” محصور پرندوں کا آسمان ” -زیبا خان
حمیرا عالیہ لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی ریسرچ اسکالر ہیں۔ ‘ محصور پرندوں کا آسمان ‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ جس میں انہوں نے جے این یو کی فضا میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کی گرفتاری سے پیدا شدہ حالات بیان کیے ہیں۔ اور ان نوجوانوں کی آواز پر مہر لگاکر انہیں دیش دروہی ثابت کرنے والی حکومت پر احتجاج درج کروانے کی کوشش کی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں کہاں تک کامیاب ہوئی ہیں۔ ناول لکھنوی زبان کی چاشنی سے بھرا ہوا ہے۔ جو لکھنؤ کی ادبی فضا میں حمیرا عالیہ کے قلم کے پروان چڑھنے کا غماز ہے۔ ناول زبان و بیان اور اسلوب کے اعتبار سے بھی اچھا تاثر قائم کرتا ہے۔ لیکن جس موضوع کو پلاٹ بنایا گیا ہے خاص کر ہندوستان میں پنپ رہی فرقہ پرستی اور اس پر جے این یو جیسی درسگاہ کے طالبعلموں کے بے باکانہ رویہ پر جس طرح لکھا جانا چاہیے تھا نہیں لکھا گیا۔ کیونکہ پورے ناول میں محبت غالب نظر آ رہی ہے جس کی وجہ سے ناول محبت کی روداد بن گیا ہے۔ ایک ایسی محبت جس کی ہیروئن رابعہ علیم الدین یونین پریسیڈینٹ جمال احمد کی محبت میں گرفتار ہوکر پریوں کے دیس میں پہنچ جاتی ہے۔ شہزادے کے عشق میں گرفتار رابعہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے۔ اور اخیر تک اپنی محبت کو ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے ناول کے دوسرے پہلو دب کر رہ جاتے ہیں۔
ناول کی شروعات رابعہ کے بچپن سے ہوتی ہے جہاں وہ چار پانچ سال کی بچی ہے۔ جسے چایلڈ ابیوز کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ اور وہیں سے وہ ایک مضبوط لڑکی بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جو جے این یو جیسی درسگاہ کی کھلی فضاؤں میں آکر مزید کھل کر سامنے آتی ہے۔ رابعہ کی جمال سے پہلی ملاقات فلموں کی طرح ڈرامائی انداز میں لایبریری کے راستے میں لومڑی کے آ جانے سے ہوتی ہے۔ اور اس پہلی ہی ملاقات میں جمال اسے اس کے نام کے شارٹ فارم رابعہ سے بیا پکارنے لگتا ہے۔ سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پہلی ملاقات اتنی بے تکلف ہو ! کہ کوئی لڑکا اسے رابعہ سے بیا پکارنے لگے؟ عموماً یونیورسٹیز کا حال یہ ہوتا ہے کہ لڑکے وہ بھی سینئر کسی لڑکی کا نام بہت عزت و احترام کے ساتھ لیتے ہیں۔
جمال کی انہیں چھوٹی موٹی اداؤں پر رابعہ دل ہار جاتی ہے۔ وہ جمال کی محبت میں خود کو شہزادی اور اسے شہزادہ سمجھنے لگتی ہے۔ جو اس نے بچپن سے کہانیوں میں سن رکھا تھا۔ ناول میں جگہ جگہ داستانوی انداز اپنایا گیا ہے۔ جسے جادوئی حقیقت نگاری سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ جادوئی حقیقت نگاری ہے..؟ محمد عباس اپنے مضمون ‘جادوئی حقیقت نگاری ایک تعارف’ میں انگریزی مصنفہ وینڈے بی فارس کا قول نقل کرتے ہیں جس میں انہوں نے جادوئی حقیقت نگاری کی پانچ بنیادی خصوصیات بتائی ہیں،
