Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

باندہ کے نواب خاندان  کی ایمان افروز  نعتیہ شاعری کا ادبی طرۂ امتیاز” رنگ باندی” – ابوالحسن محمد یاسر رضا باندوی

by adbimiras مئی 9, 2022
by adbimiras مئی 9, 2022 0 comment

وجاروب کش، آستانۂ گلزارِ حسن  نبیرۂ استادِ زمن، پرانہ شہر بریلی شریف

بندیل کھنڈ کی تاریخ   میں یوں تو بہت سے  عاشقان رسول ﷺ   گزرے ہیں جن کے نعتیہ کلام سے ہر دور  میں  عشاق کے کلیجے ٹھنڈے ہوتے رہے ہیں مگر ان میں ان حضرات کی اکثریترہیہے، جو مدارس اسلامیہ میں قال الله و قال الرسول  کا درس دیتے رہے  اور اسی میں اپنی زندگی وقف کر دی۔جبکہتھوڑی سی تعداد ان  مجاہدین کی رہی  ہے جنہوں نے وطن عزیز کے لیے اپنی قربانیاں پیش کیں اور دین متین کی آبیاری  اپنے خون سے کی۔ ان دونوں جماعتوں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اگر سیف و قلم  اور دونوں میں یکساں مہارت رکھنے والے مجاہدین کی باتکیجائے،تواس  جماعت  کے پاس   ایک کی جگہ دو اوصاف حمیدہ  جمع ہوئے، پھر بھی ان حضرات کا انداز فقیرانہ تھا۔ان مجاہدین میں بھی بہت کم ایسے ہیں جن کے کلام محفوظ ہیں۔ ان میں سے بھی ایک طبقہ  ایسا ہے، جو تعداد کےا عتبار سے  تو  بہت  کم بچتا ہے لیکن سیف و قلم دونوں  میں یکساں مہارت ہونے کی بنیاد پر، دونوں  میدانوں میں امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ انجام دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔اورانھیں کے بیچ ایسی ہی فقیرانہ طبیعت کے مالک چند مسلمان جاگیردار اور نواب بھی  گزرے ہیں،  جن کا  خمیر تو فقیرانہ تھا مگر وہ تزک و احتشام کے ساتھ شاہانہ  شان و شوکت کے امین بھی تھے۔ ان کی اہمیت اس لیے اور بھی زیادہ تھی کہ  اپنے صوبہ میں، یہ چند ہی ایسے گنتی کے مسلمان  خاندان تھے ،جن کےشاہی   ازاربند کی رونق دیکھ کر،کوئی بھی فرد چاہے وہ کسی قوم کا ہو،ایک عام مفلس مسلمان کی  پھٹی ٹوپیوں پر طنز کرنے کی ہمت نہیں  کرتا تھا۔اور انہیں رؤساء کے طبقے  میں،  انگوٹھی  میں نگینے کی حیثیت رکھنے والا ایک گھرانہ ایسا بھی ہوا، جو  اس وقت سے آج تک مسلمانوں کی   عصمت کے امینوں میں  شمار کیاجاتا ہے۔  یعنی باندہ کا نواب خاندان، جس  کے زیادہ تر ا فراد کی تعلیم و تربیت، اس دور کے ایسے  بوریا نشینوں نے کی، جو اپنے وقت کے نہ صرف  اقطاب و ابدال  تھے بلکہ   صاحبان اہل قلم  کے سردار بھی  مانےجاتےتھے۔  یہی  وجہ  ہے کہ  اس خاندان کو آج بھی، نہ صرف  علماء و مشائخ کا، بلکہ غالب جیسے وقت کے  ایک ادب شناس شاعر  کا ادب کرنے کا سلیقہ بھی بخوبی آتا ہے۔ خاندان کے ان سلاطین کو، اس زمانے سے ہی صاحب سیف و قلم  کہا جاتا ہے، بلکہ جا بجا حکومتی  سطح پر بھی، سیف و قلم کا نشان، نمایاں طور پر دستاویزاتمیں محفوظ ہے۔ یعنی انہوں نے جہاں تاج و سریر کی زینت بڑھائی، وہیں  اپنی خوش فکری اور نغز گوئی سے، ایوان شاعری  کی شان و شوکت میں  بھیاضافہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ الله رب العزت نے، پیشوایان دکن کی بیٹی سے نکلیاس  خاندانی شاخ  کو بھی،،بالکل دکن جیسا سرخرو کیا۔ یعنی یہاں بندیل کھنڈ میں نواب خاندان کو،  ملک و سلطنت کے ساتھ ساتھ،اسی  ذوق تخلیق اور شاعرانہ فکر و وجدان  سے،بہرۂ وافر عطا فرمایا۔ شاہان دکن اس وقت اردو یا دکنی شاعری کے امین سمجھے جاتے تھے۔ اور بعض نے، فارسی زبان کو   بھی شعری و  تخلیقی  اظہار کا ذریعہ بنایا ،  اور پھر فارسی آمیز اردو شاعری  کے ساتھ ساتھ کچھ  اردو آمیز فارسی کلام بھی کہے۔خوش قسمتی  سے، یہاں  کے زیادہ تر حکمرانوں کے، کلام محفوظ ہیں۔ اور ایک آدھ کو چھوڑ کر سب کا کلام طبع بھی ہو چکا ہے۔ مگر جب اس علمی خاندان کے نواسوں  نے،بندیل کھنڈ میں سکونت اختیار کی تو خانہ جنگی کے حالات کے پیش نظر، سب اتھل پتھل ہو کر رہ گیا۔ نواب باندہ، فاتح بندیل کھنڈ، نواب علی بہادر اول  کی قلم کا کافی شہراء ہوا کرتا تھا۔ جن کے کلام میں بیک وقت بندیلی  اور ا ودھی  رنگ کےامتزاجکی، امتیازی خصوصیت،موجودتھی،جسکا چرچا  سننے کو ملا۔ مگر صد افسوس  ان کا مجموعۂکلام نہ مل سکا۔اسی طرح نواب ذوالفقار بہادر اول   کے  کلام میں بھی،  اسی رنگ کا چرچا اس علاقے میں سنا گیا ۔ پھر  بہت کوشش کرنے پر ایک  فارسی کلام نوابی  جامع مسجد  کے صدر دروازے پر بائیں جانب،  بطور کتبہ تاریخ تعمیر  دکھائی دیا، جو کہ  اشرف الامراء(خطاب شاہی) حافظ  نواب علی بہادر علی ثانی المعروف نواب باندہ ثانی   کے نام سے منسوب ہے؛ جس میں ان کے استاد محترم  مرزا عباس بیگ عباسؔ بریلوی کا فکری و ادبی  رنگ صاف نظر آتا ہے :

