نظیر کی شاعری کو میتھلی زبان میں بھی پیش کیا جائے گا: ڈاکٹر پھولو پاسوان
نظیر کی سب سے بڑی خوبی ان کی وسیع النظری اور وطن پرستی ہے: پروفیسرمحمد ریاض احمد
دربھنگہ کے سی ایم کالج میں قومی اردو کونسل کے تعاون سے مولانا مظہرالحق توسیعی خطبے کا انعقاد
دربھنگہ، 12مارچ۔نظیر اپنے خاص رنگ کی وجہ سے عوامی شاعر کے طور پر مشہور ہوئے۔ نظیر کی بہت بڑی خوبی ان کی وسیع النظری اور وطن پرستی ہے ۔نظیر کے یہاں انسانیت ایک بہت مضبوط شکل میں نظر آتی ہے۔یہ باتیں جموں یونیورسٹی، جموں کشمیر کے صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد ریاض احمد نے سی ایم کالج دربھنگہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے منعقدہ مولانا مظہرالحق توسیعی خطبے میں کہیں۔ انھوں نے نظیر کی شاعری کا تفصیلی جائزہ لیا اور کہا کہ نظیر ایسا شاعر ہے جس کی شاعری ہر دور میں مقبول رہی ہے۔ نظیر کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ نظیر نے شاعری کی بہترین نظیر پیش کی ہے۔انھوں نے اپنے توسیعی خطبے کے دوران نظیر کے درجنوں اشعار بھی سنائے اور کہا کہ نظیر مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی بات کرتا ہے۔نظیر نے ہندوستانی زندگی کے ہر گوشے کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔اس توسیعی خطبے میں بطور مہمان خصوصی للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے رجسٹرار اور معروف ادیب و شاعرپروفیسر مشتاق احمد نے شرکت کی۔ انھوں نے نظیر کی شاعری پر پرمغز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظیر کے یہاں سچی شاعری نظر آتی ہے۔نظیر نے بولی کو ادب کی زبان بناکر شعری قالب عطا کیا ہے۔نظیر ہندوستان کا پہلا شاعر ہے جس نے لوک وانی کو ادب کی وانی بنادیا ہے۔نظیر ہندوستانی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ہے۔ہندوستان کی تہذیب و تمدن، میلے ٹھیلے، تہواروں کو نظیر نے جس ہنرمندی سے پیش کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ہندوستانی تشخص کی کوئی بھی تاریخ نظیر کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔
اس خطبے کے مہمان اعزازی للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے کہا کہ نظیر عوامی شاعر رہا ہے۔اس کی شاعری دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔نظیر کسی غریب گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن پھر بھی انھوں نے مفلسوں ، ناداروں کی باتیں کی ہیں۔انھوں نے گارساں دتاسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نظیر کی شاعری کو پہلے پہل ہندی والوں نے منظرعام پر لایا اور بعد میں نظیر کی شاعری کو اردو والوں نے بھی ہاتھوں ہاتھ لیا۔
توسیعی خطبے کی صدارت کرتے ہوئے سی ایم کالج دربھنگہ کے پرنسپل ڈاکٹر پھولو پاسوان نے نظیر کی شاعری پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ادب سماج کے ہر طبقے کے لیے ہوتا ہے۔ نظیر ایک جن کوی تھے اور انھوں نے سماج کے ہر طبقے کی نمائندگی کی اور اپنی شاعری میں مزدوروں، بے بسوں، لاچاروں کو موضوع بنایا۔ ان کی نظمیں دل کو چھولینے والی ہیں۔ نظیر کے یہاں صوفی تحریک کے اثرات بھی دیکھے جاسکتے ہیں ساتھ ہی ایک عام انسان کا درد بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میتھلی زبان میں بھی نظیر کی شاعری کو پیش کیا جائے تاکہ میتھلی جاننے والوں تک نظیر کا پیغام پہنچے۔ نظیر کی شاعری کو کسی ایک زبان یا ادب تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
پروگرام کے آغاز میں سی ایم کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ظفر عالم نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ نظیر نے شاعری کے ذریعے دلوں پر حکومت کی ہے۔انھوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت تعلیم کا اس توسیعی خطبے کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ توسیعی خطبے کی نظامت کرتے ہوئے سی ایم کالج کے استاد عبدالحی نے مختصرا مولانا مظہر الحق اور نظیر کی خدمات پر گفتگو کی اور نظیر کو اپنے آپ میں منفرد شاعر بتایا۔
اس توسیعی خطبے میں سی ایم کالج کے تمام اساتذہ و اسٹاف کے ساتھ ساتھ ملت کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد افتخار احمد، معروف افسانہ نگار انور آفاقی،ناگیندر جھا مہیلا کالج کے استاد ڈاکٹر بدرالدین صاحب،ملت کالج کے اساتذہ ڈاکٹر عبدالرافع، ڈاکٹر شاہنواز عالم اور نسرین ثریا، مانو موڈل اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر مظفر اسلام، شعبہ اردو للت نارائن متھلایونیورسٹی کے استادڈاکٹر مطیع الرحمٰن و ڈاکٹر وصی احمد شمشاد، روزنامہ انقلاب دربھنگہ کے بیورو چیف ڈاکٹر احتشام الحق ، ریسرچ اسکالرز،کالج کے طلبا و طالبات اور دیگر عمائدین شہرموجود تھے۔اس توسیعی خطبے کا اختتام راشٹر گان جن گن من کی پیش کش پر ہوا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

