Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

 جدید اُردو غزل میں عورتوں کے مسائل کی عکاسی – ڈاکٹر محمد یونس ڈار

by adbimiras جون 1, 2022
by adbimiras جون 1, 2022 0 comment

جدید دور کی غزل اپنی تخلیقیت میں بدلتے ہوئے حالات اور نئے تقاضوں کی متحمل ہے جو متنوع سرچشموں سے کسبِ فیض کے ساتھ ہی اپنے دور کی سائنسی طرزِ فکر سے بھی وابستہ ہے نیز انفرادی شعور کی کارفرمائی اجتماعی حوالوں سے رقم بھی کرتی ہے۔چنانچہ اس کی فکری و موضوعی بساط نہ صرف نئے رجحانات و میلانات سے روشناس ہوتی ہے بلکہ تخلیقی پیچ و تاب کے نئے ابعاد کا خلاصہ بھی ہوجاتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اندرونی طلسمات آرائی کا بیرونی نقش پذیری سے آپس داری بھی کمال کی ہے۔جدید دورمیں انسان کے ترقیاتی کارناموں نے ان بے چہرہ مسائل کو جنم دیاجن کے خط و خال سے قبل از دور کی انسانیات بے خبر تھی۔اس شکست و ریخت کی صورتحال کا اظہار جدید غزل اپنے منفرد اورمختلف انداز میں کرتی ہے۔زندگی کی بے معنویت،غیرمحفوظیت، مہملیت،جنسیت،نفرت،اجنبیت وغیرہ وہ جدید کٹھن اورتلخ اندیش انسانی مسائل ہیں کہ جن کی عکاسی جدید غزل نے اپنے عصری حسیت سے لبریز لہجہ میں کی ہے۔ساتھ ہی تخلیقی آزادی،فکری خودمختاری،حقیقت پسندی،تشکیک پرستی،زبری وغیرہ بھی جدید غزل کی تخلیقی آئینہ سامانی میں درج ہیں۔بنابریں اس سیاسی،سماجی اورتہذیبی آشوب سامانی نے جدید انسان کو جہاں تب وتاب کی تپش سے سرگرم رکھا،وہیں غزل نے بھی اپنے تخلیقی سانچوں اور ڈھانچوں میں نئے لامحدود امکانات کو شامل کیا تاکہ نئے دورکی کرب ناکی کا جوازشعری وجود میں بارز ہو۔ علاوہ ازیں ان تمام ترسیاسی،سماجی،شخصی،نفسیاتی اور معروضی مسائل کی تصویر کشی کی جن سے جدید دور کا انسان باہم دگر ہے۔ چنانچہ عورت کے مسائل کو بھی اپنی تخلیقی بساط کا حصہ بنالیا۔