خوشا ایں  مسجد نواب باندہ
پئے سال بنا چوں در نوشتم
بسام دہ دو صد ہم نود یک
پئے کندیدن لوح مصفا
الہی بانئ و ہم دیگراں را
دعا نامیؔ شود  مقبول یا رب
  یہ رفعت ہمسر عرش معلا
عبادت خانہ اسلام گفتہ
شد از منصب دلی ترمیم بیشک
محمد یارؔ خاں تاریخ  گفتہ
برابر ایں عمل بخشی  خیارا
بحقصاحببطحاویثرب
مسجد تعمیر کردہ  ذو الفقار  علی بہادر

مذکورہ  کلام کے آخری مصرع میں، سرکار دو عالم شاہ بطحا ﷺ    کی نعت کا نرالا انداز، نعت میں رنگ باندی کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔اوراسی شعر کے مصرعۂ اولی سے  نواب علی بہادر  ثانی کا تخلص نامی معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ تاریخی شواہد سے آپ کا تخلص علی ظاہر ہوتا ہے۔   قدیم دستاویزات اور تحقیقی مواد  کی قلت  کی بنا پر، متعدد قلمکاروں نے قیاس سے کام لیا ہے ۔ اسی وجہ سے راقم نے بھی اس مقالہ میں  تسلسل کو قائم رکھنے کی غرض سے،دو  تین جگہ قیاس کیا ہے، جس کی وجہ سے،  نہ صرف اس معاملے میں بلکہ رنگ باندی میں، دکنی رنگ کے حوالے سے  ، مستانی بیگم کا  دکنی خاندان سے تعلق بھی، قیاس کا ہی نتیجہ ہے؛ جو تسلسل کے ساتھ آج بھی، اختلاف رائے کیآماجگاہ بنا ہوا ہے ۔  مگر پھر بھی،اگرچہ قدیم دکنی  تسلسل سے  اس رنگ باندی کی نسلی و نسبی کڑیاں، بھلے ہی جڑیں یا نہ جڑیں، مگر جب  تشنگان ادب ان اشعار کو پڑھیں گے تو اس رنگ باندی کے ادبی تسلسل  اور علمی چاشنی کی تصدیق  خود کر دیںگے؛  جس  میں دکنی   زبان کا ادبی خون رواں ہے ۔ نواب صاحب کی تعمیر کردہ نواب سرائے  کے صدر دروازے پر لکھا،   ان کا یہ  شعر   دیکھ کر، خود فیصلہ کریں کہ مذکورہ بات صحیح ہے یا نہیں :

نہ مرداں کہ مانند پس وے بقائے   پل و مسجد و چاہ مہماں سرائے

حافظ نواب علی بہادر علی کی مشہور زمانہ مثنوی ‘مہر و ماہ ‘ میں بھی،اسی رنگ باندی کا عکس  دکھتا  ہے؛ جس میں مستعمل  نطق اعرابی، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ عربی و فارسی  تعلیم کے لیے، مولانا عبد الحلیم صاحب ، قاری عبد الرحمان اور مولانا خرم علی جیسی جید اکابرشخصیتوں سے منسلک  رہے ۔جس کی بنیاد پر یہ روحانی  رنگ،  فارسی کی چاشنی کے ساتھ رچا بسا ہے ۔  ساتھ ہی عشق رسول  ﷺ   بھی انھیں حضرات  کا ہے،جو آپ کی تربیتی گھٹی میں پلایاگیاہے۔ اب اگر شاعری کی بات کریں تو،آپ کی نعتیہ شاعری میں، آپ کے استاد  منشی منیر شکوہابادی   کا فن عروض اور   دوسرے استاد خاص مرزا عباس بیگ نادر بریلوی  کا غزلیاتی ادب، پوری شان و شوکت کے ساتھ جولہ باری کر رہا ہے؛ جن کی علمی و ادبی کڑیاں، آتش لکھنوی  جیسے ممتاز شاعر کے تربیتی  اندازِ بیان سے، جڑی ہوئی ہیں ۔ آپ صاحبِ دیوان  شاعر ہوئے ہیں مگر آپ کا دیوان دستیاب نہیں۔ پھر بھی آپ کی  شاعری کا چرچا  جگ ظاہر ہے اور ساتھ ہی  شعرو ادب کی خصوصی محافل کے ذریعہ متعدد شعرا فیض یاب ہوتے  رہے ہیں،  جن کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اب چاہے یہ  محافل باندہ (بندیل کھنڈ ) کی ہوں یا نقل مکانی کے بعد خاندان کے وطن ثانی  اندور (مالوہ ) کی یا پھر وطن ثالث بھوپال کی، اس خاندان نے   ہر دور میں رنگ باندی کو، اپنی محافل کی ادبی شناخت کے طور پر متعارف کرایا ہے  ۔حافظ نواب علی بہادر علی ثانی  کے دور کی ان محافل میں، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ    کا خصوصی اہتمام ہوتا ، میلاد مصطفیٰ  ﷺ   کی خصوصی محافل   کثرت سے منعقد ہوتیں؛ اور کیوں نہ ہوں،  حافظ نواب علی بہادر  علی ثانی   کے پیر و مرشد، سلسلۂ ولی اللہی کے روشن چراغ  حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی    نے،  ایک بار خود  اس محفل میں تشریف لا لکر، اس سلسلہ کوک یہاں پر مضبوط کیا تھا  اور اس کو جاری رکھنے کی تاکید کی تھی ۔ آپ کی متکتابجعدد کتب و رسائل میں ان محافل کی فضیلت درج ہے، جن میں  آپ کی ایک  کتاب  فیوض الحرمین  کا نام  نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ اسی روحانی ماحول میں سیکڑوں عاشقان رسول ﷺ    کے ادبی جواہر پاروں کے ذریعہ،  بارگاہ رسالت میں خراج عقیدت پیش کئے  جاتے رہے ہیں ۔ یہ سلسلہ،آپکی تینوں اولادوں کےدور میں بھی جاری رہا۔آپ کے تینوں صاحبزادے یعنی نواب بہادر نوشہ ؔ، امراؤ بہادر دلیرؔ  اورحافظ نواب  سردار بہادر فریادؔ  اس محاز کے روشن ستارے رہے۔ جنہوں نے اپنے  سے پیچھے آنے والے متعدد اہلِ دل کو، اپنے اکابر کی طرز پر ان محافل کے ذریعہ، عشق ِرسول ﷺ    سے روشن کیا۔اِن تمام روشن چراغوں میں   خصوصی طور پر نواب بہادر نوشہؔ  کے یہاں رہ کر  تربیت یافتہ  طوطی شکرِستان مالوہ  جناب لال محمد گلؔ اندوری  کا نام   بڑے ادب و احترام سے لیا جاتا  ہے۔آپ خاندان کے افراد میں سے تو نہیں تھے مگر  خاندان کی انھیں محافل سے تربیت یافتہ تھے۔ آپ کے بغیر شاید ہی کوئی محفل ہوئیہو۔خاندان کے سارے  بڑے  اور نواب صاحب خود بھی یہی  کہتے سنے گئے کہ "مشاعرے میں گلؔ صاحب کے بنا جان نہیں آتی”، آپ کے   نواب صاحب نے،   آپ کی انہیں خدمات سے  خوش ہو کر، ایک محفل میں گولڈ مڈل  دے کر طوطئ شکرِستان مالوہ   کا خطاب عطا کیا۔  ساتھ ہی   دوسرے نواب صاحب یعنی نواب زمان بہادر نے بھی، ایک محفل میں متاثر ہو کر  آپ کو  بلبل ِچمنستانِ مالوہ کا خطاب دیا  اور چاندی کا تمغہ بھی  تحفے میں عنایت فرمایا۔ انہیں امتیازی خصوصیات کی بنا پر، آپ کا ایک نعتیہ کلام یہاں نقل کیا جا رہا ہے :

