کیے جاتے ان میں اکثر بہت تلاش و تحقیق ہوتی ہے۔معاصر ادب کی جو خوبی مجھے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ یہ کہ اس میں تجربات کی طرف میلان زیادہ ہے۔ آج کی دنیا ہر معنی میں سمٹ گئی ہے لہٰذا دوسری زبانوں میں ہونے والے نئے تجربات کی خبرہمیں بہت جلدی ہوجاتی ہے اور ہم اس سے ملتا جلتاہی کوئی تجربہ اپنی زبان میں کرناچاہتے ہیں جس سے ایک نئی چیز پیدا ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کے پرمغز کلیدی خطبے نے جو تحقیقی فضا پیدا کی ہے اس کااثر اختتامی اجلاس تک باقی رہے گا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی کوشش رہتی ہے کہ ایسی کتابیں شائع ہوں اور ایسے مذاکرے منعقدہوں جن میں محض دہرائی ہوئی باتوں کا جال نہ ہو۔ ہم نے اس بار اس عالمی سمینار کے لیے ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو میں سمجھتا ہوں ہم پر فرض بھی تھا۔ ظاہر ہے کہ ہم کلاسیکی ادب کے معتقد بھی ہیں اوراس کے تعلق سے لٹریچر بھی شائع کرتے رہتے ہیں لیکن کلاسیکی ادب کی تحسین اور اس پر جوبھی گفتگو ہوتی ہے اس کا مقصد یہی ہوتاہے کہ اس سے روشنی لے کر حال اور مستقبل کو بہتر بنایا جائے۔مجھے پوری امید ہے کہ آئندہ دنوں میں جو بھی مقالے پیش کیے جائیں گے وہ فکرانگیز بھی ہوں گے اور ان کے اثرسے ہم معاصر ادب کی صحیح صورت حال سے واقف ہوں گے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمدنے کہاکہ بین الاقوامی غالب تقریبات کاانعقاد غالب انسٹی ٹیوٹ کی سب سے اہم سرگرمیوں میں ہے۔ لیکن گذشتہ دوسال سے یہ تقریبات جن اسباب سے منعقد نہیں ہوسکیں وہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ اس سال ’معاصر اردوادب میں نئے تخلیقی رویے‘ کے موضوع پر سمینار منعقد کررہاہے۔ ہم نے مہلک اور بیرون ملک کے بہترین اردو دانشوروں کو اس موضوع پر اظہار خیال کے لیے جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب ہم اس سمینار کے مقالات کو کتابی شکل میں شائع کریں گے تو یہ ایک اہم ترین ادبی دستاویز ثابت ہوگی۔ اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کی نئی ویب سائٹ کا اجرابھی عالیجناب نجیب جنگ کے دست مبارک سے سے عمل میں آیا۔نئی ویب سائٹ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب ایوب خان نے کہا کہ ہم نے موجودہ دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ویب سائٹ کو ڈزائن کیا ہے اب آپ غالب انسٹی ٹیوٹ کے کتابوں کو گھر بیٹھے خرید سکتے ہیں اور آڈیٹوریم بھی بک کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس ویب سائٹ کو عصری تقاضوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کی نئی مطبوعات غالب کی شاعری میں نفی و اثبات (پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی)،مرزادبیر:عہد اور شعری کائنات (ڈاکٹر ادریس احمد)،مضامین مولوی مہیش پرشاد(ڈاکٹر عبدالسمیع)، غالب ہندی ادیبوں کے درمیان (ڈاکٹر نوشاد منظر)،ذکرِ حافظ(سجاد ظہیر)،غالب نامہ کے دو شمارے اورڈائری،کلینڈر۲۲۰۲ کی رونمائی بھی ہوئی۔ افتتاحی اجلاس کے بعد شام غزل کا انعقاد ہوا جس میں مشہور و معروف غزل سنگر محترمہ رادھیکا چوپڑانے اپنے مخصوص اندازمیں غالب اور دیگر شعراکا کلام پیش کیا۔ ۲۱ اور ۳۱ مارچ ۲۲۰۲ کو صبح ۰۱بجے سے شام ۵ بجے تک اکیڈمک سیشن ہوں گے جن میں ملک و بیرون ملک کے نامور ادبا اور دانشور اپنے خیالات کاظہار فرمائیں گے۔ ۲۱مارچ کو شام ۶ بجے ایون غالب میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوگا اور ۳۱ مارچ کو شام چھے بجے ’مشاعرہ رفتگاں‘ کے عنوان سے ڈرامہ پیش کیا جائے گا۔
تصویر میں بائیں سے مائک پر:عزت مآب نجیب جنگ، ڈاکٹر ادریس احمد،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر وشوناتھ ترپاٹھی،پروفیسر عتیق اللہ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

