انسان اپنی زندگی میں غم اور تکلیف کا تجربہ زیاد کرتا ہے اور خوشی و مسرت کا کم۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ قدرت نے انسان کی زندگی میں غم کے پہلو زیادہ رکھے ہیں اور خوشی کے کم۔ بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ انسان خود ہی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی زندگی میں خوشی کی حصہ داری غم سے زیادہ ہو۔ انسان زندگی میں ایک بار غم کا تجربہ کر لے تو پھر وہ اسی کو زندگی کی حقیقت مان لیتا ہے۔ قدرت نے تو کائنات کی تخلیق میں اعتدال سے کام لیا ہے۔ اس کی سب سے اچھی اور سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ اس نے رات بنائی ہے تو دن بھی بنایا ہے۔ تاکہ تاریکی اور روشنی کا تناسب قائم رہے۔ انسان کی زندگی بھی در اصل رات اور دن کے مانند ہے۔ رات اگر غم کا استعارہ ہے تو پھر دن کو خوشی کا استعارہ ماننا ہی پڑے گا۔ آپ دن اور رات دونوں کو غم کا استعارہ نہیں سمجھ سکتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ رات کی خاموشی بھی آپ کو اچھی نہ لگے اور دن کی چہل پہل بھی آپ کو ناگوار گزرے۔ دنیا کے کسی حصے میں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ وہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو یا صرف روشنی ہی روشنی ہو۔ جس طرح رات کے ساتھ دن اور دن کے ساتھ رات کا آنا جانا لگا ہے اسی طرح انسان کی زندگی میں بھی غم اور خوشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ زندگی صرف غم یا صرف خوشی کی ترجمان نہیں ہو سکتی ہے۔ زندگی دونوں احساسات سے مل کر بنتی ہے اور یہی فطرت کا نظام ہے۔ اگر آپ زندگی میں صرف غم کا پہلو دیکھتے ہیں اور خوشی کا پہلو نظر انداز کرتے ہیں تو آپ نظام فطرت کے خلاف چلتے ہیں۔
غم کے وقت میں غم کی کیفیت سے دوچار ہونا ایک فطری بات ہے۔ خوشی کے لمحات میں خوشی کا اظہار کرنا بھی ایک فطری رویہ ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے رات کے انھیرے میں کسی کو اپنے آس پاس کچھ نظر نہ آئے اور دن کے اجالے میں اسے سب کچھ بہت صاف صاف دکھائی دے۔ اب اگر کوئی دن کے اجالے میں رات کی تاریکی کو یاد کر کے روئے تو اس میں قصور رات کا نہیں ہے۔ رات تو آئی اور چلی گئی۔ یہ آپ ہوتے ہیں جو گزرے ہوئے وقت میں جیتے ہیں اور روتے ہیں۔ بعض دفعہ آپ ماضی کی مثبت چیزوں کو بھی لیکر حال میں رونا دھونا کرتے ہیں کیونکہ آپ کا حال ویسا نہیں ہوتا ہے جیسا کہ آپ ماضی تھا۔ آپ غیر ضروری طور پر اپنے تابناک ماضی کو اپنے بکھرے ہوئے حال میں تلاش کرتے ہیں۔ بعض اوقات آپ گزرے ہوئے لمحوں کی منفی یادوں کو سینے سے لگا کر روتے ہیں۔ اس کیفیت کو استاد محترم پروفیسر کوثر مظہری صاحب نے شعر کے قالب یوں ڈھالا ہے:
حال میرا ٹوٹ کر بکھرا ہوا
جانے کس ماضی کا آئندہ ہوں میں
اکثر لوگوں کے غم میں ڈوبے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حال میں ماضی کے زخموں کو کریدتے رہتے ہیں اور مستقبل کو اپنے ماضی سے مختلف تصور نہیں کرتے۔ انسان جب ماضی کا ماتم منانے اور فکر فردا میں ڈوبا ہو تو وہ حال میں ملنے والی خوشی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہی معاملہ تقریباً ہر انسان کا ہے۔ ماضی کا غم تھا اسے ماضی کا ہی حصہ رہنے دینا چاہیے تھا۔ لیکن آپ اس کی جڑوں میں پانی ڈالتے ہیں اور پھر اس کی جڑیں آپ کے حال اور مستقبل کی زمین تک پسر جاتی ہیں۔ آپ کے ہر طرف دکھ اور غم کا سایہ پھیل جاتا ہے۔ پھر آپ لوگوں سے شکایت کرتے ہیں کہ غم آپ کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتی ہے۔ آپ کی زندگی غم اور تکلیف سے عبارت ہے۔ خوشی آپ کو میسر نہیں وغیرہ وغیرہ۔۔
