پس یہی تو ہوتا آیا ہے
کہ جب کبھی
ہوا کے جھونکے سی
کوئی خوشی مرے گرد طواف کرتی
گویا بہاروں کا سا سماں ہوتا
یوں لگتا جیسے یہی لمحہ
ابدی لمحہ ہے
کہ اس کے بعد کوئی لمحہ میسر نہیں
یوں لگتا گویا سارا جہان قدموں میں ہے
کہ جس کے بعد شاید کوئی خوشی میسر نہیں
کہ جس کے بعد کوئی غم رقصاں نہیں
عین وہی لمحہ
کہ جب خوشی کی سر مستی میں گم
میں منچلی میں بے پرواہ
گردوپیش سے بے خبر
محو رقصاں ہوتی
عین وہی لمحہ
ہوا کے ہلکے جھونکے سا
غم بھی شاملِ طواف ہوتا
یا دور کھڑا مجھ پہ قہقہہ لگاتا
گویا مخاطب ہوتا
تم بھی کتنی بھولی ہو!
تم بھی کتنی ناداں ہو!
میں مر تو نہ گیا تھا
خوشی کے ملتے ہی
مجھے کیوں بھول گئی ہو؟
ساتھ ہمارا کیا وقتی تھا؟
یا مری وفا پہ کوئی شک تھا؟
خوشی تو آنی جانی ہے
مجھ سے کیوں انکاری ہو؟
عین وہی لمحہ
غم کی آندھی کا لمحہ ہوتا
اک تیز ہوا چلتی اور
مری خوشی کے سارے لمحے
مجھ سے یوں کھینچ لیتی
کہ لگتا
خوشی کانچ کے ذروں کی مانند
مرے جسم میں گڑ گئی ہے
اور خون میں لتھڑا مرا جسم
بے یار و مدد گار
زمیں پہ پڑا ہوتا
یوں لگتا گویا کسی نے
مرے جسم سے گوشت نوچ لیا ہو
اور جسم سے خون رس رہا ہو
اور زمین میں جذب ہوتا یہ صدا بلند کرتا ہو
خوشی تمھارے لیے تو نہیں ہے
کیوں ہمیشہ اس کے پیچھے بھاگ کر
مرے وجود کو نوچ لیتی ہو؟
کیوں غم کی انکاری ہو؟
سچ تو کہتا ہے غم
بس وہی تو اکلوتا
تمھاری محبت کا دعویدار ہے
بس وہی اک تم پہ جان دیتا ہے
غم کے سوا بھلا کون ہے جو تم سے؟
ایسی بے لوث محبت کرتا؟
پس یہی تو ہوتا آیا ہے
پھر غم مرے قریب آتا
اور خون میں لتھڑے وجود کے ذروں کو
سمیٹتا، مجھ سے گویا ہوتا
میں نے کہا تو تھا تم سے
مرے علاوہ تمھارا چاہنے والا کوئی نہیں
ساری خوشیاں عارضی
بس میں ہی اک مستقل ہوں
بس میں ہی تمھارا ہم نوا
تمھارا دل عزیز ہوں
پس یہی تو ہوتا آیا ہے
اور سدا ہوتا رہے گا
پس یہی تو ہوتا آیا ہے
پس یہی تو ہوتا رہے گا!
ملائکہ اعوان
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