کب مدینے کی زیارت ہمیں ہوگی یا رب
جتنے مشکل ہیں میرے  کام زمانے میں نبی
آکے جب حشر میں چہرے سے وہ الٹیں گے نقاب
جلوہ فرما جو مسیحا ئے  قیامت ہونگے
ہنس کے بلبل نے کہا گلؔ نہ ہو تویوں گریاں
  کون سے دن تیرے محبوب کے مہماں ہونگے
آپ کی ایک نظر میں وہ سب آساں ہونگے
مر مٹیں گے   کئی،  اور سیکڑوں  قرباں  ہونگے
حق میں اپنے وہ مداوائے  مریضاں ہونگے
حشرمیں جبکہ نبی شافع عصیاں ہونگے

ظاہر ہے کہ باندہ سے نقل مکانی کرنے کے بعد یہ معمولات ختم نہیں ہوئے بلکہ اسی طرح اندور (مالوہ ) میں بھی نعت رسول ﷺ    کی محفلیں گرم رہتی تھیں ،  نواب بہادر نوشہؔ خود ایک صاحب دیوان  و بلند پایہ اہل قلم تھے۔ ساتھ ہی  آپ کے شہزادے  نواب زمان بہادر(المعروف نواب امجد علی ) نوابؔ آف باندہ جو آپ ہی کا مظہر  بن کر ابھرے،جنھیں میر محمد عباس بجنوری  اور مولانا الطاف حسین  حالی  سے شرف تلمذ حاصل تھا ۔ایک بار  جب رامپور کے ایک مشاعرے میں شرکت کی اور داغ دہلوی کو  اپنا مندرجہ ذیل نعتیہ  کلام دکھایا تو  داغؔ صاحب  نے حکم دیا کہ آپ اپنے چچا جناب  حافظ نواب  سردار بہادر فریادؔ سے گھر پر ہی اصلاح کرا لیا کرو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ  داغ  اس گھرانے سے کس قدر واقف تھے ،  کلام ملاحظہ ہو :

چھپا لے داور محشر اسے رحمت کے دامن میں
کوئی  دیکھے تو خاطر روح نورِ مجسم کی
ثنائے  عارض ِچشم وہاں نوشاہ کرتا ہوں
مجھے نوابؔ مرتے دم  خیالِ روئے انور ہے
  سیہ کاری مری روشن نہ ہو اس روز روشن میں
سپیدی نور کی پھیری گئی   پہلے سے مدفن میں
عروسِ شاعری گو پا لیے ہیں پھول دامن میں
خدا چاہے تو ہر دم  نور برسے میرے مدفن میں

کلام سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں الله پاک نے اس خاندان کو،  نہ صرف صاحب سیف بنایا، بلکہ ایسا مضبوط قلم بھی عطا فرمایا جو دہلی سے لے کر بندیل کھنڈ ، مالوہ اور لکھنؤ کی  ادبی    ثقافت کے ساتھ شاہانِ دکن کی دکنی  چاشنی کو اپنی  ایک منفرد پہچان کے ساتھ قائم رکھے ہوئے ہے۔  حافظ نواب  سردار بہادر فریادؔ   نے پہلے اپنا تخلص حافظؔ رکھا اور پھر استاد داغ کے حکم پر فریاد تخلص اختیار فرمایا ۔ آپ اردو اور فارسی دونوں میں کلام کہتے تھے  اور خاندان کی سب سے قابل شخصیت سمجھے جاتے تھے ۔خاندان  باندہ کے متعدد بلندپایہ  شعراء؛ جیسے  نواب زماں بہادر ، نواب احسان علی بہادر ، یوسف علی بہادر ، ، علی بہادر،  حضور  بہادر  اور ولی محمد بیتاب اور احسان علی بہادر؛  سب آپ ہی کے شاگرد تھے ۔ آپ کا درس  نرالا تھا اور محافل کا انداز انوکھا ۔جس  میں  محافل نعت  کا تعظیمی اہتمام  اور جھوم کر ہدیہ صلاة و سلام پیشکرنےکےاندازکا تو جواب ہی نہیں ۔ مہاراجہ صاحب بہادر دیواس ،آپ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ان روحانی  محافل میں  آرزو لکھنوی اور  جناب مضطر خیرآبادی جیسی بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ،  مہاراجہ صاحب  بھی جلوہ فرما ہو جایا کرتے تھے ۔اسی ماحول میں آپ نے اپنے بیٹے نواب  احسان علی بہادر کو بھی، اپنے جیسا  بنانے کے لیے، استاد آرزو لکھنوی کو گھر بلا کر  اس سلسلے کو جاری رکھا ۔ آرزو صاحب نے بھی آپ کے حکم پر، یہاں اندور میں کافی عرصہ تک قیام فرمایا ۔یہاں تک کہ  نواب   احسان علی بہادر کے بیٹے  سرکار بہادر  المعروف افتخار علی بہادر  بھی آرزو لکھنوی سے ہی اپنے کلام  کی اصلاح کرواتے رہے ۔پھر والد کے حکم پر  سرکار بہادر  المعروف افتخار علی بہادر   اعلیٰ تعلیم کے لیے علیگڑھ چلے گئے، جہاں  استاد احسن مارہروی سے  فارسی اور  عربی میں معیاری دسترس حاصل کر لی  اور اسی پر بس نہیں بلکہ  نانا خواجہ سعید الدین شفق، جومرزا  غالب  کے شاگرد تھے؛ جن کی وجہ سے  آپ کے نعتیہ  کلام میں غالبیات کا اثر ملا اور دادا   حافظ نواب  سردار بہادر فریادؔ     جو داغ اور  منیر شکوہا بادی دونوں کے شاگرد تھے؛ ان   سے رنگ دہلی  ملا، اسی لیے آپ کے  نعتیہ کلام میں، اس کا اثر واضح نظر آتا ہے۔  کلام  نشان خاطر کریں :