غم اصل میں تھوڑا ہوتا ہے آپ اپنے عمل اور اپنی سوچ سے اس میں اضافہ کرتے ہیں۔ آپ یہ بات جان لیں کہ غم کو یاد کرنے سے غم ہلکا نہیں ہوتا بلکہ وہ مزید بڑھتا ہے۔ جب آپ غیر ضروری طور پر غم کریں گے تو بلا شبہ آپ کے حصے میں زیادہ غم آئے گا۔ غیر ضروری طور پر غم کرنا صرف یہ نہیں ہے کہ آپ ماضی کے غم کو لیے بیٹھے رو رہے ہیں۔ غیر ضروری طور پر غم کی کیفیت میں رہنا یہ بھی ہے کہ آپ بلا وجہ مستقبل کو لیکر پریشان رہیں۔ مثال کے طور پر آپ حال میں کوئی منصوبہ بناتے ہیں اور اس میں کامیاب ہونے کے لیے خوب محنت کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ اپنے رزلٹ کے تعلق سے بھی کافی فکر مند رہتے ہیں۔ آپ دن رات منفی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ آپ کی محنت کا نتیجہ کیا ہوگا یہ سوچ سوچ کر آپ کی رات کی نیند اڑی رہتی ہے اور دن کا سکون کافور بنا رہتا ہے۔ آپ غور کریں اور دیکھیں، یہاں آپ اس چیز کے لیے پریشان ہو رہے ہیں جس کے ہونے اور نہ ہونے کا ابھی کچھ پتہ نہیں۔ اگر آپ اپنے نتیجے کو لیکر غم کرتے ہیں اور نتیجہ مثبت آتا ہے تو پھر آپ بتائیں کہ آپ کا پہلے سے غم کرنا غیر ضروری تھا یا نہیں۔ اگر نتیجہ منفی آتا ہے تو آپ کا غم کرنا تو لازمی ہے لیکن اس غم کا کیا جو نتیجہ کے آنے سے پہلے آپ نے کیا۔ ایسی صورت میں آپ غم کا تجربہ غم کے ملنے سے پہلے بھی کرتے ہیں اور غم کے ملنے کے بعد بھی۔ یہ وہی بات ہو گئی کہ گناہ ایک اور سزا دو۔ جب تک آپ کی محنت کا نتیجہ نہ نکلے آپ کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ پریشان ہوں اور غم میں ڈوبے رہیں۔ فلسفۂ رواقیت سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور رومن فلسفی سینیکا کا ایک اقتباس فرانسیسی زبان میں پڑھنے کو ملا۔ اس نے بجا طور پر کہا ہے کہ جو انسان غم کے ملنے سے پہلے غم کرتا ہے وہ بلا شبہ زیادہ غم اٹھاتا ہے۔ اس کا اقتباس ہے:
Celui qui souffre avant que ce ne soit nécessaire souffre plus que nécessaire
ترجمہ: جو انسان ضرورت سے پہلے پریشان ہوتا ہے وہ ضرورت سے زیادہ پریشان ہوتا ہے۔
مستقبل پر آپ کا کنٹرول نہیں ہوتا ہے۔ آپ مستقبل میں واقع ہونے والے واقعات کو نہیں روک سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کو مستقبل کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ممکن ہے آپ مستقبل میں واقع ہونے والی جس چیز کو لیکر پریشان ہو رہے ہیں وہ واقع ہی نہ ہو اور آپ کا پریشان ہونا غیر ضروری ثابت ہو جائے۔ یا اگر وہ چیز مستقبل میں واقع ہو جاتی ہے جس کو لیکر آپ ابھی سے دکھی ہیں تو آپ ایک ہی مسئلے کو لیکر دو بار دکھی ہوتے ہیں۔ آپ اکثر غیر ضروری طور پر دکھی رہتے ہیں اس لیے آپ ضرورت سے زیادہ دکھی ہوتے ہیں۔
آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ انسان عام طور پر جس چیز کو لیکر پریشان رہتا ہے اس کی در اصل کوئی بنیاد نہیں ہوتی ہے۔ وہ بلا وجہ پریشان رہتا ہے اور غم کی چادر اپنے اوپر تانے رہتا ہے۔ پریشانی کی وجہ خود اس کی اپنی سوچ اور فکر ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذہن و دماغ میں ایسے مسائل پیدا کرتا جس کی زمینی حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے خود ساختہ مسائل کے متعلق سوچتا ہے اور پریشان ہوتا ہے۔ ایک امریکی مصنف مارک توان نے بڑی اچھی بات کہی ہے:
I have had a lot of worries in my life, most of which never happened.
یہ کتنی عجیب سی بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ان غموں اور پریشانیوں کا بوجھ لیے پھرتا ہے جو اکثر اس کی زندگی کا حصہ نہیں ہوتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ زندگی میں دکھ کا کوئی لمحہ نہیں آتا۔ زندگی غم اور خوشی دونوں کا مجموعہ ہے۔ آپ کی زندگی کے دروازے پر کبھی غم کی دستک ہوتی ہے اور کبھی خوشی کی۔ دونوں کا تجربہ ہی زندگی کو زندگی بناتی ہے۔ زندگی جینے کا سلیقہ یہ ہے کہ آپ خوشی کے پل میں خوش رہیں اور غم کے لمحے میں غم کی کیفیت کا اظہار کریں۔ بلا ضرورت غم کی حالت میں رہنا نہ آپ کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی ان کے لیے جن کے ساتھ آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ آپ چاہیں تو راز چاند پوری کے اس شعر پر عمل کر سکتے ہیں۔
عشرت حال میں اندیشۂ فردا کرنا
میرے مشرب میں نہیں یہ غم بے جا کرنا
محمد ریحان
جامعہ ملیہ اسلامیہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

