حجِ بیت اللہ ارکان اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او فریضہ ٔحج کی ادئیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا و آرزو ہے۔سفرِ حج ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے اہم سفر ہے جس میں اسے ایک عظیم عبادت ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا ہے، جیسا کہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
کعبۃ اللہ مسلمانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ ہر مسلمان کی یہ آرزو و تمنا ہوتی ہے کہ کب اسے مکۃ المکرمہ میں اللہ کے گھر کی زیارت کرنے کا موقعہ ملے گا اور کب وہ مدینہ طیبہ جا کر اپنی آنکھوں کو روضۂ اقدس کے جلووں سے معمور کرے گا۔ دنیا کے دور دراز راستوں سے مسلمان حرمین شریفین کی طرف وفد در وفد آتے ہیں اور ہر سال حج ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک سے بھی ہر سال عازمین کرام کے نورانی قافلے سوئے حرم چل پڑتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے جھولیاں بھرتے ہیں۔کرونا کی وجہ سے کئی سالوں سے ہمارے یہاں سے عازمینِ کرام حج پر نہ جاسکے مگر خوش قسمتی سے اس سال عازمین کی ایک اچھی خاصی تعداد سوئے حرم روانہ ہو رہی ہے جو اپنے آپ میں ایک خوش آئند بات ہے۔
حج کئی لحاظ سے ایک مشکل عبادت ہے، اس میں سفری و انتظامی پہلو سے بھی مشکلات ہیں اور مذہبی پہلو سے بھی۔ اکثر عازمین کے لئے یہ اپنے ملک سے باہر جانے کا پہلا موقعہ ہوتا ہے لہذا اس میں انہیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان مشکلات کے پیش نظر عازمین کرام کو ایک اچھی خاصی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سفری و دینی مشکلات سے نپٹ سکیں۔
ان ہدایات پر عمل کرنے سے سفرِ حج کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔
1. چونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے لہذا اپنی نیت کو درست کرے۔حج صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یعنی عنقریب لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ مالدار سیرو تفریح کے لئے حج کریں گے، علماء دکھاوے کے لئے اور غرباء و مساکین بھیک مانگنے کے لئے۔
2۔انسان چونکہ گناہوں کا پتلا ہے اس لئے اس سفر پر نکلنے سے پہلے پچھلے گناہوں سے سچی توبہ کرے۔اس ارادے سے حج پر نہ جائے کہ واپسی پر پھر سے گناہوں میں ملوث ہوگا۔اگر کسی شخص کا حق کھایا ہے یا اس سے کچھ رنجش ہے تو اس کی حق ادائی کی جائے اور معافی طلب کی جائے۔ عازمین حج کو چار نعمتوں پر شکر کرنا چاہئے: ایمان کی دولت ملنے پر، زندگی میسر ہونے پر، صحتمند ہونے پراور کروڑوں لوگوں کے بیچ حج کیلئے منتخب ہونے پر۔
3۔ حج علمائے کرام سے سیکھ کر کرے اور دیکھا دیکھی اور جلد بازی سے پرہیز کرے۔ارکان و واجبات سے واقفیت حاصل کرے اور انہیں ادا کرنے کیلئے تیار رہے۔ حج کمیٹی کی طرف سے منعقد کردہ تربیتی کیمپوں میں شرکت کو لازمی بنائے اور مختلف امور کے حوالے سے واقفیت حاصل کرے۔
اگر آپ سے حج کا کوئی رکن یا فرض رہ جائے تو آپ کا حج ہوا ہی نہیں۔واجب کے ترک ہونے پر دم یعنی قربانی بطور فدیہ دینا لازم ہے۔دم حج میں اسی طرح ہے جس طرح نماز میں سجدہ سہو۔ کوئی واجب چھوٹنے پر آپ کو اضافی قربانی کرنی ہوگی ،لہٰذا دھیان رکھیں۔مناسکِ حج کی آپس میں یاد دہانی کریں تاکہ آپ نہ بھولیں کہ آپ کو کب کون سے احکامات انجام دینے ہیں۔