ہوا ہوں عاشق روئے محمد ﷺ
بھلا فردوس کو کیا اس سے نسبت
یہاں تک چاہئے  عشق محمدﷺ
  مرا کعبہ ہے    یہ   کوئے محمد ﷺ
کہاں وہ اور کہاں سوئے  محمد ﷺ
کہ آئے سانس میں بوئے محمد ﷺ

اسی طرح نواب امراؤ بہادر دلیر رئیس باندہ کے تین دیوان شائع ہوچکے  ہیں :باغ دلفریب،دیوان دلیر جنگی اور سراج الانتظام۔ جن میں کثرت کے ساتھ نعتیہ  کلام موجود ہیں۔ علاوہ ازیں منقبت  وغیرہ کا ایک دلکش نظم و ضبط بھی موجود ہے۔ ان تمام  مناقب میں چار یاران مصطفیٰ  صدیق،  عمر، عثمان و  حیدر رضوان الله علیھم اجمعین   کا سلسلہ وار ذکر ہے ۔اسپرمستزاد یہ کہ صدیق اکبر رضی الله عنہ کی منقبت، الگ سے موجود ہے؛ جس سے  آپ  کے خاندان پر لگائے گئے رفض کے تمام  الزامات کی کھلی تردید ہوتی ہے ۔  پھر آل رسول و اہل بیت اطہار کا ذکر اور شہدائے کربلا پر سلام  اور بالخصوص سیدنا امام حسین  کی شان میں منقبت؛ خارجی عقائد کا قلعہ قمع کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے ۔ یہ سب بےجا باتیں،  آپ کے خاندان کے بارے میں سنی گئیں تھیں؛مگر  اتنی مضبوط سند کے ساتھ دلیر کے علاوہ کسی کا کلام اتنی بڑی تعداد میں منظر عام پر  نہیں آیا۔اسی لیے  کہا جاتا ہے کہ پورے خاندان کا کلام نہ دیکھو ،بس دلیرؔ کا دیکھ لو ۔ جس کا  اعتراف خود دلیر نے جا بجا کیا ہے ، اور تحدیث نعمت کے طور پر فرماتے ہیں :

کیونکر نہ ہو زبان کا دعوی مجھے دلیرؔ

شاگرد ہوں، منیر ؔکا،   سیدجلالؔ کا

اس شعر میں تحدیث نعمت کے ساتھ ساتھ، اپنے شفیق اساتذہ یعنی منیرؔ شکوہاآبادی اور جلالؔ لکھنوی  کا نام جس  ناز کے ساتھ لیا  گیا ہے ، اُس سے اِس  بات  کا  اندازہ ہوتا ہے کہ  آپ کا نعتیہ کلام، اِن حضرات کی نظروں سے ضرور گزرتا ہوگا اور خاندان کے بڑے حضرات بھی،   محافل میں سن کر اصلاح ضرور دیتے ہونگے۔   جس کی بنیاد پر آپ کا کلام  اُس دور کے اصولی اغلاط سے پاک  ہونے کے ساتھ ساتھ، ادب کے مضبوط دائرے  میں، فکری و ادبی  گشت کرتا نظر آتا ہے  ۔حالانکہ  اردو زبان کی عہد طفلی کے اس دور کے کلام میں، آج کے اہل علم کو کچھ خلا  ضرور نظر آئے گا،  مگر  اردو  کے ارتقائی سفر سے واقفیت رکھنے والے ادب شناس حضرات، درج زیل اشعار کا مطالعہ،ماضی   کے طفلان مکتب کے طور پر کریںگے  تو ہی لطف اندوز ہونگے :

المنت للہ کہ سردار ہمارا
محبوب خدا رحمت کونین ہے بیشک
مطلوب خدا عرش بریں پر جسے معراج
تھے  امت حضرت کی تمنا میں رسولاں
کیا خوف ہے آفات سے  محشر کے دلیر ؔجنگ
  محمود و محمد ہے مختار ہمارا
شافی امم سید ابرار ہمارا
ہے راز خفی کا وہ خبردار  ہمارا
مختوم رسل  محرم اسرار ہمارا
وہ ذات مبارک سے ہے  چھٹکار ہمارا

تیسرے  شعر کا مصرعہ ثانی  یہ بات صاف ظاہر کر رہا ہے کہ دلیر کا عقیدہ علم غیب رسول ﷺ    پر مسلم ہے ۔اسی طرح اپنے کلام میں جا بجا اپنے اکابر کے عقائد حقہ کی ترجمانی کرتے ہوئے  نظر آتے ہیں۔ اب آل نبی ﷺ    کی شان میں منقبت ہی کو دیکھ لیجیے کہ احقاق حق اور ابطال باطل کا کیسا جاندار و شاندار نمونہ  ہے:

آل نبی کے ذکر کو جب دل نے نکالا
ہے موجبِ نجات محبت رسول کی
موقف کے جبکہ ہووے مصیبت میں مبتلا
الفت جو آل کی ہے، محبت رسول کی
آلِ نبی کی انس سے منکر ہے وہابی
  صلو علیہ سلمہ‘ تعلی
مغرب میں تابِ مہر سے جس دن ہو اجالا
ہووے محبتِ آل، شفاعت سے نرالا
شیر و شکر میں زہر کو ہرگز نہ ملا لا
بھر جام دلیرؔ جنگ،  محبت سے  پلا لا