جدید غزل میں عورتوں کے مسائل کا اظہار بھرپور انداز میں ہوا ہے۔عورت، جس کا تعلق افزائشِ نسل سے ہوتاہے،جسے قربانی کی دیوی مانا جاتا ہے اور جسے کسی بھی قوم کے استقلال اور بقا کی ضامن سمجھا جاتا ہے۔عرصہء دراز تک انسانی سماج میں ناانصافی کی شکار رہی ہے کہ اسے دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا گیا،صرف جنسی تسکین فراہم کرنے کا آلہ تصور کیا گیا،اسے اظہارِ رائے کا حق تھا نہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ہر چند کہ سرسید تحریک نے تعلیمِ نسواں پر بھی زور دیا تھا کہ تعلیم ِ نسواں کے بغیر کوئی ملک،کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔لیکن عورت پھر بھی تخلیقی سطح پوری طرح سے اپنا وقار بحال نہ کرسکی۔بعد ازاں ترقی پسندوں نے عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ میدانِ عمل میں بھی آنے کی دعوت دی ۔تو اس کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں کہ اب وہ بھی اپنے ذہنی خط و خال کی نمائش تخلیقی انداز میں کرنے لگی ۔نیزاپنے تخلیقی وژن سے زندگی ‘معاشرہ اور خود اپنے وجود کی بازیافت نسوانی زاویہ نگاہ سے پیش کیا۔ اصل میں مرد مرکزسماج میں عورتوں سے ہونے والا ناروا برتاؤ،حقوق کی پامالی،جنسی زیادتیاں وغیرہ جیسے مسائل کی عکاسی جدید تعلیم کے بعد اس وقت ہوئی جب عورتوں کی تخلیقی اظہار کی آزادی کا نعرہ عالمی سطح پر بلند ہوا۔چوں کہ اس تانیثی ڈسکورس کا مقصد بقولِ ورجنیا وولف،’کون اس شاعرانہ دل کی تپش اور تشدد کی پیمائش کرسکتا ہے جوایک نسوانی جسم میں مقیداور محصور ہے‘تھا۔جدید دور میں عورت میدانِ عمل میں آتے ہی اور دوسرے مسائل کی بھی شکار ہوگئی۔اگرچہ مرد شعرا نے بھی وقتاً فوقتاً عورتوں کے مسائل کی،ان کے دکھ دردکی،ان پر لظلم وزیادتی کا ذکرکیا ہے اور کرتے بھی ہیں لیکن جو حدت و شدت اور تڑپ شاعرات کے طرزِ احساس میں ہے وہ فقیدالمثال ہے۔جدید غزل گو شاعرات نے مردمرکز سماج میں عورت کے ساتھ ناانصافی اور ظلم و زیادتی کے تجربات کو نسائی لب ولہجہ میں پیش کیاتو عورت کی کرب ناک پسماندگی کا احساس ہونے لگا۔تعلیمی مسائل سے لے کر معاشی مسائل تک عورت کے دکھ درد کا دکھڑا بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔جن جدید شاعرات نے اپنی غزلوں میں عورتوں کے مسائل کی عکاسی کی ہے ان میں ادا جعفری،کشور ناہید،پروین شاکر،فہمیدہ ریاض،یاسمین حمید،شاہدہ حسن،مسعودہ حیات،سارا شگفتہ،عذرا عباس،ممتاز مرزا،نوشیں گیلانی،ساجدہ زیدی،شہناز نبی،شفیق فاطمہ شعری،اسما سعیدی،ترنم ریاض،شبنم عشائی وغیرہ کا نام قابلِ ذکر ہے۔

جدید غزل نے خواتین کا جو بنیادی مسئلہ بھرپور اندازمیں پیش کیا ہے وہ عدمِ تشخیص کا مسئلہ ہے۔تمام شاعرات کے غزلیہ کلام میں یہی مسئلہ سرفہرست ہے۔اسی مسئلہ کو باقی تمام مسائل کا سرچشمہ مانا جاتا ہے۔عورت جسے مردمرکز معاشرہ میں صنفِ نازک کے نام سے موسوم کیاگیاہے اب اس معاشرہ میں گھٹن اور گھمس محسوس کررہی ہے۔صدیوں کی قربانیوں کے باوجودبھی اسے اپنا وجود خطرے میں نظرآرہا ہے کہ مردمرکز معاشرے کا آئین ہی اس کے اقدار و افکار کے خلاف ہے۔نہ اس کا من اپنا،نہ تن اپنا،نہ دھن اپنا اور نہ جن اپنا۔عدمِ آزادی اورگمشدگی کا یہی وہ احساس ہے جو جدید غزل میں عورت کے ادراکِ وجود کے لیے ضمانت کی جنگ لڑتا ہے تاکہ ان تمام متداول رسم و رواج کی بیخ کنی ہوجائے۔جن میں سب سے پہلے ایک عورت کی آزادی سلب کی جاتی ہے کہ اسے مرد کی رضا مندی کے سامنے سر تسلیم خم ہونا پڑتا ہے۔اپناجدی گھر چھوڑ کرشوہر کا گھرآباد کرنا پڑتا ہے۔یعنی اسے والد کے گھرپیدا اور شوہر کے گھر مرنا پڑتا ہے۔تمام عمرگھر کو بنانے،سنوارنے اور سجانے کے باوجود بھی وہ شوہر کا ہی گھر کہلاتا ہے۔چنانچہ وہ گھر کی تلاش میں عمر بھر بے گھری کا احساسِ محرومی لیے پھرتی ہے ۔نیز اسے صابر و شاکر بن کر گرہستی کے مشکلات و معاملات سے نبھا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر وہاں بھی:

بہت ہے بارشِ سنگِ ملامت

مگر ہم صورتِ کہسار چپ ہیں

(نوشی گیلانی)

متذکرہ بالا شعر میں ’بارشِ سنگِ ملامت ‘جہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مردمرکز معاشرہ میں عورت چہاردانگ جس ناقدری،ظلم و زیادتی ،تشدد اور بے وقعتی کی شکار ہے اور جس ناروا سلوک سے دوچار ہے۔دراصل مذکورہ معاشرہ کے مروجہ رسم ورواج اور اقدار کا نتیجہ ہے، وہیں مصرعہء ثانی میں ’صورتِ کہسار چپ‘اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عورت نڈر ہوکران تمام تر مسائل و مشکلات کا دیوانہ وار مقابلہ کرتی ہے جو اس پر روا رکھے گئے ہیں۔ساتھ ہی اس احساسِ محرومی کا ادراک بھی ہوجاتاہے کہ عورت اپنی بے اختیاری اور بے زبانی کے شدید احساس سے بھی جھوجھ رہی ہے۔چند اور اشعار ملاحظہ فرمائیں؛

بے وفائی کا دلِ زار پہ الزام نہ رکھ

ہم نے اک عمر گزاری ہے وفاداری سے

(مسعودہ حیات)

ہم وفاؤں کی ردا اوڑھ کے چپ ہیں لیکن

آپ اک تازہ ستم روز ہی کرجاتے ہیں

(اسما سعیدی)

 

وہ چاند بن کے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا

میں اس کی ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوں

(پروین شاکر)

میں شمع بن کے جلتی رہی عمر بھر مگر

خود اپنے گھر کا دور اندھیرا نہ کرسکی

(نفیس بانو شمع)

اس طرح سے ایک عورت کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ہرچند کہ جدید دور میں عورت مرد کے شانہ بہ شانہ چل کر کار زارِ حیات میں بھرپور طریقے سے اپنا دم خم دکھارہی ہے اور دُنیا کی مختلف حکومتوں نے اس کی آباد کاری اور بہتری کے لئے قوانین بھی بنائے ہیں لیکن مشرقی سوسائٹی میں ابھی تک اس کے لیے ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔گھر کی چاردیواری میں اس کو تنہائی کا شدید احساس ڈس رہا ہے کہ وہ بھیڑ میں تنہائی کا شکار نظرآرہی ہے۔جدید دور کے صنعتی اور میکانکی تمدنی ہاؤ بھاؤ نے آدمی کو جہاں جذبات سے عاری مشین اور مادیت پرست بنایا ،وہیں اسے اپنے رشتوں ناتوں سے بھی دور کیا کہ اب اس کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ اپنے رشتوں کو دے سکے۔ یہی سبب ہے کہ جب سیاسی،سماجی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی آتی ہے تو عین ممکن ہے کہ تصورِ فردبدل جائے اور اس سے وابستہ رشتوں کی نوعیتیں بھی۔جب جدید دور کا آدمی اپنی عورت کو زیادہ وقت نہ دے سکا،اسے محبت کے دو بول نہ بتا سکا تو وہ تنہائی کا شکارہوگئی۔

میں گھر میں بھی اس سے ملتی کیسے

دیوار کھڑی تھی گھر کے اندر

(کشور ناہید)

 

عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب

وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد

(پروین شاکر)

 

اس کی پہچان کھوگئی آخر

اپنے ہی گھر میں وہ رہی تنہا

(شہناز نبی)

مردکی پسند کا اس کی پسند بن جانا،ظلم و جبر سہہ کربھی چپ سادھ لینا،گھر اور آفس میں بھی کام کرنا،چاروں طرف بری نظروں اور حرکتوں کا شکار ہوجانا،بے چارگی،عدم تحفظ،مذہبی کٹر پسندی کا شکار ہونا وغیرہ ایسے مسائل ہیں جن سے آج بھی مشرقی سوسائٹی کی عورت کو اپنی شناخت معدوم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔چنانچہ جدید غزل نے مذکورہ تمام مسائل کو اپنی تخلیقی تشت کا حصہ بناکر عورت کی اہمیت اور مردمرکز معاشرہ میں اس کی بے زبانی کو زبان دی ہے۔پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں:

