پروفیسر رضوان قیصر کے انتقال کی خبر چند گھنٹے قبل ملی۔ وہ ایک شام تھی جسے رات میں تبدیل ہوجانا تھا۔ شام اور رات کب گلے مل جاتی ہے اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب تاریخ بدل جاتی ہے، ایک مئی کی شام کو رضوان قیصر صاحب رخصت ہوئے اور آج مئی کی دو تاریخ ہے۔ وہ تاریخ کے پروفیسر تھے اور تاریخ ان کے لیے صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں تھی۔ ان کی تحریروں اور گفتگوؤں سے یہ تصور اُبھرتا تھا کہ دن اور رات کا حساب کلینڈر کی روشنی میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس شعور کو پروان چڑھانے میں ادبی تحریروں کا بہت اہم کردار ہے۔ تاریح تو بدل گئی ہے مگر رضوان قیصر ہماری علمی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حوالے کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ یہ بات حاشیۂ خیال میں بھی نہ تھی کہ وہ اتنی جلد ہم سے رخصت ہوجائیں گے۔ وہ ایک بے باک، صاف گو اور پُرجوش اسکالر تھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں۔ تعلیمی و تدریسی اور تحقیقی زندگی کی مصروفیات کے تعلق سے ان کے یہاں کوئی مغالطہ یا ابہام نہیں تھا۔ گفتگو کو عام ملاقاتوں میں پھیلاتے نہیں تھے۔ اگر کوئی بات رہ جاتی تو پلٹ کر آواز دیتے۔ وہ تیز تیز چلتے اور تیز تیز سوچتے تھے۔ البتہ بات کرتے ہوئے کبھی خاموش ہوجاتے۔ زبان اور نگاہ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تھا بلکہ ذہن، نگاہ اور زبان ایک ساتھ سرگرمِ عمل ہونے کے باوجود کبھی کبھی کسی اور سمت کی جانب بھی اشارہ کرتے۔ ایسا شاید اُس وقت ہوتا تھا جب ایک موضوع انھیں کسی اور موضوع کی طرف لے جاتا۔ ایسے موقعے پر ان کی نگاہ مخاطب کی طرف سے ہٹ جاتی مگر یہ عمل بھی لمحاتی ہوتا تھا۔ انھیں مختلف موضوعات پر تقریر کرتے ہوئے دیکھا اور ہمیشہ وہ موضوع اور وقت کے تقاضے کا لحاظ کرتے۔ رضوان قیصر نے ریسرچ کے تعلق سے جو طریقۂ کار اختیار کیا تھا وہ دنیا بھر کے تمام اسکالروں کے یہاں یکساں طور پر موجود ہے لیکن ان کے یہاں حوالے اور ماخذ کے سلسلے میں بہت بے چینی تھی۔ لوگ نتائج اخذ کرلیتے ہیں اور ان ماخذ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جن کا انھیں علم تھا مگر وہ اپنی کاہلی کے سبب ماخذ تک نہیں پہنچ سکے۔ رضوان قیصر ان چند اسکالروں میں ہیں جنھوں نے تین مورتی اور نیشنل آرکائیوز کی لائبریری سے مسلسل استفادہ کیا۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ کس طرح وقت نکال کر لائبریریوں میں وقت دیتے تھے۔ دو تین بار بعض ماخذ کی تلاش میں جامعہ کی لائبریری میں بھی انھیں سرگرداں اور پریشان دیکھا۔
جامعہ کے شعبۂ تاریخ سے نکل کر شعبۂ اُردو کی طرف آنے میں انھیں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا تھا۔ دو منزلوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ جب کمرے میں آتے تو کبھی کبھی وہ تیز سانس لیتے۔ ایک مرتبہ میں نے کہا تھا کہ سیڑھیاں زیادہ ہیں۔ کہنے لگے کہ اتنی زیادہ بھی نہیں ہیں۔ اسلم پرویز صاحب کی کتاب بہادر شاہ ظفر کی انھیں ضرورت تھی، اتفاق سے وہ کاپی میرے پاس تھی جو اسلم صاحب نے اپنے دستخط کے ساتھ عنایت کی تھی۔ کتاب کو پڑھنے کے بعد ایک ملاقات میں کہنے لگے کہ خالص تحقیقی کتاب ہے اور اُردو کے ایک ادیب نے لکھی ہے۔ انھوں نے اسلم صاحب کی اس تحقیق کا بھی ذکر کیا تھا کہ بہادر شاہ ظفر نے گئو کشی پر اس لیے پابندی لگائی تھی کہ عقیدت مندوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ رضوان قیصر کو اس بات کا بھی سلیقہ تھا کہ تاریخ کے کسی واقعے کو اپنے عہد کے مسائل سے وابستہ کرکے دیکھ سکیں۔ اس تعلق سے ان کا ذہن تازہ کار تھا۔ کتاب بہادر شاہ ظفر ان ہی کے پاس تھی اور میں نے کہا تھا کہ یہ آپ کے پاس ہی رہے گی۔