مقطع کا مصرع اولی جس طرح خارجی وہابی  عقائد کی تردید کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح  دیگر  کلام کا مطالعہ کرنے پر بارہا دیکھا جاتا ہے کہ  جا بجا رسول عربیﷺ   کو مدد کے لیے پکارتے ہیں ۔اسی طرح آپ کی لکھی ہوئی حمد میں بھی نعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے،  جو  ادبی طور پر رنگ باندی کی موجودگی کی توثیق کرتا ہے۔ جیسے یہ کلام دیکھیں :

کہاں طاقت جو لکھوں وصف شان کبریائی کا
تو ہیروزی رساں ہے، تو ہی رازق ،تو ہی خالق ہے
ڈبوئیاپنی کشتی جس نے دریائےحقیقتمیں

شبِ معراج اُس جا تک شہ لولاک پہنچے تھے
سوا تیرے ہے کون ایساجو بر لاتا ہے حاجت کو

  ہمیشہمعترفذہن رسا ہے نارسائی کا
کھڑے ہیں سب ترے در  پر لیے کاسہ گدائی کا
شناور بس وہی نکلا محیطِآشنائی کا
جہاں ہے حوصلہ َپستاں فرشتوں کیرسائی کا
دلیر اب کیوں نہ خواہاں تجھ سے ہو مشکل کشائی کا

ٹھیک اسی طرح  چار  یاران مصطفیٰ  کی شان میں لکھی گئی منقبت  بھی،رفض کے پرخچے اڑاتی نظر آتی ہے۔  جس کا ایک نمونہ دیکھیں:

جہاں میں آپ کے صدیق اکبر یار  کہلائے
حق و باطل میں  کیا تفریق کی فاروق عادل نے
ہر ایک قاری پر احساں حضرت عثماں کا ہے بیشک
لقب شاہ ولایت حیدر کرار ہے جن کا
دلیر مدح خواں رکھتا ہے امید کرم مولا
  ادا سب کر دیا جو حق تھا رفاقت کا
کیا دین مبین روشن مٹایا نام ظلمت کا
انہیں نے علم پھیلایا زمانے میں قراءت کا
انہیں کی ذات سے ہے نام دنیا میں شجاعت کا
اٹھائے زندگی میں یہ بھی لفط عیش عشرت کا

دلیر  کے لخت جگر نواب سیف علی سیافؔ  کے کلام میں بھی یہی فکر موجود ہے ۔چار یاروں کے عشق میں ڈوبی ہوئے ،   اسی روحانی  و ادبی رنگ میں رنگی، سیاف کی لکھی   ایک منقبت  پیش خدمت ہے :

اپنے ہونٹوں سے لگایا جب سے جامِ چار یار
جب نکیرین آکے پوچھیں گے کہوں گا قبر میں

یہ عقیدہ ہے مرا اور میرا یہ ایمان ہے
پارہ پارہ ہو گئے دل کافروں کے اُس گھڑی
سہل اے سیّافؔ کیوں کر ہوں نہ اپنی سختیاں

  مست  عرفاں ہو رہا ہوں میں بنامِ چار یار
امتِ خیر الوری’ ہوں اور غلامِ چار یار
انبیاء کے بعد بر تر ہے مقامِ چار یار
لشکرِ اعدا میں جب چمکی سنان چار یار
ہم دمِ مشکل لیا کرتے ہیں نامِ چار یار

اسی  قافیہ پر بہ ردیفِ لام  سیافؔ کا ایک اور  قلمی جوہر ملاحظہ ہو :

کیوں نہ روز و شب رہے مجھ کو خیالِ چار یار
ہیں جو نور کبریا حاصل ہے قرب حق انہیں
وجہہ  خوشنودئ خالق ہے جو چاروں کی خوشی
بدر میں جنگِ احد میں خیبر و صفّین(محلنظر)  میں
راہ باطل چھوڑ کر پکڑو صراطِ مستقیم
صبر میں عدل و شُجاعت  میں خیال و خلق میں
  ہوں ہمیشہ سے میں شیدائے جمالِ چار یار
دیکھ کر دشمن ہیں سب حیراں وصالِ چار یار
باعث تسکیں نہ کیوں کر ہو جمالِ چار یار
کانپ اٹھے دیکھ کر اعدا جلالِ  چار یار
تھا یہی کُفّار سے ہر دم سوالِ  چار یار
کون ہے سیّافؔ دنیا میں مثال چار یار

یہ سیافؔ و دلیرؔ دونوں کے  چند کلام پیش کئے گئے ۔جن میں اگر صرف دلیرؔ کی بات  کریں تو  دلیر کے دیوان سے، سیکڑوں  اشعار نکال کر، الگ سے ان کا ایک  نعتیہ مجموعہ بآسانی مرتب کیا جا سکتا ہے؛ جو بیک وقت نہ صرف  اپنے خاندان کے قدیم  دینی افکار و نظریات کی ترجمانی  کرتا ہے بلکہ    نعتیہ شعرو ادب  کے ذریعہ،  خاندان کی اس  امتیازی خصوصیت کو بھی ظاہر کر دیتا ہے،جس کی وجہ سے ماضی میں ،رنگ دبستان لکھنؤ کے وجود میں آنے کا راستہ صاف ہوا ہے ۔ دلیرؔ کا ہمہ جہت نعتیہ    کلام  ہی، اتنی بڑی تعداد میں موجود ہے کہ، اس کی ایک جہت پر گفتگو     کرتے کرتے    ہی، مکمل       کتاب   تیار ہو      جائے ۔   پھر پورے    کلام  پر  کسی مختصر      مقالے   میں کیسے    کوئی    تبصرہ    ہو۔لہٰذا اب    دلیرؔ و سیافؔ     کے ذریعہ خاندان کے ادبی طرہ امتیاز یعنی رنگ باندی کی طرف فکری  توجہ مبذول کی جاتی ہے ۔

