شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’دلت خواتین کی سماجی برابری‘‘ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ26مئی2022
اگر سماج میں کہیں بھی خوا تین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ،نا انصافی ہو رہی ہے تو ہما رے لیے ضروری ہے کہ ہم کانوں کا سہارا لے کر عوام کی مدد کریں، خواتین کے مسائل کو حل کریں، بیوائوں اور بے سہارا خواتین کو انصاف دلائیں۔ ہم کو سوچنا چاہئے کہ اگر راجہ رام موہن رائے نہیں ہو تے تو کیا آج ہم ایسے پرو گراموں میں شامل ہو پاتے۔ را جہ رام مو ہن رائے جیسے دیگر لوگوں نے بھی سماج کے ان مسائل کو دور کرنے کے لیے بہت سی پریشانیوں کو برداشت کیا ہوگا۔ سماج میں جوبھی مسائل ہیں میں اپنے ناول اور کہانیوں میں انہیں پیش کیا ہے۔یہ الفاظ تھے مہوا ماجی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’دلت خواتین کی سماجی برابری‘‘ موضوع پر اپنے کلیدی خطبے کے دوران ادا کررہی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سڑکوں کو صحیح طریقے سے بنایا جائے، روشنی کا معقول انتظام ہو ،تعلیم کا مکمل انتظام ہو تو خوا تین کے مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے۔ حکو مت کو بھی سوچنا چاہئے کہ خواتین کو کس طرح بر سرِ روز گار بنایا جائے۔آخر میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ہم کچھ اچھا کرنے کے ارادے سے باہر نکلتے ہیں تو راستے خود بخود نکلتے چلے جاتے ہیں۔ میں سماج کے کاموں کو کرتے کرتے ادب کے لیے بھی کام کرنے لگی اور میری کتابوں کو لوگ پڑھنے لگے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔صدارت کے فرائض ڈاکٹر ریشما پروین،لکھنو، نے انجام دیے اورمہمان خصوصی کے بطورچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کی وومین سیل کی صدر پروفیسر بندو شرمانے شرکت فر مائی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم،نظامت کے فرائض ڈاکٹر الکا وششٹھ ،تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم ڈاکٹرآصف علی نے ادا کی۔
پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ میری خو ش قسمتی ہے کہ میرا تعلق بھی جھار کھنڈ(جمشید پور) سے ہی ہے اور میں بھی کہا نیاں ناول لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں ڈا کٹر مہوا ماجی کے آن لائن شر کت کرنے پر ان کا استقبال کرتا ہوں اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر کی دنیا کے لوگوں کوبھی فائدہ پہنچے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر بندو شر ما نے کہا کہ اگر خوا تین ہی خوا تین کی مدد نہیں کریں گی تو ڈائن بننے کے لیے بھی خوا تین ہی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ایک بچے کی پرورش کیسے کرنی ہے اس کا طریقہ ایک ماں کے پاس ہی ہو تا ہے۔ ہندو ستانی معاشرے میں اب بہت سے بدلائو بھی دیکھے جارہے ہیں۔ اب پہلے کی طرح خوا تین کے ساتھ ظلم و زیادتی برداشت نہیں کی جاسکتی۔
آیو سا کی صدر ڈاکٹر ریشما پروین نے اپنے صدارتی خطبے کے دوران کہا کہ اب ہمیں ایسی خوا تین کو تلاش کر کے سامنے لانا ہو گا جو معاشرے میں خواتین کے مسا ئل کو سا منے لا نے اور انہیں حل کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ڈا کٹر مہوا ماجی کے علاوہ سشیلا ٹاک بھو رے جیسی خاتون کی سماجی خدمات کو بھی منظر عام پر لایا جائے گا۔
جرمنی سے آ یو سا کے سر پرست اور معروف ادیب عارف نقوی نے کہا کہ مردوں اور عورتوں کو ساتھ مل کر عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنا ہو گا۔ ماں ہو یا بہن ہو انہیں اپنے کردار کو پہچاننا ہو گا۔ ہمیں اپنی ماں اور بہن سے یہ توقع رکھنی چاہئے کہ وہ حق اور انصاف کی بات کریں۔ آخر میں مصر سے ڈا کٹر ولا جمال العسیلی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر محمد شمشاد، سیدہ مریم الٰہی، عظمیٰ پروین دیگر طلبہ و طالبات آن لائن پرو گرام سے جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