"میں اس طریقہ کار کی پانچ بنیادی خصوصیات تجویز کرتی ہوں۔ پہلی خصوصیت جادوئی حقیقت نگاری جادو کے غیر تخفیف پذیر عنصر پر مشتمل ہوتی ہے، دوسرے جادوئی حقیقت نگاری کے بیانات مظہریاتی دنیا کی واضح موجودگی کی تفصیلات کے حامل ہوتے ہیں، تیسرے قاری دو متضاد واقعات کے مابین مفاہمت کی کوشش میں غیر یقینی شبہات کے تجربے سے گزرے ؛ چوتھے بیانیہ مختلف دنیائوں کو با ہم پیوست کرے؛ اور آخری جادوئی حقیقت نگاری زمان و مکاں اور شناخت کے مروجہ تصورات کومنتشر کر کے رکھ دے۔‘‘
جادوئی حقیقت نگاری دراصل کسی غیر حقیقی چیز کا بیان اس طرح جادوئی ڈھنگ سے کیا جائے کہ اس کا اطلاق حقیقت پر ہوتا ہے۔ جادو اور حقیقت دونوں کے امتزاج سے جادوئی حقیقت نگاری تشکیل پاتی ہے۔ اس ناول میں بیان ہونے والے قصوں کو ہم جادوئی حقیقت نگاری کے بجائے داستانوی اسلوب سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ کیونکہ پریاں ، شہزادی ،شہزادہ ، ونڈر لینڈ یہ سب ہماری داستانوں کا حصہ ہیں۔ محمد عباس کے ہی لفظوں میں،
” اردو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جہاں کسی کہانی میں جادوئی عناصر آ گئے ،جن، بھوت، چڑیل، دور دراز انوکھی سرزمینیں، مافوق الفطری کردار آ گئے تو یہ جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کہلائے گی اور اسی بنیاد پر طلسم ہوشربا ، بوستان خیال،الف لیلا، آرائش محفل ، باغ و بہار جیسی حقیقت سے کوسوں دور رہنے والی داستانوں کو جادوئی حقیقت نگاری کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ جادوئی حقیقت نگاری میں کردار واقعات ،ماحول ، مناظر جس طرح ہوتے ہیں اسی طرح پیش کیے جاتے ہیں تاکہ قاری کو کوئی چیز حقیقت سے بعید نظر نہ آئے ۔ ”
اس ناول میں بیان ہونے والا داستانوی قصہ دراصل ایک لڑکی کے لاشعور پر حاوی شہزادہ اور شہزادی کی وہ داستان اور کہانیاں ہیں جو بچپن میں اس نے اپنے والد سے سن رکھی تھیں۔ یہ کہانیاں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ناول کی شروعات ایسے ہی ایک قصے سے ہوتی ہے۔
” آج رات پھر سیف الملوک کی جھیل میں چاند اترا تھا۔
پریاں عطر ریحان مل مل کر آئی تھیں۔
کیونکہ کائنات کے سب سے خوبصورت سیارے کی سب سے خوبصورت جھیل کنارے سب سے خوبصورت شہزادہ آیا تھا۔
اپنی جوگن شہزادی سے ملنے۔
چاندنی نے اپنی اوڑھنی میں ستارے ٹانکے اور چاند کے پیچھے چل پڑی۔ ”
ناول کے پہلے ہی اقتباس میں لفظ "سب سے..” کی تکرار تھوڑی ناگوار گزرتی ہے۔ اس کے علاوہ ان قصوں کا اصل متن یعنی رابعہ علیم الدین کی زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
ان سب سے الگ اگر ہم اسے خالص محبت کی داستان سمجھ کر پڑھیں تو یہ ناول یقیناً بہترین ناول ہے۔ جس میں محبت ہے اور خالص محبت ہے، ناول کی ہیروئن کی طرف سے خود سپردگی کا جذبہ ہے، اپنی محبت کے لئے لڑنے کی ہمت ہے حوصلہ ہے۔