اس مقالے میں مذکورہ تمام حضرات تو خاندان  باندہ کے چند ایک فرد ہیں،جن کا    ادبی خدمات میں ایک بڑا حصہ ہے۔اسی طرح اگر تلاش کیا جائے تو نہ معلوم کتنے مقالے، پی  ایچ ڈی کے لیے پیش کئے جا سکتے ہیں ۔راقم تو کئی سال سے اس خاندان کے اس ادبی رنگ پر مطالعہ کر رہا ہے اور فقط دلیرؔ اور سیافؔ کی شاعری کو پڑھ کر یہ تصدیق کرتا ہے کہ رنگِ دبستان لکھنؤ  کا وجود اسی ادبی  نوابی  رنگ کی بنیاد پر ظاہر ہوا ہے ۔خاندان ِباندہ کی اسی  امتیازی خصوصیت کو” رنگِ باندی” سے ماضی میں بھی کئی بار تعبیر کیا جا چکا ہے ۔جیسے سیافؔ کے مجموعۂ غزلیات "سیف و قلم” میں ایک  جگہ،سیاؔف کا سرسری تعارف کراتے ہوئے،    پروفیسر عزیز اندوری  رقم طراز ہیں:

"نواب سیافؔ کی غزل پر ‘رنگِ باندی’  پوری طرح غالب ہے۔وہی رنگ باندی جس کے امین اس خاندان باندہ    کے بہت    سے شاعر ر ہے ہیں اور جن کی وجہ سے یہ رنگِ دبستان لکھنؤکی امتیازی شان کی نمائندگی کر رہا     ہے”۔

سیف و قلم(مجموعہ  غزلیات )  از مرحوم نواب سیف علی بہادر  آف باندہ  سیاف ص ٦

یعنی یہ رنگِ باندی  اپنے عہد کی  عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ؛ دکن  ، بندیل کھنڈ اور اودھ کی چاشنی  میں ڈوبی ہوئی، موجودہ اردو کے اس رنگ کی خلقت کا  بھی باعث ہے، جسے اس دور میں ادب کی اصطلاح میں،   رنگ ِدبستان لکھنؤ کہا جاتا ہے۔مطالعہ کرنے پر، اور دیگر مستند اقوال کو سن کر پتا چلتا ہے کہ  ان صاحبانِ قلم نے شعوری طور پر اس رنگ کے لیے وہ راہ اختیار کی کہ  اس لکھنوی رنگ میں،دہلی  کا انداز بھی نمودار  ہوتا صاف دکھائی دیتا ہے۔ ساتھ ہی قدیم تہذیب ہونے کی وجہ سے، اس رنگ میں لکھنؤ جیسی ریختی اور عیش پسندی نہیں ہے ۔اب عشق حقیقی کی آگ میں تپ کر  یہ معجون جب اتنا کامل  ہو گیا ہے کہ پاکدامنی کے ساتھ،   اتنی بڑی تعداد میں مختلف ادبی ثقافتوں کی ترجمانی کرتا ہے   تو اسے باقاعدہ ایک     صنعت کے طور پر متعارف کروانا کس قدر مستحسن ہوگا؛جب کہ اس وقت کی کمسن اردو زبان کی شاعری  کو،اِس رجحان کی اشد ضرورت تھی ۔اِس نادر و نایاب اصطلاح کا    یہ نظریہ مختلف حقائق کے پیشِ نظر وجود میں آیا۔ اول تو یہ کہ باندہ شہر کی نسبت اِس  کو حاصل ہوئی۔ یہ وہی باندہ ہے جس کا ذکر غالب کی تحریروں میں ملتا ہے۔ جب سفر کلکتہ کے دوران غالب کا  پڑاؤ باندہ میں رہا اور اپنے انداز میں رنگ باندی کا علمی ماحول دیکھنے کی تمنا ظاہر کی ہے :

غالب خدا کرے کہ سوار زمند ناز

دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں

وجہ تسمیہ اس  لفظ باندی کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ  اس علاقے میں سب سے پہلے یہ لفظ بندنا یا بندگی سے نکال کر، باقاعدہ نواب خاندان کے اشعار کی خصوصی  صنعت شعری کے طور پر  استعمال ہوا۔  جس کو بعد میں  نعت  کے طور پر سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم    کی باندی بنا کر پیش کیا گیا ،  چونکہ اس وقت سے اب تک،اس پر  کبھی لکھا، پڑھا یا سنا نہیں گیا،اس لیے یہ نام قارئین کے لیے نیا ہو سکتا ہے۔ مگر بات و جذبات وہی پرانے ہیں جس کی مختلف واضح اور نا واضح تاریخی اسباب  و ادبی نکات کی وجہ سے ایک خصوصی  اہمیت ہے۔حالانکہ اِس دور کے نوح عالم اندوری (متوفی ٢٠٢١ ) تک کے تقریبا  سبھی افراد کے کلام  محفوظ ہیں، مگر رنگ باندی کا اصل رنگ  دیکھنے کے لیے، اسی وقت کے پرانے کلام مطلوب تھے؛لہٰذااس وقت کے  خاندان  کے تمام مذکورہ و غیر مذکورہ سبھی اہم افراد کے کلام کو، جستجو کی حد تک تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر بالآخر ہار کر  بیٹھنا پڑا۔ کیونکہ  خاندان کے زیادہ ترکلام یا تو اس دور میں نظر ِآتش کر دیے  گئے تھے  یا پھر شائع  نہیں ہو سکے ۔جو رہ بھی گئے وہ وقت کے  آغوش میں گرد آلود ہو گئے  ۔اس  گرد کی صفائی میں کچھ   کا وجود ہی ختم ہو گیا اور پھرگرد وغبار سے خود آلودہ ہونے کے بعد  نواب  شمشیر بہادر عرف نواب امراؤ بہادر  دلیرؔ اور نواب سیف علی بہادر  سیافؔ کے  کلام ہی  خاصی تعداد میں مل سکے۔ پھر دشواری یہ کہ   قدیم رسم الخط میں  لکھے ہوئے کلام، بوسیدہ  کاغذ اور عمر رسیدہ سیاہی وہ بھی نا قدروں کے بیچ  تلاش کرنے سے لے کر کام کے اختتام تک، ماتھے کا پسینہ ایڑی میں آ گیا ۔پھر احسان الحق قریشی المعروف آوارہ   احساؔن جیسے قلمکار کی متعلقہ   تصنیف،   علی بہادر ثانی پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ علاوہ ازیں اِس نواب خاندان کے دیگرقدر دان  محبین جیسے  ڈاکٹر عزیز اندوری  اور ڈاکٹر رشید اندوری  کی تحریریں پڑھ کر بخوبی اندازہ ہو گیا کہ  اِن دونوں باپ بیٹوں، دلیر و سیاف  نے ،دبستانِ لکھنؤکی بنیاد رکھنے کے لیے، اپنے انداز میں رنگِ باندی کو متعارف کروایا۔  اور کیوں نہ ہو سیاف  تو آرزو ؔ لکھنوی کے شاگرد ٹھہرے اور دلؔیر، جلالؔ لکھنوی کے۔   اس پر ہی بس نہیں بلکہ سید دائم  علی ، عبد الحلیم  جیسے دیگر اکابرینوقت کا روحانی و علمی فیض، اس خاندان کی گھٹی میں تھا۔مستزاد یہ کہ  عبد الحی فرنگی محلی  اورسید محمد اسماعیل حسین  منیرؔشکوہ آبادی  جیسی مختلف  بلند پایہ شخصیتوں کی ظاہری و باطنی صحبت داری سے،خاندان میں  ‘تخم تاثیر اثر’ کے ذریعہ کچھ نہ کچھ تو     ‘کند ہم جنس باہم جنس پرواز’   والی بات تو آ ہی گئی۔ سیافؔ و دلیر ؔ  کے دیوان منظر عام پر موجود ہونے کی بنا پر،  ان حضرات کے کلام کی   اپنی ایک الگ   امتیازی حیثیت ہے ۔  اسی لیے مطالعہ کرنے پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ  ان دونوں  حضرات کی نعتیہ شاعری میں، خاندان کی سبھی نمایاں  ہستیوں  کے  اسلوبِ بیان کے پایے جانے کے  ساتھ ساتھ،  اکابر کی شاعرانہ   پیکر تراشی  کی موجودگی بھی ہے ۔اور اسی کی بنا پر  کلام پڑھنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ   ان کے روحانی کلام میں، جا بجا طویل مدت تک تصوف کے گہرے سمندر میں   سانس  روک کر  غوطہ زن  رہنے کی معیاری صلاحیت، بدرجۂ اتم موجود  ہے  ۔ اسی رنگ میں سادگی کے ساتھ    نور وحدت سے آراستہ عشق رسول ﷺ    کی داخلی کیفیات کی ترجمانی کرتے ہوئے    سیافؔ کہتے ہیں:

وحدت میں یہ کثرت بھی اک کھیل  ہے قدرت کا
وہ ایک ہے اور پھر بھی ہر جا نظر آتا ہے
__________________________
حق   بیں نظر ہو   جس   کی     وہ     سیافؔ      دیکھ لے
ہر شےمیں ہر جگہ  پہ اسی کا ظہور ہے

اب اسی فکر میں ڈوبا ہوا دلیر کا کلام بھی  دیکھیں :

زمیں میں، آسماں میں، کوہ و صحرا میں، گلستاں میں،
ہر اک شے میں نظر آیا، ہمیں جلوہ  خدائی کا
سوا تیرے ہے کون ایسا، جو بر لاتا ہے حاجت کو
دلیرؔ اب  کیوں نہ خواہاں تجھ سے ہو  مشکل کشائی کا

اس طرح کے اشعار کے  مطالعہ سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ  ان حضرات کے کلام میں  لکھنوی رنگ تغزل کی پیروی  تو ہے ہی،ساتھ ساتھ حد ادب کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ۔  ان کے نعتیہ کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ سلاست و صفائی ، روانی  اور  برجستگی  پر انھیں کامل  عبور حاصل تھا ۔جبھیتودائرہ ادب میں رہتے ہوئے بھی  کلام میں شوخی اور  معاملہ بندی کی جھلک آ گئی ہے،  جو لکھنوی طرزو فکر کی یاد دلاتی ہے ۔الحاصل یہ کہ اس دور میں دہلی اور لکھنؤ کے مراکز سے دوری کے باوجود،ان نوابین  باندہ نے،  دونوں مراکز سے نہ صرف اثرات قبول کئے، بلکہ ایک   گہرے لکھنوی رنگ کے ساتھ ایک  معجون بنا کر، خاندان کے اس طرۂ امتیاز یعنی رنگ باندی کو مضبوط کیا ۔جس سے اردو کی نعتیہ شاعری   ایک نئی سمت میں  منفرد انداز کی  گفتار و رفتار  سے ہمکنار ہوئی۔ اسی لیے  نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد مقامات پر داغ دہلوی جیسا رنگ آپ کی شاعری میں دکھائی دیتا ہے ۔مثال کے طور پر داغ دہلوی کے ایک  مشہور شاگرد، استاد زمن مولانا حسنؔ بریلوی  کے اس نعتیہ  شعر کی  فکر و جہت پر غور کریں :

زمیں تھوڑی سی دے دے بہر مدفن اپنے کوچے میں

لگا دے میرے پیارے  میری مٹی بھی ٹھکانے سے

اس شعر میں  دیار حبیب ﷺ کے ہجر  میں جو آخری خواہش عرض کی گئی ہے،وہ فکر لا یعنی نہیں بلکہ انجام مفید سے ہمکنار کرنے والی معنی خیز معلوم ہوتی ہے ۔اب اسی فکر میں ڈوبا ہوا سیافؔ کا یہ نعتیہ   شعر اسی فکر کی  ترجمانی کر رہا ہے :

 

جگہ جو تھوڑی سی ملتی  تمہارے کوچےمیں

تو ہم نہ پھر کبھی جنت کی آرزو کرتے

اس شعر سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ سیاف کے کلام میں  داغ کے مکتب کی وہی فکر  موجود ہے، جو ان کے تربیت یافتہ شعرا کے کلام میں، ان کے بعد  بھی دکھائی دیتی ہے ۔  کہیں کہیں سیاف کے کلام میں  سادہ مزاجی  کا گہرا رنگ دکھائی دیتا ہے۔ جیسے اس نعتیہ شعر میں عشق رسول ﷺ   کی اہمیت بتانے کے لیے  کیسی سادہ  طبیعت والی تشبیہ کا استمعال   ہے :

وہ شجر کیاجو پُرثَمر نہ ہوا
دل وہ کیا جس میں تیراگھر نہ ہوا

اس سادگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیافؔ  اپنے عہد کے ایک سلیقہ مند شاعر تھے۔ ان کے نعتیہ  کلام    میںاس عہد کی غزل کے مروجہ ادبی تقاضوں  کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ،  لفظوں میں عشق رسول ﷺ   کی چاشنی گھلی ہوئی صاف معلوم ہوتی ہے،  جس کا مزید اندازہ اس نعت شریف  سے لگایا جا سکتا ہے :

