ڈاکٹر روبینہ پروین کی کتاب نسائی شعور۔ محمد تیمور خان
ڈاکٹر روبینہ پروین بحیثیتِ محقق اور نقاد کے طور پر ادبی حلقوں میں جانی جاتی ہیں۔ بیسویں صدی میں جن خواتین نے نسائی شعور کو بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں ایک نام بیگم صغرا ہمایوں مرزا کا ہے ۔ آپ نے بیگم صغرا ہمایوں کے نو آبادیاتی عہد میں سیاسی وسماجی کردار ادبی کارناموں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ بیگم صغرا ہمایوں کو بیسویں صدی کی خواتین ادیبوں میں اہم مقام حاصل تھا ، لیکن بد قسمتی سے اس پر کوئی مستند تحقیقی کام سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹر روبینہ پروین نے ان کے ادبی کارناموں کو یکجا کر کہ ادبی منظر نامہ پر لا کر کھڑا کیا جو کہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔ بیگم صغرا ہمایوں کا شمار ان باغی خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے قدیم فرسودہ روایات کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا اور خواتین کے اندر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے خواتین محض چار دیواری کے اندر قید تھیں۔ آپ نے خواتین کے حقوق کی آواز اس وقت بلند کی جب لکھنا تو دور کی بات ہے خواتین کے پڑھنے پر بھی پابندی تھی۔ آپ نے اس کے لیے آواز بلند کی اور خواتین کے لیے راہ ہموار کی ۔ آپ نے خواتین کے خلاف سماجی جکڑ بندیوں ، پدر شاہی نظام سے سیاسی ، سماجی اور اقتصادی اور معاشی مرد کی اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھائی ۔ بیگم صغرا ایک مزاحمتی کردار کے طور پر اس وقت سامنے آئیں ، جب خواتین کے لیے ان کے بنیادی حقوق کا حصول مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا ۔ ہمارا معاشرہ سرمایہ دار اور جاگیر دار تھا ، جہاں عورت کو محض ذاتی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور صدیوں سے اس کا استحصال ہوتا رہا ہے ۔ صغرا ہمایوں نے نسائی شعور کو بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور تعلیم نسواں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ آپ عورتوں کو دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برابر لانے کی جدوجہد کرتی رہی ں۔ آپ نے عورتوں کی زبوں حالی اور بے جا پردے ، معاشرے میں عورت کو جاہل اور مجبور بنانے کے خلاف آواز اٹھائی۔ ڈاکٹر روبینہ پروین نے اس کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے باب میں بیگم صغرا ہمایوں مرزا کے حالات زندگی اور خاندان کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں بیگم ہمایوں مرزا کی سفر نامہ نگاری میں خواتین کے مساہل کو زیر بحث لایا ہے۔ اس میں سفر نامہ عراق، سفر نامہ یورپ ، سفر نامہ پونا ومدارس اور روز نامچہ بھوپال و آگرہ ، دہلی کے حالات شامل ہیں۔ باب سوم میں بیگم صغرا ہمایوں کے ناولوں میں عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرنے سے متعلق بحث کی ہے۔ باب چہارم میں، بیگم صغرا ہمایوں کے افسانوں میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا ہے انھوں نے اپنی کہانیوں میں خواتین کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے۔ باب پنجم میں بیگم صغرا ہمایوں کی شاعری میں خواتین کو موضوع بنانے سے متعلق بحث کی ہے۔ اس میں ان کے شعری مجموعے راز ونیاز ، سفینہ نجات اور انوار پریشان شامل ہیں۔ باب ششم میں بیگم صغرا ہمایوں کے مختلف مضامین میں خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے دکھایا ہے ۔ یہ کتاب اردو ادب میں مفید اضافہ ہے۔ عکس پبلشرز لاہور نے شائع کی ہے ۔ ادب کے طالب علم کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ اسے بیسویں صدی کی خواتین کے ادبی کارناموں سے متعلق جاننے کا موقع ملے۔
محمد تیمور خان
اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