”وہ معاشرہ جس کی کم و بیش نصف آبادی عورت پر مشتمل ہے محض اس لیے اسے اپنے حقوق اور آزادیوں سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے کہ وہ عورت ہے۔گویا وہ انسان نہیں کوئی اور مخلوق ہے۔اس کے لیے اختیارات و قوانین کا محضر نامہ الگ،بازیابی کی شرائط علحیدہ،رد و قبولیت کے معیار جدا کیوں؟صرف اس لیے کہ وہ عورت ہے۔یہ سوال باربار ہماری شاعرات نے اٹھایا ہے۔انھیں اس ضابطہء اخلاق سے سخت چڑ ہے جس پر جاگیرداری منشا اور رضا کے دستخط ثبت ہیں۔وہ محض ایک زینت خانہ ہے۔جنس عیش تو بن سکتی ہے،خود کاروخود ساز نہیں بن سکتی۔گویا نام نہاد اخلاقی اور سماجی جبر اور دباؤ اس کی تقدیر ہے۔“

(ترجیحات:عتیق اللہ،ص 361)

 

مذکورہ بالا اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مردمرکز معاشرہ میں عورت کوبہت سارے مسائل درپیش ہیں کہ اسے دوسرے درجے کی مخلوق سمجھ کر اس پر حق و حقوق کے وہ سب دروازے بند ہیں کہ جہاں سے وہ اپنی شناخت،اپنا آئین،اپنی زبان،اپنی آرزو،اُمنگ اور نئے معاشرے کے اس خواب کو شرمندہءتعبیر کرتی کہ جس کا علم لے کر جدیددور کی شاعرات نے اپنے تخلیقی اظہار میں طنز اور احتجاج کی لے کو تیز کیا ہے۔غرض، ایک ایسا جہاں کہ جہاں عورتوں کی تعلیم،پرورش،من پسند شادی،مساوی حقوق کی چہل پہل بھی ہو،عورت کی انا کا بھرم بھی قائم ہو ،اسے رحمِ مادر میں ہی نہ مارا جاتاہو، اور تو اور نہ اس کی ذات پر کسی بھی قسم کا لیبل ہو اور نہ ہی اس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتاہو۔اس تمام تر جدوجہدکا مقصد  دراصل اس بیمار ذہنیت کا علاج تھا کہ جو ابھی بھی عورت کی زخمی روح کی پکار اورسینے کے سناٹے کو محسوس کرنے سے عاری ہے۔یہ دراصل عورت کو اس کی طاقت کا احساس دلانے کی بھی جدوجہد ہے کہ وہ بڑی سے بڑی انسانی طاقت کو بھی زیر کرسکتی ہے ۔مرد کے استحصالی نظام میں اس کے جذبات کی ناقدری کا پر احتجاج بھی کرسکتی ہے اور اپنی بات منوا بھی سکتی ہے تاکہ ان بے شمار جوانیوں کا زیاں بچ جائے جورسم رواج ،ذات پات، خاندان،عزت کے نام پر آئے روز اپنی زندگیوں کا خاتمہ تو کرتی ہیں لیکن سودے اور سمجھوتے کا ساتھ نہیں دیتی۔

 

لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا

(پروین شاکر)

 

سنبھل بھی لیں گے،مسلسل تباہ ہوں تو سہی

عذابِ زیست میں رشکِ گناہ ہوں تو سہی

(کشورناہید)

