بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کی پہچان ہی اس میں پائے جانے والے تنوع سے ہوتی ہے ،یہ ملک مختلف مذاہب،زبانیں ،بولیاں،رنگ روپ،طور طریقہ،نسل ،خاندان،قبائل وغیرہ سے ہی مل کر بنا ہے ۔اس بات سے بظا ہر کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا بلکہ نہیں ہوتا ہے کہ اس ملک کی خصوصیت ہی وحدت میں کثرت ہے ۔
کسی بھی سماج کا ادب،موسیقی،مجسمہ سازی،کارٹون،گانے،فلم ،ڈرامے،اور ٹی ۔وی سیریل وغیرہ اس سماج کے لیے آئینہ ہوتا ہے۔یہ الگ بحث کا موضوع ہے کہ ادب،موسیقی،مجسمہ سازی،کارٹون،گانے،فلم ،ڈرامے،اور ٹی ۔وی سیریل وغیرہ سماج سے متاثر ہو کر تیار کیے جاتے ہیں یا سماج اس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے زیر اثر اپنی زندگی گزا رنے کی کوشش کرتا ہے ۔
آ ج ہم جس دور میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اسے میڈیائی دور بھی کہہ سکتے ہیں ۔ہم پوری طرح سے پرنٹ ،سوشل اور ماس میڈیا سے گھرے ہوئے ہیں ۔ اظہار خیال کے مختلف ذرائع کے ایجاد اور بازار کی سطح پر اس کی کامیابی اور کامرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے نئے تجربے کیے گئے اور آ ج ویب سیریز کا دور دورا ہے ۔اسی نئے تجربے کے طور پر کومیڈی فلم،انٹر ویواور سیریل وغیرہ بنے اور آ ج بھی بن رہے ہیں ۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ــ’’تارک مہتا کا الٹا چشمہ بھی ہے‘‘ ۔یہ شو جولائی 2008 سے اب تک SONY کا حصہ ہے ۔اس شو کو ’’چھوٹا ہندوستان ‘‘بھی کہا جاتا ہے اس میں جیٹھا لا ل اور اس کا پورا خا ندان گجراتی جین اورپیشہ سے تاجر ،جب کہ کرشنن ایر تمل سائنٹسٹ اور اس کی بیوی ببیتا بنگالی ،تارک مہتا ایک شاعر اور لکھا ری جب کہ اس کی بیوی ڈا ئٹ کا خیال رکھنے والی جسے بچے کھچے سامان سے کام کی نئی نئی چیزیں بنانے میں مہارت حاصل ہے ۔آ تما رام بھڑے ایک مراٹھی اور پیشہ سے ٹیچر ہے اس کی بیوی مادھوی چھوٹا موٹا اچاڑ پاپر کا بزنیس چلاتی ہے ۔روشن سنگھ سوڈھی ایک پنجابی ہے جس کا اپنا گا ڑیوں کا گیریج ہے جب کہ اس کی بیوی ایک پارسی ہے ۔اس شو میں اتری ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہاتھی بھائی اور اس کا خاندان بھی ہے ،پورے خا ندان کو کھانے پینے کا بہت ہی شوقین دکھا یا گیا ہے ۔اس شو میں پوپٹ لال کا کردار بھی ہے جس کا تعلق مدھیہ پر دیش سے ہے اور وہ انعام یافتہ صحا فی ہے ،اس شو میں ایک اہم کردار عبد ل نواب میاں کا ہے جس کردار کو شرد سنکلا ادا کرتے ہیں ۔اس کردار کو ALL IN ONE GENERL STORE کا مالک دکھایا گیا ہے جہاں سے اس پورے گوکل دھام سوسائٹی کے ممبران اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتے ہیں ،ساتھ ہی گو کل دھام سو سائٹی کے لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ کھڑ ے رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ اس SHOW میں اور بھی چھوٹے بڑے بہت سے کر دار ہیں جن تمام کا ذکر نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی مقصد۔یہSHOW جو ایک سو سائٹی کے ارد گرد گھومتی ہے اس میں چھوٹے ہندوستان کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔اگر ہم اس SHOW کی نظر سے بھی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پورے ملک میں الگ الگ مذاہب،علاقے،رنگ اور زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ پڑھے لکھے،نوکری پیشہ یا کسی ٹھیک ٹھاک بزنیس کے مالک ہیں لیکن مسلمان کسی چھوٹی سی جنرل اسٹور کا مالک ہے ۔بہر حال اس SHOW میں ہندوستان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی لوگوں کی حالت اور ان کے طرز زندگی کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے یا یہ دکھا نے کی کوشش بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر آ پ اچھے مسلمان ہو نے کے علاوہ اپنے آس پڑوس کے لوگوں کے ساتھ یا سماج میں کسی حد تک سکون سے جینا چاہتے ہیں تو آ پ کو تارک مہتا شو کا عبدل بننا ہو گا ،جہاں آ پ نے اپنی پہچان اور حق کی کوشش یا بات کی تو ا ٓ پ کو سر راہ بھیڑ جمع ہو کرما رسکتی ہے اور اگر آپ مسلمان ہو نے کے ساتھ کسی حد تک علمی،معاشی،سماجی یا سیاسی حیثیت سے مضبوط ہیں تو پھر سرکاریا سیاسی پارٹیاں آ پ کو الگ الگ طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کرے گی یہاں تک کے یونیورسٹی کیمپس سے اٹھنے والی ایک جیسی آ واز ہو نے کے باوجود کاروائی میں دوہرا رویہ اختیار کیا جائے گا ۔دلچسپ تو یہ ہے کہ مینی ہندوستان کہا جانے والا یہ Show تارک مہتا کا الٹا چشمہ میں ایک ہی مسلم ہے اور وہ بھی سو سائٹی سے باہرہے ۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ کسی بھی اکثریت والے علاقے میں کسی اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو گھر ملنا کتنا مشکل ہو تا ہے اور اگر مل بھی جائے تو سوسائٹی کے لوگ ہر وقت شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیںیہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں مسلمان Ghettoمیں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس Show کی مدد سے ہم یہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں کااکثری طبقہ کس قدر اپنی سو سائٹی میں کسی مسلمان کو رکھنایا رہنے دینا گوارا نہیں کرتا،اسی طرح سے اخباروں میں ہم گاہے بہ گاہے نو کری کے لیے ہونے والے انٹرویو میں مذہب وغیرہ کی بنیاد پر ہونے والے عصبیت کے بارے میں پڑھتے رہتے ہیں ۔اس کا یہ مطلب قطعا نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک جیسے ہیں بلکہ کچھ بہت اچھے بھی ہیں اور ملک میں ہمیشہ تمام لوگوں کے برابر حق وحصہ داری اور تمام طرح سے امن و سکون رکھنے میں بھروسہ کرتے ہیں اور کوشش بھی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
مشرف بھائی! آپ نے ایک اہم مدے کو ایک انوکھے مثال کے ذریعے بہترین انداز میں پیش کیا ہے.. ایک دو جگہ typing issue آ گیا ہے.