مولانا ابوالکلام آزاد پر ان کی تھیسس تھی۔ کتاب کی رسم رونمائی شاید تین مورتی میں ہوئی تھی۔ پروفیسر مردلامکھرجی کی نگرانی میں انھوں نے پی ایچ ڈی کی۔ اس موقعے پر پروفیسر مردلا مکھرجی اور جے این یو کے بہت سے اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔ یاد آتا ہے کہ وہ شام رضوان قیصر صاحب کی زندگی کی بہت یادگار شام تھی۔ کتاب مجھے بھی انھوں نے عنایت کی تھی۔ آزادی اور تقسیم ان کی دلچسپی کا اہم حوالہ ہے۔ ادھر چند برسوں میں تاریخ نویسوں کے یہاں علاقائی اور حاشیائی حقائق اور متون میں دلچسپی بڑھی ہے۔ رضوان قیصر صاحب کے یہاں بھی یہ زاویۂ نظر موجود تھا۔ جامعہ کے سوسالہ جشن کے موقعے پر ایک سیشن میں انھوں نے جامعہ کی بعض ایسی شخصیات کا ذکر کیا تھا جنھیں لوگ کم جانتے ہیں یا بھولتے جارہے ہیں۔
میرے قیصر چچا (قیصر اقبال) سے ان کی دوستی تھی۔ قیصر اقبال صاحب کا مونگیر کی شاہ کالونی میں بہت دنوں تک قیام رہا۔ چند سال پہلے جب وہ دہلی کسی کام سے آئے تو رضوان قیصر صاحب سے بھی جامعہ میں ان کی ملاقات ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ کافی دیر تک دونوں اپنی زبان اور اپنے انداز میں گفتگو کرتے رہے۔ قیصر اقبال صاحب نے چند اچھے افسانے لکھے جو ’مہاپُرش کے بعد‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ رضوان قیصر صاحب کا ابتدا ہی سے جو دوستوں کا حلقہ تھااُس میں مختلف علوم و فنون میں دلچسپی رکھنے والے لوگ تھے۔ قیصر اقبال صاحب کی وجہ سے بھی رضوان قیصر صاحب سے ایک قربت کا احساس ہوتا تھا۔ دونوں اپنے اپنے طور پر مونگیر کو یاد کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ پروفیسر رضوان قیصر صاحب نے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ کلیم عاجز صاحب کا شعری مجموعہ بہت پہلے پڑھا ہے، اب دوبارہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ انھیں مونگیر کے ایک مشاعرے میں دیکھا اور سنا ہے۔ رضوان قیصر صاحب سے مختلف موضوعات پر گفتگو کا موقع ملا، اس کے لیے کبھی کوئی کوشش بھی نہیں کی، بس یہ ہوتا تھا کہ وہ شعبے میں آتے جاتے ہوئے مل جاتے تھے اور گفتگو کا کوئی موضوع نکل آتا تھا۔ ان کی شخصیت میں کوئی پوز نہیں تھا، بہت ہی سہولت اور آسانی کے ساتھ سامنے والے سے مخاطب ہوجاتے تھے۔ کبھی کبھی جے این یو کا ذکر نکل آتا ۔ ایک مرتبہ جے این یو کے لائبریری کینٹین میں انھیں دیکھا، وہ مصروفِ گفتگو تھے، داخل ہوتے ہوئے جب میں نے انھیں سلام کیا تو ان کا جواب تھا کہ میں اب جامعہ جارہا ہوں، اب یہاں آپ کا وقت شروع ہوتا ہے۔
اِس وقت میں اپنے وطن لکھمنیاں میں ہوں۔ رضوان قیصر صاحب کا وطن مونگیر ہے۔ جب پُل کی تعمیر نہیں ہوئی تھی اُن دنوں بھی مونگیر لکھمنیاں والوں کے لیے بہت دو رنہیں تھا، اب تو ٹرین محض آدھے گھنٹے میں مونگیر پہنچا دیتی ہے۔ سڑک کا ایک راستہ میری بستی سے ہوکر جاتا ہے۔ مونگیر کئی مرتبہ جانا ہوا لیکن اُن دنوں پروفیسر رضوان قیصر سے شناسائی کہاں تھی۔ ابھی چند دنوں قبل جب بیگوسرائے سے گزرتے ہوئے ایک ٹرین رُکی ہوئی نظر آئی تو میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا کہ ڈرائیور صاحب یہ ٹرین تو مونگیر جانے والی معلوم ہوتی ہے، ڈرائیور نے کہا ہاں یہ ٹرین مونگیر جاتی ہے، ایک ہی ٹرین ہے جو دن بھر میں کئی بار آتی اور جاتی ہے۔ مونگیر جانے والی اس ٹرین کے ذکر سے رضوان قیصر صاحب کا خیال آیا تھا پھر یہ بھی خیال آیا کہ وہ ہاسپیٹل میں زیرِ علاج ہیں۔ بیگوسرائے سے لکھمنیاں آتے ہوئے مونگیر کی ٹرین سے خیال کی مسافت تو بظاہر طے کردیا تھا مگر کیا معلوم تھا کہ رضوان قیصر صاحب سے اب ملاقات نہیں ہوگی۔