رحمِ مادر میں ہی لڑکی کو ختم کرنے کا مسئلہ آج کے دور کا ایک سنگین مسئلہ ہے کہ اسے غیر کا مال سمجھ کر اس سے مکتی میں ہی عافیت تصور کی جاتی ہے۔ آج بھی برصغیر میں لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور لڑکی کی پیدائش پر غمی محسوس کی جاتی ہے۔اس کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن یہ وجہ ضرور ہے کہ لڑکی کی پرورش،تعلیم اور اس پر خرچہ کو بوجھ سمجھ کراس لیے اہمیت نہیں دی جاتی ہے کہ اسے توکوئی اورہی گھر بسانا ہے جبکہ لڑکے کو بڑھاپے کا سہارا مان کر،وارث سمجھ کر لڑکی سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ جو لڑکی رحمِ مادر سے صحیح سلامت بچ کرپیدا ہوتی ہے اس کے لئے دنیا میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے نیزشادی کے بعد ہی و ہ شوہر کے حدِ اختیار میں آجاتی ہے تو اپنی آزادی اور خود مختاری سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔اسے اپنی شناخت کی معدومی کی پرواہ کیے بغیرہر وقت سمجھوتاکرنا پڑتا ہے۔نوکرانی یا خادمہ بن کر کام کرنا پڑتا ہے۔لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کو گھونٹ گھونٹ لہو میں اُتارنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اب اگر سمجھوتہ نہ کیا اور کٹھ پتلی زندگی بسر کرنے پر آمادہ نہ ہوئی تو اسے سسرال کے ظلم و زیادتی اور طعن و تشنیع کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اور کبھی کبھی بات طلاق ،خلع،قتل اور مقدمہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ساتھ ہی وہ لڑکیاں جو مذہب کی غلط تاویل،رسم و رواج،غربت ، معاشی تنگ دستی ،جہیزوغیرہ کی وجہ سے جلد شادی کی زندگی اختیار نہیں کرپاتی ہیں، احساسِ کمتری اورشدید ذہنی،جسمانی اور جذباتی اذیت سے دوچار ہوجاتی ہیں تو پھرجنسی بے راہ روی،منشیات کا استعمال،خودکشی کی شکار ہوجاتی ہیں۔جدید غزل نے عورت کی اس خانمان بربادی کا اظہارمختلف تخلیقی پیکروں میں یوں کیا ہے:

 

طلاق دے رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

(ساجد سجنی)

 

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لئے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

(زہرا نگاہ)

 

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا

اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

(تنویر سپرا)

 

جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم

جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو

(رضیہ فصیح احمد )

 

خود پہ یہ ظلم گورا نہیں ہوگا ہم سے

ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں

(بلقیس ظفیر الحسن)

 

فی الجملہ جدید غزل عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی،معاشی ،سیاسی ،سماجی استحصال ،رسم و رواج اور مذہب کے نام پر ظلم و زیادتی،عدمِ شناخت،بے اختیاری،تعلیم،نا انصافی،جنسی بے راروی،غربت،جہیز،شادی ،نوکری جیسے مسائل کی عکاسی کرتی ہے تاکہ مردمرکز معاشرہ اور ادب میں ان کی شناخت معدوم نہ ہوسکے۔ان تمام مسائل کی پیشکش میں جو شعری فضا قائم ہوتی ہے اس میں لطیف جمالیاتی پہلو ہونے کے باوجود طنز اور احتجاج کی لے بھی تیز ہے جو برہنہ سماجی صداقتوں اور پیچیدہ انسانی مسائل کے اظہار میں سچائی اور سادگی کا حسنِ اظہار بھی اپنے تخلیقی بطن میں محفوظ رکھتی ہے۔کیونکہ غزل کی طرح عورت کو بھی معاشرہ جبر سے جینے نہیں دیتا لیکن اس کے اندر کا صبر اسے مرنے نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ غزل اور عورت دونوں برداشت اور صبر کی کوکھ میں پرورش پاتی ہیں۔

٭٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
درسی کتابیں طلباکی تعمیرِ سیرت میں کلیدی رول ادا کرتی ہیں:  پروفیسر شہزاد انجم
اگلی پوسٹ
شعبۂ اردو اور سوانگ شالا ایکٹنگ اکیڈمی کا ایم او یو یونیورسٹی کے لیے مفید ثابت ہوگا: پروفیسر سنگیتا شکلا

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں