المنصور ایجوکیشنل ایند ویلفیئر ٹرسٹ ، دربھنگہ کے زیر اہتمام زبیر رضوی: شخصیت اور خدمات پر مذاکرے کا انعقاد
دربھنگہ، (نمائندہ) زبیر رضوی نے بطور شاعر اور ادبی صحافی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی تھی اور ڈاکٹر عبدالحی کی یہ کتاب زبیر رضوی کی زندگی اور ان کی خدمات کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔کتاب دیکھنے سے ہی ترتیب کا حسن اور دلکشی ظاہر ہوجاتی ہے۔یہ باتیں معروف بزرگ شاعر، ناقد اور صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ سبکدوش استاد پروفیسر عبدالمنان طرزی نے المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام عبدالحی کی مرتبہ کتاب ”زبیر رضوی شخصیت اور خدمات“ پر منعقدہ مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے مذاکرے میں منظوم خطبہ صدارت پیش کیا اور مزید کہا کہ ان کی نظمیں اور غزلیں بہت مقبول رہی ہیں اور وہ 1960 کے بعد کے شعری منظرنامے میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں زبیر کے حوالے سے معتبر ناقدین کی معیاری تحریریں تو ہیں ہی ساتھ ہی زبیر رضوی کا غیر مطبوعہ کلام اور ان کی مضامین بھی شامل ہیں۔ کتاب میں زبیر کی یادگار تصاویر بھی ہیں جو کتاب کی خوبصورتی میں اضافی کرتی ہیں۔صدارتی خطبے کے دواشعار بطور حوالہ پیش کیے جاتے ہیں:
اب زبیر رضوی پر اک آئی ترتیب گراں۔ عبدحی اس کے مرتب ہیں صحافی نکتہ داں ہے مرتب کے سلیقے کی یہ اک محکم دلیل۔ کاوشات علم و دانش بن گئیں نقش جمیل مذاکرے میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے معروف شاعر اور ایم آر ایم کالج کے استاد ڈاکٹر جمال اویسی نے کہا کہ زبیر رضوی کا رسالہ ذہن جدید اپنی نوعیت کا واحد رسالہ تھا جس کا سارا کام وہ خود کرتے تھے۔ ان کی اداریہ نویسی بھی کافی اہمیت رکھتی ہے۔جتنے کام انھوں نے کیے ہیں ان پر انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملنا چاہئے تھا ۔ ان کے کارنامے ہم سب کے لیے قابل تقلید ہیں۔ عبدالحی کی یہ کتاب زبیر شناسی میں بہترین اضافہ ہے اور اب دوسرے لوگوں کو بھی ان کے حوالے سے کام کرنے کی ترغیب ملے گی۔ زبیر رضوی نئی نسل کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے تھے اور ریسرچ اسکالروں کی ہمیشہ مدد کرتے رہے ہیں۔
مذاکرے کے مہمان ذی وقارپروفیسر سید محمد احتشام الدین نے اپنا تبصراتی مضمون پیش کرتے ہوئے کہا کہ زبیر رضوی کے حوالے سے یہ ایک دستاویزی نوعیت کی کتاب ہے۔عبدالحی نے اس کتاب کے ذریعہ زبیر کے مختلف کارناموں کو اجاگر کرنے کا کام کیا ہے۔وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے یہ کتاب مثبت سوچ کے ساتھ ترتیب دی ہے۔کتاب پڑھ کر زبیر کی زندگی کے تمام پہلو روشن ہوجاتے ہیں۔مذاکرے میں ملت کالج دربھنگہ کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر محمد شاہنواز عالم نے کہا کہ میں حقانی القاسمی صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہوں گا کہ عبدالحی نے پوری اردو دنیا کی جانب سے یہ کام کرکے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔زبیر رضوی پر کتاب آنی چاہیے تھی اور اس کتاب میں ان کے تمام پہلوﺅں کو سمیٹا گیا ہے جس سے کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر محمد احسان عالم نے کہا کہ زبیر رضوی پر عمدہ مضامین سے مزین یہ کتاب زبیر رضوی کے پرستاروں کو یقینا پسند آئے گی۔معروف شاعر اور افسانہ نگارجناب انور آفاقی نے کہا آج فراموشی کا دور ہے اور ایسے وقت میں زبیر رضوی پر اس کتاب کی اشاعت سے انھیں زندہ جاوید کردیا گیا ہے۔مذاکرے میں امریکہ کی نبراسکا یونیورسٹی میں سائنٹسٹ اور زبیر رضوی کی بیٹی ڈاکٹر فارحہ رضوی نے آن لائن شرکت کی اور سبھی مہمانان کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی اپنے والد کی بہت ساری یادیں شیئر کیں اور کہا کہ وہ مشاعرے میں ان کے ساتھ جاتی رہی ہیں۔وہ بہت محبت کرتے تھے، انھیں ہندوستان کی مٹی سے بہت پیار تھا اور اسی پیار نے ان سے یہ ہے میرا ہندوستان لکھوایا جسے میں امریکہ میں رہ کر ہمیشہ گنگناتی رہتی ہوں۔آج اس کتاب کو پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہورہی ہے کہ میرے والد کو لوگ یاد کر رہے ہیں۔المنصور ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے بھی زبیر رضوی کی خدمات پر روشنی ڈالی اور کتاب کے مرتب ڈاکٹر عبدالحی کو مبارکباد دی اور کہا کہ کتاب بہت عمدہ ترتیب دی گئی ہے۔مذاکرے میںمعروف ادیبہ و ناقد ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے الہ ٓباد سے آن لائن شرکت کرتے ہوئے اس مذاکرے کو ایک اچھی کوشش قرار دیا اور کہاکہ امید ہے کہ اس طرح کی محفلیں آگے بھی منعقد ہوتی رہیں گی۔اس مذاکرے میںمعروف شاعر اور مترجم جناب محمود احمد کریمی ،پورنیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر مجاہد حسین، مظفر پور یونیورسٹی سے ڈاکٹرمستفیض احد عارفی اور ڈاکٹر کامران غنی صبا کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نفاست کمالی، ادیبہ ہدی ٰ،عائشہ ناز،محمد شمشاد،محمد امداداللہ وغیرہ نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات پیش کیے۔مذاکرے کی نظامت معروف افسانہ نگار اور ناقد ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنے خوبصورت انداز میں بحسن و خوبی انجام دی اور مذاکرے و مہمانان کا تعارف بھی پیش کیا۔ انھوں نے بھی اس کتاب کو زبیر شناسی کے باب میں گراں قدر تصنیف سے تعبیر کیا۔ڈاکٹر عبدالحی نے سبھی مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی کتاب پر مختصر روشنی ڈالی اور کہ آج زبیر رضوی کی اہلیہ ہوتیں تو کتاب کی اشاعت سے بہت خوش ہوتیں، گذشتہ برس ان کا انتقال ہوگیا، انھیں کتاب کا بے صبری سے انتظار تھا۔ انھوں نے اس کتاب کے لیے اپنا ایک مضمون بھی عنایت کیا تھا۔ اسی طرح شمس الرحمان فاروقی، مجتبیٰ حسین ، شمیم حنفی اورعباس انصاری سکندرصاحبان بھی اپنے مضمون کی شمولیت پر بہت خوش ہوئے لیکن کتاب کی اشاعت سے قبل ان سبھی کا انتقال ہوگیا۔ زبیر رضوی نہ صرف یہ کہ ایک عظیم شاعر تھے بلکہ وہ ایک عظیم انسان بھی تھے اور ان پر کام ہونا چاہئے۔مجھے امید ہے کہ لوگ مستقبل مٰں انھیں اور ان کے کاموں کو ریسرچ کا موضوع بنائیں گے۔
—
Mansoor Khushter
Bureau Chief
Qaumi Tanzeem Dbg
09234772764
09472059441
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