4۔یہ بات زہن میں بٹھائے کہ حج میں اگرچہ مشکلات بھی آتی ہیں مگر اچھی تربیت حاصل کرنے سے اسے انتہائی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ حج اس لحاظ سے بہت آسان ہے کہ اس میں خدا نے صرف کرنے کی چیزیں رکھی ہیں پڑھنے کی نہیں۔ تلبیہ کے بغیر کوئی بھی عربی دعا پڑھنا واجب نہیں ہے۔
5۔ خواتین طھارت کے حوالے سے اپنے مخصوص مسائل کا علم حاصل کریں۔
خواتین کو باالخصوص سیکھ لینا چاہئے کہ نماز باجماعت کیسے پڑھیں، بیچ میں کیسے شامل ہوں اور کیسے مکمل کریں۔
۶۔ نیک اور سلیم الفطرت ساتھیوں کی صحبت میں رہیں۔زیادہ سے زیادہ گروپ میں سفر کریں،
کسی بھی صورت میں تنہائی میں سفر نہ کریں اور زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش نہ کریں۔
7۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ایّامِ حج کے دوران کم کھانے، کم پینے اور کم سونے کی عادت ڈالیں۔سادہ اور صاف ستھرا کھانا کھائیں۔پھل خوب کھائیں اور جوس پیں۔دھوپ سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں، سر پر کچھ کپڑا رکھیں یا چھتری کا استعمال کریں۔
کووِڈ ویکسین لگوائیں اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ہمیشہ ساتھ رکھیں۔ جتنا ممکن ہوسکے سماجی دوری Social Distancing قائم رکھنے کی کوشش کریں اور ماسک کا استعمال کریں۔ کووِڈ کے حوالے سے سعودی حکومت کی ہدایات کو مکمّل طور پر عمل میں لائیں اور بے احتیاطی سے بچیں۔
8۔ اپنے تمام ضروری دستاویزات ، دوائیاں، نقدی وغیرہ سنبھال کر رکھیں۔
9۔لفٹ، اسکیلیٹر اور انگریزی طرز کے بیت الخلاء یعنی کموڈ کے استعمال کا طریقہ سیکھیں۔
10 ۔ حرمینِ شریفین کے ادب و احترام کا خیال رکھیں، وہاں کے قوانین کے ، مطابق چلنے کی کوشش کریں۔
11۔ جانے کے بعد حج کے لیے اپنی توانائی energy جمع کر کے رکھیں۔ غیر ضروری ادھر ادھر گھومنے سے پرہیز کریں۔اپنی طاقت کے مطابق ہی نفلی طواف کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ مکہ میں 4 ذوالحجۃ کو پہنچے مگر 8ذوالحجۃتک آپ نے اُمت کی آسائش کے لئے کوئی نفلی طواف نہیں کیا۔
12۔سیلفیوں اور غیر ضروری فوٹوگرافی کے ذریعے اپنا خشوع و خضوع برباد نہ کریں، ریا سے بچنے کی کوشش کریں اور زیادہ سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی کوشش کریں۔سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کریں۔ تازہ ترین اطلاعات کے لئے حج کمیٹی کی ویبسائٹ
https://hajcommittee.gov.in/
کو وقتاً فوقتاً دیکھتے رہیں، موبائل ایپلیکیشن
HCOI
کو پلے اسٹور سے ڈاونلوڈ کریں اور آن لائن سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔کم خرچے پر گھر بات کرنے اور رابطے میں رہنے کے لئے آپ موبائل ایپ IMO کا استعمال کرسکتے ہیں۔
13۔اس مقدس سفر کے دوران آنے والی جملہ مشکلات پر صبر کریں اور حرف ِشکایت زباں پر نہ لائیں۔یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمان ہیں ؎
گرمی ہے، تپ ہے، درد ہے کلفت سفر کی ہے
ناشکر یہ تو دیکھ کہ عزیمت کدھر کی ہے
رابطہ: imtiyazaafreen@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