ناول کا مرکزی کردار رابعہ علیم الدین ایک نڈر لڑکی ہے۔ جو جمال سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ لیکن جب جمال اسے صاف لفظوں میں یہ کہہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیحات الگ ہیں وہ اس سے پہلے اپنے دیس کے بارے میں سوچتا ہے، شادی کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ یہاں سے شہزادی یعنی رابعہ کے خواب ٹوٹ کر بکھرنے لگتے ہیں۔ لیکن وہ ٹوٹتی نہیں ہے ایک وقت پھر آتا ہے جب وہ اپنے شوہر جو اس کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے اور اس سے خلع کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہاں پر رابعہ علیم الدین پھر ایک بہادر لڑکی بن کر ابھرتی ہے۔ جو اپنے حق کے لئے لڑتی ہے ۔ اور صرف اپنے حق کے لئے نہیں بلکہ جمال کے لئے بھی لڑتی ہے جسے حکومت نے دیس دروہی کہہ کر بند کر رکھا ہے۔
اس کے برعکس جمال کا کردار کمزور نظر آتا ہے۔ وہ رابعہ سے محبت تو کرتا ہے لیکن شادی کی بات پر اپنی ترجیحات کا حوالہ دے کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ وہ پہلو خان کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے دو بار دیش دروہی ثابت کرکے جیل میں ڈالا جاتا ہے ۔ دوسری دفعہ اس کی ضمانت کروانے میں رابعہ علیم الدین کا ہاتھ ہوتا ہے۔جیل میں ہونے والے ٹارچر سے اس کی ذہنی کیفیت بگڑ جاتی ہے اور رابعہ ہی اسے اس کی پہلی حالت میں واپس لاتی ہے۔ ان دونوں کرداروں میں رابعہ بہادر شہزادی کا رول ادا کرتی ہے۔ جبکہ شہزادہ بزدلی کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ناول کا معاشرتی پہلو مضبوط ہے اس پر حمیرا عالیہ نے بہت عمدگی سے قلم چلایا ہے۔ پڑھی لکھی لڑکیوں کی شادی کا مسئلے پر رابعہ کی سوچ آج کی لڑکیوں کی طرح ہی ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کی شادی کے لیے اپنے اور اپنے خاندانی معیار پر لڑکا یا لڑکی کو پرکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچے کا معیار نہیں دیکھتے کیا ہے اس کی پسند و نا پسند کیا ہیں۔ رابعہ اور مریم کے درمیان کی یہ گفتگو دیکھیے۔۔۔
” آج کل کی جنریشن مینٹل ایبیلٹی ، کری ایٹو ایبیلٹی، ڈریسنگ سینس، میزرز اور اسمارٹ نیس ہر چیز کو اہمیت دیتی ہے۔اب شادی کے لیے صرف روٹی کپڑا اور مکان ضروری نہیں رابی۔ آپس میں انڈراسٹینڈنگ ہونا ضروری ہے۔ جب میرا شوہر مجھ سے کم پڑھا لکھا ہوگا تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی احساس برتری میں مبتلا رہوں گی۔ یہ چیز ہمیں کبھی برابری کی سطح پر نہیں آنے دے گی۔ کیسے نبھے گی رابی۔۔۔؟؟”
یہاں پر ایک سوال اور قائم ہوتا ہے کہ اگر ایک لڑکی اپنے سے کم پڑھے لکھے لڑکے کے ساتھ احساس برتری میں مبتلا رہتی ہے۔ تو پھر ایک لڑکا اپنے سے کم یا بالکل ان پڑھ اور جاہل لڑکی کے ساتھ کیوں کر نباہ لیتا ہے۔۔۔؟؟ وہ احساس برتری میں مبتلا ہو کر اپنے سے کم پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کیوں نہیں کر دیتا ۔
مجموعی طور پر ناول معاشرے کے کچھ ایسے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے جن پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان و بیان اور اسلوب کے اعتبار سے یہ ایک اچھا ناول قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہرحال فیصلہ قاری کے ہاتھ میں ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