ٹرین مونگیر کی طرف روانہ ہوگئی تھی اور چند لمحوں کے بعد نگاہوں سے اوجھل ہوگئی، اسے تھوڑی دیر کے بعد اسی راستے سے گزرنا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے رضوان قیصر صاحب سے کہا تھا کہ اب مونگیر کا فاصلہ کم ہوگیا ہے۔ ٹرین نے سفر کو آسان بنادیا ہے۔ اِس وقت رات کے تین بجے ہیں، سحری کا وقت شروع ہونے والا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کہیں قریب سے ٹرین سیٹی بجاتی ہوئی گزر رہی ہے :
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
(منیرؔ نیازی)
2
آج مئی کی 1 تاریخ ہے اور میں اسی مقام پر ہوں جہاں مندرجہ بالا تحریر وجود میں آئی۔ ایک مئی 2021 سے ایک مئی 2022 کا یہ عرصہ کتنا تیز تر گزرا ہے۔ تاریخ کتنی جلد بدل جاتی ہے اور کتنی جلد خود کو دہرانے لگتی ہے لیکن زیاں کا احساس مکمل طور پر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ چند جملے رضوان قیصر صاحب کے انتقال کے بعد قلمبند ہوگئے لیکن کہیں شائع نہیں ہوئے، اگر یہ شائع ہوجاتے تو بھی زیاں کا احساس کیا کم ہوجاتا، یہ خیال آیا کہ ایک سال کے بعد ہی سہی اسے دوبارہ دیکھنے میں حرج کیا ہے، لیکن اسے پڑھتے ہوئے ایسا لگاکہ جیسے اس کی معنویت اور تازگی کا سارا مدار ہمارے احساس سے ہے۔یہی وہ احساس ہےجو میری طاقت ہے۔جامعہ کے محب الحسن بلاک کی دوسری منزل پر گزشتہ چند مہینوں سے میں بیٹھتا ہوں، یہ شعبۂ اردو کا ہی کمرہ ہے، پہلے بھی ادھر آنا ہوتا تھا مگر اتنا نہیں، ادھر آتے ہوئے فطری طور پر رضوان قیصر صاحب کی یاد آجاتی ہے، ان کا کمرہ گراؤنڈ فلور پر تھا، دروازے پر نیم پلیٹ دیکھ کر مجھے لگتا تھاکہ جیسے دروازہ کھلے گا اور ان سے ملاقات ہوگی۔ مہینوں مجھے نیم پلیٹ نے کچھ افسردہ رکھا، غیر شعوری طور پر نگاہ قیصر صاحب کے کمرے کی طرف چلی جاتی ۔ نیم پلیٹ کیا کچھ کہتی ہے اس کا تعلق بھی ہماری نظر سے ہے اور اس نظر سے جس کا تعلق علم سے ہی نہیں احساس سے بھی ہے ۔ نیم پلیٹ مستقل ایک کہانی کا عنوان بن جاتی ہے۔ کہانی کا تعلق جتنا موجودگی سے ہے اس سے کہیں زیادہ غیاب سے ہے۔ کہانی غیاب کے بغیر نہ بنتی ہے نہ دیر پا ہوتی ہے۔اس مرتبہ بیگوسرائے ریلوے اسٹیشن سے گزرتے ہوئے مونگیر جانے والی ٹرین نظر نہیں آئی، شاید وہ جا چکی تھی یا اسے کچھ دیر کے بعد جانا تھا، یہ وہی وقت ہے جس پر ہمارا اختیار نہیں ۔ بعض اوقات ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وقت ہمارے ساتھ ہے یا ہم وقت کے ساتھ ہیں ۔رضوان قیصر صاحب تاریخ کے ایک اسکالر ی حیثیت سے جب تاریخ کا ذکر کرتے تھے تو تاریخ پر وقت کا گمان ہوتا تھا اس کی وجہ رضوان قیصر صاحب کا وہ تاریخی شعور تھا جو ادبی مطالعات کے ساتھ بنا تھا ۔ وقت اور تاریخ میں فرق کرنے اور فرق نہ کر پانے کی ضرورت ہمیشہ ہوتی بھی نہیں۔وقت بہرحال گزرا چلا جاتا ہے ۔ تاریخ کا کوئی ورق ہمارے لیے بامعنی اس وقت بنتا ہے جب ہم اس ورق کو ماضی کے سیاق میں دیکھنے کے ساتھ حال سے اس کا کوئی رشتہ قائم کر پاتے ہیں ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