ہو جائے اس عاصی پہ عنایت کی نظر آج
ہوں گر یہ کناں عشق محمد ﷺ میں جو ہمدم
دنیا میں جب آیا قدم اس شاہِ عرب کا
آتے ہیں اِدھر روضۂ اقدس کے جو زائر
گر شافعِ محشر کی مدد ہے تو اے سیافؔ
  اے ابرِ کرم کوئی تو چھینٹا بھی اِدھر آج
بن جائے ہر اک اشک مرا رشک گہر آج
غل تھا یہی معدوم ہوئے فتنہ و شر آج
ہم آنکھیں بچھاتے ہیں سرِ راہ گزر آج
کیوں جائیں نہ فردوس میں بے خوف و خطر آج

نعتیہ شاعری کے لوازمات میں نبی ﷺ    سے عشق  و محبت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔  یعنی ذات ِرسولِ مقبول  ﷺ   سے والہانہ   محبت،  عقیدت اور شیفتگی کی عدم موجودگی میں نعت کے اشعار  کے وجود کا تصور ہی  نہیں کیا  جا  سکتا ۔  یہ دلی لگاؤ جس قدر پختہ و راسخ ہوگا اسی قدر نعت میں کیف و سرور اور سوز و گداز کی کیفیت پیدا ہوگی۔ اس شاہی خاندان کی نعتیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان کی نعت گوئی کا تخلیقی پس منظر،نبیوں کے سردار  اور امت کے غمخوار  آقا ﷺ    کی محبت و عقیدت ہے۔ سرکار ﷺ   کی ذات والا صفات   سے اس خاندان کی عقیدت  و محبت بالکل ویسی ہی ہے جیسی عام مسلمانوں میں ہوتی ہے۔  اس بارگاہ  میں یہ نواب حضرات بھی اسی طرح فدویت و فدائیت ، عاجزی و انکساری اور عز و درماندگی کا اظہار کرتے ہیں،  جیسے عام نعت گو شعرا کرتے ہیں ۔اسی لیے   ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نعت کہتے وقت، ان کے ذہنوں میں،  اپنا شاہانہ کر و فر، تزک و احتشام ، درباری شان و شوکت ، مِلک و دولت  اور شکوہ و سطوت  مرخص ہو گیا ہو  اور وہ عام نعت گو شاعروں کی مانند، پوری عقیدت و تعظیم  کے ساتھ بارگاہ رسالت ﷺ    میں گلہائے نیاز نچھاور کرتے  اور ہدیہ نعت پیش کرتے ہیں۔وہ اپنی نوابی پر نہیں بلکہ حضور کی نسبت غلامی پر فخر کرتے ہیں ۔ اس شاہی خاندان کے افراد نے اپنی نعتوں میں،آپ کی ذات والا صفات کے جن پہلوؤں کو عمومی طور پر توصیف و ستائش  کا موضوع بنایا  ہے، وہ یہ ہیں :

مولود نبی ﷺ ، اختیارات نبی ﷺ    ، علم غیب رسول ﷺ    ، آپ کا وجہ تخلیق کائنات ہونا، آپ کا نور من نور الله ہونا، آپ کا خاتم النبین و رحمتہ للعالمین   ہونا،  آپ کے معجزات مثلاً شق القمر ، شرفِ معراج  جسمانی و روحانی، رحمت و شفاعت ، تمنائے  دید،  صلاة و سلام  وغیرہ ۔ساتھ ہی اپنے مسائل  ومصائب میں  احمد مختار ﷺ    کا توسل بذریعہ  استغاثہ و استعانت  اور امداد و استمداد وغیرہ   پر  لکھے گئے نعتیہ کلام  کثرت کے ساتھ ہیں ۔اور اس سے قطعِ نظر، احقاقِ حق و ابطالِ باطل  بھی جا بجا  نعت ِرسول ﷺ    میں، اسی اب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ جیسے  سرکار ﷺ کی نعت کہے جانے والے مکمل و مقدس کلام الله  یعنی قرآن کریم  میں، جا بجا سورہ لہب کا لہجہ ہے؛ ٹھیک اسی طرز پر ابطال باطل بھی  ان حضرات کی لکھی ہوئی نعت میں موجود ہے ۔جبکہ سرکار ﷺ    کی سیرت کے دیگر اہم پہلوؤں؛  جیسے مقصد نبوت ، پیام رسالت، تمدن و معاشرت پر آپ کے احسانات ، قانون و آئین، عدل و انصاف  اور اخلاق وغیرہ کی بابت حضور رسالت مآب  کی  تعلیمات پر، قدیم نعت گو شعرا کی طرز پراِن نوابوں نے بھی کم توجہ دی ہے ۔یہ موضوعات جدید نعتیہ شاعری  کا  امتیاز ہیں ۔اس   نواب خاندان کی نعتیہ شاعری کے پس پردہ خیر جوئی ، برکت طلبی اور  حصول شفاعت کے محرکات کار فرما ہیں۔  ان حضرات کی نعت گوئی کا انداز  بیشتر توصیفی ہے۔ فن نعت گوئی کو وسعت دینے اور اس کی روایت کے  تسلسل  کو برقرار رکھنے میں،خاندانِ نواب باندہ کی نعتیہ شاعری  اور اس کی قدیم محافل کے اس ادبی ماحول میں،”  رنگ باندی” کی   اپنی ایک الگ تاریخی اہمیت ہے ۔ اور  جامع مطالعہ  ، تحقیق و   تحسین کی مستحق ہے۔ ………………………………………………………سپردم بتو مایۂ خویش را  . تو دانی حساب کم و بیش را

 

از  قلم

ابوالحسن محمد یاسر رضا باندوی

استاد یار ،انٹگرل یونیورسٹی سینٹر شاہجہانپور

وجاروب کش، آستانہ گلزار حسن  نبیرہ استاد زمن، پرانا شہر بریلی شریف

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
یقینی گمشدگی میں مبتلا بیدار ذھن: اصغر شمیم – عالیہ خان
اگلی پوسٹ
بہار میں اردو فکشن کی تنقید: روایت اور صورتِ حال – ڈاکٹر مسرت جہاں

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں